تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت سیمینارز .. گوجرانوالہ 20-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 29, 2020

تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت سیمینارز .. گوجرانوالہ 20-20

 

ھفت روزہ اھل حدیث، مرکزی جمعیت گوجرانوالہ، تحفظ ناموس صحابہ واھل بیت سیمینارز، ’’تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت] سیمینارز‘‘ .. گوجرانوالہ

’’تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت] سیمینارز‘‘ .. گوجرانوالہ

تحریر: جناب حافظ محمد عباس راشد (ناظم نشر واشاعت گوجرانوالہ)

صحابہ کرام وہ نفوس قدسیہ ہیں کہ جن کی عظمت ورفعت کی گواہی نہ صرف قرآن نے دی بلکہ نبی مکرم e نے بھی صحابہ کرام کی تکریم کی تعلیم دی۔ کائنات کا یہ مقدس ترین گروہ دین اسلام کا اولین شاہد اور نزول قرآن کا گواہ ہے۔ قرآن حکیم کی ایک ایک آیت اور پیارے پیغمبرe کی ایک ایک ادا ہمیں اسی مقدس ترین انسانی جماعت سے ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں صحابہ کرام کی محبت و الفت کا۔ عقیدت وچاہت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔

یہ پڑھیں:    آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں چلنے والی ہر تحریک میں شامل ہوں گے

کوئی مسلمان کتنا بھی بے عمل یا بد عمل کیوں نہ ہو وہ بہرحال نہ نبی مقدسe کی ذات اور بات پر کوئی سمجھوتہ کرتا ہے نہ اصحاب رسول کی عظمت وتقدیس پر ہرزہ سرائی برداشت کرتا ہے کہ یہ تقاضائے ایمان بھی ہے اور اصحاب رسول اللہe کی قربانیوں سے وفا کا اعلان بھی۔بدقسمتی سے مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک خاص گروہ ہمیشہ سے محبت اہلبیت کی آڑ میں ملکی امن وامان کو تباہ کرنے کا خواہش مند رہتا ہے۔ ایک مومن جب صحابہ کرام کا ذکر کرتا ہے تو اس کی نظر میں اہل بیت رسولe اس اعزاز سے پہلے مشرف ہوتے ہیں۔ مسلمان صحابہ کرام یا اہل بیت اطہار میں کوئی فرق ہی نہیں کرتا۔ مگر امن کے دشمن انہیں دو مقدس ترین گروہوں کی آڑ لیکر اس ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے میں لگے رہتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی طرف سے منظور شدہ ایک بل کی آڑ میں پہلے چند لوگوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس پریس کانفرنس میں صاف الفاظ میں نہ صرف بنات رسولe کا انکار کیا گیا بلکہ اہل بیت رسولe کا نام لیکر ان کی آڑ میں امت مسلمہ کی مقدس شخصیات صحابہ کرام بالخصوص سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا ابوسفیان کی توہین کی گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ خلفائے ثلاثہ کا بھی انکار کر دیا گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس پریس کانفرنس پر ملکی سلامتی کے ادارے نوٹس لیتے اور پاکستان کی ۹۰ فیصد آبادی کے ایمان وجذبات سے کھیلنے والوں پر مقدمات قائم ہوتے، افسوس کہ ایسانہ ہو سکا۔

لاوا اب اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ دفاع صحابہ کی آئینی وقانونی اور معاشرتی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ عوامی بے چینی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ اسی تناظر میں اپنے جذبات کے اظہار اور اپنے مطالبات کے حق میں مروجہ جمہوری طریق کار کے مطابق پشاور اور کراچی میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر دنیا کو بتایا ہے کہ ہم عظمت اصحاب رسول e اور توقیر صحابہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔اسی تناظر میں دیگر جماعتوں کی طرح وطن عزیز کی ایک مؤثر، مضبوط اور فعال جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث نے بھی اپنے کارکنان کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کی۔ امیر مرکزیہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر d۔ ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd کی ہدایات واحکامات کی روشنی میں ملک بھر میں ضلعی وشہری صدر مقامات سے لیکر تحصیل اور تھانے کی سطح تک کے نظم کے تحت دفاع صحابہ ، تحفظ ناموس صحابہ کے عنوانات پر سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیاں نکالی گئیں اور جا رہی ہیں۔ ہم گوجرانوالہ کی بات کریں تو شہر کے چاروں تنظیمی حلقوں میں تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت سیمینارز منعقد ہوچکے ہیں۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

یہ پڑھیں:    شعائر اسلام کے تحفظ کی خاطر حالیہ بیداری

سب سے پہلا سیمینار حلقہ الشیخ محدث گوندلویa کے زیر اہتمام مورخہ ۲۱ اگست بروز جمعہ جامع مسجد صدیقیہ اہلحدیث ماڈل ٹائون میں منعقد ہوا، جس میں شہری قائدین کے علاوہ سینئر نائب ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم بٹ، اور امیر ضلع حضرت مولانا قاری محمد حنیف ربانی حفظہم اللہ نے خطابات فرمائے۔

دوسرا سیمینار حلقہ الشیخ محمد عبد اللہؒ کے زیر اہتمام جامع مسجد اتحاد امت محمدیہ چند دا قلعہ میں مورخہ۲ ستمبرکو منعقد ہوا، جس میں شہری قائدین سمیت مولانا محمد صادق عتیق ،شیخ الحدیث مولانا محمد مالک بھنڈر اور حضرت مولانا امانت الرحمان عثمانی حفظہم اللہ کے کلیدی خطابات ہوئے۔

تیسرا سیمینار مورخہ ۴ ستمبر کو حلقہ الشیخ ابو البرکات احمدa کے زیر اہتمام جامع مسجد میاں محمد دین چوک نیائیں میں منعقد ہوا، جس میں شیر اہلحدیث مولانا محمد نعیم بٹ حفظہ اللہ، ممتاز اسکالر پروفیسر ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ حفظہ اللہ اور شہری قائدین نے خطابات فرمائے۔

چوتھا سیمینار مورخہ ۶ ستمبرکو جامع مسجد اقصیٰ اہلحدیث سیٹلائٹ ٹائون میں حلقہ الشیخ مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے زیر انتظام ہوا، اس سیمینار میں مولانا محمد نعیم بٹ صاحب کے ہمراہ مولانا حافظ اسعد محمود سلفی، چیئر میں سیاسی کمیٹی مولانا میاں محمد سلیم شاہد، مولانا محمد صادق عتیق اور امیر شہر علامہ محمد سعید کلیروی، ناظم اعلیٰ مولانا محمد ابرار ظہیر نے بھی خطابات کئے۔

ان سیمینارز کے علاوہ دو آل پارٹیز کانفرنسز بھی منعقد کی گئیں، پہلی مورخہ یکم ستمبر کو مرکز ابن حنبل چوک پپلی والا میں مولانا حجاج اللہ صمدانی کے زیر انتظام امیر شہر حضرت علامہ پروفیسر محمد سعید کلیروی کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں جمعیت علمائے اسلام،جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اہلحدیث سمیت دیگر جماعتوں کے مقامی قائدین نے خطابات فرمائے، جبکہ دوسری آل پارٹیز کانفرنس مورخہ ۱۲ ستمبر بروز ہفتہ کو جامع مسجد مبارک اہلحدیث کھوکھر کی میں ممتاز سماجی شخصیت جناب حاجی محمد یوسف کھوکھر اور ناظم مساجد مرکزیہ سٹی مولانا حکیم محمد افضل جمال کے اہتمام کے ساتھ امیر شہر علامہ محمد سعید کلیروی کی زیر صدارت منعقد ہوئی، اس کانفرنس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا خالد حسن مجددی، شیخ الحدیث حافظ محمد امین محمدی حفظھم اللہ سمیت خطیب پنجاب مولانا محمد صادق عتیق اور دیگر زعمائے ملت شریک ہوئے۔ ان تمام پروگرامز کی میڈیا کوریج بھی شاندار تھی اور پروگرامز بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوئے،جبکہ جماعت کی ذیلی تنظیم اہلحدیث یوتھ فورس کے زیر انتظام مورخہ ۲ ستمبر بروز بدھ کو ایک دفاع صحابہ ریلی بھی جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر نکالی جا چکی ہے۔جس میں اہلحدیث یوتھ فورس کے راہنمائوں،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ مقصود احمد،مقامی قائدین کے علاوہ شیر اہلحدیث مولانا محمد نعیم بٹ حفظہ اللہ اور ضلعی ناظم مولانا ابراہیم محمدی نے بھی خطاب فرمایا:

یہ پڑھیں:   ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ پر حملے نا قابل برداشت ہیں

ازیں بعد ایک مرکزی سیمینار مرکزیہ سٹی کے زیر اہتمام جامع مسجد مکرم اہلحدیث ماڈل ٹاؤن میں مورخہ ۲۰ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار کو بعد از عصر تا مغرب منعقد ہوا۔ اس سیمینار کے مہمان مقررین میں فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی حفظہ اللہ (وائس چئیرمین پیغام ٹی وی) فضیلۃ الشیخ پروفیسر حافظ عبدالستار حامد d (ناظم امتحانات وفاق المدارس السلفیہ پاکستان)، سینئر نائب ناظم اعلیٰ شیر اہلحدیث مولانا محمد نعیم بٹ (آپ خیبر پی کے کے جماعتی دورے پر ہونے کی وجہ شریک سیمینار نہ ہو سکے) اور فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ شاہد رفیق(فاضل مدینہ یونیورسٹی) جیسی نابغہ روزگار شخصیات شامل تھیں۔ سیمینار کی صدارت امیر شہر حضرت علامہ پروفیسر محمد سعید کلیروی حفظہ اللہ نے فرمائی۔ جبکہ ناظم سٹی مولانا محمد ابرارظہیر نے نقابت کے فرائض سر انجام دئیے۔شہری جمعیت کے اکابرین مولانا محمد صادق عتیق۔ صاحبزادہ حافظ محمدعمران عریف۔ جناب عبدالرحمان بٹ۔ مولانا میاں محمد سلیم شاہد۔ مولانا حافظ عبدالشکور شیخوپوری۔مولانا حافظ ظہیر الاسلام خواجہ، مولانا عبدالسلام زاھد۔ مولانا فاروق عاصم۔ مولانا امتیاز محمدی۔ مولانا قاری محمد نعیم صدیقی۔ جناب میاں مجیب الرحمان۔ جناب حاجی محمد یوسف کھوکھر۔ مولانا حکیم افضل جمال،قاری احمد بھٹہ،قاری محمود احمد عاصم، قاری رمضان ساجد قصوری، علامہ نصر اللہ خان مظفر اور چاروں حلقوں کے ذمہ داران مولانا قاری محمد شفیق بٹ۔ مولانا سلیمان یزدانی۔ مولانا عطا ء الرحمان عابد۔ مولانا حافظ عبدالغفار ثاقب۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرحمان پن۔ مولانا قاری ابوبکر سبحانی۔ مولانا حافظ عثمان اسحاق۔ مولانا حافظ عظیم انجم اور دیگر علما وخطبا اپنے رفقا واحباب سمیت شریک محفل تھے۔نیز مولانا امیر حمزہ طور، مولانا عمران ربانی، مولانا ابو سفیان سلفی ضلعی جمعیت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جمعیت اساتذہ گوجرانوالہ کے ضلعی صدر پروفیسر حافظ سیف الرحمان بٹ۔ جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفار قمر بھی اپنے رفقاء اساتذہ کے ہمراہ تقریب کی رونق کو دوبالا کئے ہوئے تھے۔ مہمانان خصوصی میں سابقہ مئیر گوجرانوالہ الحاج شیخ ثروت اکرام۔جناب افتخار احمد بٹ، سابقہ صدر ڈسٹرکٹ بار نور محمد مرزا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سول ڈیفنس جناب طارق مغل، مرکزی چیئر مین پرائیویٹ سکولز ایسو سی ایشن پاکستان جناب سجاد مسعود چشتی،چیئر مین پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن گوجرانوالہ جناب چوہدری محمد افضل وڑائچ،تاجران کلاتھ مارکیٹ بورڈ کے راہنما جناب شیخ محمد افضل جج ، جناب شیخ خالد احرار بن مولانا محمد یوسف احرار،حافظ عطاء السلام عابد، مولانا حافظ حمید اللہ خان، سمیت دیگر سماجی وسیاسی عمائدین شامل تھے۔ تقریب کا آغاز مسحور کن تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ پھر مرکزیہ سٹی کے ناظم سوشل میڈیا مولانا سید حبیب الرحمان ترمذی نے مدحت صحابہ پر ایک خوبصورت نظم سے سامعین کے جذبات کو مہمیز لگائی۔

یہ پڑھیں:   اجلاس کابینہ وعاملہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب

بلاتاخیرسلسلہ خطابات کا آغاز ہوا سب سے پہلے خطیب شہر مولانا حافظ اسعد محمود سلفی حفظہ اللہ نے کلمات استقبال میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قائدین کا عظیم الشان پروگرام کیلئے جامع مسجد مکرم اہلحدیث کا انتخاب کرنے پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے آنے والے تمام معزز مہمانوں اور سامعین کرام کا شکریہ اداکیا۔ ان کے بعدممتاز محقق، مؤلف اور استاذ فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ نے ’’مقام صحابہ] اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے انتہائی عالمانہ انداز میں زبردست علمی نکات پر مشتمل ایک علمی وتحقیقی مقالہ پیش کیا جسے سامعین نے بے حد پسند فرمایا۔ ان کے بعد مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر پروفیسر حافظ عبد الستار حامد حفظہ اللہ نے ’’قرآن وسنت کے تناظر میں مقام صحابہ]‘‘ کے عنوان سے انتہائی جامع، بلیغ اور دلوں میں اتر جانے والا خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنی علمی تحقیق کا نچوڑ بہت خوبصورت اور محبت بھرے انداز میں پیش فرمایا۔ آپ کی تقریر کا لفظ لفظ محبت صحابہ] سے سرشار تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ’’ صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب در اصل قرآنی آیات کے منکر ہیں، قرآن مجید اور حدیث رسول e میں صحابہ کرام] کو جنتی اور اعلیٰ ترین مسلمان کہا گیا ہے، ان کے ایمان پر شک کرنے والے کا اپنا ایمان مشکوک ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی مملکت میں ایسے عناصر کو قرار واقعی سزا دیئے بغیر گستاخیوں کو روکنا ممکن نہیں۔

پھر معزز مہمان پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھویd نے مختصر وقت میں ’’رحماء بینھم …صحابہ‘‘ کے عنوان سے خطاب فرمایا۔ خطاب کیا تھا بس علم کا اک سمندر تھا جو بہہ رہا تھا۔  انہوں نے فرمایا کہ اصحاب رسول e سے محبت کے بغیر رسول اللہ e کی محبت کا دعویٰ بھی بیکار اور جھوٹا ہے، صحابہ کرام کو قرآن نے معیار ایمان قرار دیا ہے، توہین صحابہ کے مجرموں کو قرارواقعی سزا نہ دی گئی تو بات نبی کریم e کی توہین تک چلی جائے گی۔صحابہ کرام تاریخی نہیں قرآنی شخصیات اور نبی کریمe کے با اعتماد ساتھی تھے۔

یہ پڑھیں:   ’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر میں

پروگرام کے آخر میں امیر شہرعلامہ سعید کلیروی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے کارکنان ناموس صحابہ کے تحفظ کیلئے میدان عمل ہیں،ہم صحابہ کے ناموس کا دفاع نبی کریم e کے ناموس کا دفاع سمجھ کر کرتے ہیں، اذان ہونیوالی تھی مگر چند لمحوں میں امیر شہر نے شہری جمعیت کی کاکردگی، تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت سیمینارز کی غرض وغایت، مسجد مکرم کی تاریخ، مولانا سید داود غزنوی اور مولانا اسماعیل سلفی کی خدمات کو خراج تحسین۔ سیمینار کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے کارکنان کی حوصلہ افزائی اور آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کردیا۔

 

 

درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages