علاج معالجہ کے آداب 20-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 29, 2020

علاج معالجہ کے آداب 20-20

ھفت روزہ اھل حدیث، خطبات حرم، حرم مدنی، صلاح البدیر، علاج معالجہ کے آداب
 

علاج معالجہ کے آداب

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر  d

ترجمہ: جناب عاطف الیاس                            نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو! تقویٰ ہی بہترین کمائی اور فرماں برداری ہی سب سے اعلیٰ نسبت ہے۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۲)

یہ پڑھیں:    سیرت رسول ﷺ کے چند اہم واقعات

اے مسلمانو! علمِ طب انتہائی مفید اور مثبت اثرات رکھنے والا علم ہے۔ اس میں مہارت حاصل ہو جانا عزت وشرف کا باعث ہے۔ مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک سخت اور مشکل گھاٹی پر چڑھنا پڑتا ہے، جسے عبور کرنا آسان نہیں اور جسے پاٹنا  انتہائی مشکل ہے۔ اِس علم کا طالب بتدریج اس گھاٹی پر قدم رکھتا  جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس عظیم مرتبے اور بلند مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں تک کوئی سنجیدہ، جانفشانی سے کام کرنے والا اور صبر کرنے والا ہی پہنچ سکتا ہے۔ اس مقام ومرتبے کو مستقل مزاج، محنتی اور پابندی کرنے والا ہی حاصل کر سکتا ہے۔ امام شافعیa فرماتے ہیں: ’’حقیقی علم دو ہی ہیں: ایک دین کی سمجھ اور دوسرا جسموں کے علاج معالجے کا علم۔‘‘ ربیعa فرماتے ہیں: ’’میں نے امام شافعیa کو یہ کہتے ہوئے سنا: علمِ حلال وحرام کے بعد، علمِ طب سے افضل کوئی علم نہیں۔‘‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ایسے شہر میں کبھی نہ رہنا جس میں تمہاری حفاظت کے لیے کوئی حکمران نہ ہو، یا سیراب کرنے کے لیے پانی نہ ہو، یا فتویٰ دینے کے لیے عالم نہ ہو، یا علاج معالجہ کرنے کے لیے کوئی طبیب نہ ہو۔‘‘

دینِ اسلام نے بھی علمِ طب کو بڑی اہمیت دی ہے۔ صحیح بخاری  کی کتاب الطب کو دیکھ لیجیے، صحیح مسلم کی باب الطب والمرض والرقیٰ دیکھ لیجیے۔ سنن ابی داؤد میں بھی کتاب الطب دیکھ لیجیے، سنن ترمذی میں بھی کتاب الطب عن الرسول e دیکھ لیجیے۔ سنن نسائی کبریٰ میں بھی کتاب الطب دیکھ لیجیے، سنن ابن ماجہ میں بھی کتاب الطب دیکھ لیجیے۔

روایت ہے کہ ابن ماسویہ طبیب نے جب رسول اللہ e کی یہ حدیث پڑھی: ’’کسی آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا برتن کبھی نہیں بھرا، ابن آدم کے لیے چندلقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کوسیدھارکھیں  اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے،  ایک تہائی پانی پینے کے لیے  اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے۔‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’اگر لوگ ان الفاظ پر عمل کر لیں تو بیماریوں اور تکلیفوں سے محفوظ ہو جائیں، ہسپتال اور دوا خانے خالی ہو جائیں۔‘‘ عرب کہتے ہیں: ’’دوپہر کے کھانے کا بہترین وقت جلدی والا وقت ہے، اور رات کے کھانے کا بہترین وقت اندھیرا چھانے سے پہلے کا ہے۔‘‘

سمجھ دار، ماہر اور زیرک طبیب وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل اور چھپی بیماریوں کے پردے ہٹا کر انہیں پہچان لیتا ہے۔ اللہ نے اس کے آلاتِ جراحی میں رحمت رکھی ہے، اس کی قینچی میں شفقت رکھی ہے، اس کی سرجری میں نجات رکھی ہے، اس کی پٹی میں عطا رکھی ہے، اس کے ٹانکوں میں دوا رکھی ہے اور اس کی دوا میں شفا رکھی ہے۔ عرب لوگ طبیب کو حکیم بھی کہتے تھے اور رفیق بھی، کیونکہ طبیب  بیماروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے، انہیں تسلی بھی دیتا ہے اور ان کے ساتھ شفقت بھی کرتا ہے۔ شفا اور عافیت تو اللہ ہی عطا فرماتا ہے، اگر کسی بیمار کے لیے دنیا بھر کے طبیب بھی اکٹھے ہو جائیں تو مشیئت الٰہی کے بغیر اسے شفا نہیں دے سکتے۔ کیونکہ شفا تو بس اللہ ہی دیتا ہے۔ وہی بیماری سے ہمیں آزماتا ہے، دوا سے ہماری مدد کرتا ہے اور شفا سے ہم پر رحم فرماتا ہے۔

یہ پڑھیں:    وبائی بیماریوں سے بچنے کے لیے چند مشورے

طبیب مجھے امید دلاتا ہے کہ میری آنکھیں تندرست ہو جائیں گی، بھلا اللہ کے سوا بھی ان کا کوئی طبیب ہے؟!

چونکہ شفا ایسی نعمت ہے جو مریض کو طبیب سے نہیں بلکہ صرف اللہ سے مل سکتی ہے، اس لیے ابراہیم  u نے کہا تھا:

’’اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘ (الشعراء: ۸۰)

سیدنا صہیبt ایک بچے کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو بیدائشی نابینا شخص، پھلبہری والے اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کا علاج کر لیتا تھا۔ بادشاہ کی محفل میں بیٹھے ایک نابینا شخص نے جب اس  بچے کے بارے میں سنا تو اس کے پاس بہت سے تحفے تحائف لے کر گیا۔ کہنے لگا: ’’اگر تم مجھے شفا دے دو تو  میں نے یہ سب چیزیں تمہارے لیے ہی جمع کی ہیں۔‘‘ بچے نے کہا: ’’میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو بس اللہ ہی دیتا ہے۔ اگر تم اس پر ایمان لے آؤ، تو میں اس سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے۔‘‘ یہ سن کر اس نے ایمان قبول کر لیا، اللہ نے اسے شفا دے دی اور اس کی بینائی لوٹا دی۔ (مسلم)

اب میں اپنے مریض کے لیے کسی طبیب کو نہیں پکارتا، بلکہ اب میں صرف تجھی کو پکارتا ہوں، اے بارش کو نازل کرنے والے!

ہاں! اطباء اور نرسوں کی فضیلت اتنی ہے کہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں معلوم ہے کہ تمہارا مقابلہ ممکن نہیں! کیا کوئی سمندر کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے؟!

اطباء کے مقام ومرتبے کو پہچانو، نرسوں کی بھی قدر کرو، ان کی محنتوں اور قربانیوں کی تعریف کرو۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اَن تھک کاوشوں اور بے انتہا محنت کر کے لوگوں کو کورونا کی وبا اور دیگر مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک مضبوط، بلند اور محفوظ قلعہ تعمیر کیا ہے۔

اطباء کی تعریف کی خوشبو پھیل گئی ہے، اس کی لطف اندوزی ہر جگہ محسوس ہو رہی ہے۔

ہم نے ان کی مدح کی تو سہی، مگر ہر اندازاستعمال کرنے کے بعد بھی ہم ان کی فضیلت بیان کرنے سے قاصر رہے۔

اے اطباء وطبیبات! مدح کے قصیدے آپ جیسوں کے لیے ہونے چاہئیں۔ آپ کی مدح میں کیا کہوں؟ تم تو ہر مدح سے بلند ہو۔

تم تو مریضوں کو اپنے پجوں پر بھی ترجیح دیتے ہو، محبت اور ایثار کا انداز کوئی تم سے سیکھے۔

یہ پڑھیں:    اسلام میں نرمیاں اور آسانیاں

اے مسلمانو! یوں تو علاج معالجہ مستحب ہے مگر اسے چھوڑنے سے اگر ہلاکت کا خطرہ ہو تو یہ واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا اسامہ بن شریکt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’علاج معالجہ کیا کرو۔ کیونکہ اللہ نے موت اور بڑھاپے کے علاوہ ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔‘‘ (مسند احمد، ابن حبان)

اس حدیث میں موت کو سام کہا گیا ہے۔ جب طے شدہ فیصلہ آ جاتا ہے، وقتِ مہلت ختم ہو جاتا ہے تو دوائیں بھی دھوکہ دے جاتی ہیں اور تدبیریں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔

ہم سے پہلے بھی تو لوگ پیاروں سے بچھڑتے تھے، موت کی اس بیماری نے ہر طبیب کو بے بس کیا۔

کتنے بیماروں کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہوتا تو وہ بچ جاتے ہیں۔ طبیب اور خبر گیری کرنے والے مر جاتے ہیں۔

جب طبیب تمہاری نبض دیکھتا ہے تو کہتا ہے: تمہاری دوا میرے پاس ہے۔

حالانکہ اگر طبیب کے پاس موت کو روکنے والی کوئی دوا ہوتی  تو وہ خود کیوں موت کی ہولناکی برداشت کرتا؟!

جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو دوا سے علاج کی کوشش کرتے ہیں، مگر کیا دوا موت کا بھی علاج کر سکتی ہے؟

بہت سوچ کر کسی طبیب کا انتخاب کرتے ہیں، بھلا جسے تقدیر آگے بھیجے، اسے طبیب بچا سکتا ہے؟

ہمارے سانس گنے چنے ہیں اور ہماری حرکت ہمیں فنا کی طرف دھکیل رہی ہے۔

اے مسلمانو! طبیب کو چاہیے کہ مریض میں ہمت پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسے تندرستی کی امید دلائے، اس کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کرے، اسے جگہ دے، اسے تسلی دے، اسے خوش کرے، اس کی پریشانی کم کرے، اس کے ساتھ نرمی اپنائے، اس کے خوف اور بیتابی کو کم کرے، اس کی پریشانی اور اس کے خدشات کو ختم کرے، اسے یاد دہانی کرائے اور تسلی دے۔ کہا جاتا ہے: ’’طبیب کی نرمی… آدھا علاج ہے۔‘‘ مریض کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملا جائے تو اس کی تکلیف کم ہو جاتی ہے، اسے خوش کرنے کے عظیم اثرات اور بہترین فوائد تو مخفی نہیں ہیں۔ بدمزاج، سخت اور سنگ دل طبیب تو مریضوں کے لیے امیدوں کے خیمے اکھیڑ پھینکنے والے اور امید کی طاقت کو فنا کرنے والے طوفان سے کم نہیں ہے جو کسی تمہید یا تسلی کے بغیر ہی چھٹ سے مریض کو بیماری بتا کر ڈرا دیتا ہے، وہ اس کی بیماری مزید بڑھا دیتا ہے۔

یہ پڑھیں:    خطبہ حرم مکی .. اللہ تعالیٰ کا اسم ’الفاتح‘ کے معانی وفضائل

طبیب کو صبر سے کام لینا چاہیے، مریضوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے، انہیں تسلی دینی چاہیے، ایسے آزمائش زدہ مریض کے ساتھ شفقت کرنی چاہیے، جس کی ہمت جواب دے رہی ہو اور جس کی تکلیف بڑھ چکی ہو۔ تو اے اطباء! مریضوں کو تکلیف کی تنگی سے نکال کر امید کی کشادگی کی طرف لاؤ، بیماری کی سختی سے نکال کر تندرستی کی آسانی کی طرف لاؤ۔ طبیب کو چاہیے کہ مریض کو اپنی جگہ پر رکھ کر دیکھے۔ اس کی عزت آبرو کا خیال رکھے، اس کے راز، راز ہی رکھے، اس کے عیب چھپائے رکھے، اگر دوسروں کو اس کی بیماری کے بارے میں مطلع کرنے سے اسے نقصان ہو سکتا ہو تو وہ کسی کو نہ بتائے۔ طبّی ضرورت نہ ہو، تو کسی کا ستر نہ کھولے، بیماری کی تشخیص اور دوا کی تجویز میں تحقیق، احتیاط اور محنت سے کام لے، بیماری کو پہچاننے کے لیے ثبوت اور غور وفکر سے کام لے۔ الجھاؤ یا پیچیدگی کی صورت میں مشورہ کر لے، جلد بازی سے کام نہ لے، جو کام نہ آتا ہو، اس میں ہاتھ نہ ڈالے۔ جسے علمِ طب نہ آتا ہو، اس میں مہارت نہ ہو، جس نے مشق کر کے پختگی حاصل نہ کی ہو، اس کے لیے دوسروں کا علاج کرنا حرام ہے۔ اگر کوئی نام نہاد جاہل طبیب لوگوں کا علاج کرتا ہے، تو حقیقت میں وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور اپنی جہالت کے سبب وہ لوگوں کا  قاتل بنتا ہے، غلط طریقۂ علاج اور اپنی نا اہلی کے سبب جان بوجھ کر لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے شخص کو لازمًا سزا ملنی چاہیے۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں: بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ e نے فرمایا: جو علمِ طب سے نا آشنا ہو، پھر بھی علاج معالجہ کرے تو وہ نقصان بھرنے کا ذمہ دار ہو گا۔‘‘ (ابو داؤد‘ نسائی)

امام دارقطنی کی روایت ہے جسے امام حاکم نے صحیح کہا ہے کہ ’’جو علمِ طب سے نابلد ہونے کے باوجود علاج معالجہ کرے اور کسی کی جان چلی جائے یا کوئی اور نقصان ہو جائے تو وہ قابلِ سزا ہو گا۔‘‘

جاہل نام نہاد طبیب یا مہارت نہ رکھنے والے طبیب کے لیے آپریشن کرنا جائز نہیں، نہ ان میں ہاتھ ڈالنا ہی درست ہے۔ جو ایسا کرے گا، وہ گناہ کرے گا، جرم کرے گا، ظلم کرے گا۔ اپنی غلطی کا نقصان بھرے گا۔ اسی طرح اگر کسی ماہر طبیب سے کوئی خطا ہو جائے، یا ایسی غلطی سرزد ہو جائے جو اس جیسوں سے ہونا ناممکن ہو، جس میں اس کی کوتاہی، بے دہانی یا بے فکری ظاہر ہوتی ہو، تو وہ بھی نقصان بھرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ علامہ خطّابی کہتے ہیں: ’’اس بات میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر معالج کوتاہی کرے اور مریض کی جان چلی جائے تو وہ نقصان بھرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ جہالت کے باوجود کسی کام میں ہاتھ ڈالنے والا زیادتی کرتا ہے، اگر اس کی وجہ کوئی نقصان ہو جائے تو وہ دیت دینے کا ذمہ دار ہو۔‘‘ جاہل اطباء موت کو قریب کر دیتے ہیں، دلوں کو خوف سے بھر دیتے ہیں اور دوسروں کو ہلاکت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جب مرہم پٹی کا طریقہ ہی غلط ہو تو طبیب کی کوتاہی تو واضح ہے۔

یہ پڑھیں:    خطبہ حرم مکی ... سیدنا سلیمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں

طبیب کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ مریض کو ایسی دوا تشخیص کرے جس کی اسے ضرورت ہی نہ ہو، مریض کی بیماری کی تشخیص کے بغیر ہی، اندازے، گمان یا تخیلات کی بنا پر پینے، کھانے اور انجیکٹ کرنے والی دوائیں یکجا کرکے دے دینا بھی حرام ہے۔  یعنی بیماری ہوئی تو ان میں سے کوئی دوا تو اثر کر جائے گی، کیونکہ بیماریوں کا علاج گمان سے نہیں ہوتا اور مقصد صرف بیماری کو دور کرنا ہی نہیں، بلکہ ایسے طریقے سے دور کرنا ہے  جس سے کوئی نئی بیماری جنم نہ لے‘ نہ کوئی اور سخت بیماری شروع ہو جائے۔

بلا ضرورت مختلف قسم کے بے فائدہ ٹیسٹ تجویز کر کے مریض  کی مجبوری سے  ناجائز فائدہ اٹھانا بھی حرام ہے، جن کا مقصد صرف کاروبار کرنا اور مریضوں کو لوٹنا ہو۔ اس راستے سے آنے والی کمائی بھی کیسی بری کمائی ہے! جو مریضوں کی تکلیف اور انہیں بے جا نقصان پہنچا کر ہی حاصل ہوتی ہے۔

کچھ اطباء اور دوا خانوں میں کام کرنے والے مریض کو مہنگی دوا دے دیتے ہیں، حالانکہ اسی نسخے کی دوسری دوا سستے داموں بھی دستیاب ہوتی ہے۔ اس طرح وہ مختلف کمپنیوں کی تشہیر کرتے ہیں، بلکہ ان کی بعض آفرز سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ ایسا کر کے وہ اپنا فائدہ مریض کے مفاد پر مقدم کر دیتے ہیں۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جس کا دل رحم دلی اور خشیتِ الٰہی سے خالی ہو چکا ہو، جو احساسِ ذمہ داری اور ایفائے عہد سے عاری چکا ہو۔ سیدنا انس سے روایت ہے: ’’کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ e خطبہ دیتے اور یہ الفاظ نہ کہتے: جو امانت دار نہیں، اس کا ایمان نہیں، جسے معاہدوں کا پاس نہیں، اس کا دین نہیں۔‘‘ (بیہقی)

اے مسلمانو! میدانِ طب کے شعبدہ بازوں سے بچو، جو مشکوک قسم کے شفا خانے کھول لیتے ہیں، حکومتی اجازت ناموں کے بغیر ہی مریضوں کو بلا لیتے ہیں، علاج معالجے میں قابلیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جعلی ادویات بیچتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو ایسے نام نہاد طبیبوں سے بھی خبردار کرتے ہیں جو  سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے نسخے فروخت کرتے ہیں، بلکہ وہم فروخت کرتے ہیں۔ مریضوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ لوگوں کے جسم اور صحت کو واضح نقصان پہنچاتے ہیں، خطرے پیدا کرتے ہیں اور گھروں کے اندر تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے ظالم فسادیوں سے بچو جو انسانی نفس کے حوالے سے بد ترین جرائم کرتے ہیں۔ حالانکہ دین اسلام نے نفسِ انسانی کی حفاظت اور نگہبانی لازم ٹھہرائی ہے اور اسے نقصان پہنچانے سے منع کیا ہے۔

اے مسلمانو! اللہ نے قرآن کریم کے ذریعے شعبدہ بازوں کی چالیں ٹال دی ہیں۔ تو دجالوں، نجومیوں اور شعبدہ بازوں سے بچو جو غیب کا علم رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لوگوں کے دلوں کا حال جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، چھپی اور مخفی چیزوں کے علم کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دم درود کرنے والے فراڈیوں سے بھی بچو، جو دم درود کی شرعی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں، اور ان میں کئی اضافے کر لیتے ہیں۔ بلکہ ان میں بد ترین ایجاد کردہ بدعتیں شامل کر لیتے ہیں۔ ان  دھوکہ بازوں، توہم پرستی پھیلانے والوں اور جھوٹے لوگوں سے بھی بچو، جو گلا دبا کر، پھانسی دے کر، باندھ کر، سوئیاں چبھو کر، تعویذ دے کر یا شعبدہ بازی سے جن، جادو اور دوروں کے علاج کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تعویذ، گنڈے، حفاظتی دھاگے اور شرکیہ دم درود فروخت کرتے ہیں، ایسے اوہام وخرافات کو رائج کرتے ہیں جو کم عقل اور ضعیف الاعتقاد لوگوں کو فریب میں ڈال دیتے ہیں۔ سیدنا عمران بن حصینt بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ e نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو فال نکالتا یا نکلواتا ہے، کہانت کرتا یا کراتا ہے، جادو کرتا یا کراتا ہے۔ جو جادوئی گرہ لگائے  یا کسی مستقبل کی خبریں بتانے والے کے پاس جائے، پھر اس کی بتائی ہوئی معلومات کو صحیح تسلیم کر لے، تو اس نے نبی اکرم e پر نازل ہونے والی تعلیمات کا انکار کر دیا۔‘‘ (مسند البزار)

یہ پڑھیں:   خطبہ حرم مکی ... اللہ کی رحمت سے مایوسی اور نا اُمیدی

جو ایسے دجالوں کے پاس جاتا ہے، وہ ان کے جرم میں شریک ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ان کے کسٹمرز میں اضافہ کرتا ہے، اور ان کے گناہ کو ترویج دیتا ہے۔ ان کے چھپے اڈوں کے بارے میں متعلقہ حکومتی اداروں کو خبردار کرنا چاہیے۔ ان کی پردہ پوشی یا ان کے بارے میں خاموشی حرام ہے۔

اگر ہماری عزت آبرو اور عقلیں سلامت رہیں تو جسم کے زخموں کی کوئی فکر نہیں۔

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، اسے یاد رکھو، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘ (التوبہ: ۱۱۹)

اے مسلمانو! مخلوق مصیبتوں کے نشانے پر ہے۔ کہا جاتا ہے: ’’جب تک تم دنیا کے اس گھر میں ہو تو ناخوشگوار چیزوں کی آمد پر حیرانی کاہے کی؟ اس جیسا مت بنو، جو سختی آتے ہی جزع فزع اور واویلا کرنے لگتا ہے اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے۔ نبی کریم e کے اس ارشاد کو یاد رکھو:

’’بندے کے لیے جب اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقام و مرتبہ مقدر ہو چکا ہو  اور وہ اپنے اعمال کی بنا پر اس تک نہ پہنچ سکتا ہو، تو اللہ اسے اس کے اپنے جسم یا مال یا اولاد کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق بھی دیتا ہے۔حتیٰ کہ اسے اس مقام ومرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے اس کے لیے مقدر ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

ایک بزرگ فرماتے ہیں: ’’اگر دنیا کی مصیبتیں نہ ہوتیں تو ہم آخرت میں مفلس ہی رہتے‘‘۔ قیس بن عبادa فرماتے ہیں: ’’تکلیف کے لمحات گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔‘‘

مؤمن کو یہ تمنا ہر گز نہیں کرنی چاہیے کہ اسے دنیا ہی میں سزا مل جائے، بلکہ اللہ سے عافیت مانگتے رہنا چاہیے۔ سیدنا انسt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا۔ رسول اللہ e نے اس سے کہا: ’’کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں کہتا تھا: اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے۔ آپ e نے فرمایا: اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں یا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا: اے اللہ! دنیا میں بھی ہمیں بھلائی دے اور آخرت میں بھی ہمیں بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا! پھر آپ e نے اس کے لیے دعا فرمائی تو اللہ نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی۔‘‘ (مسلم)

یہ پڑھیں:    خطبہ حرم مدنی ... اللہ تعالیٰ کا نام ’السلام‘ اور اس کے تقاضے

جب مجھے بیماری لگتی ہے تو میرا صبر تو بیمار نہیں پڑتا، اور اگر مجھے بخار ہوتا ہے تو میرے عزم کو تو بخار نہیں ہوتا۔

اگر میں تندرست بھی رہوں، تو ہمیشہ تو نہ رہ پاؤں گا، بلکہ ایک بیماری سے دوسری بیماری تک ہی سلامت رہ پاؤں گا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! دشمنان دین کو بتاہ وبرباد فرما! تمام مسلمان ممالک کو فتنوں، جنگوں، جھگڑوں سے محفوظ فرما۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages