حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسف 20-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 29, 2020

حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسف 20-20

ھفت روزہ اھل حدیث، شخصیات، شیخ الحدیث، علماء اھل حدیث، حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسفa


حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسفa

تحریر: جناب ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی

گزشتہ دو تین ماہ سے مسلسل وفیات کا سلسلہ شروع ہے۔ قلیل عرصہ میں مسند تدریس کے پاسباں ، علم وفضل کے سرتاج، گلشن دعوت وارشاد کے باغباں ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ ان افسوس ناک علمی حادثوں سے سنبھل نہ پائے تھے کہ صاحب قرطاس، مشہوراہل قلم ، کہنہ مشق مؤلف حافظ صلاح الدین یوسفa بھی ۷۵ سال کی عمر میں اس دار فانی سے کو چ کر گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

یہ پڑھیں:    گنگا سے زمزم تک ... ڈاکٹر پروفیسر ضیاء الرحمن اعظمی

پچاس برس سے زائد مشق سخن تھی ، ہزاروں تحریرات نتائج فکرتھیں ۔بیسیوں بلکہ سینکڑوں تالیفات کے مؤلف ،متعدد رسائل کی ادارات کا اعزاز انہیں حاصل تھا ۔ خصوصا قرآن مجید کی تفسیر کا عالمی اعزاز ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت تھا کہ برصغیر میںشاید ہی کو ئی مسلم گھرانہ ایسا ہوگا جہاںان کی تفسیر نے ، عقیدہ و فکر کی اصلاح‘ سنت نبوی کی اہمیت کی شمع روشن نہ کی ہو اور بدعت و شرک کی مذمت کا فریضہ سر انجام نہ دیا ہو ۔ اپنی طرز تحریر کے وہ تنہا مالک تھے ، زمانہ کا رنگ دیکھ کر توقع نہیں کی جاسکتی کہ اس طرز کا انشاپرداز جلد پید ا ہوسکے ۔ ان کی تحریر میں ادب اور لفاظی سے زیادہ کمال خوبی یہ تھی کہ فکر وخیالات کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے میں انہیں خصوصی مہارت تھی ۔

مجوزہ تالیف کو بغیر مسودہ کے ڈائریکٹ لکھنے کے ماہرتھے۔ یہ خوبی اور کمال فن اللہ تعالیٰ نے چند لوگوں کو عطا فرمایا ہے۔ پختہ ذہن ، الفاظ پر گرفت ، فکر وخیالات کی ترتیب ، مافی الضمیر کا مکمل اظہار ، غیرضروری طوالت اور حشووزوائد سے پاک ،کہ غلطی کے امکانا ت معدوم ہوجائیں۔ بعض بزرگوں کی زبانی روایت ہے کہ یہ وصف کمال اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسر ی ؒ کو عطا فرمایاتھا کہ وہ کاتب یا محررکو سامنے بٹھا کر کتاب لکھوا دیا کرتے تھے ۔

بحرحال حافظ صاحب ،دفاع کتاب و سنت کے مسلم الثبوت مؤلف یگانہ روزگار تھے ۔ وہ پوری زندگی خدمت کتاب اللہ ،دفاع سنت کا فریضہ انجام دینے میں ہمیشہ سر گرم سرگرداں رہے۔ ان کے خصوصی موضوعات خدمت قرآن وحدیث ، دفاع صحابہ کرام ، حمایت محدثین ،رد شرک وبدعت ، فتنہ انکار حدیث کی سرکوبی اور فتنہ غامدیت کا تعاقب تھا۔ دورآخرمیں آپ کی طبیعت اکثر ناساز رہتی مگر کتب بینی کے ذوق کا ناغہ نہیں ہو سکا ۔متعددموضوعات ان کی تحریری جولان گاہ ہیںمگر اشاعت توحید‘ دفاع سنت اورحمیت فکر اہل حدیث کا موضوع سر فہرست رہا۔ مسائل شرعیہ اور تاریخی واقعات پر ان کی نظر تحقیقی اور ناقدانہ تھی ۔ مگر تنقید میںثقاہت ، حزم و احتیاط اور مقابل کے تخاطب کے لئے الفاظ کا مناسب انتخاب ان کا امتیازی وصف تھا ۔ جس نے انہیں علمی دنیا میں وقار اور عزت وا حترام بخشا ۔ مولانا صلاح الدین کا ابھی آغاز ہی تھا کہ مولانا سید مودودی ؒ کی کتاب طبع ہوکر مارکیٹ میں آئی تو علمی حلقوں میں ان کی متنازعہ عبارات سے ایک طوفان اٹھا ، نقد وتبصرہ ، جواب اور پھر جواب الجواب کا غیر متناہی سلسلہ شروع ہوگیا ۔

یہ پڑھیں:    شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی

 تو حافظ صاحب نے’’ خلافت وملوکیت کی شرعی حیثیت‘‘ کے نام سے ایک متین اور سنجیدہ جواب لکھا جسے تمام دینی حلقوں میں پذیر ا ئی ملی اور علمی دنیا میں سراہاگیا ۔ اس کتاب نے انہیں شہرت ومقبولیت سے نوازا ۔ حلقہ فراہی کے موجودہ ترجمان، مشہور سکا لرجناب جاوید غامدی نے حافظ صاحب کی وفات پر جن خوبصورت الفاظ میں ان کی علمی اور فکری خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ، یہ ان کے معتد ل اور متوازن مزاج اور علمی ثقافت اور فکری اصابت کی بیّن شہادت اور ان کی علمی ، تالیفی اور تقریری خدمات کا اعتراف ہے ، ان کے عمل و اخلاق کی گواہی ہے۔ جبکہ حضرت حافظ صاحب غامدی فکر کے مشہور ناقد رہے ہیں۔

حافظ صاحب نے زندگی کے قیمتی لمحات کا صحیح مصرف تلاش کیا ’’فراغت سے دم بھر نہ بیٹھیے ‘‘ جس کام اور مشن کا آغاز کیا اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر سکون نہ لیا۔ ۱۹۹۴ء میں راقم الحروف حج پر گیا تو حضرت حافظ صاحب سے مسلسل ملاقاتیں رہیں ۔ فرمانے لگے کہ فریضہ حج کے علاوہ میرے اس سفر کا مقصد تفسیر قرآن کی تکمیل ہے اور جب تک یہ کام مکمل نہیں ہوتا میرا الریاض میں قیام کرنے کا ارادہ ہے ۔بحر حال عزم و استقلال کے ساتھ انہوں نہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست لیکر آیا ہوں کہ خزانہ غیب سے مد د فر ما کر مجھے معاشی طور پر خود کفیل بنا دے اور کسی کا دست نگر نہ رہوں ۔

مولانا صلاح الدین تقریرو تحریر کے دونوں ذرائع اور صلاحیتیں دفاع سنت کے لئے وقف کیے ہوئے تھے ۔ مسجد اہلحدیث دھرم پورہ میں عرصہ دراز خطیب رہے ۔ اگرچہ تقریرمیں تحریر جیسا کمال فن، فصاحت و بلاغت کا سحر اور اسلوب کا نکھار نہ تھا ، بحر حال مختصر اور جامع گفتگوسے موقعہ و محل ، موضوع و عنوان کی مناسبت سے دھیمے لھجے میں محفل کو متأثر کرلیا کرتے تھے۔ مختصر ریمارکس ظریفانہ جملوں سے مجلس کشف زعفران بنادیتے۔ کبار علماء کی مجالس علمیہ میں متعددبار حافظ صاحب کی گفتگوسننے کا موقعہ ملا ۔نہایت متانت اور ثقاہت سے اپنے موقف کا اظہار کرتے ۔ ان کی گفتگومضبوط دلائل سے مزین ہوتی ، جن کی اساس گہرا مطالعہ ،وسیع معلومات اور حاضر دماغی تھی۔ اگر کبھی مخالف نقطہ نظر پر اظہار خیال ہوتاتوفریق مقابل کا احترام بھی ملحوظ خاطررکھتے اور اس نظریہ کو دلائل براھین سے ھبائً منثورًا کردیتے ۔

یہ پڑھیں:    پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان

۲۰۰۷ء کی بات ہے کہ فیصل آبا د میں ایک مذہبی شخصیت نے محرم الحرام کے حوالے سے ماحول کو جذباتی بنادیا اور مخالف نقطہ نظر کو سننے کے لئے تنگ نظری اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیلنج کیاکہ مولانا صلاح الدین یوسف فیصل آباد میں آکر خطاب نہیں کرسکتے ۔ راقم الحروف نے علماء کرام سے مشاورت کے بعد حضرت حافظ صلاح الدین صاحب کو تشریف آور ی کے لئے درخواست کی جسے دیرینہ تعلقات کی بناء پر انہوں نے قبول فرمایا۔ ۲۶ فروری ۲۰۰۷ء جمعۃ المبارک سمن آباد مسجد مبارک اہل حدیث میں بعد نماز مغرب حافظ صاحب نے ’’یوم عاشورہ کا تاریخی و شرعی پس منظر ‘‘ کے موضوع پر جامع خطاب فرمایا ۔ جس میں شہر اور بیرون شہر کے جید علماء اور پروفیسرز،سکالر حضرات نے بھی شرکت کی۔ موافقین اور مخالفین کا جم غفیر تھا ۔پروگرام بھرپور اور مؤثر تھا۔سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی ۔

حافظ صلاح الدین ، جہد مسلسل، لگن ، محنت، شوق اور عمل کا نام ہے ۔ کہنہ مشق مؤلف ، ماہر قلم وقرطاس اور ممتاز مفسر قرآن کا نام ہے ۔مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے نقش دوام کا نام ہے ، استاذ کامل کی مسلسل محنت کا ثمرہ ہے ، ان کی بصیرت و راہنمائی سے معرکہائے علم تہہ کیے۔ مولانا بھوجیانی کے شجر علم سے وابستہ رہ کر ان کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کی۔ ایک طالب علم کسی آزمودہ کار، صاحب بصیرت، ماہر فن تجربہ کار‘ صاحب نظر شخصیت کے دامن سے وابستہ ہوجائے استاذ کامل کی صحبت سینکڑوں کتب سے بے نیاز کردیتی ہے ۔ مولانا کا دست شفقت ان پر ہمیشہ سایہ فگن رہا جس کی بناء پر وہ ایک محقق، مصنف، مفسر، ایڈیٹر اور علمی شخصیت بنے ۔

مولانا بھوجیانیa کاایک مقولہ ہے :

بامقصد، بامعنی زندگی گزارنے کے خواہشمند انسانوں کے سامنے کچھ شخصیات قابل تقلید اور آئیڈیل ہوتی ہیں۔ (آثار حنیف:۳/۲۱)

تلمیذ رشید نے شاید اسی مقولہ پر عمل کرتے ہوئے زندگی کا طویل عرصہ حضرت بھوجیانیa کی صحبت میں گزارا جن کے فیض سے اللہ تعالیٰ نے ان کوعالمی شہرت عطافرمائی۔ سینکڑوں تحریرات ، کتب و تفسیر لکھنے کی سعادت میسر آئی ۔ ادارہ الاعتصام اور استاذ گرامی کا نا م روشن کیا ۔ مولانا بھوجیانی کی حیات وخدمات پر ادارہ الاعتصام نے ۴ جلدوں میں آثار حنیف شائع کی اور ایک آثار حنیف مجسمہ شخصیت مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ؒ تھے جنہوں نے استاذ گرامی کا نام روشن کیا ۔

یہ پڑھیں:    عظمت وسادگی کا پیکر ... پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی

دعاہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صالحین اور شہداء کی صف میں شامل فرماکران کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ بشری خطاؤں سے درگزر فرماکر اعلیٰ علیین میں جگہ دے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

 

درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages