مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، مسجدوں کی آباد کاری، مسجدیں آباد کرنا، مساجد کی فضیلت، مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت
 

مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان d

ترجمہ: جناب عاطف الیاس                            نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

کتاب اللہ ہی سب سے بہتر کلام ہے، سب سے بھلی رہنمائی ہے۔ سنت رسول ہی بہترین طرز عمل اور افضل ترین راستہ اور اتباع کے لیے شاندار طریقہ ہے۔ جسے نہ اپنایا جائے تو انسان بدعت، گمراہی اور ضلالت کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

یہ پڑھیں:      خطبہ حرم مدنی .. علاج معالجہ کے آداب : الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر﷾

اللہ کے بندو! اللہ کی فرماں برداری بہترین کمائی، نفع بخش چیز اور افضل ترین مقصدِ زندگی ہے۔ تقویٰ ہی آسانی کی کنجی ہے۔ تو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ جن چیزوں سے اس نے منع کیا یا خوب ڈانٹا ہے ان سے بچ جاؤ۔

’’اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔ اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا‘ جو شخص اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘  (الاحزاب: ۷۰-۷۱)

اے مسلمانو! مسجدیں اللہ کے گھر ہیں، اس کے ہاں سب سے پیاری جگہیں ہیں۔ انہیں عبادت، نماز اور ذکر کے لیے بنایا جاتا ہے، اور ان کا رخ اہل ایمان اور اولیاء اللہ ہی کرتے ہیں۔

’’اللہ کی مسجدوں کے آباد کار (مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانیں اور نما ز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں‘ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے۔‘‘ (التوبہ: ۱۸)

انہیں حقیقی مومن ہی آباد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں۔‘‘ (التوبہ: ۱۷)

ایک اور جگہ فرمایا:

’’وہ اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے، اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی‘ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔‘‘ (النور: ۳۶-۳۷)

مسجدوں کی راہ روکنے والوں کو وعید سنائی گئی ہے، ان کے میناروں کو بند کرنے اور محرابوں کو ویران کرنے والوں کو دھمکایا گیا ہے۔ فرمان ربانی ہے:

’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی، تو ڈرتے ہوئے جائیں‘ ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۱۴)

یہ پڑھیں:      خطبہ حرم مدنی .. سیرت رسولﷺ کے چند اہم واقعات: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان﷾

اللہ کے بندو! مسجدیں اللہ کے گھر ہیں، کرۂ ارضی کی بہترین جگہیں ہیں، پروردگار کے فرماں برداروں اور اطاعت گزاروں کی پناہیں ہیں۔ ان ہی کے میناروں سے ہر روز یہ پیغامِ توحید کانوں میں گونجتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد e اللہ کے رسول ہیں۔ ان ہی کے میناروں سے ہر روز دین کے دوسرے ستون یعنی نماز کی طرف بلایا جاتا ہے، بلکہ اس اہم ترین رکن کی طرف بآواز بلند پکارا جاتا ہے۔ آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔ ان ہی کے محرابوں اور منبروں سے پیغامِ حق کی صدائیں بلند ہوئیں، اور پھر کانوں کی راہ سے دلوں میں گھر کر گئیں، شرک اور بت پرستی کی تاریکیاں کافور ہو گئیں۔ یہ اسلام کی اولین تربیتی اور عملی درس گاہیں ہیں۔ ان ہی میں صحابہ کرام نے تربیت اور تعلیم حاصل کی۔ پھر وہ میدانِ علم وعمل میں سب سے آگے نکل گئے۔ یہی وہ پہلے ادارے ہیں جن میں دعوت کے منبر قائم ہوئے، جہاں سے اسلام کی تعلیمات سارے جہان میں پھیلیں، جہاں سے دعوت، جہاد اور اخلاق کو عروج ملا۔

اے مسلمانو! اللہ کے گھروں اور مسجدوں کو آباد کرنا اس کے ہاں عظیم مقام ومرتبے والی عبادت ہے۔

’’اللہ کی مسجدوں کے آباد کار تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ کو مانیں۔‘‘ (التوبہ: ۱۸)

مسجدوں کو آباد کرنے کا مطلب انہیں بنانا اور ان میں عبادت کرنا ہے، اقامتِ صلاۃ کے لیے ان کا رخ کرنا، مؤذن کی اذان پر لبیک کہنا ہے:

’’آؤ نماز کی طرف‘‘، سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں کیا ثواب رکھا ہے، اور وہ اپنے لیے قرعہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔  اور اگر انہیں نماز ظہر کے لیے جلدی آنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو ضرور سبقت کریں۔ اور اگر عشاء اور فجر کی فضیلت جان لیں تو وہ ان کے لیے ضرور آئیں چاہے انہیں سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔‘‘ (صحیح البخاری: ۶۱۵)

اللہ کے بندو! مسجدوں کی طرف چل کر جانا ایسی عبادت ہے جس سے درجے بھی بلند ہوتے ہیں اور گناہ بھی معاف ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ eنے فرمایا:

’’کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہ معاف فرما دیتا ہے اور درجے بلند کرتا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں! ضرور! اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ e نے فرمایا: مشقت کے باوجود اچھی طرح سے وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا۔ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہی حقیقی پہرہ داری ہے۔ یہی حقیقی پہرہ داری ہے۔‘‘ (مسلم)

یہ پڑھیں:     خطبہ حرم مکی .. تاریخ الٰہی سے چند سبق آموز واقعات: الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’جو صبح یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ مسجد کی ہر حاضری پر جنت میں اس کی جگہ تیار کر دیتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری: ۶۶۲)

اے اللہ کے گھروں میں آنے والو! اے مسجدیں آباد کرنے والو! تمہیں مبارک ہو گھنی چھاؤں کی، تمہارے لیے بہترین اور کامل نور کی بشارت ہے۔ سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ

’’رسول اللہ e نے فرمایا: سات گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ ان میں اس شخص کا بھی ذکر کیا جس کا دل مسجد سے لگا رہتا ہو۔‘‘ (صحیح البخاری: ۶۶۰)

اسی طرح سیدنا بریدہ اسلمیt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’اندھیروں میں چل کر مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دے دو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: ۵۶۱)

تو اے اللہ کے بندو! اللہ کے گھروں کے لیے اپنے وقت کا کچھ حصہ مختص کرو، اپنی عبادت کا بھی کچھ حصہ مساجد کے لیے ضرور مختص رکھو، ایسے کاموں سے آخرت کی تیاری کرو جن کی بدولت اللہ تمہیں قیامت کے دن سربلندی نصیب فرمائے۔

’’جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے‘ اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔‘‘  (المزمل: ۲۰)

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! فرض نمازیں باجماعت ادا کرنا شعائر اسلام میں سے ہے، بلکہ یہی ایمان کی نشانی ہے۔ تو نمازیوں کے ساتھ مل کر رکوع وسجود کرو۔ اللہ کے بندو! با جماعت نماز ایک بہترین عبادت اور افضل درجے کی نیکی ہے، قربتِ الٰہی اور بلند درجوں تک پہنچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود  بیان کرتے ہیں:

’’جسے یہ پسند ہو کہ اللہ کو اسلام کی حالت میں ملے، تو ان نمازوں کو وہیں ادا کرے جہاں سے ان کے لیے پکارا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی e کو ہدایت کے طریقے بتلائے ہیں اور یہ کام بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہے۔ اگر تم سب اِن پیچھے رہنے والوں کی طرح اپنے اپنے گھروں میں نمازیں پڑھنے لگے، تو ترکِ سنت کے مرتکب ہو جاؤ گے، اور اگر تم نے نبی e کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔  جو شخص اچھی طرح وضو کر کے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ کسی معروف منافق کے سوا کوئی بھی باجماعت نماز سے پیچھے نہیں رہتا تھا،  بلکہ ایسا بھی ہوتا کہ کسی شخص کو دو آدمی سہارا دے کر لاتے اور صف میں کھڑا کر دیتے۔‘‘ (مسلم: ۶۵۴)

یہ پڑھیں:      خطبہ حرم مدنی.. چند قابل غور نصیحتیں:  الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن قاسم﷾

سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’نماز باجماعت، اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے بہتر ہے۔‘‘ (مسلم)

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ

’’رسول اللہ e نے فرمایا: آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا، اپنے گھر یا اپنے بازار میں نماز پڑھنے سے  پچیس گنا بہتر ہے۔ کیونکہ جب وہ عمدہ طریقے سے وضو کر کے صرف نماز کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے تو ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند ہو جاتا ہے، اور ایک گناہ بھی معاف ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ نماز ادا کر لیتا ہے تو جب تک وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ! تو اس پر رحمت فرما!  یا اللہ! تو اس پر شفقت فرما۔ جب تک تم نماز کی جگہ میں رہتے ہو، تو گویا نماز ہی میں ہوتے ہو۔‘‘ (صحیح البخاری: ۶۴۷)

اللہ کے بندو! کرونا کی بیماری نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا، ان کی نماز با جماعت رک گئی، مسجدوں سے تعلق جوڑنے والوں کے دل بیتاب ہو گئے، انہیں مسجدوں کا شوق اور نماز با جماعت کا جذبہ ستانے لگا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا حل بھی آ گیا۔ اس نے تو ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا رکھا ہے، ہر پریشانی سے نجات کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ دیکھو! اب مسجدیں اپنے دروازے کھولے ہوئے ہیں، ان کا ماحول آپ کے لیے مکمل طریقے سے ہموار ہے۔ دیکھو! اللہ کے گھر اب آباد کرنے والوں اور حاضری دینے والوں کی منتظر ہیں۔ ان کے میناروں سے اذان کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف‘‘ دیکھو! اب بیت اللہ، حرم پاک اور مسلمانوں کی عبادت کا مرکز بھی  اپنے دروازے کھول چکا ہے، وہ بھی زائرین اور عمرہ کرنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔ بیماری کا باقی حصہ ختم کرنے کا سوال کرو، آزمائش کی شدت ختم کرنے کا سوا ل کرو، عافیت اور شفا کی دعا کرو۔ اللہ کے بندو! مسجدوں کا رخ کرو، اللہ کی طرف پکارنے والے کو لبیک کہو۔

’’اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۴)

یہ پڑھیں:      خطبہ حرم مکی .. بہترین نصیحت : الشیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی﷾

جس میں تمہارا بھلا ہے، جس میں تماری سعادت ہے اور جس میں تمہاری ہدایت ہے۔

’’اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر مسجد میں اپنا رخ ٹھیک رکھو۔‘‘ (الاعراف: ۲۹)

فرائض کو پابندی سے وہاں ادا کرو جہاں سے ان کے لیے پکارا جاتا ہے۔

’’اللہ کی مسجدوں کے آباد کار (مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانیں اور نما ز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں‘ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے۔‘‘ (التوبہ: ۱۸)

اے مسلمانو! اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرنا ہو تو ان نعمتوں کا ذکر کرنا چاہیے جن سے اللہ نے اس ملک کو نوازا ہے، یہاں توحید کی نعمت ہے، اتحاد واتفاق کی نعمت ہے، امن وسلامتی کی نعمت ہے، زائرین وقاصدینِ حرمین کی خدمت کی نعمت ہے، اہل اسلام کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانے کی نعمت ہے، خدمتِ انسانیت کی نعمت ہے، بین الاقوامی امن وامان کی کاوشوں کی نعمت ہے۔ یہ سب نعمتیں تب ہی سے موجود ہیں جب سے اس علاقے کا یہ سنہری دور شروع ہوا ہے۔

اس لیے ہمیں نعمت عطا کرنے والے کا شکر کرنا چاہیے، اس ملک کے امن وامان، سکون وچین، املاک اور اثاثہ جات کی حفاظت کرنی چاہیے، دینی اتحاد واتفاق کی حفاظت کرنی چاہیے، احساسِ حب الوطنی کو فروغ دینا چاہیے، شرعی بیعت کی حفاظت کرنی چاہیے، مخلصانہ طور پر مسلمانوں کی جماعت اور حکمران کا ساتھ دینا چاہیے۔ حکمرانوں کی بات سننی اور ماننی چاہیے اور ان کے لیے توفیق اور درست فیصلوں کی دعا کرنی چاہیے۔

یہ پڑھیں:      خطبہ حرم مدنی .. ماہِ محرم .. نیا سال اور اسلامی تعلیمات: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان﷾

اللہ ہمارے ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو ہر طرح کے شر اور برائی سے محفوظ فرمائے! یقینًا! وہ دعا سننے اور قبول کرنے والا ہے۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages