سود ... صدقات کی ضد 20-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 29, 2020

سود ... صدقات کی ضد 20-20

ھفت روزہ اھل حدیث، سود، صدقات کی ضد، تحقیق وتنقید


سود ... صدقات کی ضد

(تیسری اور آخری قسط)   تحریر: جناب مولانا محمد اقبال

   تجارت حلال ہے اور سود حرام : 

یہ بات بڑی اہم ہے کہ سود کے معاملہ میں باہمی رضا مندی نہیں کیونکہ یہاں تجارت نہیں ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ محتاج کو زکوٰۃ یا صدقات دو۔ اس کے باوجود اگر محتاج کی ضرورت باقی رہتی ہے تو اس کو قرض حسنہ دو اور اس پر زیادتی نہ لو۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ یہاں اگر کوئی غنی کسی محتاج سے ایک معاہدہ کرے کہ تم مجھے اتنا زیادہ واپس کرو گے تو یہ معاہدہ باطل ہوگا۔

یہ پڑھیں:    سود ... صدقات کی ضد (پہلی قسط)

لیکن اگر یہی مال کاروبار اور تجارت کیلئے دیا جاتا ہے تو وہاں پر باہمی رضا مندی ہی کسوٹی ہے۔ جب سود کی حرمت کا حکم آیا تو کچھ لوگوں نے ایک دلیل دی جیسا کہ آیت کا مفہوم ہیـ: ’’سود خور لوگ کھڑے ہونگے مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے‘ یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام۔‘‘ (البقرہ:۲۷۵) یہاں تجارت سے مراد چیزوں کا خریدنا اور بیچنا ہے جن سے تاجر کو نفع حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں سود (الربا) جو ایک مقدار ہے کا مقابلہ مقدار یعنی نفع یا ربح سے نہیں کیا بلکہ خرید و فروخت (تجارت) سے کیا ہے جو ایک عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تجارتی عمل سے وابستہ تمام عوامل (جن میں تاجر، سرمایہ کار، محنت، زمین شامل ہیں) کے معاوضہ کو حلال کہا۔ دوسری صورت حال یہ ہے کہ جن دو معاملات کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو ان کی نوعیت ایک جیسی ہونی چاہیے۔ سود تو قرض پر دیا جاتا ہے اور چیزوں کی خرید و فروخت میں کوئی قرض کا پہلو نہیں نکلتا۔ لہٰذا قرآن شریف میں اعتراض کرنے والوں نے جو دلیل دی اس کا موزوں تر مفہوم یہ ہے کہ قرض محتاج کو دینے پر بڑھوتری بھی ایسی ہی ہے جیسے تجارت کیلئے قرض یا سرمایہ کاری پر بڑھوتری ملتی ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں قرض ہے۔ تو وضاحت یہ فرمائی گئی کہ دونوں قرضوں کی غرض مختلف ہے۔ سود اس لئے حرام ہے کہ محتاج سے اس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دئیے گئے قرض پر لیا گیا۔ جبکہ تجارت کیلئے جو قرض دیا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے چیزوں کی خرید و فروخت کی جائے اور اس سے نفع کمایا جائے۔ قرض دینے کا معاوضہ اگر باہمی رضا مندی سے پائے گا تو یہ حلال ہوگا۔

سود کو اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں ایک خاص بڑھوتری ’’الربا‘‘ کہا ہے جو ایک مخصوص حیثیت کے شخص (فقیر) سے ایک خاص مقصد (بنیادی ضروریات) پورا کرنے کیلئے دئیے گئے قرض پر لیا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے اس کو عمومیت کا درجہ دیا ہے کہ یہ ہر قسم کے قرض پر بڑھوتری ہے۔ جس کو تجارت میں لگائے ہوئے سرمایہ کے منافع پر بھی لاگو کر دیا۔ الربا میں عمومیت نہیں ہے۔ ایک عام آدمی جو عربی زبان سے واقفیت رکھتا ہے اسے بھی معلوم ہے کہ عربی زبان میں جس اسم پر ’ال‘ کا اضافہ ہوتا ہے تو پھر وہ مخصوص ہو جاتا ہے۔ جیسے کتاب ہر کتاب کو کہا جائے گا لیکن ’الکتاب‘ ایک خاص کتاب ہوگی۔ اس لئے ’’الربا‘‘ (سود) ایک خاص بڑھوتری ہے جس کی تفصیل قرآن میں بیان کر دی گئی ہے۔

یہ پڑھیں:    سود ... صدقات کی ضد (دوسری قسط)

  سود قرض حسنہ پر مہلت کا معاوضہ ہے:  

بعض حضرات کا خیال ہے کہ مال کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا کرایہ لیا جائے اور نہ ہی مال کسی کو دینے سے صرف مہلت (یعنی جتنا عرصہ مال مقروض کے استعمال میں رہتا ہے) کا معاوضہ لیا جائے اور یہ کہ مال والا گھر بیٹھے ایک مقررہ رقم کیوں لیتا رہے۔ مضاربت کے کاروبار میں (جو کہ مسلمہ طور پر جائز ہے) مال والا گھر بیٹھے منافع لیتا رہتا ہے اور جتنا وقت زیادہ سرمایہ استعمال میں رہتا ہے یعنی جتنی مہلت زیادہ ہوتی ہے نفع بھی زیادہ ملتا ہے۔ اسی طرح منافع مقرر کرنے کی صورت میں بھی ہوگا۔ مہلت کا تصور کاروبار میں نہیں کیونکہ یہاں دونوں (تاجر اور سرمایہ کار) اپنی مرضی سے جب تک چاہیں کاروبار کرتے رہیں۔ مضاربت میں محنت کرنے والے کو پورے منافع میں سے کچھ حصہ مثلاً آدھا، تین چوتھائی یا ایک چوتھائی جیسا کہ معاہدہ ہو ملے گا اور مال والے کو بھی لیکن نقصان کی صورت میں سرمایہ والے کا سرمایہ جائے گا اور محنت والے کو محنت کا اجر نہیں ملے گا۔ ایک لحاظ سے یہ معاہدہ درست ہو گا کیونکہ فریقین کی باہمی رضا مندی اس میں شامل ہو گی ورنہ عقلی دلائل جن کی بنیاد پر مضاربت کو جائز اور منافع مقرر کرنے کو ناجائز کہا گیا ہے کے خلاف بھی دلائل دئیے جا سکتے ہیں جن میں کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔

  مضاربت میں معاملہ مبہم رہتا ہے:  

تجارتی معاملہ میں کوئی چیز مبہم نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ خریدی/ بیچی جانے والی اشیاء کی نوعیت، وزن، قیمت، ادائیگی اور وصولی کا طریقہ کار، غرض ہر چیز واضح ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات سیدھی کیا کرو۔ اس طرح اللہ تمہارے اعمال کو درست کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔‘‘ (الاحزاب: ۷۰-۷۱) اگرچہ یہ اصول زندگی کے ہر شعبہ کیلئے ہے مگر اس کی افادیت سب سے زیادہ تجارتی کاروبار میں ہے کیونکہ مبہم بات بعد میں جھگڑے اور فساد کا باعث ہو سکتی ہے۔ مضاربت میں مال اور محنت کا معاوضہ کس طرح طے ہو یعنی مال پر نفع اور محنت کی اجرت کس طرح تقسیم ہو اس کا کوئی کلیہ شریعت میں نہیں ملتا۔ ہو سکتا ہے محنت والا بندہ بے روزگار ہو اور کم نسبت پر راضی ہو جائے اور اگر مال والے کے پاس مال پڑا ہو تو وہ سوچے کہ تھوڑا منافع نہ ہونے سے بہتر ہے اور کم نسبت پر راضی ہو جائے مگر بعد میں محنت والا سوچے کہ میں محنت تو زیادہ کر رہا ہوں لیکن منافع مال والا زیادہ لے جاتا ہے۔ یا مال والا یہ سوچنا شروع کر دے کہ محنت والا سست ہو گیا ہے اور مال کا منافع کم آ رہا ہے۔ اس طرح دونوں کے اندر بداعتمادی پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات جھگڑے تک پہنچ جائے اور جھگڑے کو ختم کرانے کیلئے قاضی کے پاس کوئی ایسی ٹھوس بنیاد نہیں ہو گی جس پر وہ فیصلہ کرے کیونکہ محنت کی مقدار، اس کا معیار کسی پیمانے سے نہیں ماپے جا سکتے اور اگر مال والے کا اجر متعین نہ ہو تو اس کو بھی ماپا نہیں جا سکتا۔

یہ پڑھیں:    حج وعمرہ کے برابر ثواب والے اعمال

  ہر عمل کی جزا اورسزا اس کو ملتی ہے جو یہ عمل کرتا ہے

مضاربت کے کاروبار میں اگر نقصان ہو جائے اور وجہ محنت کرنے والے کی سستی یا غلط فیصلہ ہو تو یہ نقصان مال والا پورا کرے گا۔ یہ بات قرآن کے اس اصول کے خلاف ہو گی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جو شخص اچھا کام کرے گا تو اس کا فائدہ اسی کو ملے گا اور برا کرے گا تو اس کا نقصان اسے ہی پہنچے گا۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۶) اور ’’انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ (النجم: ۳۹-۴۱) دنیا کا بھی یہی قانون ہے:ـ ’’جو کرے سو بھرے‘‘ اگر مضاربت کے کاروبار میں محنت والے سے کوئی غلطی ایسی ہو جس پر حکومت نے سزا مقرر کر رکھی ہے مثلاً ٹیکس کی چوری، غیر معیاری سامان کی فروخت یا مقررہ قیمت سے زائد قیمت وصول کرنا وغیرہ وغیرہ تو اس پر محنت کرنے والے کو ہی سزا ملے گی نہ کہ قاضی صاحب مال والے کو بلا کر اسے جیل بھیج دیں گے یا کہیں گے کہ جرمانہ ادا کرو۔

  مضاربت میں دھوکے کا خطرہ:   

مضاربت میں محنت کرنے والا مکمل ایماندار، سچا اور کردار کا کھرا ہونا چاہیے کیونکہ اس نے جو نفع/ نقصان دکھانا ہے اس کے حساب کتاب پر عام حالات میں مال والے کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ لیکن ایسا عام حالات میں ممکن نہیں کیونکہ کیفیات انسان کے اندر ہوتی ہیں۔ انسان کی نیت کب خراب ہو جائے کوئی پتہ نہیں۔ پھر اگر کوئی ایماندار آدمی مل بھی جائے تو مال والے کے اعتماد کا کیا اعتبار کہ وہ جمتا ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروبار میں یہ طریقہ کار مقبول نہیں۔ ہاں اگر آپس میں بھائی بھائی ہوں یا باپ بیٹے ہیں یا قریبی رشتہ دار جن کا نفع نقصان بھی مشترکہ ہو تو وہاں یہ کاروبار چل سکتا ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ انجام کے حوالے سے خرابی پیدا ہو ہی جاتی ہے اور یہ بات تو قرآن نے بھی سیدنا دائودu سے کہلوا دی کہ ’’اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان کے جو ایماندار ہوں اور نیک عمل کریں اور ایسے تھوڑے ہیں۔‘‘ (ص: ۲۴) لہٰذا یہ نظام کوئی مثالی نظام نہیں۔

یہ پڑھیں:   صحابہ کرام] کے بارے میں اہل سنت کا موقف

  بڑے پیداواری عمل میں مضاربت مشکل عمل ہے:

مضاربت سادہ سی تجارت ہے مثلاً ایک شخص نے ایک جگہ سے سامان لیا اور دوسری جگہ جا کر بیچ دیا‘ اسی طرح اس میں سے نفع کمایا اور بعد میں حساب لگا کر مال والے کو منافع کا حصہ دے دیا۔ لیکن موجودہ دور میں جو کاروبار ہوتا ہے وہ خالی تجارت نہیں بلکہ کاروبار میں چیزیں بنانا ان کے لئے بڑے بڑے کارخانے لگانا جس میں بہت زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے پھر خام مال خریدنا، مزدور لگانا، تیار چیزوں کی فروخت کرنا اور بہت سے دوسرے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایک کارخانہ لگانے میں کئی سال لگ جائیں اور سرمایہ لگتا رہے پھر جب اشیاء تیار ہوں تو مارکیٹ میں جگہ بنانے کیلئے قیمت کم رکھی جائے اور منافع بھی نہ ہو یا کم ہو۔ مضاربت کی رو سے تو جب تک منافع نہ ہو‘ نہ سرمایہ والے کو کچھ ملے‘ نہ محنت والے کو تو ایسی صورت حال میں مضاربت عملی طور پر قابل عمل نہیں۔ اس لئے کہ تھوڑے عرصہ کیلئے سرمایہ لگانے والا تو یہاں سرمایہ لگا ہی نہیں سکتا اور محنت والا اتنا صبر کہاں سے لائے۔ لہٰذا قابل عمل صورت یہی ہے کہ سرمایہ والے اور محنت والے کا مقررہ معاوضہ ادا کیا جائے اور اس پر خرچہ کو قیمت میں شامل کر کے مال کو فروخت کیا جائے۔ اسی طرح حکومت کے بڑے پراجیکٹ ہوتے ہیں مثلاً نہریں کھودنا، پل بنانا، سڑکیں بنانا جن پر بہت زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر ان منصوبوں سے آمدنی آتے اور منصوبہ کی لاگت پوری ہوتے ہوتے کئی سال لگ جائیں۔ یہاں پر بھی مضاربت قابل عمل نہیں۔ اس لئے کہ اگر سرمایہ کار کو اپنے سرمایہ کی ضرورت پڑ جائے اور واپس لینا چاہے تو جب تک منصوبہ سے منافع نہیں آتا اس کو کیسے منافع ادا کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت حال میں کون سرمایہ کاری کرے گا…؟؟

  عقلی دلائل اور اللہ کا قانون:   

تجارت کے اندر بعض حضرات نے عقلی دلیلوں کی بنیاد پر جن کے خلاف بھی دلیلیں موجود ہیں منافع کو سود قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے واضح اصول کہ ’’تجارت عن تراض‘‘ ہو تو جائز ہے نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ بھی بہت بڑا جرم ہے کہ ہم کہیں کہ ہم اللہ کے اصول کو نہیں مانتے اور اپنی دلیل پیش کریں گے۔ حالانکہ باہمی رضا مندی ایک ایسا سنہری اصول اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ دنیاوی معاملات میں اس پر عمل کر کے ہم کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ حضورؐ نے ایک معاہدہ باہمی رضا مندی سے مشرکین مکہ سے ۶ھ میں حدیبیہ کے مقام پر طے کیا تھا جس کی بعض شرائط عقلی دلیل کی رو سے مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں لیکن اسی معاہدہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین قرار دیا۔

یہ پڑھیں:    قرآن حکیم اور اطاعت رسول

  اسلامی معیشت کا تصور :  

بعض حضرات کا خیال ہے کہ تجارت کیلئے دئیے ہوئے مال پر اگر نفع مقرر نہ کیا جائے اور نقصان میں شرکت ہو تو پھر یہ سرمایہ کاری ہو گی اور اگر منافع مقرر کر لیا جائے تو پھر یہ رقم قرض ہو جائے گی اور اس پر منافع سود ہوگا۔ پہلے والی صورت حال اسلامی معیشت کہلائے گی اور دوسری اسلامی معیشت نہیں ہو گی۔ یہ تصور اس لئے غلط ہے کہ اسلامی معیشت کا تعلق صدقات سے ہے یعنی غنی فقیر کو صدقہ دے جس میں فرض، نفل اور قرض حسنہ شامل ہیں تا کہ فقیر کی بھی ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں اور اگر سرمایہ کار اور تاجر نفع کی شرح مقرر کر لیں اور صدقات باقاعدگی سے دیں یہی اسلامی معیشت ہو گی اور اگر دونوں حضرات منافع کی شرح مقرر نہیں کرتے بلکہ نفع اور نقصان میں شریک ہوتے ہیں لیکن صدقات ادا نہیں کرتے تو یہ معیشت کبھی اسلامی معیشت نہیں کہلائے گی۔ ممکن ہے منافع مقرر کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں فریقین (سرمایہ کار اور تاجر) میں سے ایک کا مال بڑھ جائے اور دوسرے کا کم ہو جائے مگر آنے والے دنوں میں یہ صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ (کیونکہ تجارتی حالات بدلتے رہتے ہیں) گویا ہماری بحث کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اغنیاء کے درمیان دولت کی تقسیم کیسے ہو؟ جبکہ اسلامی معیشت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دولت غنی سے فقیر کی طرف آئے اور اس کی ضرورت پوری ہو۔ اگر ہم اپنی تمام کاوشیں زکوٰۃ اور بیت المال کے نظام سے ہٹا کر دولت مندوں (سرمایہ کار اور تاجر) کے درمیان مال (نفع) کی تقسیم پر لگا دیں گے اور اسے ہی اسلامی معیشت قرار دیں گے تو یہ ایک جرم ہوگا۔

  منافع مقرر کرنے سے افراط زر نہیں ہوتا:  

ایک اور دلیل جو معاشی اصول کے تحت دی جاتی ہے وہ یہ کہ اگر سرمایہ پر منافع مقرر کر دیا جائے تو چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا اور اس طرح افراط زر پیدا ہو گی اور اگر منافع مقرر نہ کیا جائے تو چیزوں کی قیمت کم رہے گی۔ یہ ان لوگوں کا خیال ہے جو عملی طور پر تجارت میں کبھی شریک نہیں ہوئے۔ فرض کریں ایک تاجر اگر کسی سے سرمایہ کاری کیلئے ایک لاکھ روپے لیتا ہے اور منافع مقرر کر دیتا ہے اور کوئی چیز تھوک کے حساب سے لے کر پرچون فروخت کرتا ہے تو اس میں سارے اخراجات ڈال کر ایک لاکھ پر جو منافع مقرر ہوا ہے وہ بھی شامل کرے گا اور پھر وہ قیمت نکالے گا جس پر اس چیز کو بیچے گا اور اگر منافع مقرر نہیں ہوا پھر بھی اتنا منافع جس سے سرمایہ کار راضی رہے پہلے سے قیمت میں شامل کر کے چیز کو بیچے گا۔ اس لئے یہ دلیل کہ منافع مقرر کرنے سے قیمت بڑھ جائے گی اور مقرر نہ کرنے سے قیمت کم رہے گی صحیح نہیں ہے۔

یہ پڑھیں:    قیامِ امن سیرت طیبہﷺ کی روشنی میں

تاجر ایک ہی ہوتا ہے باقی عوامل اس کے مددگار ہوتے ہیں: 

زمینی حقائق یہ ہیں‘ تاجر ایک ہی شخص یا ادارہ ہوتا ہے جو تجارت کا کاروبار اپنے نفع کیلئے شروع کرتا ہے اور اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کمایا جائے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نفع کمانے کیلئے محنت کرتا ہے وہ نقصان کے پہلو کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ لیکن اس کو اپنی صلاحیت، علم اور محنت پر یقین ہوتا ہے کہ منافع ہی کمائے گا۔ تبھی وہ کاروبار شروع کرتا ہے اور سارے فیصلے بھی خود ہی کرتا ہے اور جو بھی فیصلہ کرتا ہے ہر فیصلہ میں منافع کا پہلو اس کے ذہن میں ہوتا ہے۔ مثلاً مال کہاں سے خریدنا ہے، کتنی قیمت میں خریدنا ہے، کہاں بیچنا ہے، کس وقت بیچنا ہے، کتنے کا بیچنا ہے وغیرہ وغیرہ اور اگر یہ فیصلے کوئی دوسرا شخص یا ادارہ کرے تو یہ اس کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ کیونکہ انہی فیصلوں پر اس نے نفع کمانا ہوتا ہے اور اگر اس کے اپنے فیصلوں پر اسے نقصان ہو جائے تو اسے برداشت کرنے کیلئے وہ ذہنی طور پر تیار رہتا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ جو کوئی ایک کام کرے گا تو اس کا نتیجہ بھی خود ہی بھگتے گا۔ اللہ کا قانون بھی یہی ہے کہ {لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ} (البقرہ: ۲۸۶) یعنی اگر کسی نے کوئی اچھا کام کیا تو اس کا اجر اسے ہی ملے گا اور اگر برا کام کیا تو اس کا بدلہ بھی اسے ہی ملے گا۔

ہو سکتا ہے اس کے پاس کچھ عوامل پیداوار موجود ہوں یا کم ہوں یا بالکل ہی نہ ہوں مگر اسکے پاس تجارت کرنے کی سوجھ بوجھ ہو تو وہ باقی عوامل یعنی سرمایہ، زمین، یا دکان، کارکن وغیرہ کی تلاش کرے گا۔ ان عوامل سے مدد لینے کی دو ہی صورتیں ہونگی یا تو ان سب کو یا ان میں سے کسی کو کاروبار میں شریک کرے یعنی نفع اور نقصان میں شریک کرے۔ اس صورت میں نفع اگر زیادہ ہو گا تو ان عوامل کو بھی زیادہ ملے گا، کم ہو گا تو کم اور نقصان ہو گا تو سب کا۔ اس طرح یہ عوامل ایک ہی ادارہ تصور ہونگے جو کاروبار کر رہا ہے اور ان کا کاروبار شراکت کہلائے گا۔ دوسری صورت یہ ہو گی کہ ان عوامل کی مدد حاصل کرے اور اس مدد کے عوض ان کو معاوضہ ادا کرے جو کہ مقرر ہوگا۔ ان کو تاجر کے نفع یا نقصان سے کوئی غرض نہیں ہو گی جو دکان دے گا اس کا کرایہ مقرر ہوگا۔ جہاں سے مال لے گا اس کی مقررہ قیمت ادا کرے گا، بار برداری کا معاوضہ مقرر ادا کرے گا۔ مزدور جو اس نے کام پر لگائے ان کی مزدوری مقرر کر کے ادا کرے گا۔ اسی طرح جو سرمایہ فراہم کرے گا وہ بھی ایک مقررہ معاوضہ میں ہی سہولت محسوس کرے گا اور تاجر بھی اس بات میں سہولت محسوس کرے گا کہ ان تمام عوامل کے اخراجات اور اپنی محنت اور منافع کا تخمینہ لگا کر کسی چیز کی قیمت فروخت مقرر کرے۔

یہ پڑھیں:    اسلامی اقتصادی نظام

تجارتی عمل میں مددگار سارے عوامل تجارت کا حصہ ہونگے، مقررہ معاوضہ لیں گے اور نقصان میں شریک نہیں ہونگے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں فرمایا: ’’جس نے کسی اچھے کام کی سفارش کی اس میں اس کا حصہ ہو جاتا ہے اور جس نے کسی برے کام کی سفارش کی اس میں اس کا حصہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (النساء: ۸۵) یہاں سفارش کرنے والوں نے اچھا کیا نہ برا صرف سفارش کی، یعنی مدد کی اور اس مدد کی وجہ سے اچھے کام کے اجر اور برے کام کی سزا کے حقدار ہوئے۔ ایک اور جگہ اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، جانوں سے بھی اور مال سے بھی۔ یہاں جہاد تو صرف جان سے ہوتا ہے لیکن اس میں مال سے مدد کرنے والے کو بھی جہاد کے ثواب میں شامل کیا۔ اسی طرح نبی کریمe نے سود کھانے والے، کھلانے والے (سود کی دستاویز) لکھنے والے اور گواہوں پر لعنت کی۔ حالانکہ لکھنے والے اور گواہوں نے سود کھایا نہ کھلایا صرف مددگار ہوئے۔ ایک اور حدیث پاک کا مفہوم ہے جس کے راوی سیدنا زید بن خالدt ہیں فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا جس نے سامان درست کیا اس نے جہاد کیا۔ جو غازی کے گھر میں اس کا خلیفہ رہا اس نے بھی جہاد کیا۔ (متفق علیہ) اسی اصول کے تحت تجارت میں سرمایہ سے مدد کرنے والا سرمایہ کار مقررہ معاوضہ کا حقدار ہو گا چاہے وہ نقصان میں شریک نہ ہو‘ پس صرف سرمایہ کار پر یہ حکم لگانا کہ جب تک وہ کاروبار کے نفع اور نقصان میں شریک نہیں ہوتا یعنی شراکت نہیں کرتا اس کا معاوضہ جائز نہیں ہو گا درست نہیں۔ کیونکہ اگر معاوضہ نہیں ہو گا تو اس کا تجارت کے لئے مال سے مدد کرنا بے فائدہ ہوگا۔ ایسی صورت میں سرمایہ کون لگائے گا۔ دوسری طرف محنت والا جو کاروبار کا ایک جزو ہے اگر نفع اور نقصان میں شریک ہو تب بھی منافع جائز ہے اور اگر شریک نہیں ہوتا اور مقررہ معاوضہ لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہوگا۔ ایک جزو (محنت) کیلئے مقررہ معاوضہ جائز اور ایک جزو (سرمایہ کار) کیلئے مقررہ معاوضہ ناجائز قرار دینا عدل نہیں ہوگا۔ تاجر کا کاروبار اگر جائز ہے تو منافع کمانے کیلئے جو بھی چیز یامحنت وہ استعمال کرے گا اس کا معاوضہ بھی ادا کرے گا جو جائز ہوگا۔ جائز معاوضہ کو صرف مقرر کرنے کی بنا پر (جہاں فریقین راضی ہوں) کسی اسلامی اصول کے تحت ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

  سرمایہ کی فراہمی کی بہتر صورت:    معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو مقررہ منافع کی صورت میں جہاں سرمایہ کار کا سرمایہ بھی محفوظ ہو اور اس پر نفع بھی مل رہا ہو خواہ تھوڑا ہی ہو تو ہر شخص تیار ہو جائے کہ اس کے پاس جو بھی بچت ہے اس سے سرمایہ کاری کرے۔ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جب بھی وہ مال کسی کو ادھار دیتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ میرا مال واپس بھی ہو گا یا نہیں۔ اگر واپسی کی یقین دہانی ہو تو اس کے لئے قرض دینا آسان ہوگا۔ دوسری اہم چیز اس سرمایہ سے نفع حاصل کرنا ہے۔ وہ سرمایہ کسی تاجر کو دے گا جہاں سے اسے منافع مل سکے اور اگر یہ دونوں عوامل یعنی ’واپسی‘ اور ’نفع‘ یقنی ہو جائیں گے تو وہ سرمایہ ادھار دینے کیلئے رضا مند ہوگا اور اس طرح سرمایہ کا اکٹھا ہونا آسان ہو جائے گا اور اگر سرمایہ اکٹھا ہو گا تو اسے محنت کی ضرورت ہو گی تا کہ اشیاء بن سکیں۔ لوگوں کے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور فقیروں کی تعداد میں کمی واقع ہو گی اور اس طرح اگر معاشرہ اسلامی ہے تو صدقات کی مد میں بھی رقم بڑھے گی۔ ایک طرف صدقات لینے والوں کی تعداد کم ہو گی (روزگار ملنے کی وجہ سے) اور دوسری طرف صدقات بڑھیں گے (آمدنی بڑھنے کی وجہ سے) اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوگا۔ دوسری صورت میں اگر سرمایہ کار کو نقصان کا احتمال ہو تو اس پر عام آدمی سرمایہ نہیں لگائے گا اس ڈر سے کہ ایسا نہ ہو کہ جو رقم پاس ہے اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں تو سرمایہ کم فراہم ہو گا‘ روزگار کم ہو گا، فقیروں کی تعداد بڑھے گی اور صدقات کم ہونگے۔

یہ پڑھیں:    دعوتِ دین ... امت مسلمہ کی ذمہ داری

   عقلی/ معاشی دلائل کا مقصد:   

یہ چند عقلی اور معاشی دلائل اس لئے پیش کئے گئے تا کہ پتہ چلے کہ جن دلائل کی بنیاد پر بعض حضرات نے سود کی تعریف کی ہے ان کے خلاف بھی دلائل موجود ہیں جو ان سے زیادہ قوی ہیں۔ وگرنہ سود کی تعریف تو وہی ہے جو ہمیں سود سے متعلقہ قرآنی آیات میں ملتی ہے اور اگر ہم نے عقلی دلائل کی بنا پر ان حدود سے نکلنے کی کوشش کی تو پھر اس کا نتیجہ اللہ کی ناراضگی اور پریشانی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

   آخری گذارش:    ان گذارشات کا محرک صرف اور صرف اللہ کا خوف اور مقصد علماء حضرات اور مفتیان کرام کی توجہ اس اہم معاملہ کی طرف دلانا ہے جو امت مسلمہ کو درپیش ہے تا کہ سود کی تعریف اللہ کے کلام اور نبی کریمؐ کی احادیث کی روشنی میں کی جائے نہ کہ عقلی دلائل کی روشنی میں یا کسی تاریخ کے حوالے سے۔ کیونکہ کسی حلال چیز کو حرام کہنا اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ کسی حرام چیز کو حلال کہنا۔ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھوڑ کر کسی اور حوالے سے فیصلہ کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگ کافر، ظالم، نافرمان ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے تجاوز کرنے پر بھی بہت ہی سخت وعید ہے۔ اس لئے علماء/ مفتیان کرام سے گذارش ہے کہ اس تحریر میں جہاں کہیں بھی غلطیاں یا غلط فہمیاں ہیں ان کی تصحیح فرمائیں۔ جہاں بھی دلیل قرآنی آیات سے دی گئی ہے اور ان کی رائے اس سے مختلف ہے تو قرآنی آیات کا ہی حوالہ دیا جائے۔ اسی طرح جہاں حدیث شریف سے کسی بات کی وضاحت کی گئی ہے تو صحیح حدیث ہی کو دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس طرح کی کوشش سے حق کی تلاش میں آسانی رہے گی اور ہمارا مقصد بھی صرف حق کی تلاش ہے اور علماء حضرات کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس تحریر میں بے شمار غلطیاں ہونگی جو کہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں ان کی نشاندہی فرمائیں اور درگزر کریں۔

یہ پڑھیں:    میت کو نفع دینے والے اعمال

اللہ پاک سے دعا ہے ’’اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک ہو جائے تو اس پر گرفت نہ کرنا، اے ہمارے رب! ہم پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم پر نہ ڈال، ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولا ہے پس کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ (البقرہ: ۲۸۶)

 

درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages