مدیراعلیٰ بشیر انصاری مرحوم سے ایک یادگار انٹرویو 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

مدیراعلیٰ بشیر انصاری مرحوم سے ایک یادگار انٹرویو 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، مدیر اعلیٰ، بشیر انصاری، بابائے صحافت، یادگار انٹرویو، مدیراعلیٰ بشیر انصاری مرحوم سے ایک یادگار انٹرویو


مدیراعلیٰ بشیر انصاری مرحوم سے ایک یادگار انٹرویو

انٹرویو: جناب حکیم مولانا محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی

گذشتہ سات ماہ سے نامور اہل علم،شیوخ ،قراء اور علمائے کرام کی تسلسل سے وفیات دل و دماغ اور اعصاب پر ایسے اثر اندا ز ہوئی ہیں کہ ان کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ۵ستمبر ۲۰۲۰ء کو حسب معمول تیار ہوکر گھر سے مطب کیلئے نکلا راستہ میں اخبار میں الحاج مولانا بشیر انصاری مدیر اعلیٰ ہفت روزہ اہلحدیث لاہور کی وفات کی خبر پڑھ کر غمگین دل مزید صدمہ سے دوچار ایسا ہوا کہ تادم تحریر دل ودماغ پریشانی میں مبتلا اور قلم ہاتھ میں پکڑے ہوئے کانپ رہا ہے۔

یہ پڑھیں:      جناب بشیر انصاری کا سفر آخرت

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہر چیز پر غالب ہے ۔اس کے فیصلے کے آگے سرتسلیم خم ہے مگر دل پارہ پارہ ہے ۔دلی دعا ہے کہ اللہ جماعت اور مسلک اہلحدیث کو مزید کسی سانحہ سے محفوظ رکھے ۔ہمارے اکابرین کو ایمان اور صحت کی سلامتی سے لمبی زندگی نصیب کرے اور مرحومین اکابرین کا نعم البدل عطاکرے آمین۔

انصاری صاحب سے راقم کو کم و بیش ربع صدی یعنی ۲۶ سال سے نیاز حاصل تھا ۔میں نے ان برسوں میں اُن سے شفقت و محبت اور عزت کا جو حصہ پایا وہ زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ۔اس عرصہ میں ان کو کبھی فارغ بیٹھے ،دوسروں پر تبصرے کرتے یعنی غیبت کرتے، اظہار لا تعلقی کرتے اور لایعنی گفتگو کرتے نہیں دیکھا بلکہ اُن کی زندگی سے سبق سیکھا ہے کہ انسانوں سے کس طرح معاملہ کرنا چاہیے، دوست تو دوست ان کا تو یہ عالم تھا کہ ان کے مخالف بھی ان کو اپنا سمجھتے تھے۔ انہوں نے بھی اختلاف کو کبھی ذاتی تعلقات اور باہمی محبت و احترام کے رشتوں میں در آنے کا موقع نہیں دیا۔ جماعتی پرچہ کی ادارت عظیم ذمہ داری ہوتی ہے ،اس پلیٹ فارم پر امیر سے لیکر ایک کارکن تک مسائل،شکایات اور کام ہوتا ہے ،انہوں نے یہ فریضہ ہمیشہ بخوبی سرانجام دیا۔ انہیں مختلف شخصیات کے ساتھ اور ادوار میں دینی ،ملکی ،سیاسی ،جماعتی امور پر لکھنے کا موقع ملا۔ ان سے ملنے والا ہر عام وخاص انہیں اپنا سمجھتا کیونکہ وہ مزاج میں انتہائی سادہ،اخلاق و محبت و شفقت میں مثالی تھے ، تصنع کا کوئی شائبہ بھی ان کی زندگی کے کسی پہلو میں کبھی نہیں دیکھا۔ مدیر اعلیٰ کی سیٹ پر بیٹھ کر انہو ں نے ایک کارکن کی حیثیت سے کام کیا،کبھی کسی پر مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنا اثرنہیں دکھایااوردین کا کام کرنے والے نوجوان طبقہ کے لئے بالخصوص و ہ شفیق تھے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی وہ رنرمی سے بات کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ ہر شخص کے دل میں ان کے لئے عزت و احترام کا چشمہ رواں تھا۔ علم و ادب کی دنیا میں نصف صدی سے زائد عرصہ اپنا سکہ جماکر وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی انسان پلٹ کر نہیں آتا۔ بلکہ ہم سب نے آخر کا ر اس سفر پر روانہ ہونا ہے ۔ ہم سب اپنے مقصد زندگی کو اسلام کے انہیں اصولوں کے مطابق نہ صرف خود بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لئے ہر لمحہ سرگرم رہیں ۔

یہ پڑھیں:      میرے مربی ومحسن بشیر انصاری مرحوم

قارئین کرام! آئیے ان کی زندگی، حالات وواقعات ان کی زبانی سنیے! جو میں نے ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور جلد ۶۰ شمارہ ۳۱ مورخہ ۱۳ مئی ۲۰۱۶ء کو انٹرویو شائع کیا۔

O       آپ اپنا اسم گرامی مع ولدیت اور خاندانی پس منظر سے آگاہ فرمائیں؟

K     میرا نام محمد بشیر انصاری بن میاں کریم بخش بن سوہنا ہے۔ والد ِ گرامی شریف النفس ،دین دار، صالح اور درویش صفت انسان تھے۔انہیں مسجد سے بڑا لگائو تھا،بر وقت مسجد میں اذان کہتے،مسجد کی صفائی وغیرہ کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے۔مسلمان اور غیر مسلم سبھی آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ،موضع بھنگواں میں سکھ سرداروں کی اکثریت زمینداری سے متعلق تھی جبکہ مسلمان مختلف کاروبار کرتے تھے۔ سکھ جو چھوٹے زمیندار تھے وہ فصل کی کٹائی کے انتظار میں کاروبار ی مسلمانوں سے قرض لے کر گزارہ کرتے تھے۔ والد ِ گرامی کی دِلی تمنا تھی کہ فریضہ حج کی سعادت حاصل کروں،انہوں نے اپنے کاروبار سے زادِ راہ اکٹھا کرلیا تھا مگر سیٹ نہ مل سکی، اگرچہ غزنوی علمائے کرام سے بھی رابطہ کیالیکن تاخیر کی وجہ سے مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اگلے سال زندگی نے وفانہ کی اور حج کی سعادت کی آرزو لئے ۱۹۴۵ء کو انتقال کرگئے‘ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ مولانا منظور الحق ؒ نے پڑھائی او رمقامی قبرستان میں سپردِ رحمت باری تعالیٰ کردیاگیا۔

قارئین کرام! مرحوم کی بلندی درجات کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی حسناتِ جمیلہ قبو ل فرما کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین !

O       آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

K     میری تاریخ پیدائش ۱۸ ستمبر ۱۹۳۲ء ہے جبکہ جائے ولادت موضع بھنگواں ضلع امرتسر مشرقی پنجاب بھارت ہے۔

یہ پڑھیں:      جناب بشیر انصاری رحمہ اللہ کی داستان زیست

O       تحریک آزادی کا کچھ آنکھوں دیکھا حال بیان کیجئے؟

K     قیام پاکستان کے وقت میں سکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا ، تحریک آزادی کی لہر اس قدر تیز تھی کہ بڑے تو کیا مسلمانوں کے چھوٹے بچے بھی گلی کوچوں میں یہ نعرے لگاتے کہ ـــ’’سینے پہ گولی کھائیںگے، پاکستان بنائیں گے،مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ،لے کہ رہیں گے پاکستان ،دیناپڑے گا پاکستان ،بٹ کے رہے گا ہندوستان ‘‘ اس زمانے کا جوش ولولہ اور حصولِ پاکستان کی تڑپ ہر ایک مسلمان میں قابل تعریف تھی۔ ۱۹۴۷ء میں ایسی ہوا چلی جن کے ساتھ آپس میں اکٹھے رہتے صدیاں گزری تھیں، رنج و غم میں سبھی ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے تھے، غیر مسلم خصوصاً سکھ اور ہندو لوگوں کی نظریں ایسی پھریں کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ خون مسلم کے پیاسے بن گئے، خطرات نے ہر طرف سے گھیر لیا ،جب گھروں میں ٹھہرنا ناممکن ہوگیا تو ہمارا خاندان بھی ہجرت کے لئے نکلا ،ہجرت کا سفر آ گ اور خون کے دریا سے گزرنا تھا،میری بڑی ہمشیرہ کے سسرال مسلمانوں کے گائوں کوٹ خیرا میں رہتے تھے ،اس گائوں پر سکھوں نے بڑے لشکر کے ساتھ حملہ کیا تو بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ ان میں میری ہمشیرہ ، بہنوئی اور دوبھانجیاں بھی شہادت پاگئیں ،جنہوں نے یہ دردناک منظردیکھا تھا وہ بیان کرتے ہوئے غمناک ہوجاتے ہیں،یہ گائوں ہمارے گائوں سے چار میل کے فاصلے پر تھا، بالآخر ہمارا قافلہ گوجرانوالہ پہنچا جہاں آج ہم رہائش پذیر ہیں،اس کی وجہ قیام پاکستان سے قبل ہمارے بزرگوں کا کاروبار کے سلسلہ میں یہاں آنا جانا رہتا تھا اور یہاں کے علمائے کرام سے ان کے عقیدت و احترام کے تعلقات تھے،اسی محلہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ رہائش پذیر تھے۔ وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم کے والد گرامی الحاج محمد ابراہیم انصاری نے اپنے احباب کو گوشہ عافیت مہیاکرنے میں خصوصی توجہ دی اور ایک ہی محلہ میں بہت سے خاندان رہائش پذیر ہوگئے۔

یہ پڑھیں:      بابائے صحافت ... محمد بشیر انصاری رحمہ اللہ

O       دینی تعلیم کی طرف رجحان کیسے ہوا اور عصری تعلیم کیا ہے؟

K     ہماری گلی کی مسجد اہلحدیث میں جامعہ اسلامیہ اہلحدیث کا قیام عمل میں آیا تو حافظ محمد (اعظم) محدث گوندلوی ؒ کا نام سن کر دوردراز علاقوں سے طلبہ کشاں کشاں آنے لگے ۔علمائے کرام کے وعظ و نصیحت کا اثر میرے اوپربھی ہوا،عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے حصول کے لئے اپنی جدو جہد جاری رکھی جبکہ عصری تعلیم میں میں نے ایم اے ادبیات اردو ،اور ایم اے اسلامیات کررکھا ہے۔

O       آپ کے نامورشیوخ میں کون سی شخصیات شامل ہیں؟

K     شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ؒ ، مولانا قاری محمد یحییٰ بھوجیانی  ؒ اور حافظ فتح محمد ؒ (متوفی مکہ مکرمہ)

O       بچپن میں کس کھیل میں دلچسپی رہی اور پڑھائی میں کس درجے کے طالب علم تھے؟

K     ویٹ لفٹنگ میں دلچسپی رہی اور پڑھائی میں میرا شمار الحمد للہ ذہین و محنتی طلبہ میں تھا۔

O       آپ کے رفقائے مدرسہ کون کون ہیں؟

K     مولانا عبدالنور بنگالی ؒ، مولانا خواجہ محمد قاسم ؒاور مولانا عبدالقادر بنگالی  ؒ۔

O       شادی کتنی عمر میں ہوئی اور ازدواجی زندگی کیسی رہی؟

K    ۲۲ سال کی عمر میں شادی ہوئی ،حضرت حافظ محمد گوندلوی ؒ نے نکاح پڑھایا، الحمد للہ میری ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار رہی ، اہلیہ صوم و صلوٰۃ کی پابند ،سلیقہ شعار اور میرے لئے زندگی کا بہترین ساتھی تھیں۔ان کی بخشش کیلئے دعاکریں۔

O       آپ کل کتنے بہن بھائی ہیں؟آپ کی اولاد میں بچوں کی مصروفیات کیا ہیں؟

K     ہم کل چھ بہن بھائی تھے، سب کو بنیادی تعلیم دلوائی ہے ۔میرے دو بیٹے بیرون ِ ملک کاروبار کرتے ہیں۔ایک بیٹا مولانا شاہد بشیر انصاری جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ اُم القریٰ مکہ مکرمہ سے فارغ التحصیل ہے۔ آج کل لندن میں بزنس کے ساتھ ساتھ خطابت کا فریضہ بھی انجام دے رہا ہے۔

یہ پڑھیں:      مسکراتا چہرہ ... دھیمہ لہجہ

O       کن ادبی و علمی شخصیات اور سیاسی لوگوں سے ملاقات رہی؟

K     بے شمار علماء شیوخ الحدیث ،صحافی حضرات اور سیاسی راہنماؤں سے ملاقات کا موقع ملا جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔ مولانا غلام رسول مہر، مولانا عبدالمجید سالک، پروفیسر اسرار احمد سہاروی، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ، حافظ عبدالغفور جہلمی، مولانا سید بدیع الدین شاہ راشدی، قاضی محمد اسلم سیف فیروزپوری، مولانا محمد اسحاق بھٹی، مولانا محمد اسحاق چیمہ ، الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی، مولانا ظفر علی خاں، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانا معین الدین لکھوی، حضرت مولانا حافظ عبدالقادرروپڑی ، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا عبداللہ گورداسپوری، مولانا کوثر نیازی،مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، راجہ ظفر الحق ، احمد سعید کرمانی، میر علی احمدتالپور، احمد نواز گردیزی اور چوہدری ظہور الٰہی و دیگر سے ملاقاتیں رہی ہیں۔

O       حصولِ تعلیم کے بعد کی مصروفیات کیا تھیں؟

K     دینی و عصری تعلیم سے فراغت ملتے ہی مجھے ملازمت مل گئی ۔ان دنوں امام العصر حافظ محمد محدث گوندلوی ؒ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ خطبہ جمعہ ارشادفرمایا کرتے تھے۔نمازِ جمعہ کے بعد انہی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ،انہوں نے راقم سے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کررہے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ بینک میں ملازمت کرتا ہوں،تو فرمانے لگے کہ بینک کی ملازمت شرعاً جائز نہیں ،میں نے کہا کہ نئی ملازمت مل جانے پر چھوڑ دوں گا۔ حضرت حافظ صاحب فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے ،یہ نوکری آج ہی چھوڑ نے کا وعدہ کرو، میں نے حامی بھرلی اور آئندہ صحافت سے منسلک ہوگیا۔

یہ پڑھیں:      شہسوار صحافت ... بشیر انصاری رحمہ اللہ

O       آپ کا ادب سے رشتہ کیونکر استوار ہوا؟

K     طالب علمی کے دور سے میرا ذہن شعرو ادب کی طرف مائل تھا۔ ۱۹۶۱ء میں گوجرانوالہ کے کالج کی بزم علوم اسلامی کا صدر اور بزم اردو کا سیکرٹری منتخب ہوا،لاہور میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ایک سال گزراتو ایک تحریری مقابلے کے بعد ۱۹۶۲ء میں کالج میگزین المیز ان کا ایڈیٹر منتخب ہوا۔ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۳ء تک ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۱۹۷۴ء میں ہفت روزہ الیوم لاہور ۱۹۷۵ء میں ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ لاہور ، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ؒ کے ماہنامہ ترجمان الحدیث لاہور کی مجلس ادارت کا رکن رہا ،علامہ صاحب کی شہادت کے بعد چندماہ اس کی ادارت کی ذمہ داری بھی انجام دی،دوبارہ ۱۹۹۰ء سے تاحال ہفت روزہ اہلحدیث لاہور کا مدیر اعلیٰ ہوں۔

O       آج تک کن ممالک کا سفر کیا؟

K     سعودی عرب،کویت،عراق ،انگلستان، جاپان ،کینڈاوغیرہ ممالک کی سیاحت کی اور مطالعاتی دورے کئے ۔کئی دن وہاں رہنے کا اتفاق ہواالبتہ سعودی عرب میں ریاض اور جدہ میں ٹی وی اور ریڈیوپر میری تقاریر بھی نشر ہوئی ہیں۔

O       آپ اپنی مطبوعہ کتب،مضامین و مقالات کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں؟

K     تحریک اہلحدیث و افکار اہلحدیث، مشاہیر کے خطوط، ارمغان ظہیر، نجات کا راستہ، اہلحدیث صحافت پاکستان میں، باقی مقالات جو مختلف عنوانات پر تحریر کئے ہیں انہیں اکٹھا کرکے شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

O       آپ کی تحریک ختم نبوت e اور تحریک نظام مصطفی e میں کیا سرگرمیاں رہی ہیں؟

K     دونوں تحاریک میں سرگرم عمل ضروررہا مگر گرفتاری وغیرہ سے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔

O       دعاؤں کی قبولیت کے حوالے سے کیا آپ کی تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں؟

K     دعا مانگنا ہمارا کام ہے او رقبول کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ پہلی بار جب عمرہ کیا تو دعا کی کہ الٰہی! مجھے بار بار حج کرنے کی توفیق عطاء فرما ، الحمد للہ! اس کی توفیق سے چارحج کئے او رمزید حج کی دل میں تڑپ موجود ہے۔

یہ پڑھیں:      تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے

O       وطن عزیز میں دینی مدارس معتوب کیوں ہیں؟

K     دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں ان کی وجہ سے معاشرے میں دینی قدریں موجود ہیں او روہ کتاب و سنت کی تعلیم دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ استعماری طاقتوں کو یہ پسند نہیں‘ وہ انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں اور مغربی تہذیب و تمدن کے دلدادہ لوگ مدارس کے خلاف شوشے چھوڑتے رہتے ہیں ،دینی ادارے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود معاشرے میں علم دین کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔

O       نفاذ اسلام کیلئے ا ب تک ہونے والی کوششوں پر روشنی ڈالیں؟

K     پاکستان اسلامی نظریہ حیات کو عملی رنگ دینے کیلئے حاصل کیا گیا تھا‘ چنانچہ دینی قوتوں کی جدوجہدسے ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قرار دادِ مقاصد پارلیمنٹ میں پیش کی گئی جس نے ملک کی ایک منزل متعین کردی۔ ۱۹۵۰ء میں علماء نے ۲۲ نکات میں اسلامی دستور ی خاکہ پیش کیا۔ ۱۹۵۶ء کے دستور میں کچھ اسلامی دفعات بھی شامل کی گئیں اور قرار داد مقاصد اس دستور میں بطور مقدمہ موجود تھی لیکن ۱۹۵۸ء میں ایوبی مارشل لاء نے یہ دستور ہی کالعدم قرار دے دیا۔ ایوب خاں نے ۱۹۶۲ء میں دستور بنایا جسے قوم نے مستردکردیا پھر ۱۹۷۳ء میں آئین بنا جسے اسلامی نظام کی بنیاد بنایا جاسکتا تھا ۔پھر ضیاء الحق کے دور میں قرار داد مقاصد کو دستور کا جزو لاینفک بنادیا گیا،شریعت کورٹ بھی قائم کی گئی ۔جب دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرلیاگیا ہے تو پھر دستور میں کتاب و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے۔فیڈرل شریعت کورٹ سود کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے مگر ملکی معیشت ابھی تک سود سے پاک نہیں ہوئی،خدا جانے ملک میں اسلامی نظام کی صبح کب طلاع ہوگی۔

یہ پڑھیں:      حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

O       کچھ لبرل ازم کے پیروکار قیام پاکستان کے مقصد کو متنازع بنانے پر تلے ہوئے ہیں ،کیا کہیں گے؟

K     پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو لا الٰہ الا اللہ کے نام پر معرض وجود میں آئی ۔اسلامی نظام ہی اس کامقدر ہے،لبرل ازم اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،لبرل الزم کا مقصد ملک میں اسلامی اقدار کا راستہ روکنا ہے،لبرل ازم ایک جھوٹا فلسفہ ہے جسے قبو ل نہیں کیا جا سکتا۔

O       ماضی اور حال کے طلبہ دینیہ کے حوالے سے کیا تبصرہ کریں گے؟

K     ماضی کے طلبہ مدرسہ کی تعلیمی حالت دیکھتے تھے اور اب طلبہ سہولتیں دیکھتے ہیں۔

O       مطالعہ عالم دین اور پڑھے لکھے انسان کی کس حد تک ضرورت ہے۔

K     مطالعہ عالم دین کی ضرورت ہے ۔مطالعہ علم میں ترقی کے ساتھ عملی زندگی میں انقلابی اثرات مرتب کرتا ہے۔

O       موجودہ سیاسی بحران کے کیا محرکات ہیں؟   

K     سیاسی بحران کی کوئی حیثیت نہیں،تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کررہے ہیں،بعض ناکام سیاستدان عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ناکام ہوں گے۔

یہ پڑھیں:      دار العلوم سراجیہ سلفیہ (نیپال) کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمنان سلفی رحمہ اللہ

O       باربار پڑھی جانے والی کتابیں جو آپ نے زیادہ پڑھی ہیں وہ کونسی ہیں؟

K     سیرت طیبہ e پر اہلحدیث کی تالیفات ،علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ؒ ، مولانا محمد اسحاق بھٹیؒ اور علامہ اقبال ؒ کی کتب۔

O       لکھنا کیسے آتاہے؟

K     پڑھنے اور مشق کرنے سے لکھنا آتا ہے۔

O       پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ کیسے ہموار ہو سکتی ہے؟

K     تمام مسالک فرقہ واریت ختم کرکے کتاب و سنت پر متحد ہو جائیں ۔

O       عالم کفر پر غلبہ رکھنے کے لئے اُمت مسلمہ کو کیا کرنا چاہیے؟

O       اسلامی ممالک کا جو موجودہ اتحاد ہوا ہے ،اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟

K     سعودی عرب کی قیادت میں ۳۴ مسلم ممالک کا جو فوجی اتحاد قائم ہوا ہے وہ نہ صرف داعش کے خاتمے کیلئے بلکہ مستقبل میں اس دہشتگردی کا مقابلہ کرے گا جو اُمت مسلمہ کے مقابلے میں آئے گا۔اس اتحاد کا مقصد عراق،شام ،لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف کوششوں کو مربوط بنانا ہے ،اسی لئے دنیا میں اس اتحاد کو سراہاگیا ہے۔

یہ پڑھیں:      مولانا حکیم اجمل خان (ہریانہ بھارت) کا سانحۂ ارتحال

O       قارئین کرام کو کیا پیغام دینا پسند کریں گے؟

K        ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages