سیرت النبی صلعم 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

سیرت النبی صلعم 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، سیرۃ النبیﷺ

سیرت النبی ﷺ

تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفار حلیم
بعثت سے پہلے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾ (آل عمران)
حضرت محمدﷺ کی آمد سے قبل دنیا کھلی گمراہی میں مبتلا تھی۔ہرطرف اندھیراچھایا ہوا تھا۔کفروشرک عام تھا۔اصنام پرستی، شمس وقمر، شجروحجر،گائے،عورت، آگ ،ہربڑے درخت اور ہر قبر کی پوجا کی جاتی تھی۔ماں بیٹی بہن میں کوئی تمیز نہ تھی۔بیٹیوں کو زندہ درگورکیا جاتا تھا۔معمولی باتوں پرصدیوں کی دشمنی سے کئ قبائل مٹ چکے تھے۔مردارکھایا جاتا تھا،جوا اور سود ان کی گھٹی میں تھا۔شراب پی کر ننگے ناچنا فخرسمجھا جاتا تھا۔جہالت اورخباثت کادوردورہ تھا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، غیرت کو غلام بناکربیچ دیا جاتاتھا۔روشنی اور نور کی کوئی کرن نہ تھی حتی کہ آسمانی کتابوں کو بدل دیا گیا۔شریف ناپیداورشرافت مردہ ہوچکی تھی۔سود اتنا عام تھا کہ گھرکے گھر اُجڑ چکے تھے۔چوری ،ڈکیتی ، ظلم ،زیادتی، اجتماعی برائی عام تھی۔زنا کو برا نہیں سمجھاجاتا تھا۔عورتوں اورغلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں، انسان انسان کوفروخت کرتا تھا۔حالات اتنے دگرگوں تھے کہ انسانوں کی درندگی سے درندے بھی شرما جاتے۔اس وقت کا انسان انسان نما درندہ تھا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے متعلق ارشادفرمایا:
﴿وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖٞ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴾ (الاعراف)
دنیا اس وقت انتہائی ضلالت وگمراہی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ بحرِروم سویٹرزلینڈ کے جنوب سے لے کر سویڈن اور ناروے کی شمالی دیواروں تک ،پولینڈکے مشرقی کنارے سے لے کرآئرلینڈکے مغربی کنارے تک سارے یورپ میں ویلڈن بت پوجا جاتا تھا۔ سویٹزر لینڈسے ویلڈن بت کی مورتیاں بناکریورپ کے پچیس ملکوں میں بیچیں جاتی تھیں۔یورپی اقوام دوسری اقوام سے عقل مندثابت ہوئیں کہ وہ صرف ایک بت کی پوجاکرتے تھے، باقی دنیا میں لاکھوں بت پوجے جاتے تھے۔ افغانستان، چینی ترکستان، روسی ترکستان  یہ سب بتوں کے پجاری تھے۔چین میں سیدنا عیسیٰu سے ۱۵۰۰ سال قبل ڈھب کھڑبہ گھوڑے کی پوجا کی جاتی تھی۔چین میں دوسرابڑامذہب سیدنا عیسیٰu سے ۱۰۰ سال قبل مہاتماکنسورشن چین کے صوبہ تبشن میں پیدا ہوئے۔ جس درخت کے نیچے وہ عبادت کرتے رہے، اس درخت کی پوجاجاری ہوگئی، اس مذہب کا نام کنسورشن ازم ہے۔ چین میں تیسرامذہب مہاتما گوتم بدھ کا مذہب ہے۔ جوعیسیٰu سے ۵۶۳ سال قبل پیداہوئے، ان کے نام سے بدھ مت کا مذہب جاری ہوا، ان کے پیروکار چائنہ، ہندوستان، اندونیشیا، ملائشیا اوروسطی ایشائی ممالک میں موجود ہیں اور یہ سب بتوں کے پجاری ہیں۔برما میں سفیدمحمودنامی ہاتھی کی پوجا ہوتی تھی۔ہاتھی کی یہ وہی قسم ہے جوابرہہ بیت اللہ پرحملہ کے لیے ساتھ لایا تھا۔ ہندوستان میں جتنے کنکر اتنے شکر، ہاتھی خدا، اونٹ خدا،کتا خدا،سانپ خدا، سان خدا، اونچاپرانا درخت خدا ہر اونچی قبر خدا، گھوڑا خدا، عورت خدا، دریا خدا، چاندخدا، ستارہ خدا، سورج خدا۔ ہندوستان کی اس وقت آبادی ۴کروڑ تھی مگر ۳۳ کروڑ رب پوجے جاتے تھے۔ ہندو مذہب قدیم ترین مذاہب میں سے ہے، اس کی تاریخ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ چھ ہزارسال پرانی ہے۔کرشن مہارج اس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ان کے نام پر ہندئوں میں ۱۰۸ مذہب جاری ہوئے۔ ہندوستان میں کوئی اللہ کا گھرنہ تھا لیکن اس کے مقابلہ میں ٹھاکردوارہ ،گردوارہ ،بیری دوارہ لاکھوں کی تعداد میں تھے جہاں بت رکھے ہوئے، پجاری دن رات انہیں پوجتے تھے۔
عرب اقوام بھی فکری ،ذہنی ،معاشرتی اوراخلاقی طورپر پستی کا شکارتھیں۔ انبیاء کی اولادیں ہونے اوران کے پیروکارہونے کے دعوؤں کے باوجود وہ انبیاء کی تعلیمات سے پھرچکے تھے۔ اس وقت عیسائیت، یہودیت اور دینِ ابراہیمی کے پیروکارموجودتھے۔ سب کا دعویٰ تھا کہ ہم حق پر ہیں لیکن انہوں نے نہ صرف پیغمبروں کی تعلیمات میں تبدیلی کررکھی تھی بلکہ انہوں نے انبیاءo اورنیک لوگوں کو اللہ کا بیٹا اورمقرب بنارکھا تھا۔ خطہ عرب (حجاز) میں بھی بت پرستی عام تھی۔ ہزاروں بت پوجے جاتے تھے۔ لات منات ہبل دیوی بڑے بت تھے۔ ہبل ۳۵ فٹ اونچا تھا یہی وہ بت ہے جنگ احد کے موقعہ پر کفار نےجس کے نام کا نعرہ لگایا تھا۔ (اُعلُ ہبل) حضورe کی آمد کے وقت مکہ میں ایک ہزار گھر تھے ہرگھر میں الگ الگ بت تھا۔بیت اللہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ سال کے تین سوساٹھ دنوں کے حساب سے ہردن کا ایک رب مقرر تھا۔یعنی ہربت کو پوجنے کی باری سال بعد آتی۔ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ پوجنے سے یہ تھک جاتے ہیں اس لیے سال میں ایک دن پوجتے باقی دن آرام کرنے دیتے۔ان ۳۶۰ بتوں میں سیدنا ابراہیم، سیدنا ہود، سیدنا صالحu اور سیدنا اسماعیلo کے بت بھی شامل تھے۔ جو دنبہ سیدنا اسماعیلu کی جگہ ذبح ہواتھا اس کا بھی بت تھا۔ سیدنا صالحu کی اونٹی کا بت ،اماںحاجرہ کا بت بھی تھا۔قومِ نوح کے بھی پانچ بت ود، سواع،یغوث ، یعوق اور نسر بھی شامل تھے۔یہ تین سوساٹھ بت نیک لوگوں کے بنائے گئے تھے۔
وہ جائزسمجھتے تھے مال کھا جانا یتیموں کا
لٹانا دعوتوں میں مال شیوا تھا کریموں کا
ادھر فرزندکی بیواؤں کا حق چھین لیتے تھے
پسراپنی حقیقی ماؤں کا حق چھین لیتے تھے
فواحش اور زناکاری یہ من بھاتی عبادت تھی
شرابیں پی کرننگے ناچنا یہ ان کی عادت تھی
مکہ مکرمہ اورحجازکی حالت سیدنا جعفر طیارt نے نجاشی کے سامنے بیان کی ہے:
[فَقَالَ لَهُ: أَيُّهَا الْمَلِكُ، كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِيءُ الْجِوَارَ يَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيفَ، فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ اللهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنَّا.] (مسند احمد)
’’اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں،پتھروں اور مورتیوں کی ہم پوجاکرتے تھے، مردارکھایا کرتے تھے، برائی کیا کرتے تھے، رشتہ داریاں توڑتے تھے، پڑوسیوں پر ظلم وزیادتی کرنے والے اورطاقتورغریب کو کھاجاتا تھا۔ ہم اور ہمارے آبائواجداد پتھروں اور بتوں کی پوجاکرتے تھے، ہربرائی بدرجہ اتم ہم میں موجودتھی، صدیوں کی صدیاں گزرگئیں،رحمت خداجوش میں آئی، اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا جو ہم میں سے ہے۔‘‘
ان کی درندگی کاایک واقعہ سنیے۔ایک آدمی کے رقبہ میں کسی پرندے نے انڈے دیے ہوئے تھے۔مالک زمین نے دیکھا تو کہا اے پرندے! میں تجھے امان دیتا ہوں یعنی کوئی تجھے نقصان نہیں پہنچاسکتا،میں تمہاری سلامتی کا ضامن ہوا۔کچھ دنوں بعداتفاق سےکسی کی اونٹنی چرتی ہوئی اس کھیت میں داخل ہوئی،انڈے اونٹنی کے پائوں تلے آکرٹوٹ گئے۔ضامن نے اوٹنی کا ہوانہ کاٹ دیا۔ جب اونٹنی کے مالک کوپتہ چلا تو اُس نے ضامن کی بیوی کے پستان کاٹ دیے۔جس کی بیوی کے پستان کاٹے گئے اُ س نےانتقاماََ اُن کا ایک آدمی قتل کردیا۔اس طرح آدمی پر آدمی قتل ہوتے رہے، دشمنی صدیوں چلتی رہی مگرانتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی یہاں تک کہ دونوں قبائل دنیا سے مٹ گئے۔
غرض حضورﷺ کی آمد سے قبل فکری، سماجی، اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے دنیا گھٹاٹوپ اندھیرے میں تھی۔ ظلم وستمجب اپنی انتہاء کو پہنچ گیا تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے سیدِکائنات حضرت محمدﷺ کو مبعوث کیا۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌؒ۰۰۱۹﴾ (المآئدة)
(جاری)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages