انسانی زندگی پر گناہ کے مضر اثرات 20-21 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 09, 2020

انسانی زندگی پر گناہ کے مضر اثرات 20-21

ھفت روزہ اھل حدیث، انسانی زندگی، گناہ کے مضر اثرات، انسانی زندگی پر گناہ کے مضر اثرات


انسانی زندگی پر گناہ کے مضر اثرات

از افادات: علامہ ابن قیمa

اللہ کے نافرمان‘ فاجر اور بدکار لوگوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ نیکی اور بدی کے نتائج کو یکساں ثابت کر دیں۔ اچھے اور برے افراد میں تفریق اور تمیز ختم کر دیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ گنہگاروں اور نیکوکاروں کے بارے میں دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ نیک اور بد دونوں ایک جیسی زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے مرنے کے بعد بھی یکساں سلوک کے مستحق ٹھہریں گے۔ حالانکہ یہ غیر عقلی‘ غیر سائنسی دعویٰ محض ان کے بے بنیاد گمانوں پر مبنی ہے۔ کیونکہ اسلام کے مطابق مصیبت اور گناہوں کے انسانی جسم اور روح پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گناہوں کا برا اثر انسانی دل اور جسم پر یکساں پڑتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کثرت گناہ کے نتیجے میں ہونے والے دنیا اور آخرت میں ہمہ گیر نقصانات کا اندازہ اللہ رب العزت کی ذات کے سوا کوئی اور نہیں لگا سکتا۔ تا ہم یہاں قرآن وسنت کی فکر کی روشنی میں گناہ کے انسانی زندگی پر ہونے والے کچھ مضر اثرات بیان کیے جا رہے ہیں۔

یہ پڑھیں:      قرآن کریم کا صفاتی نام ’’التذکرۃ‘‘

 علم سے محرومی:

علم اللہ تعالیٰ کا نور اور اس کا دیا ہوا اجالا ہے جسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سلیم الطبع قلب اور با ضمیر روح میں اتارتا ہے لیکن گناہوں سے یہ نور بجھ جاتا ہے۔ امام شافعیa کا واقعہ ہے کہ جب انہوں نے امام مالک a کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا اور ان کے درس میں شریک ہوئے تو آپ ان کی ذہانت‘ ہوش مندی اور کمال سمجھ داری دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آپ نے امام شافعیa سے فرمایا: ’’میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل پر نور کی ضیاء بار کرنیں اتاری ہیں۔ دیکھنا! اس نور کے چراغ کو گناہوں کی آندھی سے بجھا نہ دینا۔‘‘

امام شافعیa کا ارشاد ہے کہ

’’میں نے (اپنے استاد) وکیعa سے اپنے خراب حافظے کی شکایت کی۔ انہوں نے نصیحت کی کہ معصیت اور گناہ کو چھوڑ دو۔ جان لو کہ علم اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے اور اللہ کا فضل وکرم کسی نافرمان کو نہیں دیا جاتا۔‘‘

 برکت میں کمی:

گناہوں کے ارتکاب کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ کثرت گناہ سے برکت مٹ جاتی ہے۔ روزی‘ علم ومعرفت‘ کردار اور اطاعت وبندگی کی برکتیں مٹتی جاتی ہیں۔ چنانچہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے‘ اس کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ اگر نیکی سے عمر بڑھتی ہے تو فسق وفجور اور گناہ سے اس کا الٹا اثر ہونا ناگزیر ہے۔ زندگی سے برکتیں ناپید ہو جاتی ہیں‘ اگرچہ علمائے کرام میں اس امر میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک زندگی کی برکتیں زائل ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے زندگی بے برکت اور بے کیف ہو کر رہ جاتی ہے۔ علماء کے دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ کثرت گناہ سے زندگی کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے اور روزی میں کمی آ جاتی ہے۔ اس کے برعکس پرہیزگاری اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے سے زمین وآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیزگار بن جاتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘ (الاعراف)

یہ پڑھیں:     اسلام ... عورت اور پردہ

 ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ:

ایک برائی سے دوسری برائی جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برائی کرنے کے بعد انسان اس کی گرفت سے نکلنے اور آزاد ہونے کے قابل نہیں ہو پاتا۔ ہر برائی کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی اس کے بعد دوسری برائی بھی کرتا ہے۔ جبکہ نیکی کی توفیق ملتی ہے۔ گویا جب کوئی بندہ نیک کام کرتا ہے تو اس نیکی سے متصل دوسری نیکی کہتی ہے کہ مجھ پر بھی عمل کرتا جا۔ اس طرح یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ بندہ نیک بن جاتا ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ برائیوں کے ساتھ بھی ہے۔ ایک برائی کو چھپانے کے لیے دوسری برائی کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس طرح برائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اطاعت اور معصیت کی اپنی پختہ ہیئت‘ صورت‘ کیفیت اور صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے جو نیکی کرتا ہے اگر وہ نیکی کرنا چھوڑ دے تو اس کے دل میں تنگی اور درشتی پیدا ہوتی ہے۔ اسے زمین کشادہ ہونے کے باوجود تنگ دکھائی دینے لگتی ہے اور دلی طور پر اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی حالت ماہی بے آب کی سی ہے جو اس وقت تک تڑپتی اور مضطرب رہتی ہے جب تک کہ لوٹ کر پھر پانی میں نہ چلی جائے۔ اس کے برخلاف اگر عادی مجرم (گنہگار) تائب ہو کر اطاعت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو دل میں عجیب سے گھٹن محسوس کرتا ہے۔ اس کا سینہ جلتا اور راستے بند نظر آتے ہیں اور یہ کیفیت اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک وہ لوٹ کر پھر برائی نہ کرے۔ یہی وجہ کہ اکثر فاسق وفاجر لوگ گناہ بے لذت کے طور پر برائیوں کا ارتکاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کے دل میں برائی کے لیے کوئی خاص داعیہ اور طلب بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود وہ برائی کرتے ہیں۔ اس لیے کسی عربی شاعر نے کہا ہے:

’’شراب کا ایک پیالہ تو میں نے لذت کے حصول کے لیے پیا (اس سے جو درد اٹھا) اس کے علاج کے لیے دوا کے طور پر دوسرا پیالہ پیا۔‘‘

یہ پڑھیں:      اہل حدیث ... ایک وصفی نام

 گناہوں کو حقیر سمجھنا:

کثرت گناہ سے انسان کے دل میں گناہ کا احساس باقی نہیں رہتا۔ گناہ اس کی نظر میں حقیر اور معمولی ہو جاتا ہے۔ یہ علامت حد درجہ خطرناک اور ہلاکت خیز ہے۔ کیونکہ بندے کی نظر میں گناہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو‘ اللہ کی نظر میں وہ بہت بڑا ہے۔ بخاری میں سیدنا عبداللہ بن مسعودt سے یہ روایت مذکور ہے:

’’مومن جب اپنے گناہوں پر نظر ڈالتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اونچے پہاڑ کی گہری کھائی میں کھڑا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں یہ پہاڑ اس کے سر پر نہ آگرے‘ اور فاسق وفاجر جب اپنے گناہوں پر نظر ڈالتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھی ہو اور یوں کرنے (ہاتھ ہلانے) سے مکھی اڑ کر چلی جاتی ہو۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن مسعودt نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’معمولی گناہوں سے بچتے رہو‘ کیونکہ یہ گناہ جب جمع ہو جاتے ہیں تو آدمی کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ جیسے ایک قوم نے کسی چٹیل میدان میں پڑاؤ ڈالا‘ اتنے میں کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ تب ایک شخص جا کر لکڑی لے آتا ہے‘ دوسرا جاتا ہے وہ بھی کہیں سے لکڑی لے آتا ہے‘ یہاں تک کہ ڈھیر ساری لکڑیاں جمع ہو جاتی ہیں‘ پھر اس کا الاؤ بنتا ہے اور لوگ اس کے اوپر کھانے کی چیزیں رکھ کر پکاتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد)

 وحشت اور گھبراہٹ کا احساس:

گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہمیشہ ان دیکھے خوف‘ پریشانی اور گھبراہٹ سے دو چار رہتا ہے۔ یہ ڈر اور گھبراہٹ اسے اپنے رب کے درمیان اتنی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی لذت اور راحت نہ اسے مزا دیتی ہے اور نہ کسی قسم کا آرام پہنچانے دیتی ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کے اندر ایمان کی رمق ہو‘ ورنہ جس کے دل پر مہر لگ جائے تو اسے کہاں احساس ہو گا؟ اس لیے دانا اور ہوش مند کے لیے پہلی فرصت میں یہی مناسب ہے کہ وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔

یہ پڑھیں:      اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

 دلوں پر مہر:

گناہوں کی کثرت سے گنہگار کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور اس کا شمار غافلوں میں ہو جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’نہیں‘ بلکہ بات یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کی بداعمالیوں کا زنگ چڑھ گیا۔‘‘ (المطففین)

حقیقت بھی یہی ہے کہ گناہوں کے سبب دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ گنہگار جتنا زیادہ گناہ کرتا ہے‘ زنگ بھی اتنا بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پورا دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد گناہ بکثرت کرنے سے گناہ فطرت ثانیہ بن جاتا ہے اور دل پر اللہ کی طرف سے مہر لگا دی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں دل کے گرد غلاف اور پردہ کھینچ دیا جاتا ہے۔ اس طرح جو ہدایت اور بصیرت اللہ کی طرف سے میسر ہوتی ہے وہ اس سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔

 اللہ کے سامنے ذلت:

گناہوں اور معصیت کے ارتکاب سے بندہ اپنے رب کے سامنے ذلیل ہو جاتا ہے اور اس کی نظروں میں گر جاتا ہے۔ حضرت حسن بصریa گنہگاروں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذلیل وخوار ہو کر اپنے رب کی نافرمانی کی اور اگر اپنی عزت نفس کا انہیں ذرا بھی احساس ہوتا تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں گناہوں سے محفوظ رکھتا۔ جب بندہ از خود ذلیل وخوار ہو گا تو بھلا کون اس کا احترام کرے گا؟

’’اور جسے اللہ ذلیل وخوار کر دے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں۔‘‘ (الحج)

یہ پڑھیں:      ولی اللہ کون؟!

 قوت ارادی میں کمزوری:

مسلسل گناہوں کے ارتکاب سے برائی کا ارادہ نمو پاتا ہے۔ پرہیزگاری پر مبنی زندگی گزارنے کا ارادہ آہستہ آہستہ مضمحل اور کمزور ہو جاتا ہے۔ یوں ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب توبہ کا خیال یکسر دل سے نکل جاتا ہے۔ پھر دل میں مایوسی‘ اداسی‘ سستی اور نیم مردنی کے گھر کر لینے کی وجہ سے بندگی کا حق ادا کرنے کا حوصلہ کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ ایسے حال میں توبہ واستغفار کی بھی جائے تو وہ بھی عموماً جھوٹ پر مبنی اور زبانی کلامی ہو گی۔ کیونکہ دل میں کثرت گناہ کی وجہ سے یہ خیال ہر وقت انگڑائیاں لے رہا ہوتا ہے کہ کوئی موقع ملے اور گناہ کر گزرے اور اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرے۔

رسول اللہؐ کی طرف سے لعنت:

مسلسل گناہوں کے ارتکاب اور اصرار کی وجہ سے انسان رسول اللہe کی نظر میں ملعون ہو جاتا ہے‘ اور امکان بڑھ جاتا ہے کہ روز قیامت وہ حضرت محمدe کی شفاعت سے بھی محروم رہ جائے گا کیونکہ حضرت محمدe نے گناہوں پر لعنت فرمائی ہے اور جو گناہ جتنا بڑا ہو گا اس کا مرتکب اس کے وبال میں گرفتار ہو گا۔ احادیث سے ہمیں یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ عورت جو جسم گودنے والی ہو‘ گدوانے والی ہو‘ بال جوڑنے والی ہو‘ جڑوانے والی ہو‘ بال اکھیڑنے والی ہو‘ دانتوں کو باریک کرنے والی ہو‘ ان سب پر لعنت ہے۔

اسی طرح آپe نے سود کھانے والے‘ کھلانے والے‘ اس کے لکھنے والے‘ اس کی گواہی دینے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ اسی طرح چور‘ شرابی‘ شراب کشید کرنے والے‘ نچوڑنے والے‘ اس کو بیچنے اور خریدنے والے پر لعنت بھیجی ہے اور جس کی طرف پہنچائی جا رہی ہو اس پر بھی لعنت ہے۔

اس طرح اپنے والدین پرجو کوئی لعنت بھیجے‘ اس کے اوپر بھی لعنت ہے۔ کسی جاندار ذی روح کو باندھ کر اذیت پہنچانے کی غرض سے نشانہ بازی کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی گئی ہے۔

مخنث (ہیجڑا) بننے والے مردوں اور مردوں کا روپ اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ دین میں نئی بات یا بدعت ایجاد کرنے والے پر لعنت ہے۔ جان داروں کی تصویریں‘ اغلام بازی (ہم جنسیت) اور بیوی سے دبر میں مجامعت کرنے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اندھے کو غلط راستے پر ڈالنے اور چوپائے سے جفتی کرنے والے پر لعنت ہے۔

قبروں کو سجدہ گاہ بنانے اور بیوی کو خاوند یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف ورغلانے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ رشوت لینے والے‘ دینے والے اور اس کے لین دین میں درمیانی کردار ادا کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی گئی ہے۔

یہ پڑھیں:      قحط اور قحط الرجال (رمزیہ)

رسول اللہؐ اور فرشتوں کی دعاؤں سے محرومی:

گناہوں کا مرتکب اللہ کے رسولe اور فرشتوں کی دعاؤں سے محروم ہو جاتا ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمe کو حکم دیا تھا کہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اس طرح فرشتے بھی ان مومنین کے حق میں دعائیں کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں‘ توبہ کرتے ہیں‘ کتاب وسنت کی پیروی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی پیروی کے علاوہ اور راستہ صراط مستقیم کے طور پر موجود نہیں۔

 غیرت اور حمیت سے محرومی:

گناہوں کے انسان کے حق میں مضر اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دل کے اندر غیرت اور حمیت کی حرارت بجھ جاتی ہے۔ جبکہ دل کی زندگی‘ سرگرمی اور پاکیزگی کے لیے غیرت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ غیرت کی تپش اور سوزش سے ہی دل کا زنگ اور میل کچیل اترتا ہے۔ اس لیے وہ زیادہ اعلیٰ واشرف ہوتے ہیں جو عام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ غیرت مند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ غیرت مند حضرت محمدe تھے۔ ان سے بھی زیادہ غیرت مند اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

یہ پڑھیں:      مثالی مسلمان کا تصور

صحیح حدیث میں ارشاد نبویe ہے:

’’کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ ہمیں ان سے زیادہ غیرت ہے اور اللہ ہم سے بھی زیادہ با غیرت ہے۔‘‘

صحیح حدیث میں یہ بھی منقول ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کسی کو غیرت نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اس نے ظاہر اور پوشیدہ تمام فحش کاریوں کو حرام قرار دے دیا ہے اور معافی اور معذرت جتنی اللہ کو پسند ہے کسی اور کو پسند نہیں۔ اس لیے اس نے پیغمبروں کو بھیجا جو بشارت دیتے ہیں‘ ڈراتے ہیں اور تعریف جتنی اللہ کو پسند ہے کسی اور کو پسند نہیں۔ اس لیے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے۔

اس حدیث میں اللہ کے رسولe نے اس غیرت کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو انسان کو قبائح سے کراہت اور نفرت دلاتی ہے۔ اس کے ساتھ معافی کی پسندیدگی کو یک جا کیا ہے جو کمال عدل‘ کمال رحمت اور کمال احسان کا مظہر ہے اور یہ سمجھایا گیا ہے کہ گناہوں سے جتنا زیادہ تعلق ہو گا اتنی ہی آدمی کے دل سے غیرت نکلتی جائے گی اور وہ خود اپنے حق میں‘ اپنے گھر والوں اور عام لوگوں کے حق میں بے حس اور بے غیرت ہوتا جائے گا۔ اس لیے جب غیرت کا مادہ مضمحل اور کمزور ہوتا ہے تو از خود کسی اور طرف سے اسے کوئی برائی محسوس نہیں ہوتی۔ جب کسی شخص کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو اس کی ہلاکت میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ اس لیے بیشتر گنہگار برائی کو برائی نہیں سمجھتے۔ فحش کاری اور دوسروں پر مظالم کو اچھا سمجھتے ہیں۔ وہ دوسروں کو اس کے اپنانے کے لیے رغبت دلاتے ہیں اور اس کا پرچار کرتے ہیں۔

 شرم وحیا سے محرومی:

گناہوں کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیاء کا مادہ ختم ہو جاتا ہے‘ حالانکہ دلوں کی زندگی کے لیے شرم وحیاء کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ حیاء ہر خیر اور بھلائی کا جزو ہے۔ اس لیے صحیح حدیث میں ارشاد نبویe ہے کہ

’’حیاء سراپا خیر ہے۔ لوگوں کو پہلی نبوتوں کی جو باتیں معلوم ہو سکیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تمہارے اندر شرم وحیاء نہیں‘ تو جو چاہو کرو۔‘‘

اس حدیث کی سیدنا ابوعبیدہt نے شرح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ

’’اس کا مطلب ہے جس کے اندر شرم وحیاء کا مادہ ہو وہ برائیوں سے شرم وحیاء کی وجہ سے بھی باز رہتا ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:      فطرت اور ختم نبوت

 خدا فراموشی‘ خود فراموشی:

کثرت معصیت اور گناہ کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ معصیت یہ چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو فراموش کر دے اور اسے شیطان کا آلہ کار اور شکار ہونے کے لیے تنہا چھوڑ دے۔ اس لیے آدمی کے لیے خدا فراموشی اور خود فراموشی سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔ ایسا تغافل جس میں وہ بارگاہ خداوندی سے یکسر اپنا حصہ بھی فراموش کر جائے اور جو کچھ اسے اللہ کی طرف سے عطا ہونے والا ہے اس سے محروم کر دیا جائے تو پھر اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے! گنہگار ان انمول نعمتوں کو غبن‘ دھوکا دہی اور معمولی مادی منفعت کے بدلے بیچ دیتا ہے۔ کسی عربی شاعر کا قول ہے:

من کل شیء اذا ضیعتہ عوض

وما من اللہ ان ضیعتہ عوض

’’گم کردہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی عوض ہو سکتا ہے لیکن اگر تم اللہ کو گم کر دو گے تو اس کے عوض دوسرا نہیں پاؤ گے۔‘‘

 نعمتوں کا چھن جانا:

گناہوں کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں گنہگاروں سے چھین لی جاتی ہیں۔ آدمی سزا اور انتقام کی زد میں آجاتا ہے اور پھر اس فرد یا قوم کو عذاب سے دو چار کر کے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ شوریٰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے‘ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے اور بہت سی غلطیوں سے وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے۔‘‘

یہ اس لیے کہ جو نعمت وہ کسی قوم کو عطا کرتا ہے اسے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے:

’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘ (الرعد)

’’جب تو کسی نعمت میں ہو تو اس کی رعایت کر‘ اس لیے کہ گناہ نعمتوں کو زائل کر دیتا ہے۔‘‘

’’بندوں کے پروردگار کی اطاعت کر کے اپنے گناہوں کو مٹا‘ کیونکہ پروردگار بہت جلد بدلہ دینے والا ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:      اہل حدیث اور اہل تقلید

 انسانی بزرگی میں فرق:

معصیت کا ارتکاب کر لینے کے بعد گنہگار سے تعریف وتوصیف کے سب نام چھین لیے جاتے ہیں اور اس پر بدنامی اور ظلم وزیادتی کا لیبل چڑھ جاتا ہے۔ اس کے نام سے صاحب ایمان‘ پارسا‘ نیکوکار‘ پرہیزگار‘ فرمانبردار‘ خاصہ خدا‘ عابد وزاہد‘ صالح‘ توبہ کرنے والا‘ بار بار اللہ کی طرف متوجہ ہونے والا‘ راضی برضا اور پاک باز جیسے القاب نکل جاتے ہیں۔ اس کے بجائے فاسق وفاجر‘ سرکش‘ بدکار‘ فسادی‘ خبیث‘ راندہ درگاہ‘ زناکار‘ چور‘ جھوٹا‘ قاتل‘ خائن‘ اغلام بازی کرنے والا‘ قطع رحمی کرنے اور دھوکا دینے والے کے القاب اس کو دے دیئے جاتے ہیں اور ظاہر ہے یہ سب گناہ کے نام ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری عادت ہے۔‘‘ (الحجرات)

اس میں شک نہیں کہ گناہوں کے ان ناموں کو اپنانے سے مالک حقیقی کا غضب بھڑک اٹھتا ہے جس کے نتیجے میں جہنم کا گڑھا گنہگاروں کا ٹھکانا ہوتا ہے۔ جہاں ذلت ورسوائی ان کا مقدر بنتی ہے۔

 حکمت اور دانش سے محرومی:

گناہ اور معصیت کی ایک سزا یہ بھی ملتی ہے کہ اس کی وجہ سے فرد صحیح حکمت اور حقیقی دانش سے محروم ہو جاتا ہے اور اپنی بنیادی ضرورتوں میں اور ترجیحات میں توازن کو کھو دیتا ہے حالانکہ دنیا اور آخرت میں کس چیز سے نفع ہو سکتا ہے اور کس چیز سے نقصان‘ اس سے واقفیت کی ضرورت ہر کسی کو ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں سب سے زیادہ ہوش مند وہ ہوتا ہے جسے اپنے نفس اور قوت ارادی پر کامل کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ مفید کاموں سے منسلک اور مضر کاموں سے بچتا ہے۔ اگرچہ بلند حوصلگی‘ مقام ہمت اور مرتبے کے لحاظ سے مختلف لوگوں میں فرق موجود ہوتا ہے۔ لیکن ہوش مند اور ماہر اسے ہی سمجھا جاتا ہے جو نیک بختی  اور بد بختی کی درمیانی صورتوں کو سمجھتا ہے اور ان کے اثرات سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں:      تقاریب بخاری شریف کی تاریخی حیثیت

ایسی حالت میں اگر معصیت کا ارتکاب ہو تو انسان کی طرف سے اللہ کی نعمت کی بے قدری اور خیانت سمجھی جائے گی۔ چنانچہ گناہوں کی بہتات سے انسان کمال‘ عمل اور آگاہی کے عمل سے روک دیا جاتا ہے جس میں دنیا اور آخرت کا مفاد مضمر ہے۔ اس حالت میں‘ اس کے بعد اس کا دل‘ اس کی خواہشات‘ اس کے اعضاء وجوارح سب اس کو دھوکا دیتے ہیں اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کی مثال اس شخص کی سی ہوتی ہے جو شمشیر بکف ہو لیکن اس کی تلوار کی دھار کند ہو یا نیام میں بری طرح پھنس کر رہ گئی ہو۔ جب بھی اس کو نکالنے کی کوشش کرتا ہو تو اس میں الجھ کر رہ جاتا ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں دشمن بڑھ کر اس پر حملہ کر دے گا اور اس کا کام تمام کر دے گا۔ اس طرح دل پر جب گناہوں کی کثرت کی وجہ سے داغ ہوں تو دل بھی زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ 

اس حال میں اگر دشمن اس پر حملہ کر دے تو اس کا منہ توڑ جواب دینے کی اس کے اندر سکت نہیں رہتی۔ اس سے زیادہ بدترین تلخ اور بھیانک حقیقت یہ ہے کہ جب اس کا آخری وقت آتا ہے اور مالک حقیقی سے ملاقات ناگزیر ہو جاتی ہے تو اس گھڑی‘ اس کی زبان اور دل ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور مرتے ہوئے کلمہ شہادت نصیب نہیں ہوتا۔ چنانچہ بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑنے والے بہتوں کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ آس پاس بیٹھنے والوں نے جب انہیں کلمے کی تلقین کرنا چاہی اور لا الٰہ الا اللہ پڑھانا چاہا تو وہ کلمہ نہیں پڑھ پاتے۔ پس کوئی شخص خاتمہ بالخیر کی آرزو نہیں کر سکتا جس کا دل پراگندہ ہو‘ جو اللہ سے کوسوں دور جا پڑا ہو اور اس کی یاد سے غافل ہو‘ خواہشات نفس کا غلام ہو‘ شہوت کے ہاتھوں بے بس ہو۔ اللہ کی یاد آئے تو اس کی زبان کانٹا بن جائے اور عبادت اور بندگی کا وقت آئے تو ہاتھ پاؤں ٹھٹھر کر اس کے قابو میں نہ رہیں۔

یہ پڑھیں:      ماہِ رجب ... مروجہ بدعات

پس گناہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس سے بچنا اور دور رہنا سب کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ گناہوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا ہی تقویٰ ہے۔ نیز گناہ اور معصیت حد درجہ مضر چیز ہے۔ البتہ مضر اور برے اثرات کے درجے الگ الگ ہیں۔ یوں بھی دنیا اور آخرت میں پھیلی ہوئی ہر برائی اور بگاڑ کی تہہ میں گناہ اور معصیت کے برے اثرات ہی کارفرما ہوتے ہیں۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages