تحفظ شعائر اسلام سیمینار 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

تحفظ شعائر اسلام سیمینار 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,تحفظ شعائر اسلام,جماعتی,تحفظ شعائر اسلام سیمینار,
 

تحفظ شعائر اسلام سیمینار

’’تحفظ ختم نبوت وناموس صحابہؓ‘‘ زیر انتظام اہل حدیث یوتھ فورس پنجاب  کے پروگرامز کے سلسلہ کی ایک کڑی

رپورٹ: حافظ عمر سعید (سیکرٹری نشر واشاعت پنجاب)

اہل حدیث یوتھ فورس پنجاب کی قیادت نے ۲۷ ستمبر کو مرکزی دفتر ۱۰۶ راوی روڈ میں تحفظ شعائراسلام سیمینار کے انعقادکا اعلان کیا ۔ اور ساتھ ہی پنجاب بھر کے اضلاع میں رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔خوبصورت جاذب نظر اشتہارات شائع کیے ۔ جس سے پروگرام کے حسن میں مزید اضافہ ہوا ۔گفتگوکرنے اور خطاب کیلئے ملک کے نامور محققین مؤلفین اور دانشوروں کے انتخاب نے کارکنوں کے جذبہ کو دو چند کردیا۔ کارکنوں کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے اضلاع ڈویزن میں ذاتی رابطوں کے ذریعے مقامی کارکنوں اور شہری وضلعی قیادت کو بیدارکیا ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کی مرکزی قیادت نے سیمینار کی کامیابی کے لئے نوجوانوں سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ جس کی وجہ سے بحمد اللہ یہ کنونشن ہر اعتبار سے مثالی رہا۔

یہ پڑھیں:        جاگ اُٹھے ہیں دیوانے

انتظامات:

دفتر ۱۰۶ راوی روڈ میں صبح ہی سے تحفظ شعائر اسلام سیمینار کیلئے قافلوں کی آمد شروع ہوگئی تو ہال تنگی داماں کی شکایت کررہاتھا ۔ لوگ گیلریوں میں بٹھا دیے گئے ۔بعد ازاں مرکزی مسجد کا ہال اور صحن بھی لوگوں سے بھر گیا۔

تلاوت کلام مجید سے سیمینار کا آغاز ہوا جس کی سعادت قاری ابو سفیان سلفی کے حصے آئی اور حمدو نعت حافظ یوسف راشد صاحب ناظم تبلیغ اہلحدیث یوتھ فورس پنجاب نے پڑہی ۔

بتدائی تعارفی گفتگو کے بعد جناب عبدالغفار مکی نے نوجوانوں کی آواز بنتے ہوئے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان میں رہتے ہوئے ہر طاغوتی طاقت اور لبرل وملحد کو اپنے حقوق میں آزادی اور آواز بلند کرنے کی اجازت ہے مگر مسلمانوں کے جہاں جذبات مجروح اور شعائر اسلامیہ کی توہین ہورہی ہے وہاں مسلمانوں کی آواز کو بھی دبانے کی ہرممکنہ کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر یہی سلسلہ جارہی رہامسلمانوںکے جذبات مجروح ہوتے رہے تو حالات کا تعین مشکل ہوجائے گا ۔

حافظ سیف اللہ کمیرپوری:

انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیقt کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آیات بینات کے علاوہ حضورu جب دنیاسے رخصت ہوئے تو حضرت صدیق اکبرt سے راضی گئے اس سے بڑھ کر ان کی شان اور کیا ہوسکتی ہے ۔

مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری:

مولانا کا افتتاحی خطاب تھا ۔ انہوں نے رافضیت کے عقائد باطلہ کو تفصیل سے بیان کیا کہ رافضیت کی بنیاد جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر ہے ۔ ان کے عقائد کی اساس دس چیزوں پر ہے۔ تاریخی طور پر یہ مشہور واقعہ کہ سیدنا علی بن ابی طالبt مولود کعبہ ہیں ثابت نہیں ہے۔

یہ پڑھیں:        ناموس رسالت اور ناموس صحابہؓ پر حملے نا قابل برداشت ہیں

ڈاکٹر حافظ سعید احمد چنیوٹی:

انہوں نے سیمینار کے مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ حالات حاضرہ میں ایسے پروگراموں سے مقصود صرف فضائل صحابہ ہی نہیں بلکہ دشمنان صحابہ کے پروپیگنڈہ کا جواب اور تاریخی شبہات کا ازالہ مقصود ہے ۔ نوجوانوں کو علم کے ہتھیار سے مسلح کرنا ہے تاکہ وہ ان گھمبیرحالات میں کا مقابلہ کرسکیں۔

مولانا مبشر احمد ربانی:

مفتی صاحب نے قرآن مجید کی درج ذیل آیت تلاوت کی:

﴿وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّةً﴾

اور بتایا کہ فتنہ کا آغاز یہودیت کی فکر سے ہوا انہوں نے امام سیوطی ؒ کی کتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ کے حوالہ سے ثابت کیا کہ یہودیوں نے باقاعدہ منصوبہ کے ساتھ صحابہ کرام کو گالی دینے کی فکر کی بنیاد رکھی جس سے اسلام کو نقصان پہنچا۔ صحابہ کرام] کو گالی دینا اور سیدنا علیt کی محبت میں غلو ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو سیدنا علی کو خدااور الٰہ کہتے تھے سیدنا علیt نے انہیں توبہ کی مہلت دی اور پھر انہیں زندہ جلادیا۔۱۲۱ ھ میں عبد اللہ سبا یہودی نے باطل قوتوں کو جمع کرکے اسلام کے خلاف مضبوط محاذ قائم کردیا جس کی فکر آج تک زندہ ہے ۔ آج کا اجتماع دفاع صحابہ] کے مشن کے سلسلہ میں ہے ۔یہ اجتماع نوجوانوں کو اس فتنہ سے آگاہ کرنے کے لیئے منعقد ہوا۔ پہلی نشست کا یہ آخری خطاب تھا۔

یہ پڑھیں:        اجلاس کابینہ وعاملہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پنجاب

مولانا یونس آزاد ناظم اعلیٰ پنجاب:

انہوں نے حالات حاضرہ پرگفتگوکرتے ہوئے اس سیمینار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ازاں بعد

ڈاکٹر محمد حماد لکھوی:

انہوں نے ’’الحاد کیا ہے؟‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ خطاب کا آغاز آیت قرآنی:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیٓ اٰیٰتِنَا …﴾

سے کیا اور بتایا کہ بنیادی طور پر انکار وجود باری تعالیٰ کو الحاد کہتے ہیں ۔ روشن خیال لوگ ہر اس مذہب کے خلاف ہیں جو وجود باری تعالیٰ کو تسلیم کرنے والاہے ۔ ڈارون نے وجود باری تعالیٰ کا انکار صرف اس لئے کیا کہ عیسائیت خدا کو مانتی ہے۔

ماڈرن یا جدید دور ۱۸۰۱ء سے شروع ہوتاہے ۔ ۱۹ویں صدی ارتقائی حیات کا دورہے۔ ۲۰ویں صدی سائنسی منطقی اثباتیت اور لاجک کا دور ہے ۔ جو الحا د آغاز میں انکار پر مبنی تھا اب اسے عقلیت کی تائید حاصل ہوگئی۔ سائنسی دور پہلے مشاہدہ پھر مفروضہ ،کلیہ اور پھر علم بن گیا ۔تنگی وقت کی وجہ سے اس قیمتی خطاب کو جلد سمیٹنا پڑا۔

مولانارانا شفیق پسروریd نے نظم جماعت کے حوالہ سے نوجوانوں کو جماعت کے آرگن سے وابستگی اور سوشل میڈیا کو جماعت کے نظم کے تحت چلانے پر زور دیا اسی طرح فرمایاکہ نظم کا تعلق علی وجہ البصیرت ہو۔ اہلحدیث یوتھ فورس مرکزی جمعیت اہل حدیث کی بازوے شمشیر زن ہے۔

اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے جنرل سیکرٹری حافظ عامر صدیقیd نے بہت قیمتی افکارپر مبنی تجاویز پیش کیں جن کی بنیاد پر جماعتیں ترقی کرتی ہیں اور قلیل وقت میں زیادہ مقاصد حاصل کرسکتی ہیں۔ مزید برآںعالمی طور پر انسانیت اور خصوصامسلمانوں کو سامراجیت کے شکنجے میں جکڑا جارہاہے اور ہمارے افکار، نظریات کن قوانین میں جکڑے جاچکے ہیں جس کی حالیہ مثال FATF کی ہے جو مسلمانوں خصوصا اہل پاکستان پر کسی ایٹم بم سے کم نہیں ۔ ان کا خطاب پر مغز اور جاندار تھا۔

یہ پڑھیں:        خیبر پختونخواہ ... صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس

مولانا نعیم بٹd نے بتایا: تحفظ کا مفہوم: زور بازو،قوت سے بیداری سے اور ہمت سے اپنے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔ اور ایسی کو ئی تحریک نہیں گزری جس میں نوجوان قوت کا خون شامل نہ ہو اور انہیں تاریخی واقعات کے ذریعے ثابت کیا ۔

اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفور راشدd ناظم ذیلی تنظیمات مرکزیہ نے اپنے منصب کے حوالہ سے مختصر جامع خطاب میں بتایاکہ اہل حدیث یوتھ فورس کا آغاز مسجد چینیانوالی کے حجرے سے ہوا ۔پہلے صدر محمد خاں نجیب اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صاحب بنے ۔تین ماہ بعد یہ عہدہ قاضی عبد القدیر خاموش کو تفویض کردیا۔

قائد یوتھ فورس حافظ فیصل افضل شیخ صدر اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کا خطاب بامقصد رہا انہوں نے تاریخی جملوں میں یوتھ فورس کا منشور بیان فرمایا:

ہم شعائر دینیہ آثار سلفیہ اور افکار اسلام کے محافظ ہیں اور رہیں گے ۔ ہماری جدوجہد کا مرکزی نقطہ یہی ہے اور یہی ہماری شناخت اور پہچان ہے ۔

یہ پڑھیں:        ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم﷾ کا دورۂ ایبٹ آباد

قائد ملت سلفیہ پروفیسرساجد میر حفظہ اللہ کا خطاب:

انہوں نے دفاع صحابہ] کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

صحابہ کی محبت ہمارایمان ہے جس کے بغیر ایمان ناقص نہیں بلکہ ہوتاہی نہیں ۔ اور دورحاضر میں یہ فتنہ جن لوگوں نے شروع کیا ہے انہیں قرار واقعی سزا دے کر باعث عبرت بنانا چاہیے اور اس کے لئے حکومت کو مؤثر قانون سازی کرنا ہوگی جس پر عملد رآمد بھی ہو ۔ امیر محترم نے کہا کہ سیمینار کا عنوان تین لفظوں سے مرکب ہے ۔ تحفظ ، شعائر ، اسلام ۔ انہوں نے ہر لفظ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : دین کی قابل تحفظ اور باعث حرمت اشیاء کی ناموس کے لئے اپنے آپ کو سپرد کردینا، اور تن من قربان کرنا ہی ہمارا مقصود ہے۔

اور یہی عنوان سیمینار کا خلاصہ ہے ۔

سیمینار سے مجاہد انتھک امیرمرکزیہ پنجاب مولانا عبد الرشید حجازی نے خطاب فرماتے ہوئے عظمت صحابہ] کے عنوان سے نوجوانوں کا خون گرمایا۔

اور آخری خطاب علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا تھا انہوں نے پرجوش انداز میں خطاب کا آغاز کیا۔ بکھرے ہوئے لوگ دوبارہ اکھٹے ہوئے ۔اور چند منٹوں میں عظمت صحابہ] کے موروثی مضمون کو خوب صورت انداز میں بیان کرکے نوجوانوں میں جذبہ ایمانی کو زندہ کردیا۔ اور حکومت وقت کو بھی اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر حکومت نے بروقت اس کا تدارک نہ کیا تو حالات خطرناک سمت اختیار کرسکتے ہیں ۔

سیمینار ہر اعتبار سے مثالی تھا: نظم و نسق، حاضری، خطابات، شان وشوکت، اور حصول مقاصد کے اعتبار سے ضیافت اور اس کے طریق کا رسے، خصوصا سیمینار کا موضوع ، جامع ،سدا بہار اور مثالی تھا ۔ شعائر اسلام کے تحفظ کے عنوان میں ، دفاع صحابہ ، تحفظ ختم نبوت ، دفاع حرمین کے تمام موضوعات شامل ہیں ۔

یہ پڑھیں:        سینئر نائب ناظم اعلیٰ کا دورۂ ڈسکہ

حافظ سلمان اعظم صدر اہلحدیث یوتھ فورس پنجاب نے خطاب کرنے کے بجائے خطاب کرنے والوں کی ضیافت اور آداب واکرام میں کوتاہی نہیں ہونے دی اور مکمل توجہ پروگرام کو منظم کرنے پردی ۔

اس طرح سیکرٹری جنرل حافظ قسیم صاحب نے سٹیج، سامعین کارکنوں کے قافلوں کی تکون کو منظم مربوط اور فعال بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہایت فعالیت کے ساتھ ہر پوائنٹ پر نظر رکھی تاکہ کوتاہی نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ اس سیمینار کو ہم سب کے لیے توشہ آخرت بنائے اور ثمرات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages