فاتحہ کے شروع میں ’’بسم اللہ..‘‘ پڑھنا 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

فاتحہ کے شروع میں ’’بسم اللہ..‘‘ پڑھنا 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، سورۂ فاتحہ، سورہ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ، فاتحہ کے شروع میں ’’بسم اللہ..‘‘ پڑھنا


فاتحہ کے شروع میں ’’بسم اللہ..‘‘ پڑھنا

(پہلی قسط)         تحریر: جناب مولانا امیر شاکر

سورۂ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا فرض ہے کیونکہ بسم اللہ فاتحہ کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔ ہر نمازی جہری نماز میں سورۂ فاتحہ کے شروع میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ اونچی آواز میں پڑھے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

یہ پڑھیں:      توحید بیانیہ کے مختلف انداز

[اذا قرأتم ’الحمد للہ‘ فاقرئوا ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ انہا ام القرآن وام الکتاب والسبع المثانی و’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ احدی آیاتہا]

’’جب آپ ’سورۂ الحمد للہ‘ پڑھیں تو ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھا کریں کیونکہ یہ ام القرآن‘ ام الکتاب اور السبع المثانی ہے اور ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ اس کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔‘‘ (دارقطنی: ۱/۳۱۲‘ البیہقی: ۲/۴۵ وغیرہما باسناد صحیح)

[وعن ابن عباس انہ قرأ الفاتحۃ ثم قال: {وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ} قال ہی فاتحۃ الکتاب وبسم اللہ الرحمن الرحیم السابعۃ۔] (قال الحافظ فی الفتح: ۸/۲۸۷، رواہ الطبرانی باسناد حسن صحیح)

’’سیدنا ابن عباس w سے روایت ہے کہ آپe نے سورہ فاتحۂ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: ’’ہم نے آپ کو سات آیات بار بار دھرائی جانے والی عنایت فرمائی ہیں۔‘‘ اور فرمایا یہ فاتحۃ الکتاب یعنی کتاب شروع کرنے والی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ساتویں آیت ہے۔‘‘

[عن ام سلمۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا أن رسول اللہﷺ قرأ فی الصلاۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فعدہا آیۃ۔۔۔]

سیدہ ام سلمہ ام المؤمنینr سے روایت ہے کہ رسول اللہe نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم تلاوت فرمایا کرتے تھے اور بسملہ کو سورۂ فاتحہ کی آیت شمار کرتے تھے۔ (ابوداؤد فی السنن: ۴/۳۷‘ الدارقطنی: ۱/۳۰۷‘ والحاکم: ۲۱/۲۳۱‘ والیہقی: ۲/۴۴ وغیرہم باسناد صحیح)

[عن سیدنا ابن عباس وابی ہریرۃ وغیرہما ان النبی کان یجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم]

’’سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہw اور ان کے علاوہ کئی دوسرے صحابہ کرام] سے روایت ہے کہ رسول اللہe بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت فرماتے تھے۔‘‘ (مسند البزار: ۱/۲۵۵‘ مجمع الزوائد: ۲/۱۰۹‘ الدارقطنی: ۱/۳۰۳‘ ۳۰۴‘ البیہقی فی السنن الکبریٰ: ۲/۴۷‘ وفی السنن والآثار: ۱/۳۷۸‘ ورواہ الحاکم فی المستدرک: ۱/۲۳۷)

[لا صلوٰۃ لمن لم یقرأ بأم القرآن]

’’قرآن کریم کی ماں کو جس نے نہ پڑھا اس نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘

یہ پڑھیں:      منحوس کون؟!

جس رکعت میں آدمی سورۂ فاتحہ پوری نہیں پڑھے گا وہ رکعت درست نہیں۔ جس نماز میں جہری قراء ت (اونچی آواز سے تلاوت) کرنی ہو اس میں سورۂ توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں اونچی آواز سے بسملہ پڑھی جائے گی۔ اس لیے کہ جب قراء ت اونچی آواز میں کرنے کا حکم ہے تو وہ سب آیتوں کے لیے برابر ہے اس میں سے کسی آیت کو نکالنا درست نہیں۔

بخاری شریف صفحہ ۷۵۴ جلد دوم میں سیدنا فتادہt سے روایت ہے کہ

[سئل أنس بن مالک کیف کان قراء ۃ النبیﷺ؟ فقال: کانت مدا ثم قرأ بسم اللہ الرحمن الرحیم یمد ببسم اللہ ویمد بالرحمن ویمد بالرحیم۔]

یعنی ’’سیدنا انس بن مالکt سے رسول اللہe کی قراء ت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ حروف پر اکثر لمبی مد فرماتے تھے۔ پھر آپt نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی قراء ت فرمائی۔ بسم اللہ پر مد کی پھر الرحمن پر مد کی پھر الرحیم پر مد کی۔‘‘

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر سورت اسی آیت سے شروع ہوتی ہے خاص طور پر سیدہ ام سلمہ‘ سیدنا انس اور سیدنا ابن عباس] قراء ت کی کیفیت بغیر سنے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ یہ قراء ت نماز اور غیر نماز دونوں صورتوں کو شامل ہے۔

حافظ ابن عبدالبر الانصاف میں فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہr وغیرہم نے رسول اللہe کی قراء ت کی جو کیفیت بیان فرمائی ہے اس میں واضح دلیل ہے کہ یہ فاتحہ کے شروع کی آیت ہے اور آپe اس کو جہر (اونچی آواز) سے پڑھتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی کئی احادیث ہیں جن سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جہری نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی جہر سے پڑھی جائے۔

یہ پڑھیں:      اعمال ایسے کہ رب روٹھے

کثیر روایتوں کی وجہ سے علامہ جلال الدین سیوطیa اس حدیث کو متواتر حدیثوں میں شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں ان کی مستقل کتاب بنام [الازہار المتناثرۃ فی الاحادیث المتواترۃ] بہت مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۶ پر حدیث نمبر ۳۱ کے تحت وہ لکھتے ہیں‘ مختصر خلاصہ وترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

[الجہر بالبسملۃ اخرجہ الحاکم بروایۃ انس بن مالک وابن عباس وابی ہریرۃ وام سلمۃ]

دارقطنی بروایت سیدنا عثمانt وعلی وجابر بن عبداللہ والحاکم بن عمیر وابن عمر وعمار والنعمان بن بشیر وعائشہ اور بیہقی بروایت ابی بن کعب وسمرۃ بن جندب اور الخطیب کتابۃ البسملۃ بروایت بریدۃ وبشیر وبصیر بن معایۃ وحسین بن سرخطۃ ومجالد بن ثور اور الشافعی فی کتاب الام عن جماعۃ من المہاجرین والانصار اور ایسے ہی کثیر صحابہ کرام سے کثیر روایات ہیں۔

سنن نسائی کے صفحہ نمبر ۹۱-۹۲ میں نعیم المجمر سے روایت ہے کہ

[قال صلیت وراء ابی ہریرۃ فقرأ بسم اللہ الرحمن الرحیم ثم قرأ بأم القرآن حتی اذا بلغ غیر المغضوب علیہم ولا الضآلین فقال آمین۔ فقال الناس آمین۔ ویقول کلما سجد اللہ اکبر واذا قام من الجلوس فی الاثنتین قال اللہ اکبر واذا سلم قال والذی نفسی بیدہ أنی لأشبہکم صلاۃ برسول اللہ ﷺ۔]

میں نے سیدنا ابوہریرہt کے پیچھے نماز پڑھی تو آپt نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز سے پڑھی اور جب سورت پوری کر کے ولاالضآلین پر پہنچے تو آمین کہا اور پھر لوگوں نے بھی آمین کہا۔

اس سے ثابت ہوا کہ امام سے پہلے آمین کہنا غلط اور خطا ہے۔ امام کی آمین کی آواز سن کر آمین کہنا شروع کریں اور اپنی آواز کو دراز کریں یعنی مد کریں۔

یہ پڑھیں:      وراثت میں عورت کا حصہ

جب سجدہ کیا تو اللہ اکبر کہا اور دو رکعت کے بعد اُٹھے تو بھی اللہ اکبر کہا اور جب سلام کیا یعنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ قسم ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری نماز رسول اللہe کی نماز کے مشابہ ہے۔

نصب الرایۃ للزیلعی صفحہ ۳۳۰ میں ہے کہ

رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ والحاکم فی مستدرکہ وقال انہ علی شرط الشیخین والدارقطنی فی سننہ وقال حدیث صحیح ورواتہ کلہم ثبات والبیہقی فی سننہ وقال اسنادہ صحیح ولہ شواہد وقال فی الخلافیات رواتہ کلہم ثقات مجمع علی عدالتہم محتج بہم فی الصحیح۔

یعنی اس حدیث کو ابن خزیمہ اپنی صحیح (ج۱‘ ص ۲۵۱) میں اور ابن حبان اپنی صحیح (ج۳‘ ص ۲۱۵) میں اور حاکم مستدرک (ج۱‘ ص ۲۳۲) میں فرماتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کی شرط کے عین مطابق صحیح ہے اور ابن حبان اپنی صحیح (ج۳‘ ص ۲۱۵) میں صحیح قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح دار قطنی اپنی سنن میں اسے صحیح کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کے سب راوی ثقات ہیں اور بیہقی اپنی سنن میں کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اس حدیث کی شاہد بہت احادیث ہیں اور خلافیات میں کہتے ہیں کہ ان کے سب راوی ثقات ہیں۔ جن کے معتبر ہونے پر اجماع ہے اور محدثین اپنی کتب میں انہیں بطور حجت لاتے ہیں۔

حافظ ابن سید الناس شرح ترمذی (ج۱‘ ص ۱۸۷) میں اس کو صحیح ثابت کرتے ہیں اور ابوبکر خطیب بغدادی سے نقل کرتے ہیں کہ

[ثابت صحیح لا یتوجہ علیہ تعلیلا]

یعنی یہ روایت بغیر کسی تعلیل کے صحیح اور ثابت ہے۔‘‘

اسی طرح حافظ ابن عبدالبر الانصاف میں اسے نہ صرف صحیح ثابت کرتے ہیں علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی تخریج احادیث اصول البزدوی صفحہ ۱۷۷ علی ہامش اصول البزدوی میں اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں۔

یہ پڑھیں:      قرآن حکیم اور اطاعت رسول

یہ حدیث مطلب میں بالکل واضح اور ظاہر ہے کیونکہ جب سیدنا ابوہریرہt امامت کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے ہیں تبھی تو ناقل نعیم المجمر ان سے سننے کے بعد نقل کرتے ہیں پھر سیدنا ابوہریرہt کا صراحت سے واضح کرنا کہ میری نماز رسول اللہe کی نماز کے مشابہ ہے۔ یعنی یہی نماز نبوی ہے۔ اور امام ابن حبان اپنی صحیح (حوالہ مذکورہ) میں اس پر اس طرح عنوان رکھتے ہیں کہ

[ذکر ما یستحب للامام ان یجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم عند ابتداء قراء ۃ فاتحۃ الکتاب]

یعنی امام کے لیے ضروری ہے کہ سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی جہر (بلند آواز) سے پڑھے۔

امام نووی شرح المہذب (ج ۳/۲۴۴) میں فرماتے ہیں کہ

[قال ابن خزیمۃ فی مصنفہ فاما الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلاۃ فقد صح وثبت عن النبی ﷺ بالاخبار فی صحۃ سندہ واتصالہ فذکر ہذا الحدیث ثم قال فقد بان وثبت ان النبی ﷺ کان یجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم۔]

یعنی امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہe سے نماز میں جہر سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا صحیح اور متصل حدیث سے ثابت ہے۔ جس کے صحیح اور متصل ہونے میں حدیث کے علماء وعارفین اور ائمہ محدثین کو کوئی شک وشبہ نہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث نعیم المجمر والی سیدنا ابوہریرہt سے روایت کر کے فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہe نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر (اونچی آواز) سے پڑھا کرتے تھے۔ نیز اس روایت کے قوی ہونے کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ اس کے راوی سیدنا ابوہریرہt خود بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھا کرتے تھے۔

یہ پڑھیں:      صحبت صالح ترا صالح کند

حافظ ابن عبدالبر الانصاف میں فرماتے ہیں کہ

[ومما یشہد لصحۃ حدیث ابی ہلال عن نعیم المجمر عن ابی ہریرۃ ما رواہ سعید المقبری وصالح مولے الثوامۃ عن ابی ہریرۃ انہ کان یفتتح ببسم اللہ الرحمن الرحیم ہذا لفظ روایۃ صالح عن ابی ہریرۃ وذکر ابوبکر بن ابی شیبۃ قال حدثنا ہشیم انبانا ابومعشر عن سعید بن ابی سعید عن ابی ہریرۃ انہ کان یجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم۔] (مجموعۃ الرسائل المنبریۃ: ج۲، ص ۲۸۴)

یعنی سیدنا ابوہریرہt سے مختلف سندوں سے روایات مروی ہیں کہ وہ خود بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھا کرتے تھے۔

[عن العلاء بن عبدالرحمن عن أبیہ عن أبی ہریرۃ أن النبی ﷺ کان اذا افتتح الصلاۃ جہر بہا ببسم اللہ الرحمن الرحیم۔] (الانصاف لابن عبدالبر)

یعنی رسول اللہe نماز شروع کرتے ہوئے اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور حافظ موصوف فرماتے ہیں کہ یہ مرفوع حدیث نعیم المجمر والی روایت یعنی اس سے پہلی حدیث کی تائید میں ہے اور اس کا راوی اسماعیل بن ابی اویس اکیلا نہیں بلکہ دوسرے کئی راویوں نے اس کی متابعت اور موافقت بھی کی ہے اور سنن دار قطنی (ج۱‘ ص ۳۰۶) پر یہ حدیث ان لفظوں میں ہے:

[أن النبیﷺ کان اذا قرأ وہو یؤم الناس افتتح الصلاۃ ببسم اللہ الرحمن الرحیم]

یعنی ’’رسول اللہe جب لوگوں کی امامت فرماتے اور قراء ت کرتے تو نماز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع فرماتے۔‘‘

حافظ ابن سید الناس شرح ترمذی (ج۱‘ ص ۱۸۸) میں فرماتے ہیں کہ

[قال الدارقطنی رجالہ واسنادہ کلہم ثقات]

یعنی امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد اور راوی سب ثقات اور معتبر ہیں۔

یہ پڑھیں:      فضائل ماہِ رجب

صحیح مسلم (ج۱‘ ۱۷۰) مع النووی میں تین اسناد سے حدیث مروی ہے:

[قال أبوہریرۃ فی کل صلاۃ یقرأ فما أسمعنا رسول اللہﷺ أسمعناکم وما أخفے منا أخفیناہ منکم]

یعنی سیدنا ابوہریرہt فرماتے ہیں کہ ہر نماز میں قراء ت کی جاتی ہے پھر جس میں رسول اللہe نے قراء ت ہمیں سنائی ایسے ہی ہم آپ کو سناتے ہیں اور جس میں آپe ہم کو آہستہ قراء ت سمجھاتے ہم بھی آپ کو آہستہ قراء ت بتاتے ہیں۔‘‘

اس روایت سے ثابت ہوا کہ صحابی رسولe سیدنا ابوہریرہt کا جہر کرنا یا آہستہ پڑھنا رسول اللہe کے طریقہ کے مطابق تھا اور مندرجہ بالا احادیث میں سے ثابت ہے کہ سیدنا ابوہریرہt کا مذہب یہ تھا کہ وہ جہری نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھتے تھے۔ اسی طرح سیدنا ابوہریرہt کی دوسری صحیح حدیث ہے جس سے اس طرح ثابت ہے کہ صحیح بخاری (ج۱‘ ص ۱۰۳) میں ہے:

[حدثنا أبوہریرۃ قال: کان رسول اللہ ﷺ یسکت بین التکبیر وبین القراء ۃ اسکاتۃ قال أحسبہ قال ہنیئۃ فقلت بأبی أنت وأمی یا رسول اللہ! اسکاتک بین التکبیر وبین القراء ۃ ما تقول؟ قال: ’أقول اللہم باعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب، اللہم نقنی من الخطایا کما ینقے الثوب الأبیض من الدنس، اللہم اغسل خطایای بالماء والثلج والبرد‘۔]

یعنی سیدنا ابوہریرہt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe تکبیر تحریمہ اور قراء ت کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی‘ اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان‘ تکبیر تحریمہ اور قراء ت کے درمیان آپ کا خاموش رہنا؟ آپe نے فرمایا کہ ’’اس وقت میں یہ دعا پڑھتا ہوں اللہم باعد بینی… الخ۔‘‘ (صحیح مسلم مع النووی: ص ۲۱۹ میں بھی مروی ہے یعنی متفق علیہ حدیث ہے۔

یہ پڑھیں:      موسم سرما اور  مومن کے اعمال

اس سے ظاہر ہے کہ سیدنا ابوہریرہt کو رسول اللہe کی تکبیر اور قراء ت دونوں سننے میں آتیں اور درمیان میں دعا سننے میں نہ آتی تھی جو آپe آہستہ پڑھا کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اس بابت پوچھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ آپe بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھتے تھے نہ کہ آہستہ اور جو کچھ آپe آہستہ پڑھتے تھے وہ دعا تھی جو آپe نے بیان فرمائی۔

سیدنا ابوہریرہt کی حدیث مرفوع اور ان کا عمل پڑھنے والوں کے سامنے دوپہر کے سورج کی طرح روشن ہو چکا ہے اور نعیم المجمر والی حدیث کو بڑی تقویت مل گئی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر الانصاف میں لکھتے ہیں:

اس عبارت کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:

1       یہ کہ نعیم المجمر کی سیدنا ابوہریرہt سے حدیث بالکل محفوظ ہے۔ امام مصر لیث بن سعد یزید اسکندرانی سے اور وہ سعید بن ابی ہلال سے نقل کرتے ہیں اور یہ دونوں مصر کے فقیہ اور معتبر ترین راویوں میں سے ہیں اور سعید بن ابی ہلال نعیم المجمر سے روایت کرتے ہیں۔

2       عمرو بن ہشام البیرونی فرماتے ہیں کہ میں نے امام لیث بن سعد کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اور آمین کو بلند آواز سے پڑھتے تھے۔

3       امام ابویحییٰ زکریا الساجی امام لیث بن سعد کے واسطہ سے حدیث لائے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے خالد بن یزید نے سعید بن ابی ہلال سے حدیث پہنچائی اور وہ نعیم المجمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہt کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے سورۂ فاتحہ کے شروع میں جہر سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہe کی نماز کے مشابہ نماز پڑھائی ہے اور اس سند میں نماز کے صرف ایک کام بسم اللہ کے جہر کا ذکر ہے اور نماز کو رسول اللہe کی نماز کے مشابہ قرار دیا۔ گویا کہ یہ حدیث امام لیث بن سعد کے ہاں صحیح ہے اور وہ بھی اس سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا جہر کرنا سمجھتے ہیں۔ امام حاکم اپنی مستدرک (ج۱‘ ص ۲۳۲) میں اس حدیث کو بطور شاہد پیش کرتے ہیں۔

یہ پڑھیں:      نمازِ کسوف

خلاصہ یہ ہے کہ سیدنا ابوہریرہt کی متعدد احادیث اور ان کا اپنا عمل اور اس کو نقل کرنے والے مشہور ومعروف امام اللیث بن سعد جنہوں کو امام شافعی نے امام مالک سے بھی زیادہ افقہ اور حدیث کے زیادہ تابع فرمایا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے التہذیب: ج۸‘ ص ۴۶۳)

ان سب کا اس حدیث پر عمل مسئلے کو مضبوط اور قطعی بناتا ہے۔ سنن ترمذی (ج۱‘ ص ۳۳) میں ہے:

[عن ابن عباس قال کان النبیﷺ یفتتح صلاتہ ببسم اللہ الرحمن الرحیم]

یعنی ’’ابن عباسw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نماز میں شروعات بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتے تھے۔‘‘

حافظ ابن حجر تقریب التہذیب میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کے لیے شاہد موجود ہیں یعنی حدیث صحیح ہے۔ اس طرح امام بیہقی السنن الکبریٰ (ج۲‘ ص ۴۷) میں یہ روایت لا کر فرماتے ہیں کہ

[فلہ شواہد عن ابن عباس ذکرناہا فی الخلافیات]

یعنی اس حدیث کے لیے سیدنا ابن عباسw دوسرے شواہد بھی ہیں۔ جن کا ہم نے اپنی کتاب الخلافیات میں بھی ذکر کیا ہے۔

امام دارقطنی اپنی سنن (ج۱‘ ص ۳۰۳-۳۰۴) میں اس حدیث کے لیے شاہد ذکر کرتے ہیں کہ

یعنی میں نے امیر المؤمنین خلیفہ مہدی کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی انہوں نے اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ میں نے ان سے اس بارے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث میں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے دادا سے اور دادا نے ابن عباسw سے بیان کیا کہ رسول اللہe اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ حدیث ہم آپ سے روایت کریں؟ کہا: ہاں۔

یہ پڑھیں:      قرآن فہمی کے انسانی زندگی پر اثرات

یہ حدیث حافظ ابن حجرa نے التلخیص الحبیر (ج۱‘ ص ۷۳۵) میں لائے ہیں اور سکوت اختیار کیا۔ یعنی کوئی جرح نہیں کی۔ لہٰذا حنفی اصول کے مطابق یہ حدیث حافظ صاحب کے ہاں صحیح یا حسن کا درجہ رکھتی ہے۔ تفصیل کے لیے امام شوکانیa کی نیل الاوطار کا مطالعہ کریں۔ یہی حدیث مسند بزار میں ان لفظوں سے ہے کہ

[عن ابن عباس أن النبی ﷺ کان یجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلاۃ]

یعنی ’’سیدنا ابن عباسw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز سے پڑھا کرتے تھے۔‘‘

حافظ نور الدین ہیثمی مجمع الزوائد (ج۲‘ ص ۱۰۸-۱۰۹) میں یہ روایت لا کر فرماتے ہیں [رجالہ موثقون] یعنی اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور خود ابن عباسw کا اپنا عمل بھی جہر پر تھا۔

چنانچہ مصنف عبدالرزاق (ج۲‘ ص ۹۰) میں ہے کہ

یعنی عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباسw نماز کا افتتاح بسم اللہ الرحمن الرحیم سے فرماتے تھے۔‘‘

الانصاف لحافظ ابن عبدالبر میں ہے:

یعنی سیدنا ابن عباسw نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر (اونچی آواز) سے پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ پہلی چیز ہے جو شیطان عام لوگوں سے چھین کر لے گیا۔

یہ پڑھیں:      اعجاز القرآن

سیدنا ابن عباسw کا ذاتی عمل بھی اس حدیث کو بڑی تقویت دیتا ہے بلکہ ابن عباسw کے مشہور شاگرد سعید بن جبیر‘ عطاء بن ابی رباح‘ طاؤس‘ مجاہد‘ عمرو بن دینار اور عکرمہ یہ سب اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔ …… (جاری)


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages