آئین پاکستان ... تکفیر قادیانیت اور حقائق 20-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 29, 2020

آئین پاکستان ... تکفیر قادیانیت اور حقائق 20-20

ھفت روزہ اھل حدیث، آئین پاکستان، تکفیر قادیانیت اور حقائق


آئین پاکستان ... تکفیر قادیانیت اور حقائق

تحریر: جناب مولانا عبیداللہ لطیف

محترم قارئین! ۲۵ اکتوبر کو روزنامہ جنگ لندن میں مرزا قادیانی کے ایک پیروکار ڈاکٹر یحییٰ کا کالم بعنوان ’’آرٹیکل ۲۶۰ اور احمدیوں کا عقیدہ نزول عیسیu‘‘ شائع ہوا جس میں موصوف نے اپنے روحانی پیشوا مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے خوب دجل و فریب سے کام لے کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اپنے کالم میں ڈاکٹر یحییٰ صاحب لکھتے ہیں کہ

یہ پڑھیں:    مکہ مکرمہ ... مہبط وحی اور مولد النبی ﷺ

’’۱۹۷۴ء کی جس اسمبلی نے آرٹیکل ۲۶۰ کو منظور کیا اور جس اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں کئی روز بحث و تمحیص جاری رہی اس کی شائع شدہ کاروائی پڑھ لیجیے‘ ختم نبوت کا موضوع اس میں پوری طرح زیر بحث نہیں لایا گیا۔ ۸ اگست ۱۹۷۴ء کو ختم نبوت کے موضوع پر کچھ بحث کی گئی لیکن جب جماعت احمدیہ کے اس وقت کے خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد نے کمیٹی کے سامنے یہ موقف رکھا کہ ’’ہمارا عقیدہ ہے کہ امت محمدیہ تیرہ سو سال سے مسیح نبی اللہ کا انتظار کر رہی تھی اور جس کا تیرہ سو سال تک امت محمدیہ نے انتظار کیا وہ مسیح ہمارے عقیدے کے مطابق آچکے ہیں۔‘‘ تو دانستہ طور پر سپیشل کمیٹی کی باقی ماندہ کاروائی کے دوران ختم نبوت کے موضوع کو چھیڑا ہی نہیں گیا۔‘‘

محترم قارئین! ڈاکٹر یحییٰ نے اپنی مندرجہ بالا تحریر میں مکمل طور پر جھوٹ کا سہارا لیا ہے کیونکہ جب ہم اس کاروائی کو پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کے پیش کیے گئے موقف کے جواب میں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار صاحب نے مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود کی کتب سے دو تحریریں پیش کیں۔ ایک انوارصداقت صفحہ ۶۵ سے جس میں وہ لکھتا ہے کہ

’’اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرتe کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے‘ کذاب ہے‘ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔‘‘

دوسری تحریر یحییٰ بختیار صاحب نے انوار خلافت صفحہ ۶۲ کی پیش کی جس میں مرزا بشیرالدین محمود لکھتا ہے کہ

’’انہوں نے سمجھا خدا کے خزانے ختم ہو گئے ہیں‘ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالی کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کے باعث ہے ورنہ ایک نبی تو کیا ایک ہزار نبی ہوں گے۔‘‘

مرزا ناصر ان دونوں تحریروں کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ جب ہم اس ساری کاروائی کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس ساری کاروائی میں اجرائے نبوت کے حوالے سے ظلی و بروزی نبوت،امتی نبی،شرعی اور غیر شرعی نبوت پر تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی ہے۔

یہ پڑھیں:   حج ... سعودی حکمت عملی

قارئین کرام! یہاں پر ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا امت مرزائیہ کو فقط عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کی بنا پر ہی کافر قرار دیا گیا ہے یا پھر کچھ اور محرکات بھی تھے۔ تو قارئین! اگر صرف عقیدہ ختم نبوت کی بنیاد پر کافر قرار دیا ہوتا تو پھر قادیانی لاہوری گروپ اس قانون کی زد میں کیسے آ گیا جبکہ وہ اجرائے نبوت کے قائل ہی نہیں اور مرزا کادیانی کی نبوت کے منکر ہیں۔

محترم قارئین! اصل محرکات کچھ اور بھی ہیں کہ جنہیں امت مرزائیہ عمدًا چھپاتی ہے جن پر اس کارواِئی کے دوران مفصل بحث ہوئی تھی‘ میں ان میں سے چند ایک کا یہاں تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ قادیانیوں کے اخبار الفضل کے ۲۶ فروری ۱۹۷۴ء کے شمارے میں میثاق النبیین کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں قصیدہ لکھا گیا جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہe سمیت تمام انبیاء کرامu سے یہ عہد لیا گیا کہ اگر ان کی زندگی میں مرزا قادیانی بطور مسیح موعود آجائے تو ان سب کو بھی مرزا قادیانی پر ایمان لانا ہو گا۔

یہ اتنا بڑا کفر ہے کہ جس کی مثال ملنا محال ہے حالانکہ وہ عہد نبی کریمu کے بارے میں تمام انبیاء کرام سے لیا گیا اور اسی عہد کی پاسداری کا عملی مظاہرہ سیدنا عیسیٰu کے نزول سے ہو گا لیکن امت مرزائیہ نے ان قرآنی آیات اور میثاق النبیین کا مصداق مرزا کادیانی کو قرار دیا ہے۔ آئیے اب اس قصیدے کے اشعار بھی ملاحظہ کریں۔

لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے

وہی عہد لیا حق نے مصطفےؐ سے

وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا

سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا

مبارک وہ امت کا موعود آیا

وہ میثاق ملت کا مقصود آیا

کریں اہل اسلام اب عہد پورا

بنے آج ہر ایک عبدًا شکورا

یہ پڑھیں:    قرار دادِ مقاصد کی اہمیت

محترم قارئین! قاضی ظہورالدین اکمل نامی شخص نہ صرف ایک شاعر تھا بلکہ مرزا قادیانی کا دست راست بھی‘ جو مرزا قادیانی کی شان میں مدح سرائی بھی کرتا رہا‘ اس نے ایک نظم لکھی جس کے چند اشعار یہ تھے:

محمدؐ اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھ لے قادیان میں

ان کفریہ اشعار پر مبنی یہ نظم مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کے سامنے پڑھی گئی جس پر سرزنش کرنے کی بجائے مرزا قادیانی نے جزاک اللہ۔ کہا جب اسمبلی میں مرزا ناصر کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو اس نے سرے سے ہی یہ نظم مرزا قادیانی کے سامنے پڑھے جانے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ یہ نظم ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء کے قادیانی اخبار البدر میں بھی شائع ہوئی اور ۲۲ اگست ۱۹۴۴ء کے قادیانی اخبار الفضل میں قاضی اکمل کا بیان موجود ہے کہ یہ نظم مرزا قادیانی کے سامنے پڑھی گئی اور اس نے سن کر جزاک اللہ کہا۔

محترم قارئین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عیسی ابن مریم بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور قرآن کریم نے سیدہ مریمr کی پاکدامنی کی گواہی دی ہے لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ

’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے رہے۔‘‘ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۵۴)

اسی طرح مرزا قادیانی اپنی کتاب کشتی نوح میں لکھتا ہے کہ

’’مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح‘ میں تو اس کے چاروں حقیقی بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کوکیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں‘ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ کہ قابل اعتراض۔‘‘ (کشتی نوح مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۷-۱۸)

یہ پڑھیں:  خواتین کے چند غیر شرعی افعال

محترم قارئین! آپ ملاحظہ کیجیے کہ جس مریم علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہیاں اللہ تعالی قرآن کریم میں خود دے رہا ہے انہی پر مرزا قادیانی کتنے گھناؤنے الزام لگا رہا ہے‘ وہ بھی تحریف شدہ بائبل کے بل بوتے پر۔

قارئین! اب آتے ہیں ڈاکٹر یحییٰ کی طرف سے پیش کردہ اس حدیث کی طرف جس میں عیسی بن مریم کو چار دفعہ نبی اللہ کہا گیا ہے اور اکثروبیشتر دیگر قادیانی حضرات بھی بیان کرتے ہیں۔

جب مرزا قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا تو اس وقت کے علماء نے اعتراض کیا کہ مسیح بن مریم تو نبی اللہ تھے تو کیا تم بھی نبی ہو جس کا جواب دیتے ہوئے مرزا قادیانی نے لکھا کہ

’’اس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی ہونا چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سیدومولا نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہو گا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہو گا۔‘‘ (توضیح مرام مندرجہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۹)

محترم قارئین! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حدیث میں عیسیٰ بن مریمi کے لیے چار مرتبہ لفظ نبی اللہ آیا ہے تو مرزا قادیانی نے  خلاف حدیث بات کیوں کی کہ آنیوالے مسیح کے لیے ہمارے سید و مولی نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی اور یہ بات بھی جناب محمد رسول اللہe کی طرف منسوب کرکے میرے آقا کریم علیہ السلام کی وعید کے مطابق جہنم کا حقدار نہیں ٹھہرا۔

دوسری بات اسی حدیث کے حوالے سے یہ کہ کوئی بھی قادیانی یہ مکمل حدیث پیش کرنے کی جرأت نہیں کرتا کیونکہ اس میں مسیح ابن مریم کے ساتھ ساتھ دیگر علامات اور دجال کا بھی ذکر ہے حدیث میں چار مرتبہ عیسی بن مریم کو نبی اللہ کہا گیا ہے نہ کہ مرزا غلام احمد بن چراغ بی بی کو۔ اسی حدیث میں دجال کے بارے میں نبی کریمu نے فرمایا ہے کہ وہ گچھے دار بالوں والا ایک جواں شخص ہے‘ اس کی ایک آنکھ بے نور ہے‘ میں اسے عبدالعزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ اب سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ جب نبی کریمu نے عیسیٰ بن مریمi کا نام لیا تو اس سے مراد مرزا قادیانی نے ایک دوسرے شخص یعنی خود اپنے آپ کو قرار دے لیا لیکن جب دجال کی باری آئی تو اسے ایک گروہ سے تشبیہ دی‘ کبھی پادریوں کے گروہ سے (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۶۲-۳۶۶) تو کبھی علمائے اسلام سے (روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۳) اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ بن مریمi سے ایک گروہ مراد کیوں نہیں‘ صرف ایک شخص مرزا قادیانی ہی کیوں؟

یہ پڑھیں:    عظمتِ رفتہ کی بازیابی

ڈاکٹر اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ نبی کریمu کی وفات کے بعد صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع سابقہ تمام انبیاء کی وفات پر ہوا ہے اور موصوف مرزا قادیانی کی تعلیمات کے عین مطابق قرآن کریم کی آیت {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ} کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور موصوف مزید لکھتے ہیں کہ حیات مسیح کے عقیدہ کی قرآن و حدیث سے کوئی تائید نہیں ہوتی۔

محترم قارئین! یہ ایک صریح جھوٹ ہے کہ صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع سابقہ انبیاء کی وفات پر ہوا تھا بلکہ صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع نبی کریم علیہ السلام کی وفات پر ہوا تھا۔ جہاں تک تعلق آیت {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ} کا تو اس آیت کا ترجمہ قطعًا یہ نہیں بنتا کہ نبی کریمe سے پہلے تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ نبی کریمu سے پہلے کئی رسول ہو چکے ہیں اگر خلت کا معنی وفات کیا جائے تو دوسری آیت {کَذٰلِکَ اَرسَلنٰکَ فِی اُمَّۃٍ قَدخَلَت مِن قبْلھَا اُمَمٌ} میں جو خلت کا لفظ آیا ہے وفات کر کے دکھائیں‘ کیا اس سے پہلے تمام امتیں فوت ہو چکی ہیں؟ اسی ضمن میں میں آپ کو آگاہ کرنا چاہوں گا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب جنگ مقدس مندرجہ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۸۹ پر {قَد خَلَت مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ} کا ’’اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں‘‘ کیا ہے اور روحانی خزائن جلد ۶ کے صفحہ ۳۴۰ پر الرسل کا ترجمہ کئی رسول کیا ہے اور قادیانیوں کے پہلے خلیفہ حکیم نور دین نے اپنی کتاب فصل الخطاب کے صفحہ ۳۲ پر اس سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں کیا ہے‘ اس لیے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال اور وفات مسیح پر صحابہ کا اجماع ثابت کرنا اعلی درجے کی حماقت ہی ہے اور کچھ نہیں۔

محترم قارئین! اب ہم مرزا قادیانی کی کتب سے ہی واضح کرتے ہیں کہ بعض صحابہ حیات مسیح کے قائل تھے جن میں سیدنا عمرt بھی موجود تھے اور بقول مرزا قادیانی نبی کریمu کی وفات کے بعد تک ان کا یہ عقیدہ رہا۔ سوچنے کی بات ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت کے نزدیک حیات مسیح کا عقیدہ شرکیہ عقیدہ ہے تو کیا نبی کریمu اپنے صحابہ کا عقیدہ درست کروائے بغیر ہی جنت کی بشارتیں دیتے رہے۔ آئیے اب وہ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں جس میں مرزا قادیانی کا اعتراف ہے کہ بعض صحابہ حیات مسیح کے عقیدے پر تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ

’’بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں بھی مبتلاء تھے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۲۲  صفحہ ۳۵)

اسی طرح ایک مقام پر لکھتا ہے کہ

’’عمر بن خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرتe فوت ہو گئے ہیں تو میں اپنی تلوار سے اسے قتل کردوں گا بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جیسے عیسی بن مریم اٹھائے گئے اور ابوبکر نے کہا کہ جو شخص محمدe کی عبادت کرتا ہے تو وہ ضرور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمدؐ کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۸۱)

یہ پڑھیں:  سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد

قارئین کرام! مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے ہی واضح ہو گیا کہ اختلاف نبی کریمe کی وفات پر ہوا تھا اور اجماع بھی اسی پر نہ کہ عیسی علیہ السلام کی وفات پر اور سیدنا عمرt بھی حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے۔

اب آتے ہیں مرزا قادیانی کے چیلنج کی طرف تو اس چیلنج کا تیا پانچہ تو خود اس کی اپنی تحریروں سے ہی ہو گیا ہے لیکن پھر بھی ایک حدیث پیش کیے دیتے ہیں جو کئی ایک بار علمائے اسلام  نے اس کی زندگی میں بھی پیش کی تھی۔ حدیث ملاحظہ ہو :

دجال مشرق سے زمانہ اختلاف میں نکلے گا اوروہ زمین پر چالیس دن رہے گا ان(چالیس دن) کی مقدار اللہ ہی بہتر جانتا ہے اوروہ (دن) مسلمانوں پر بہت ہی شدت والے ہوں گے پھر آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا اور وہ لوگوں کو (نماز) پڑھائیں گے اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے اور کہیں گے سمع اللہ لمن حمدہ، اللہ نے دجال کو ہلاک کیا اور مسلمانوں کو ظاہر کیا۔ (مجمع الزوائد جلد ۲۱ رقم ۳۴۵۲۱، مسند البزار رقم  ۲۴۶۹)

محترم قارئین! اپنے کالم میں ڈاکٹر یحییٰ صاحب نے ایک اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ

’’ ہمارے پیارے نبیe کے بارے میں جو ایک عظیم الشان پیشگوئی قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے اس میں بھی آپؐ کے پیدائشی نام محمد کی بجائے آپ کے صفاتی نام احمد کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {وَ مُبَشِّرًا  بِرَسُولٍ یَّاتِی مِن  بَعدِی اسمُہٗ اَحمَدُ} اور ایک عظیم رسول کی خوشخبری دیتے ہوئے جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہو گا (سورہ الصف) یہی وجہ ہے کہ مومنین نے تو آنحضورe کو سچا نبی مان لیا لیکن منکرین ابھی تک یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پیشگوئی میں نام تو احمد تھا لیکن ان کے نزدیک بے وقوف مسلمانوں نے نبی مان لیا۔‘‘

محترم قارئین! نبی کریمu نے خود اپنا نام احمد بھی بتایا ہے چنانچہ نبی کریمu فرماتے ہیں کہ

میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں ماحی ہوں یعنی اللہ تعالی میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا،اور میں حاشر ہوں، لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل)

یہ پڑھیں:    معاشرے میں بڑھتا ہوا الحاد اور اس کا سد باب

اب جب فرمان رسولe سے ثابت ہو گیا کہ آپؐ کا ایک نام احمد بھی ہے تو یہ اعتراض ہی فضول ہے لیکن اس کے برعکس امت مرزائیہ اسمہ احمد کے مصداق مرزا قادیانی کو مانتی ہے نہ کہ محمد رسول اللہe کو۔ چنانچہ قادیانیوں کا مصلح موعود اور دوسرا خلیفہ بشیرالدین محمود جو کہ مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا بھی ہے لکھتا ہے کہ

’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریمe کا ہے اور آپؐ کے سوا کسی اور کو احمد کہنا آپؐ کی ہتک ہے لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی ہے۔‘‘ (انوار خلافت مندرجہ انوار العلوم جلد ۳ صفحہ ۸۳)

آگے چل کر مرزا بشیرالدین محمود مزید لکھتا ہے کہ

’’ پھر اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے کیونکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپؐ کا نام احمد تھا‘ اگر احمد بھی آپ کا نام ہوتا تو مذکورہ بالا مقامات میں محمدؐ نام کے ساتھ آپ کا نام احمد بھی آتا اور کچھ نہیں تو ایک ہی جگہ احمد نام سے پکارا جاتا یا کلمہ شہادت میں بجائے اشھد ان محمد رسول اللہ کے احمد رسول اللہ پڑھنا بھی جائز ہوتا مگر ایسا نہیں ہے‘ نہ یہ بات رسول کریم سے ثابت ہے اور نہ صحابہ سے۔ اب ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپؐ کا نام احمد نہ تھا۔

پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرتe نہیں ہو سکتے‘ ہاں اگر وہ تمام نشانات جو احمد نام رسول کے ہیں آپؐ کے وقت میں پورے ہوں تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپؐ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کو چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے‘ لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔‘‘ (انوار خلافت مندرجہ انوارالعلوم جلد ۳ صفحہ ۸۷-۸۸)

محترم قارئین! قادیانیوں کے مصلح موعود اور دوسرے خلیفہ کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اسمہ احمد کے مصداق محمد رسول اللہe نہیں بلکہ مرزا قادیانی ابن چراغ بی بی ہے۔

یہ پڑھیں:    عیسوی سال کی آمد اور ہم

اپنے کالم میں ڈاکٹر یحییٰ صاحب نے حدیث میں موجود لفظ امامکم منکم سے ایک اور دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ حدیث کے الفاظ بالکل واضح ہیں:

’’رسول اللہe نے فرمایا ’’تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے  (تم نماز پڑھ رہے ہو گے)  اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔‘‘

محترم قارئین! اس حدیث مبارکہ سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ جب عیسیٰ ابن مریمi نازل ہوں گے تو امت مسلمہ کا امام جو انہی میں سے ہوگا وہ پہلے سے موجود ہو گا‘ محدثین کی آراء کے مطابق اس امام سے مراد امام مہدی ہیں۔ ڈاکٹر یحییٰ صاحب نے ایک ضعیف روایت لاالمہدی الا عیسیٰ بھی اپنے کالم میں  پیش کی ہے جس کے ضعف کا اقرار کرتے ہوئے مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ

’’میرا یہ بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اورمحدثین اس کو موضوع یا مجروح ٹھہراویں مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا‘ اگر خداتعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کردی ہے جیسے لاالمہدی الا عیسیوالی حدیث ہے محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھ پر خداتعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجادکردہ مذہب نہیں بلکہ خودیہ مسلّم مسئلہ ہے کہ اہلِ کشف یا اہلِ الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے۔‘‘ (ملفوظات مرزا قادیانی جلد ۲ صفحہ ۴۵ طبع چہارم)

محترم قارئین! ڈاکٹر یحی صاحب اپنے آرٹیکل میں مزید لکھتے ہیں کہ

’’اگر ہم ان احادیث کو ظاہر پر محمول کریں تو جہاں گمراہی ہمارا مقدر بنے گی وہاں ہم مضحکہ خیز عقائد بھی منسوب کرنے کا موجب بنیں گے‘ مثال کے طور پر اگر ہم احادیث کے الفاظ کو حقیقی طور پر لیں تو کیا حضرت عیسی علیہ السلام نزول آسمانی کے بعد واقعی ساری دنیا کی پتھر ٗ لکڑی اور دھاتوں کی بنی ہوئی صلیبیں توڑیں گے اور جب صلیبوں کو توڑ کر فارغ ہوں گے تو پھر جنگلوں پھر دیہاتوں میں جا کر خنزیروں کو جا جا کر جسمانی طور پر ماریں گے۔‘‘

محترم قارئین! آپ ڈاکٹر یحییٰ کا دجل و فریب ملاحظہ کریں کہ کس طرح حدیث نبویہ پر طنز کرتے ہوئے وہ باتیں بھی حدیث کی طرف منسوب کر رہا ہے جن کا حدیث میں ذکر تک نہیں‘ حدیث مبارکہ میں جو الفاظ ہیں وہ صرف یہ ہیں۔

یہ پڑھیں:   مدارس ومساجد کے اساتذہ ومنتظمین

[یکسرالصلیب و یقتل الخنزیر] اب صلیب بھی واحد کا صیغہ ہے اور خنزیر بھی  جس کے صرف یہ معنی بنتے ہیں کہ وہ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے نہ کہ یہ مفہوم جو عموما قادیانی حضرات معنوی تحریف کرتے ہوئے ہر صلیب اور ہر خنزیر کرتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ صلیب کو توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے میں کیا مضحکہ خیز بات ہے؟ مضحکہ خیز بات تو یہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے دو زرد چادروں کی تاویل کرتے ہوئے لکھی ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد  قادیانی لکھتا ہے کہ

’احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد چادروں میں اترے گا‘ ایک چادر بدن کے اوپرماحول کے حصے میں اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصے میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اسطرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہو گا کیونکہ بوجہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔‘‘  (تذکرۃالشھادتین مندرجہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۶)

قارئین! اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ حدیث میں تو دو زرد چادروں کا ذکر ہوا ہے تین کا نہیں اور مرزا صاحب تین بیماریوں کا ذکر کر رہے ہیں‘ ایک سر کی بیماری دوسری کثرت پیشاب اور تیسری دستوں کی بیماری پھر کثرت پیشاب کا بھی یہ حال کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں سو سو بار پیشاب کرنا‘ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ ڈاکٹر یحییٰ صاحب کے مسیح موعود خود لکھ رہے ہیں کہ

’’مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے‘ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے۔‘‘ (نسیم دعوت مندرجہ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۴۳۴)

اب آپ خود سوچیے کہ مضحکہ خیز بات کون سی ہے صلیب توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا یا پھر زرد چادروں کی تاویل کثرت پیشاب سے کرنا اور وہ بھی بعض دفعہ دن میں سو سو بار کرنا۔ اگر حساب لگائیں تو چوبیس گھنٹوں میں ۱۴۴۰ منٹ ہوتے ہیں اور تقریبًا ہر ساڑھے چودہ منٹ بعد پیشاب کرنا اور ظاہری بات ہے پیشاب کرنے اور طہارت وغیرہ کرنے میں تقریبًا پانچ منٹ تو لگتے ہی ہوں گے‘ اس طرح ایک سے دوسری بار پیشاب کرنے کا درمیانی وقفہ صرف ساڑھے نو منٹ بنتا ہے وہ بھی بغیر سوئے اور بغیر کوئی کام کیے‘ یہ بھی تو مرزا صاحب کا عظیم الشان معجزہ ہے جو مضحکہ خیز تو نہیں ہو گا ڈاکٹر یحییٰ صاحب کی نظر میں۔

محترم قارئین! اب آتا ہوں آرٹیکل ۲۶۰ پر جس میں لکھا ہوا ہے کہ

جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیe کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا یا حضرت محمد e کے بعد کسی بھی اندازمیں نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان لاتا ہے وہ ازروئے آئین و قانون مسلمان نہیں۔

یہ پڑھیں:    ارضِ پاک کے غداروں سے قدرت کا انتقام

قارئین کرام! ڈاکٹر یحییٰ صاحب اپنے کالم میں  آئین کی اسی شق کو بنیاد بنا کر نزول عیسی ابن مریم علیہم السلام کے قائل تمام مسلمانوں کو کافر قرار دلوانا چاہتے ہیں جیسے قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے جو وہ بھی جانتے ہیں کہ ممکن نہیں لیکن اس کی آڑ میں سادہ لوح لوگوں کو آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس شق میں واضح لکھا ہوا ہے کہ ’’نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مصلح پر ایمان لاتا ہے۔‘‘ اگر اسی فقرے پر تھوڑی سی توجہ دی ہوتی تو بات بالکل واضح تھی کہ سیدنا عیسی بن مریم علیہم السلام اپنے نزول کے بعد کوئی دعوی نہیں کریں گے کیونکہ کسی بھی حدیث میں ان کے دعوے کا ذکر موجود نہیں۔ دوسری بات یہ کہ ساری امت مسلمہ جانتی ہے کہ وہ نبی اللہ ہیں اور آقا کریم علیہ السلام  نے ان کے نزول کے وقت کی تمام علامات بھی بتا دی ہیں جن سے لوگ انہیں پہچان لیں گے۔ اب آخری بات قادیانیوں کے کلمے کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اکثر لوگ ان کے کلمہ پڑھنے کی وجہ سے دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں تو قارئین کرام! مرزا قادیانی نے خود محمد رسول اللہe ہونے کا دعوی کیا ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ

’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت e کے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں، اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں، میں بموجب آیت {وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ} وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت e کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت eکے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد e ہوں، پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد e کی نبوت محمد ہی تک محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد e ہی نبی رہے اور نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت e ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے، میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۸ مندرجہ قادیانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۱۲)

یہ پڑھیں:      ولیمہ کی شرعی حیثیت

اسی طرح ایک اور جگہ پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ

’’نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لیے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔ اور نہ اپنے لیے بلکہ اسی کے جلال کے لیے۔ اس لیے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے۔ گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد(ثانی) (مرزا قادیانی) اسی محمد کی تصویر اوراسی کانام ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۳ تا ۵مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۷-۲۰۹)

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنی کتاب کلمۃ الفصل میں ایک مقام پر لکھتا ہے کہ

’’اورچونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا کہ [صار وجودی وجودہ] (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۱) اورحدیث میں بھی آیاہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایاکہ مسیح موعود میری قبرمیں دفن کیا جائے گا۔جس سے یہی مرادہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیامیں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور {ھو الّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ} کے فرمان کے مطابق تمام ادیانِ باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچاوے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیاں میں اللہ تعالی نے پھر محمدe کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے {وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِم} میں فرمایا تھا۔‘‘  (کلمۃ الفصل صفحہ ۱۰۴-۱۰۵)

یہ پڑھیں:    دینی تعلیم وتعلم اور موجودہ معاشرہ

محترم قارئین! بعض لوگ قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے سے بھی دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ دیکھیں جی یہ تو کلمہ بھی پڑھتے ہیں لہٰذا یہ بھی مسلمان ہیں حالانکہ قادیانی گروہ کلمہ میں جب محمد رسول اللہ e پڑھتا ہے تو محمد رسول اللہ e سے مراد مرزا قادیانی کو بھی لیتا ہے آئیے قادیانی کلمہ کی حقیقت کو جاننے کے لیے مرزا قادیانی کے بیٹے قادیانی قمرالانبیاء مرزا بشیر احمد کی تحریر ملاحظہ کریں‘ جب اس سے سوال کیا گیا کہ تم نے مرزا صاحب کو نبی مانا ہے تو اپنا الگ کلمہ کیوں نہیں بنایا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے مرزا بشیر احمد نے لکھا کہ

’’ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: [صاروجودی وجودہ] نیز [من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی وماریٰ] اور یہ اس لئے ہے کہ حق تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ e ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں اگر محمد رسول اللہ e کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘  (کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸ از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

یہ پڑھیں:    ہمارے علماء، خطباء ودینی اساتذہ

محترم قارئین! ۱۹۷۴ء میں جن وجوہات کی بنا پر قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا حقیقت میں وہ بہت زیادہ ہیں لیکن اپنے اس کالم میں انتہائی اختصار کے ساتھ چند ایک وجوہات ہی پیش کی ہیں جن سے کم از کم آپ کو تکفیر قادیانیت کے بارے میں اصل حقائق سے آگاہی ہو سکے اور آپ کسی کے غلط پراپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچ جائیں ۔

 

درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages