تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے 20-19 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے 20-19

ھفت روزہ اھل حدیث، بشیر انصاری، بابائے صحافت، داستان زیست، تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے


تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

تحریر: جناب سعید ساجد

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی

کورونا وائرس (کووڈ-۱۹) کا دورانیہ جماعت اہل حدیث کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ بہت سے علم کے گوہر نایاب ہم سے رخصت ہو گئے۔ بہت سی جلیل القدر شخصیات آخری منزل کے سفر پر روانہ ہو گئیں۔ ایسا لگا جیسے ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانے تسلسل سے گرتے جا رہے ہیں۔ اس قحط الرجال کے دور میں علمی اور قد آور شخصیات کا اُٹھ جانا ایک سانحہ سے کم نہیں۔

در حقیقت زندگی ہے پیش خیمہ موت کا

جو نفس آتا ہے‘ آتا ہے جانے کے لیے

یہ پڑھیں:  جناب بشیر انصاری صاحب کا سفر آخرت

ابھی جماعت‘ شیوخ الحدیث‘ ادیب‘ مؤرخ‘ پروفیسرز کی موت کے صدمات سے دو چار تھی اور ابھی غموں کے حصار سے نکل پائی تھی کہ اچانک ۴ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز جمعہ ایک اندوہناک واقعہ رونما ہو گیا جس نے بجلی کی طرح دل ودماغ پر اثر کیا۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح آنا فانا پورے ملک میں پھیل گئی کہ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ لاہور کے مدیر اعلیٰ جناب بشیر انصاری صاحب گوجرانوالہ میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

کس کس کی جدائی کا نوحہ لکھیں‘ کس کس کی اچانک وفات کا غم برداشت کریں۔ یا اللہ! ہم تیری مشیت پر راضی ہمیں ثابت قدم رکھنا۔ ہم اس غم کے لمحات میں کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتے جو تیری مرضی کے خلاف ہو۔

انصاری صاحب ایک نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی بے مثال زندگی اپنے پیچھے ایسی انمول یادیں چھوڑ گئی ہے کہ جن کی خوشبو ہمارے قلوب واذہان کو ہمیشہ معطر اور متأثر کرتی رہے گی۔ ان کی آنکھوں میں اسلام کے نور بصیرت کی چمک دکھائی دیتی تھی۔ کیونکہ انہیں پاکیزہ دماغوں اور اسلامی تعلیمات میں دھلے ہوئے اساتذہ اور ساتھیوں کی صحبتیں نصیب ہوئی تھیں۔

جماعتی تاریخ کے ترازو میں انصاری صاحب کی زندگی کے شب وروز اور ان کی خدمات کو تولیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ وزن میں کتنے بھاری تھے۔ وہ جماعتی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز سے گزرے‘ وہ جماعت کے لیے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ مرحوم ہشاش بشاش گفتگو اور لطائف بھری باتوں سے اپنے سامعین کو محظوظ رکھتے۔ اپنی پوری زندگی بڑھاپے کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو جوان ہی تصور کرتے رہے۔ وہ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے اور مسکراتے چہرے سے استقبال کرتے۔ ان کی تحریروں کی روانی‘ شگفتگی اور کرنٹ ایشوز پر اداریے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موجودہ حالات وواقعات پر گہری نظر رکھتے تھے۔

ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گذری ہے رقم کرتے رہیں گے

یہ پڑھیں:   میرے مربی ومحسن بشیر انصاری  صاحب

دراصل مخلص دوست اور ساتھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت اور زندگی کا ایک اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے دنیا سے کوچ کر جانے سے قلب وذہن ہمیشہ کے لیے مغموم ہو جاتے ہیں۔ ان کی یادیں ہر پل بے چین وبیقرار رکھتی ہیں اور کوئی دقیقہ ان کی یاد سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انصاری صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہر جانب اداسی کا سماں ہے‘ وہ رونقیں اب ناپید ہو گئی ہیں۔

مرحوم منکسر المزاج‘ دینی مدارس کے طلبہ سے محبت وشفقت کرتے‘ جب کوئی طالب علم پرچے کے لیے مضمون لکھ کر بھیجتا تو آپ اس کی نوک پلک سنوار کر اسے شائع کر دیتے جس سے اس طالب علم کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا۔ آپ فرماتے کہ اگر ہم ان نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو ان کا علم زنگ آلود ہو جائے گا اور یہ ما فی الضمیرکا اظہار نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے ان کے بے ہنگم مضامین کو نئے سرے سے ترتیب دے کر شائع کر دیتے۔

وہ بڑے ہی شفیق ومہربان مدیر اعلیٰ تھے۔ مرحوم کو یہ شرف بھی حاصل تھا کہ وہ وقتا فوقتا دینی کتب شائع کرتے اور اسے مفت تقسیم کرتے اور دوستوں کو تحفے میں دیتے۔ … ’’الاسلام‘‘ ڈائری عرصہ تقریبا ۳۵ برس سے تسلسل کے ساتھ شائع ہوتی رہی۔ یہ ڈائری ان کی زندگی کا بہت بڑا شاہکار تھی۔

الاسلام ڈائری ایک دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جس کا انتظام وانصرام انصاری صاحب خود کرتے رہے۔ یہ ان کی خصوصی کاوش تھی جو تادم واپسیں بڑی شد ومد سے شائع ہوتی رہی اور اندرون اور بیرون ملک اس کی ترسیل ہوتی رہی۔

الاسلام ڈائری میں پاکستان کے تمام مدارس دینیہ کے تعارف اور رابطہ نمبرز مل سکتے ہیں جو بڑی محنت سے انہوں نے اکٹھے کیے۔ اس لحاظ سے مرحوم متحرک اور فعال شخصیت کے مالک تھے۔

ابھی ۲۰۲۱ء کی ڈائری بنانے کا وقت آیا تھا لیکن انہیں ترتیب دینے کی مہلت نہیں ملی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ نظام زندگی ہے کہ موت کی حقیقت کے سب لوگ معترف ہیں اور جانتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ ہر ایک کو وقت مقررہ پر خالق حقیقی کو لبیک کہنا ہے۔ … جب موت کا نقارہ بجتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ بچہ ہے‘ جواں ہے یا بوڑھا ہے۔ ابھی اس کے کرنے کے کام باقی ہیں یا اس کو بوڑھے والدین کا سہارا بننا ہے یا بوڑھے باپ کو چھوٹے چھوٹے بچوں کی سرپرستی کرنی ہے۔ اس کی بہت سی حسرتیں ابھی باقی ہیں جن کو ابھی پورا ہونا ہے۔ … نہیں نہیں ان سب چیزوں کو پس پشت ڈال کر دنیا کے اس مسافر کو ابدی زندگی کے لیے رخت سفر باندھنا ہی پڑتا ہے۔ کیونکہ ہر ذی روح کا دار الفناء سے دار البقاء کی طرف سفر ازل سے جاری ہے۔ ہر انسان جو د نیا میں جلوہ افروز ہوتا ہے اسے بالآخر ابدی زندگی کا رخت ِ سفر باندھنا ہی پڑتا ہے اور آخر کار اسے موت سے ہمکنار ہو کر قبر کے چوکھٹے میں جا بسنا ہے۔ لیکن کچھ موتیں ایسی ہیں جن سے ایک خلاء پیدا ہو جاتا ہے جس کا پر ہونا مشکل اور ناممکن ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں: بشیر انصاری صاحب کی داستانِ زیست

مرحوم سے میری رفاقت اور ارادت مندی کا سلسلہ ربع صدی سے زائد تقریبا ۳۳ سال پر محیط رہا۔ اس عرصہ کے دوران ان کی بزم میں بیٹھنے سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ فرماتے تھے: ’’سب سے پہلے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مجھے ایک بنک میں بطور مینیجر نوکری ملی۔ کچھ دنوں کے بعد مجھے شیخ الحدیث حضرت مولانا محدث گوندلویa سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ گویا ہوئے کہ انصاری صاحب! آجکل کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! ایک بنک میں جاب کر رہا ہوں۔ آپ کچھ دیر خاموش رہے‘ میں آپ کے چہرے سے بھانپ گیا کہ حضرت نے اسے ناپسند فرمایا ہے۔ میں نے کہا حضرت! آپ خاموش ہو گئے۔ فرمانے لگے کہ آپ اس ملازمت پر مطمئن ہیں؟ میں سمجھ گیا کہ یہ تو غیر شرعی عمل ہے کیونکہ اس میں پورے کا پورا نظام ہی سودی ہے اور سود کا لینا‘ دینا لکھنا اور اس پر گواہ بننا یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے اگلے روز بنک کو استعفی بھیج دیا کہ میں یہ ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ دوستوں نے بڑا قائل کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اسے ناجائز سمجھ کر ترک کر دیا کیونکہ جید علماء کرام کی صحبت کا یہ اثر تھا کہ غیر شرعی امور سے اجتناب کیا جائے۔‘‘

مرحوم کی پوری زندگی اشاعت اسلام اور قرآن وحدیث کی ترویج وترقی میں بسر ہوئی۔ مرحوم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے‘ وہ ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے‘ بڑے معاملہ فہم‘ دور بین‘ شریف النفس اور وضعدار تھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

پاکستان کے طول وعرض سے علماء اور تلامذہ مدارس دینیہ دفتر تشریف لاتے تو آپ انہیں بڑی خندہ پیشانی سے ملتے اور اپنی گرہ سے ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ کوئی مسئلہ آڑے آجاتا تو اسے حل کرنے کے لیے ہمارے ساتھ مشاورت کرتے اور حل طلب تجویز پر پہرہ دیتے اور اسے ماننے میں ذرہ بھر ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ جب کسی لفظ کے ہجوں پر شک ہوتا تو ہمارے ساتھ مشاورت کرتے۔

یہ پڑھیں: بابائے صحافت ... محمد بشیر انصاری رحمہ اللہ

 دفتری رفاقت کے ۳۴ سال:

دو‘ چار برس کی بات نہیں یہ ربع صدی سے زائد تقریبا ۳۴ برس کا قصہ ہے۔ میری پہلی ملاقات مدیر اعلیٰ ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ جناب بشیر انصاری سے ۱۹۸۷ء کو دفتر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان ۵۰ لوئر مال لاہور میں ہوئی۔

اس ملاقات کا پس منظر یہ تھا کہ راقم جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد میں زیر تعلیم رہا۔ اسی دوران مجھے فن کتابت کا شوق پیدا ہوا‘ سوچا فیصل آباد میں بڑے بڑے نامور خطاط ہیں کیوں نہ ان سے ملا جائے اور ان سے اس فن کے اسرار ورموز سیکھے جائیں۔ اس کا تذکرہ میں نے اپنے ایک دوست حافظ اشتیاق احمد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ میں خالد دفتر کتابت چنیوٹ بازار فیصل آباد سے کام کرواتا رہتا ہوں‘ ان سے مل لیتے ہیں۔ ہم دونوں دوست خالد دفتر کتابت پہنچے‘ وہاں ہماری ملاقات جناب شاہد اقبال سے ہوئی جو نامور خطاط تھے۔ گفت وشنید کے بعد میں دفتر میں عصر تا مغرب جانے لگا اور فن کتابت کے اسرار ورموز سیکھنے شروع کر دیئے۔ تقریبا عرصہ ۲ سال میں کتابت کا فن سیکھا۔ ۱۹۸۶ء میں میں نے جامعہ تعلیمات سے سند فراغت حاصل کی اور ساتھ ہی اپنے خطاطی کے استاذ جناب شاہد اقبال سے اجازت چاہی کہ اب میں واپس گھر جا رہا ہوں۔ ابھی گھر آیا ہی تھا کہ میرے ایک دوست جناب ایاز ظہیر ہاشمی نے مجھے لاہور آنے کی دعوت دی تو میں نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور لاہور چلا آیا۔ میری اور ان کی ملاقات خاکسار تحریک کے مرکزی رہنما خان اشرف خاں سے ان کے دفتر بھاٹی چوک میں ہوئی۔

یہ پڑھیں:  مسکراتا چہرہ ... دھیمہ لہجہ

ایاز ظہیر ہاشمی صاحب نے میرا تعارف خاں صاحب سے کروایا اور انہیں بتایا کہ یہ میں ’’سعید ساجد‘‘ کا جو کاتب بھی ہیں اور درس نظامی سے فارغ بھی‘ بڑے خوش ہوئے۔ کہنے لگے ہمیں اپنے ہفت روزہ ’’اخوت اسلامیہ‘‘ لاہور کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے۔ آپ ہمیں وقت دیں۔ میں نے ہاں کر دی اور ’’اخوت اسلامیہ‘‘ کی کتابت شروع کر دی۔ دو تین ماہ کام کیا تو خان اشرف خان سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی۔ میں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa سے گہری وابستگی رکھتا تھا۔ خان صاحب سیاسی طور پر ان کے مخالف تھے۔ میری ان سے نوک جھوک ہوتی رہتی۔ دل ہی میں سوچتا کہ یہاں سے راہِ فرار اختیار کی جائے۔ اس کشمکش میں خیال آیا کہ کیوں نہ ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ لاہور میں رابطہ کیا جائے۔ انہی دنوں میرے بڑے ہی پیارے دوست جناب عطاء الرحمن ثاقب شہیدa جو اُن دنوں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa کے پرسنل سیکرٹری تھے اور مرکزی دفتر میں آنا جانا رہتا تھا۔ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کا دفتر ۵۰ لوئر مال پر واقع تھا۔ میں نے ان سے بات کی کہ میں ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ کی کتابت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: میں محترم بشیر انصاری سے بات کروں گا۔

کیونکہ انصاری صاحب ’’الاسلام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں‘ کچھ دنوں کے بعد محترم عطاء الرحمن ثاقب کا فون آیا کہ آپ دفتر تشریف لائیں۔ میں اگلے دن دفتر ۵۰ لوئر مال لاہور گیا تو محترم بشیر انصاری کے بارے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ مرکزی ہال کے درمیان میں ان کا دفتر ہے وہاں تشریف فرما ہیں۔ میں ان کے ہاں پہنچا اور ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے خوش آمدید کہا۔ علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوئی۔ (یہ میری انصاری صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔)

محترم انصاری صاحب فرمانے لگے کہ ہمیں ہمہ وقت کاتب کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے دو کاتب آتے ہیں اور پرچے کی کتابت کرتے ہیں‘ وہ کبھی آتے ہیں اور کبھی نہیں آتے۔ میں نے کہا میں تو مستقل پرچے کا کام کروں گا۔ اس پر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمیں بھی ایسے ہی آدمی کی ضرورت ہے۔

میرے کام شروع کرنے سے ایک کاتب تو دفتر چھوڑ گیا۔ دوسرا کاتب نعمت اللہ بابر صاحب جو ان دنوں نوائے وقت اخبار میں بھی کام کرتے تھے وہ اور میں دونوں پرچے کا کام مکمل کرتے۔ آدھے مضامین وہ کرتے اور آدھے میرے حصے میں آتے۔ … دھیرے دھیرے بابر صاحب کی مصروفیات بڑھ گئیں اور وہ کہنے لگے میں اب مصروف ہو گیا ہوں‘ اب مکمل پرچے کا کام آپ خود ہی کریں‘ اس کے بعد آج تک پرچے کا کام میں ہی کر رہا ہوں۔ ۳۴ برس بیت گئے اس دوران بہت نشیب وفراز آئے۔ جب جماعت کے دو دھڑوں میں صلح ہوئی تو پرچہ الاسلام سے ہفت روزہ اہل حدیث دفتر ۵۰ لوئر مال سے ۱۰۶ راوی روڈ لاہور تک کا سفر کیا اور اب تک یہ سفر جاری وساری ہے۔

یہ پڑھیں:  شہسوار صحافت بشیر انصاری رحمہ اللہ

۱۹۸۷ء سے ۲۰۲۰ء تک انصاری صاحب کی سرپرستی میں کام کیا اور جماعتی کام کو عبادت سمجھ کر کیا۔ نہ رات دیکھی اور نہ ہی دن۔ … ۲۲‘ ۲۲ گھنٹے کام کیا‘ یہ تھی جماعتی تڑپ اور انصاری صاحب کی تربیت کا اثر جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔

اس مقام پر حضرت الامیر جناب پروفیسر ساجد میرd کی شفقت اور محبت کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے ۱۹۸۷ء سے اب تک ہماری رہنمائی فرمائی اور خلوص دل سے ہماری سرپرستی فرمائی جس پر میں انہیں تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین!

بہرحال انصاری صاحب کے ساتھ عقیدت اور محبت کا سفر جاری رہا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ یہ دنیا تو ایک مسافر خانہ ہے۔ یہاں جو بھی آیا اسے چلے جانا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ مسافر جو ہلکی پھلکی زندگی گذار کر شریعت اسلامیہ پر کاربند ہونے کے بعد اپنی اصل منزل سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ طویل تعلق کی وجہ سے بہت یاد داشتیں ہیں جو اس وقت نوک قلم پر نہیں آ رہیں۔ کچھ بکھری بکھری باتیں تحریر کر دی ہیں‘ یہ تو صرف ان کی خدمات عالیہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے قلم اٹھایا ہے‘ وہ ایک روشنی کا مینار تھے۔ ان کی رحلت سے جماعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

مرحوم کی نماز جنازہ ۶ ستمبر بروز اتوار دن ۱۰ بجے بڑے قبرستان چوک نیائیں گوجرانوالہ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ حضرت الامیر جناب پروفیسر ساجد میرd نے بڑے ہی رقت آمیز لہجے میں پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام اور صحافی حضرات نے شرکت فرمائی۔ ہر کوئی انصاری صاحب کے لیے دعائیہ فقرے ادا کر رہا تھا اور ہر فرد ان کی امانت‘ دیانت‘ شرافت اور ان کی بے باکی کی گواہی دے رہا تھا۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا

یہ پڑھیں: رپورٹ نماز جنازہ بشیر انصاری

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری لغزشوں سے صرف نظر کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ!


No comments:

Post a Comment

Pages