معلّمِ انسانیّت اور حکمت وتدریس 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

معلّمِ انسانیّت اور حکمت وتدریس 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، معلم انسانیت، سیرت النبی، حکمت تدریس، معلّمِ انسانیّت اور حکمت وتدریس

معلّمِ انسانیّت اور حکمت وتدریس

تحریر: جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود مدنی
اخلاص ِنیت:
نیت انسانی دل و دماغ کی پوشیدہ کیفیت کا نام ہے جو اعمال کی تکمیل میں بنیادی محرک کے طور پر کارفرما ہوتی ہے۔انسانی جسم سے سر انجام پانے والے تمام اعمال کادارومدار اسی پر ہوتاہے۔ یہ کیفیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے کسی شخص کے عمل کو دیکھ کے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ عمل کس نیت سے کیاجارہا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کے بھید جانتا ہے لہٰذا کوئی عمل بھی اس سے ڈھکا چھپا نہیں رہتا ، وُہ ذات اپنے علم کلی کی بنیاد پر ارادے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا مکمل علم رکھتی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِنَّہ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ} (الفاطر: ۳۸)
’’بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کوبھی جاننے والا ہے۔‘‘
یہ پڑھیں:      سیرت النبی ﷺ
اللہ تعالیٰ نے اس آیت ِمبارکہ میں اپنے کمال علم وآگہی کو واضح فرمادیا ہے کہ اسے نہ صرف آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم ہے بلکہ سینے کے اندرجودل ہے اور انسان دل میں جو نیت و ارادے کی کیفیت بناتا ہے اللہ کی ذات اس سے بھی واقف ہے۔پس بندے کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اس خداوندِ قُدُّوس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح رکھے، اپنے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور اپنے باطن کے لحاظ سے بھی، اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کے ہر حال سے پوری طرح آگاہ اور باخبرہے۔تعلیماتِ اسلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نیت کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔
1     اخلاص          2     ریا کاری
آدمی نماز پڑھتا ہے،روزہ رکھتا ہے،زکوٰۃ دیتا اور حج کرتا ہے۔اگروُہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضائے الٰہی کے لیے کرتا ہے تو یہ عین عبادت ہیں اور اس حالت کا نام ’’اخلاص‘‘ ہے اور اگر یہی اعمال لوگوں کو دکھانے ،نمُودو نمائش اور جھوٹی شہرت یا اِحسان جتلانے کے لیے کرتا ہے تویہ حالت ’’ریاکاری‘‘ ہے۔ اللہ ربُّ العزت کے ہاں اجروثواب اُن نیک اعمال کاہے جو اخلاص کے ساتھ کیے جائیں۔دین اسلام نے انبیائے سابقہ کی اقوام کے حوالہ سے اخلاص کی حقانیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
{وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۱ حُنَفَآء َ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ} (البینۃ: ۵)
’’اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ خلوص دل سے اللہ کی عبادت کریں یک سُو ہو کر اورنماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے۔‘‘
اس آیتِ مبارکہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ جنابِ محمدرسول اللہe کوئی نیا دین لے کر نہیں آئے بلکہ آپe سے پہلے انبیاء کرامo نے بھی اپنی قوموں کو یہی حکم دیا تھا کہ وہ ہر قسم کے باطل سے منہ موڑ کر پورے اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں ،نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ، یہی عقیدہ وعمل کی بنیادی چیزیں ہیں جن کے مجموعہ کو دین ِمستقیم کہا جاتا ہے اور ہر نبی نے اسی دین کی تبلیغ کی ہے۔اس آیتِ مبارکہ میں بھی اخلاص کے ساتھ ایمان وعمل اورعبادات کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔قرآن مجید میں ریاکاری اور دکھاوے کے اعمال کے اکارَت(ضائع) جانے اورریاکے عمل سے بچنے کی ترغیب متعدد مقامات پر دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی  کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہ رِئَائَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ  فَمَثَلُہ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہ وَابِلٌ فَتَرَکَہ صَلْدًا لَا یَـقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ مِّمَّا کَسَبُوْا وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ} (البقرہ: ۲۶۴)
’’اے ایمان والو! اپنے صدقات ضائع نہ کرو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ،وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتا اس کی مثال ایسے ہے جیسے صاف پتھر پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس زور سے مینہ برسا کہ اسے بالکل صاف کردیا۔ ایسے لوگوں کو اپنے کمائے کا کچھ بھی ثواب نہیں ملتا اور اللہ کافروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔‘‘
سیدمودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
’’اس تمثیل میں بارِش سے مراد خیرات ہے۔ چٹان سے مراد نیت اور جذبے کی خرابی ہے، جس کے ساتھ خیرات کی گئی ہے۔ مٹی کی ہلکی تہہ سے مراد نیکی کی ظاہری شکل ہے، جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی۔ بارش کا فطری اقتضا ء تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور کھیتی نشوونما پائے۔ لیکن روئیدگی قبول کرنے والی زمین محض برائے نام اوپر ہی اوپر ہو، اور اس اوپری تہہ کے نیچے سخت پتھر کی ایک چٹان رکھی ہوئی ہو، تو بارش مفید ہونے کے بجائے اُلٹی مُضِر ہوگی۔ خیرات اگرچہ بھلائیوں کو نشو ونما دینے کی قوت رکھتی ہے، مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے۔ نیت نیک نہ ہو تو ابرِ کرم کا فیضان بجُز اس کے کہ محض ضیاعِ مال ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ (سید مودودیؒ، تفہیم القرآن: ۱/۲۰۴-۲۰۵)
پیر محمدکرم شاہ ؒنے لکھا ہے:
’’یہ منافق اور ریا کار کے عمل کی مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن جب بارش برستی ہے تو اس مٹی کو بہا کرلے جاتی ہے اور پتھر پھر چٹیل کا چٹیل رہ جاتا ہے۔ اسی طرح منافق کے اعمال ِخیر کی حالت ہے کہ بظاہر دیکھنے میں تو بہت کچھ دکھائی دیتے ہیں لیکن وُہ قیامت کے روز یوں ہوجائیں گے جیسے بارش کے بعد پتھر سے مٹی ناپید ہوجاتی ہے۔‘‘ (پیرمحمد کرم شاہؒ، ضیاء القرآن: ۱/۱۸۶)
اللہ تعالیٰ نیریا کاری سے کیے گئے عمل سے متعلق ایک اور مقام پہ یوں ارشادفرمایا :
{فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاء ُوْنَ} (الماعون)
’’پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازکی طرف سے غفلت برتتے ہیں ،جو ریاکاری کرتے ہیں۔‘‘
یہاں ریا کاری سیمراد یہ ہیکہ وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں کہ وُہ اطاعت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ وہ تقیہ سے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ریاکار کے درج ذیل چار طریقے ہوتے ہیں:
1     فاسق اس لئے نماز پڑھتا ہے کہ اس کو نمازی کہا جائے اور ریا کا رعبادت سے دنیا طلب کرتا ہے۔   وہ لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناکراُن سے تعریف اور تحسین کی توقع کرتا ہے۔
2     ریا کارکا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ  وُہ موٹے کپڑے پہن کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے دنیاسے رغبت نہیں ہے۔
3     تیسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں سے ریا کاری کرتا ہے، اوراہل دنیا کی مذمت کرتا ہے،وُہ نیکی اور عبادت کے ضائع ہونے پر افسوس کرتا ہے ۔
4     چوتھا طریقہ یہ کہ وہ لمبی لمبی نمازیں پڑھتا ہے اور لوگوں کو دکھا کر خیرات و صدقات دیتا ہے۔
فرائض چونکہ دینی شعائر ہیں ان کو دکھا کر اور نوافل عبادات کو چھپا کر کرنے کا حکم ہے۔خلوص نیت اور ریاکاری دونوں کاتعلق دل سے ہے لہذانیت کی اصلاح کے لیے دل کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے:
{لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ} (الحج: ۳۷)
’’اور یاد رکھو کہ اللہ کو نہ تو ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون بلکہ اس کے یہاں تو صرف تمہاری پرہیزگاری اور اخلاص نیت کی پُونجی ہی پہنچتی ہے۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں اہم حقیقت واضح فرما ئی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت صدق واخلاص اور احسان کی ہے لہٰذا جب کسی جانور کوصدقِ نیت سے اللہ تعالیٰ کے نام پرصرف اس کی رضا کیلئے قربان کیاجائے، تو اس کا اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہوگیا۔ ورنہ جانوروں کے گوشت اور ان کی کھال میں سے کوئی چیز اس کے ہاں نہیں پہنچتی، سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں دلوں کی نیت اور اُن کا ارادہ پہنچتا ہے ۔اس میں یہ تنبیہ ہے کہ جب کسی عمل کی نیت درست نہ ہو تو اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں ۔
مُعلِّم انسانیتe کا فرمان ہے کہ مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں،میں مختصر کلام سے دین کا بہت سا حصہ سمجھا دیتا ہوں۔ آپe نے نیت سے متعلق ارشاد فرمایا:
[إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَّا نَوٰی۔] (صحیح البخاری: ۱)
’’بیشک اعمال کے نتائج نیتوں پر موقوف ہیں اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘
امام بخاریؒ کاقول ہے کہ نبی کریمe کی احادیث میں سے اس سے زیادہ جامع،معانی سے مالا مال اور مفیدحدیث کو ئی اورنہیں۔امام شافعیؒ اس کو نصف علم کہا کرتے تھے۔امام احمد بن حنبلؒ،امام ابو داؤدؒ ،امام ترمذیؒ اور امام دارِقُطنیؒ وغیرہ نیفرمایا کہ یہ حدیث تہائی اسلام اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ انسانی جسم سے نکلنے والے سارے اعمال نیت اور خیال کے مطابق ہوتے ہیں اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی نیت اُس نے کی ہو۔نیت کا براہِ راست تعلق دل سے ہے،اسی لیے مُعلِّم انسانیتe نے دل کی اصلاح پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔فرمانِ نبویe ہے:
[اَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ااَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ] (البخاری: ۵۱)
’’خبردار ہوجاؤ! کہ بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو تمام بدن خراب ہوجاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘
تمام اعمال کی درستگی کے لیے دل کا درست ہونا ضروری ہے۔نیک جذبات اور خلوص نیت ایسی چیز ہے جس کی بناء پر نیک اعمال اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول ہوتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ کام کرنے سے پہلے اپنی نیت کوٹٹول لیاکرو کہ یہ کام کس نیت سے سر انجام دے رہے ہو؟جس نیت کے ساتھ کوئی کام کیاجاتا ہے اجرو ثواب بھی اسی کے مطابق ملتا ہے۔اگرکسی سکول ، کالج یایونیورسٹی کاطالب علم سائنس،آرٹس،ڈاکٹری یاانجینئرنگ کی تعلیم معرفتِ الٰہی اور خدمتِ خلقِ انسانی کی نیت سے حاصل کرتاہے تو اس کا حصولِ علم عین عبادت ہے۔ کسی دینی مدرسے میں قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرنے والے کی نیت اس علم کے بدلہ میں حصول ِشہرت اورحصول دنیا ہو تو یہ اس کے لیے وبال اور باعثِ عذاب ہے۔
یہ پڑھیں:      معراج النبی ﷺ
قارئینِ محترم! اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان مُعلِّم چاہے وہ کسی دینی مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہے یا کسی سکول کالج یا یونیورسٹی میں کوئی مضمون پڑھا رہا ہے،بحیثیت استاد اُس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی نیت کا جائزہ لے کہ تدریس سے اس کا مقصد و حاصل کیا ہے؟ مادی علُوم و فنون کی تدریس کے ساتھ بحیثیتِ مسلمان مُعلِّم اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وُہ اپنے طلبہ کی تربیت اسلامی خطوط پر کرے۔انہیں اخلاقیات سکھانا اور شعائرِ اسلامی سے روشناس کرانا بھی اس کے تدریسی فرائض میں شامل ہے۔ بلکہ وُہ تمام مضامین کو مسلمان کرکے پڑھائے، یہ کہنے سے مراد دوران تدریس اپنے مضمون سے تربیتِ اسلامی کے مواقع پیدا کرنا کے ہیں اور اپنے مضمون کی تدریس کو اسلامی رنگ میں رنگنا کے ہیں۔
اللہ ربُّ العزت نے تمام علُوم کی بنیادیں تعلیماتِ سماویہ میں رکھی ہیں اور انبیاءo نے اپنے زمانے کے مطابق ان کی تَرویج اور سر پرستی فرمائی ہے۔انبیاء کے بعدہر زمانے کے علمائے دین ،دینی علُوم کے ساتھ ساتھ مادی اور دُنیوی علُوم کی بھی رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ہرسطح کے تمام علوم کی آبیاری کرنے والے مُعلِّمین و مدرسین، انبیاء کی مقدس میراث کے وارث ہیں۔اوّل اس مقدس وارثت کی ذمہ داری اُن لوگوں کو قبول کرنی چاہیئے جو دل و جاں سے اس شعبے سے محبت و عشق رکھتے ہوں۔جنہوں نے اپنامقصدِحیات انسانیت کی تربیت اوردین اسلام کی سربلندی وسرفرازی بنایا ہوا ہو ۔تاہم انسان کی کچھ مادی ضروریات بھی ہیں جوبندہ اپنی نیت خالص کرلیتا ہے توربُّ العالمین ان ضروریات کو پورا کرنے کے غائبانہ اسباب فرما دیتے ہیں۔عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ حادثاتی طور پر شعبۂِ مُعلِّمی سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ میری دانست کے مطابق انہیں اپنی قسمت پہ نازاں ہونا چاہیئے کہ ربُّ العالمین نے ان کا رزق مُقدَّس شُعبہ سے وابستہ کر دیا انبیاء نے جس پرفخر فرمایا ہے۔ انہیں اپنی نیتوں کو بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے خالص کرلینا چاہیئے۔انہیں چاہیئے کہ اس شُعبہ کے ذریعے انسانی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں تعمیر کر کے اللہ کی رضا وخوشنودی کا حصول اپنا نصبُ العین بنا لیں ۔
مُعلِّم و مدرس کو اس شعبۂِ زندگی سے وابستہ ہو جانے کے بعداس بات کا ادراک کر لینا چاہیئے کہ وہ مقدس وراثت کا امین ہے۔وُہ خلوص نیت کے ساتھ مُعلِّم ومدرس کے لوازمات اور تقاضے پورے کرے یہ اس کی ابتدائی ذمہ داری ہے۔تمام اساتذہ کو حتی الوُسع کوشش کرنی چاہیے کہ اس مقدس لفظ مُعلِّم کی عظمت کسی طرح بھی مجروح نہ ہو۔میں مُعلِّم انسانیتe کی حیات طیبہ سے شخصی خوبیوں اور تدریسی حکمتوں کے گل ہائے رنگا رنگ سے یہ گلدستہ تیار کر کے دورِ حاضر کے مُعلِّمین و معلمات اور مبلغین کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں تا کہ وُہ اس کی مہکتی ہوئی خوشبو سے اپنے قلوب و اذہان کو معطر کرسکیں۔میں نے ائمہ حدیث کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہوئے ’’اخلاصِ نیت‘‘ کا عنوان اِن تدریسی حکمتوں سے قبل اس لیے شامل کیا ہے تاکہ مُعلِّمین اس گلدستے کو اپنی تربیت اور عمل کی نیت سے زیرِ مطالعہ لائیں۔(وماتوفیقی الا بااللہ)
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages