سیرت النبی ﷺ 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

سیرت النبی ﷺ 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، سیرت النبی، سیرت رسول، سیرت النبی ﷺ


سیرت النبی ﷺ

(تیسری قسط)     تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفار حلیم

تاریخِ ولادت ِ رسول اللہ:

آنحضرتe کی ولادت باسعادت 9 ربیع الاول22 اپریل 571عیسوی پیرکے دن ہوئی۔شیخ عبدالقادرجیلانیؒ نے آپe کی ولادت 10 رمضان المبارک لکھی ہے۔بعض مورخین کے نزدیک آپe   10محرم الحرام کو دنیا میں تشریف لائے۔ بعض نے حضورe کی ولادت رجب کے ماہ میں ثابت کی ہے۔ تاریخ ابنِ ہشام کے مطابق نبی مکرمﷺ 12ربیع الاول کو پیداہوئے۔ متقدمین میں سے امام حمیدیؒ، یونس بن زیدؒ، علامہ ابن تیمیہؒ، ابن کثیرؒ ،حافظ ابن حجرؒ، عقیلیؒ نے آپe کی ولادت سے متعلق 9ربیع الاول کی تاریخ کو معتبر قرار دیا ہے۔ دورِحاضرکے بڑے اردوسیرت نگاروں نے بھی اپنی کتب میں 9ربیع الاول کی رائے کو راجح قراردیا ہے۔ سیرۃ النبی، رحمت للعالمین، الرحیق المختوم، تاریخ اسلام (اکبر شاہ نجیب آبادی) اورسیرت الرسول میں آپe کی ولادت 9ربیع الاول کو بتائی گئ ہے۔

یہ پڑھیں:      سیرت النبی ﷺ (پہلی قسط)

علمائے نجوم و علمائے ہیئت (جن میں مصرکے مشہورماہرعلم نجوم محمودپاشافلکی بھی شامل ہیں) نے 9ربیع الاول کی تصدیق کی ہے کیونکہ 571 عیسوی میں قمری ماہ کے اعتبار سے 9ربیع الاول کو پیر کا دن آتا ہے۔12ربیع الاول اس سال جمعرات کا دن بنتا ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آپe پیرکے دن پیدا ہوئے۔

’’صحابہ] نے پوچھا اے اللہ کے رسول! آپ پیر کے دن کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ آپe نے فرمایا کہ میں پیر کے دن پیدا ہوا اورپیرکے دن مجھ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ ‘‘

لہٰذاسائنسی طور پر ثابت ہے کہ اس سال پیر کو 9ربیع الاول کی تاریخ تھی۔اگرآپ کی ولادت 12ربیع الاول کو مان لی جائے تو مسلم شریف کی مندرجہ بالا صحیح حدیث کا انکارہوجائے گا۔آج سے 45سال قبل تک ڈائریوں میں 12 ربیع الاول کو وفات النبیe لکھاجاتا تھا۔اب تبدیلی آگئی ہے کہ وفات کے دن کو ولادت کا دن بناکرتیسری عید بنادیا گیا ہے۔

9ربیع الاول کو آپe کی ولادت کے دلائل آپ ملاحظہ کرچکے ہیں۔عقلی طور پر بھی آپe کی ولادت9 ربیع الاول صحیح معلوم ہوتی ہے۔9کاہندسہ اپنی حالت نہیں بدلتا‘ 9کے ہندسہ کو زوال نہیں ہرصورت میں 9کا ناواں برقراررہتا ہے۔مثلاً

9 = 1 + 8, 9 x 2 = 18

9 = 2 + 7, 9 x 3 = 27

9 = 3 + 6, 9 x 4 = 36

یہ پڑھیں:      سیرت النبی ﷺ (دوسری قسط)

اسی طرح 9کومختلف اعداد سے ضرب دیتے جائیں اور جواب میں آنے والے ہندسوں کو آپس میں جمع کرتے جائیں۔ہرصورت میں حاصل جمع 9گا۔ اسی طرح 9کو تیس تک ضرب دیتے جائیں حاصل جمع 9ہی بنتا ہے۔ باقی کوئی ہندسہ اپنی اصلیت قائم نہیں رکھتا۔ہوسکتا ہے یہ اعجاز9 ربیع الاول کی وجہ سے ہو۔اللہ جل شانہ نے 9ربیع الاول کو اپنے محبوب کو پیدا کیا۔نہ 9کوزوال نہ مصطفیٰe کی نبوت کو زوال۔ آپe کی نبوت ورسالت قیامت تک قائم دائم اورچمکتی رہے گی۔

﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ۰۰۴۵﴾ (الاحزاب)

عیدمیلادالنبی کی شرعی حیثیت:

برصغیرمیں 12ربیع الاول کو عیدِمیلادالنبی منائی جاتی ہے۔ مستند تاریخی حوالوں کے مطابق 12ربیع الاول نبیe کی وفات کا دن ہے۔ 12ربیع الاول وفات النبی پر امام احمدرضاخان بریلوی سمیت اہلِ علم کا اتفاق ہے۔12ربیع الاول سے متعلق سیدہ فاطمہr اور سیدنا انسt کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں۔

’’سیدنا انسt فرماتے ہیںکہ ہم مدینہ والوں پر ایک دن ایسا آیا کہ اس جیسا دن دوبارہ ہم نے نہیں دیکھا۔ایک انتہائی خوشی کا دن کہ جس دن مدینہ کی ہرشے روشن ہوگئ اور ایک دن انتہائی قبیح دن جس دن مدینہ کی ہرشے تاریک ہوگئی۔خوشی کا دن جس دن رسول اللہ e مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے۔ آپe 8یا9 ربیع الاول کو قبا تشریف لائے لیکن یہ خوشی کا دن بھی ہرسال آپe اور صحابہ] نے نہیں منایا۔ 12ربیع الاول اقبح اظلم قبیح ترین دن، برا دن، پورے مدینہ پر اندھیرا چھا گیا جس نے آپe نے وفات پائی۔ 12ربیع الاول کا دن صحابہؓ پر قیامت بن کر ٹوٹا،کلیجے منہ کو آگئے،جہاں کوئی بیٹھا تھا بیٹھارہ گیا۔حضرت فاطمہ ؓآپ کی وفات پر مرثیہ کہتی ہیں:۔‘‘

ما ذا على من شمّ تربة أحمد

أن لا يشمّ مدى الزّمان غواليا

صبّت عليّ مصائب لو أنّها

صبّت على الأيّام صرن لياليا

قل للمغيّب تحت أطباق الثّرى

إن كنـت تسمع صرختي وندائيا

یہ پڑھیں:      معلم انسانیت اور حکمت تدریس

سیدہ فاطمہr کہتی ہیں کہ 12ربیع الاول تاریک دن،سیاہ دن، پھرکہتی ہیں آپe کی جدائی کا صدمہ اتنا بڑاصدمہ ہے کہ روشن دنوں کو سیاہی اورتاریکی میں بدل دے۔

شیخ القرآن مولانامحمدحسین شیخوپوریؒ نے اس مرثیہ کا ترجمہ یوں کیا:

جہڑے دکھ آئے میری جان اُتے

جے چاندنی دناں تے پین بابل

کالک دکھ تھیں کل ہنیر ہوجائے

رہوے نور نہ کدے چنین بابل

عیدمیلادالنبی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جناب رسول اللہe نے دعا کی تھی:

’’یااللہ!میری قبر کو عیدگاہ یا میلہ گاہ نہ بنانا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کیا اسلام میں کسی کی ولادت کا دن منانے یا وفات پر برسی کرنے کا سرے سے تصورہی نہیں۔ ولادت اوروحی کے نزول کے سبب پیر کے دن کا روزہ آپe نے رکھا تاکہ اللہ جل شانہ کا شکریہ ادا ہو سکے۔ نبی پاک e کی زندگی میں یہ دن بیسیوں دفعہ آیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں ولادتِ مصطفیٰe کا د ن دومرتبہ، سیدنا عمرفاروقt کی خلافت میں دس مرتبہ، سیدنا عثمانt کے دورِخلافت میں بارہ مرتبہ، سیدنا علیt کی خلافت میں چار مرتبہ، سیدنا حسنt کی خلافت میں ایک مرتبہ اور سیدنا امیر معاویہt کی خلافت میں بیس مرتبہ آیا مگرکسی نے یہ دن نہیں منایا۔بنوامیہ کے تقریباً 90سال اوربنوعباس کے دورِخلافت میں بھی یہ دن نہیں منایاگیا۔

عیدمیلادالنبیe کے قائلین حوالہ دیتے ہیں کہ آں حضرت e کے چچا ابولہب اورماموں اسود نے یہ دن منایا تھا۔اُن کا فعل حجت نہیں کیونکہ اُن کا یہ عمل حضورe کے اعلانِ نبوت سے پہلے یعنی پیدائش کے موقعہ سے متعلق تھا ،انہوں نے عرب روایات کے مطابق بھتیجے کی ولادت پر خوشی منائی تھی مگر حضورe نے ان کے اس کام کی توثیق نہیں کی۔نیز انہوں نے اسلام بھی قبول نہیں کیا بلکہ ابولہب سے متعلق قرآن مجید میں وعید آئی ۔ مشرک کااسلام کے آنے سے پہلے کا عمل مسلمانوں کے لیے کس طرح حجت ہوسکتا ہے؟

یہ پڑھیں:      خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق

نبی پاک e نے ارشادفرمایا:

’’سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد صحابہ کا زمانہ پھر اس کے بعد تابعین کا زمانہ اورپھر اس کے بعد جھوٹ ظاہرہوجائے گا۔‘‘ (الطبرانی)

آپe، صحابہ کرام]، تابعین عظام ان تین زمانوں میں جس کام کی بنیادنہیں ملے گی وہ دین نہیں ہوگا۔ جھوٹ ہے،دھوکہ ہے،بدعت ہے۔آپ e کا واضح ارشاد ہے:۔

’’جو ہمارے دین میں نیا کام نکالے وہ کام مردود ہے۔‘‘ (متفق علیہ)

نبی،صحابہ، تابعین، ائمہ اربعہ ،محدثین کے زمانہ سے میلاالنبی کا ثبوت نہیں ملتا۔

چاروں مذاہب(حنفی،مالکی،شافعی اورحنبلی) محفلِ میلاد سے ناواقف تھے۔شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی میلادسے متعلق فرماتے ہیں:

’’عیدمیلادبدعت ہے جو قرونِ ثلاثہ اور سلف صالحین سے منقول نہیں۔‘‘

تو معلوم ہوا کہ نبی پاکؐ کے چھ سو سال بعد تک عید میلاد النبی کا وجود نہیں تھا۔چھ سو چار ہجری میں یعنی آپؐ کے چھ سو سال بعد بابل شہر عراق میں مولوی عمر بن محمد نے عید میلاد النبی جاری کی اور اُس نے رسالہ [تنویر فی مولو السراج المنیر] لکھ کر شاہ اربل سے ایک ہزار اشرفی انعام لیا۔ابو سعید مظفر الدین عراق کے حکمران نے اِس کی تائید کی ۔یوں یہ عادت چل پڑی۔

سچ کہا کسی نے :

وهلْ أفسدَ الدينَ إلا الملوكُ

وَأحبــارُ سُـوءٍ وَرُهبانهـا

’’دین کو بادشاہوں اور علمائے سوء نے بگاڑا ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:      خلافتِ راشدہ .. ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے

ایسےبادشاہوں اور پیٹ کے پجاری ملاؤں کے بارے میں اللہ نے قرآن مجید میں واضح فرمایا ہے

’’جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول اللہe کا خلاف کرے اور مومنوں (صحابہ، تابعین) کی راہ سے انخراف کرکے کسی اور طریقے کی اتباع کرے ہم اسے اُسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ منہ کرتا ہے اور ہم اسے دوزخ میں ڈال دیں گے یقیناً وہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔‘‘

آپe ہر خطبہ میں یہ پڑھا کرتے تھے:

’’سب سے بہتر حدیث اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے اور سب سے بہتر طریقہ حضرت محمد e کا ہے اور بُرے کاموں سے سب سے بُرا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور دین میں ہر نئی بات گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔قتل، زنا ،چوری ،جوا ،سود،شراب پینا کبیرہ گناہ ہیںمگر ان سب کبائر سے بھی بڑا گناہ بدعت کو رواج دینا ہے۔بدعت کو نکالنے والا سمجھتا ہے کہ یہ کام نیکی کا ہے۔ یہی عقیدہ کفر ہے اور وہ شخص گمراہ ہو گیا اس لیے کہ حجۃ الوداع کے خطبہ میں احکام کی یہ آخری آیت نازل ہوئی تھی۔‘‘ (مسلم)

’’آج کے دن دین اسلام مکمل ہو گیا اس میں اب کسی طرح کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔‘‘ (المآئدۃ)

سچ فرمایا اللہ جل شانہ نے

’’اے ایمان والو! اکثر مولوی اور صوفی لوگوں کا مال جھوٹ بول کر کھاتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں ان مولویوں اور صوفیوں کو دردناک عذاب کی نوید سنا دیں۔‘‘ (التوبہ)

یہ پڑھیں:      صحابہ کرام] کے بارے اہل سنت کا موقف

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نبی پاکؐ کی سچی تابعداری کی توفیق عطا فرمائے اور بدعات سے بچائے۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages