منحوس کون؟ 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

منحوس کون؟ 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، منحوس کون؟


منحوس کون؟!

تحریر: جناب مولانا محمد بلال ربانی (سیالکوٹی)

خوش بختی اور سیاہ بختی ہماری فطرت کا ایسا خاصا ہے جس سے کوئی بھی مبراء نہیں ہے خوش بختی اور سیاہ بختی درحقیقت انسانوں کے اعمال ہی کا نتیجہ ہوتا ہے لیکن انسانی دماغ چونکہ توہمات کی آماج گاہ ہے لہٰذا یہاں طرح طرح کی توہمات سر اٹھاتی ہیں یہیں سے انسان کو نحوست کا واہمہ لاحق ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ مختلف اشیاء،ایام اور مخلوقات کو اپنے لیے منحوس سمجھنے لگتا ہے اور لاتعداد رشتے،ایام اور مخلوقات ایسی ہیں جنہیں لوگ اپنے لیے خوش بختی اور سعادت مندی کی علامت سمجھتے ہیں اور یہ سراسر مختلف انسانی دماغوں کی اختراعات ہوتی ہیں جو رفتہ رفتہ معاشرے میں جڑ پکڑ لیتی ہیں اور پھر لوگ انہیں اپنے عقائد کی کتاب میں جگہ دے کر ایمان کی حد تک ان پر کاربند ہوجاتے ہیں۔ دین اسلام نہ صرف نظام زندگی اور دستور حیات کا نام ہے بلکہ یہ اک ایسا دین ہے جس پر کاتب تقدیر کی جانب سے ناصرف اس پر اظہار پسندیدگی کیا گیا ہے بلکہ اسے انسانوں کے لیے کامل اور مکمل دین قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے انسانوں کے لیے اپنی نعمت اور خصوصی مہربانی سے تعبیر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

یہ پڑھیں:      ماہِ صفر ... ایک تحقیقی جائزہ

تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے اور گلا گھٹنے والا جانور اور جسے چوٹ لگی ہو اور گرنے والا اور جسے سینگ لگا ہو اور جسے درندے نے کھایا ہو، مگر جو تم ذبح کرلو، اور جو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ساتھ قسمت معلوم کرو۔ یہ سراسر نافرمانی ہے۔ آج وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے دین سے مایوس ہوگئے، تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا، پھر جو شخص بھوک کی کسی صورت میں مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ کسی گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ (النساء: ۲۳)

وہ تمام اشیاء اور معمولات زندگی جن پر زمانہ جاہلیت کے لوگ عمل پیرا تھے وہ سبھی ان کی ذہنی اختراعات کا مظہر اور ان کی توہمات کا نتیجہ تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان تمام اعمال کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے حرام کرتے ہوئے توہمات کے تار عنکبوت سے بنے اس جال کو پارہ پارہ کیا تو ساتھ ہی تکمیل دین کا اعلان فرمایا تاکہ اب قیامت تک کے لوگ اسی دین حنیف سے رہنمائی پائیں لہٰذا حلقۂ اسلام میں داخلے کے بعد ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سعادت، شقاوت اور نحوست کو اسی زاویئے سے دیکھے جس زاوئیے سے دین حنیف‘ دین اسلام میں دکھایا گیا۔

یہ پڑھیں:      انسان کا مقصدِ حیات

نحوست کیا ہے؟

نون پر پیش کے ساتھ لفظ ’’نحوست‘‘ جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد بدنصیبی،بدبختی،منحوس ہونا، نامبارک ہونا ہے اور اس سے بد شگونی مراد لی جاتی ہے۔ (فیروز اللغات صفحہ نمبر: ۱۳۵۳)

جو منحوس قرار پا جائے اسے بد نصیب مشقت ومضرت یعنی نقصانات کا مارا ہوا اور خیر و برکت سے محروم تصور کیا جاتا ہے اور پھر لوگ اس کے سائے سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں آئندہ سطور میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ عامۃ الناس کے اذہان میں راسخ ہوجانے والے نحوست کے تاثرات کہاں تک درست ہیں اور دین الٰہی میں نحوست کا تصور کس حد تک موجود ہے؟؟

منحوس کون؟

قرآن عظیم الشان کی آیات بینات کا فہم رکھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ نحوست اور شقاوت کسی دن، فرد، مخلوق، وقت، جگہ،درخت، پہاڑ اور پتھر کی وجہ سے نہیں آتی انسانوں کے کرتوت ہی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ رحمت خداوندی سے الٰہ العالمین کی ناراضگی اختیار کرکے دور ہو کے راندۂ درگاہ قرار پاتے ہیں اور پھر خوش حال آبادیوں میں بربادیوں کے بسیرے ہوتے ہیں اور وہاں بسنے والے لوگ پورے عالم کے لیے نشان عبرت بن جاتے ہیں انہی حقائق کی نقاب کشائی ان الفاظ میں فرمائی ہے:

’’اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلاہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ (النحل: ۱۱۲)

 مذکورہ بالا سورۃ النحل کی آیت کریمہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نحوست کا تعلق انسانوں کے اعمال سے ہے جب لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں تو ان کی اس ناقدری کی وجہ سے ان پر نحوست کی سیاہ رات چھا جاتی ہے اور وہ اپنی اس بدبختی کا ذمہ دار کہیں اور تلاش کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور یوں قلبی سکون اور اپنے قیمتی سے قیمتی سرمائے تک سے محروم ہو جاتے ہیں اور پھر اُن پر بھوک اور خوف کے ڈیرے ہوتے ہیں آنے والا ہر نیا دن ایسے لوگوں کے لیے بدبختی اور نحوست کی وعید کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں:      ہجری تقویم ... اسلامی کیلنڈر کی خصوصیات

تاریخ انسانی کے ہر دور میں ظالم، فاسق اور فاجر طبقات کی یہ بد نصیبی رہی ہے کہ وہ اپنی شامت اعمال کو اوروں کی نحوست پر محمول کرتے آئے ہیں قرآن مجید کی سورۃ یٰسین میں ایک بستی والوں کا ذکر ہے جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے مبعوث کردہ انبیاء کرامo تشریف لائے دعوت توحید کے احیاء کا مقدس فریضہ انجام دینا شروع کیا تو بدبختی کا شکار قوم انبیاء کرامo کی شخصیات کو منحوس قرار دینے لگے جبکہ منحوس وہ خود تھے مگر بدترین مغالطے کا شکار ہوکر اپنی نحوست کا دوش انبیاء کرامo کو دینے لگے۔

’’انہوں نے کہا بیشک ہم نے تمہیں منحوس پایا ہے، یقینا اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ (یٰسین: ۱۸)

منکروں اور فسادیوں کی اس بات کے جواب میں انبیاء کرامo نے وہی جواب دیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر دور میں منکرین توحید اور قائلین نحوست کے لیے رکھا ہے نحوست کی وجہ انبیاء کرامo کی بعثت نہیں بلکہ ان کے اعمال تھے جن کے متعلق نشاندہی کرتے ہوئے انبیاء کرامo نے انہیں تلقین فرمائی

’’وہ کہنے لگے: تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہے۔ اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو کیا اسے تم نحوست سمجھتے ہو؟) بلکہ تم ہو ہی حد سے گزرے ہوئے لوگ۔‘‘ (یٰسین: ۱۹)

نحوست کا اسلامی تصور:

دین اسلام میں اگرچہ کسی دوسرے کی ذات سے منسوب نحوست کے عقیدے کا رد کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود نحوست کا نظریہ موجود ہے بنظر غائر اگر حالات واقعات کا تجزیہ کریں تو ہم آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جن سے نحوست کے خدشات بیان کیے گئے ہیں درحقیقت وہ بھی ہماری عملی کوتاہیوں کا ہی نتیجہ ہیں نا کہ اس میں کسی دوسرے کو نحوست کا دوش دیا جائے جیسا کہ عبداللہ بن عمرt سے مروی ہے:

[ذَکَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِیِّﷺ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ إِنْ کَانَ الشُّؤْمُ فِی شَیْئٍ فَفِی الدَّارِ وَالْمَرْأَۃِ وَالْفَرَسِ۔]

رسول کریمe کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپe نے فرمایا کہ ’’اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث نمبر: ۵۰۹۴)

یہ پڑھیں:      سود .. صدقات کی ضد (پہلی قسط)

شارح حدیث علامہ وحید الزماں خان صحیح البخاری کی شرح میں ان روایات سے اخذ ہونے والی حکمت کو بایں الفاظ بیان کرتے ہیں جن سے حقیقت کو قریب سے پرکھا جاسکتا ہے:

’’انسان کی نیک بختی یہ ہے کہ اس کی عورت اچھی ہو اورسواری اچھی ہو، گھر اچھا ہو اور بدبختی یہ ہے کہ جورو بری ہو، گھر براہو، سواری بری ہو۔ علماء نے کہا ہے عورت کی نحوست یہ ہے کہ بانجھ ہو، بداخلاق، زبان دراز ہو۔ گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اس پرجہاد نہ کیا جائے، شریر بد ذات ہو۔ گھر کی نحوست یہ ہے کہ آنگن تنگ ہو، ہمسائے برے ہوں لیکن نحوست کے معنی بد فالی کے نہیں ہیں جس کوعوام نحوست سمجھتے ہیں۔ یہ تو دوسری صحیح حدیث میں آچکا ہے کہ بدفالی لینا شرک ہے۔ مثلا باہر جاتے وقت کوئی کانا آدمی سامنے آگیا یا عورت یا بلی گزر گئی یا چھینک آئی تو یہ نہ سمجھنا کہ اب کام نہ ہوگا۔ یہ ایک جہالت کا خیال ہے جس کی دلیل عقل یا شرع سے بالکل نہیں ہے، اس طرح تاریخ یا دن یا وقت کی نحوست یہ سب باتیں محض لغو ہیں جو لوگ ان پر اعتقاد رکھتے ہیں وہ پکے جاہل اور ناتربیت یافتہ ہیں۔ (وحیدی) (صحیح بخاری حدیث نمبر: ۵۰۹۵)

نحوست شامت اعمال اور آزمائش بھی ہوسکتی ہے :

بعض اوقات تمام اعمال درست ہونے کے باوجود ہم نقصانات کا شکار ہوتے ہیں اور نقصان کا اندیشہ ہر آن ہماری زندگیوں کا لاحقہ ہے اس سے انکار ممکن نہیں مگر نقصان کے بعد اس کی نحوست کسی دوسرے پر ڈالنا یہ بھی قرین حقیقت نہیں ہے تجارت میں خسارہ، بیماری، تندرستی،اور گھروں میں اموات یہ سبھی اللہ کی طرف سے ہے کبھی تو یہ اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں اور کبھی یہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کی آزمائش‘ سورۃ النمل کی آیات میں صالح علیہ السلام کے تذکرے کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت سیدنا کو صالحu کی زبانی ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو یکایک وہ فریق بن کرجھگڑنے لگے۔ صالح نے کہا، میری قوم کے لوگو! تم لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی کرتے ہو؟ تم لوگ کیوں اللہ سے بخشش نہیں مانگتے؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ وہ کہنے لگے ہم نے تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو منحوس پایا ہے، صالح نے کہا، تمہاری نحوست کاسبب تو اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ آزمائش میں مبتلا کیے گئے ہو۔‘‘ (النمل: ۴۵ تا ۴۷)

یہ پڑھیں:      سود ... صدقات کی ضد (دوسری قسط)

نحوست اور بدبختی کا علاج تلاش کرنا چاہئے اور یہ اعلاج رضائے الٰہی کے حصول میں مضمر ہے اگر اس کا اعلاج تلاش نہ کرسکے تو عبرت کا نشان بنا دیئے جاؤ گے اور عبرت کے ایسے مناظر اس کائنات میں جابجا نظر سے گزرتے ہیں تاریخ انسانی میں قوم ثمود اور قوم عاد دو طاقت ور قومیں گزری ہیں جن کے طرز بود وباش پر آج کے دور میں جدت کا دعویدار انسان بھی محو حیرت ہوئے بنا نہیں رہ سکا لیکن جب انہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ڈر نہ رہا تب ان پر ایسی نحوست چھائی کہ آج تک اس کی مثال دنیا میں موجود نہیں قوم عاد کے تذکرے میں فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟ بے شک ہم نے ان پر ایک تند آندھی بھیجی، ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔‘‘ (القمر: ۱۸-۱۹)

بیماریاں اور حادثات کسی کی نحوست کی علامت نہیں ہوتیں :

گزشتہ سطور میں اسی بات کی وضاحت پیش کی گئی ہے کہ نحوست کسی مخلوق، کسی مہینے یا کسی دن وغیرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے اور انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اسی سے متعلق رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اُس سے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ آنحضرتe نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟‘‘ (صحیح بخاری حدیث نمبر: ۵۷۷۰)

یہ پڑھیں:      سود ... صدقات کی ضد (تیسری قسط)

نحوست پکڑنے سے کیسے بچا جائے؟

یہ سوال اہم ہے کہ لاشعوری طور پر کئی مرتبہ ایسے خیالات آتے ہیں اور ہم کسی نا کسی کو نحوست کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں یہ ایک بیماری ہے جس کا علاج ہمیں خود کرنا ہوگا اگر تو علاج کر لیا سکھی ہوجاؤ گے اگر علاج نہ کرسکے پھر پریشانیاں ہی آپ کا مقدر ہیں اس کا علاج عقیدہ توحید پر استقلال ہی میں مضمر ہے جو ایسا کرگیا وہ نجات پاگیا نا صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی بغیر حساب کے جنت مکیں ہوجائے گا جیسا کہ ارشادِ پیغمبر آخر الزمانe ہے:

’’ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور آنحضرتe نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام] نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں۔ جب رسول اللہe کو یہ بات پہنچی توآپ نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بد فالی نہیں کرتے، نہ منترسے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصنt نے عرض کی یا رسول اللہ (e)! کیا میںبھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا کہ ہاں۔ ایک دوسرے صاحب (سیدنا سعد بن عبادہt) نے کھڑے ہو کر عرض کی میں بھی ان میں سے ہوں؟ آنحضرتe نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث نمبر: ۵۷۵۲)

اس حدیث مبارکہ سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک مومن کو ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اس کے دماغ میں کبھی کسی کے متعلق نحوست کا شائبہ تک نہ گزرے اور جہاں تک ہو سکے اس سے بچنے کی کوشش کرے اگر اس سے نہیں بچیں گے اور اسی پر قائم رہے تو پھر سخت وعید بھی موجود ہے

سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مرفوعا مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے جادو کیا یا اس کے لئے جادو کیا گیا یا کہانت کی یااس  کے لئے کہانت کی گئی، یا بدشگونی لی یا اس کے لئے بد شگونی لی گئی۔‘‘ (سلسۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۱۰۱۸)

یہ پڑھیں:      کتاب وسنت ... سلفی منہج کا سرچشمہ

خلاصہ کلام :

یہ ہے کہ ہمیں حتی الامکان ایسے عقائد کی نفی کرنی چاہئے جو نحوست یا بد شگونی سے جڑے ہوں اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اسی کی رضامندی کے متلاشی رہنا چاہیے۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages