پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,خطبات حرم,حرم مکی,پرندوں کی تخلیق,چند نشانیاں,پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں

پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں

امام الحرم المکی الشیخ ڈاکٹر فیصل جمیل الغزاوی d

ترجمہ: جناب عاطف الیاس                            نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

مخلوقاتِ الٰہی میں غور وفکر کرنا دل کی ایک عظیم عبادت ہے اور اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ نے کائنات میں بہت سی نشانیاں رکھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے وہ اکیلا ہی لائق عبادت ہے۔ ساری ہی مخلوقات اس کی راہ دکھاتی ہیں، اس کی پروردگاری پر دلالت کرتی ہیں۔ ساری کائنات اس کی وحدانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مدنی ... مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان﷾

اللہ نے بندوں کو ترغیب دلائی ہے کہ وہ زمین وآسمان میں نظر دوڑائیں، دیکھیں، سوچیں، سبق سیکھیں اور غور وفکر کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اِن سے کہو زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہات آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں۔‘‘ (یونس: ۱۰۱)

اللہ کے بندو! پرندے،  اللہ کی ایسی حیرت انگیز اور بے مثال مخلوق ہے جس کے بارے میں غور وفکر انتہائی اہم اور وقت کا تقاضا ہے۔ وہ عجیب مخلوق جسے اللہ نے ایسی خصوصیات عطا فرمائی ہیں جو اسے بقیہ مخلوقات سے ممتاز کر دیتی ہیں۔ یہ خصوصیات واضح طور پر خالق کی کمال درجے کی قدرت اور بے مثال قوت تخلیق پر دلالت کرتی ہیں۔ دوسری مخلوقات کی طرح پرندے بھی مختلف قسموں اور شکلوں کے ہیں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

’’زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔‘‘ (الانعام: ۳۸)

تو پرندے بھی کئی قسموں اور متعدد شکلوں کے ہیں۔ اولادِ آدم کی طرح ان کی تخلیق میں بھی فرق ہے، رزق بھی الگ الگ ہیں، زندگی کی مدت بھی مختلف ہے، مگر سب مرتے اور پھر اٹھائے بھی جائیں گے۔ جو دوسرے پر زیادتی کرتا ہے، یا ظلم کرتا ہے، تو روزِ قیامت اس کا بھی حساب لیا جائے گا، مظلوم کو اس کا حق ملے گا۔ اگرچہ ان کی سزائیں شرعی بنیادوں پر مقرر نہیں ہیں، کیونکہ ان کی کوئی شریعت ہی نہیں۔ مگر پھر بھی انہیں ایک دوسرے سے حق دلایا جائے گا۔

یہ پڑھیں:       خطبہ حرم مدنی ... علاج معالجہ کے آداب: الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر﷾

صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’روزِ قیامت تمہیں سب حقداروں کے حقوق ادا کرنا ہوں گے،  حتی کہ سینگوں والی بکری سے ٹوٹے سینگ والی بکری کا بدلہ بھی پورا پورا لیا جائے گا۔‘‘

تب اللہ چوپایوں اور جانوروں میں فیصلہ کرنے کے بعد انہیں مٹی بنا دے گا۔

اللہ کے بندو! اللہ نے ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ پرندوں کو زمین وآسمان کے درمیان میں رکھا گیا ہے، وہ کبھی اپنے پر کھول لیتے ہیں اور کبھی بند کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے اِن کو تھام رکھا ہے؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ (النحل: ۷۹)

اسی طرح فرمایا:

’’کیا یہ لو گ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو‘ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔‘‘ (الملک: ۱۹)

دوسری مخلوقات کی طرح پرندے بھی پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔‘‘ (الاسراء: ۴۴)

پروردگار نے پرندوں کے اندازِ تسبیح کا نقشہ یوں کھینچا کہ وہ ہوا میں اپنے پر پھیلائے حمد وثنا بیان کرتے ہیں۔

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔‘‘ (النور: ۴۱)

تو ذکرِ الٰہی سے غافل لوگ کہاں بھٹکتے پھر رہے ہیں؟ حالانکہ ہر ناطق وغیر ناطق مخلوق پورے خشوع وخضوع سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے اور صرف اسی کا رخ کرتی ہے۔ کمال ہم آہنگی اور شاندار نظم ونسق کے ساتھ مصروفِ عبادت رہتی ہے۔ پرندے بھی خالق کو سجدہ کرتے ہیں بلکہ ہر چیز چاہتے ہوئے، یا نہ چاہتے ہوئے اس کی عظمت کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان۔‘‘ (الحج: ۱۸)

آیت میں تمام مخلوقات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں پرندے بھی شامل ہیں۔

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مدنی ... سیرت رسول ﷺ کے چند اہم واقعات: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان﷾

اللہ کے بندو! پرندوں کو اللہ نے اپنے نبی داؤد   کے لیے مسخر کیا تھا، وہ ان کی ما تحتی میں اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔‘‘ (صٰ: ۱۹)

اسی طرح فرمایا:

’’ہم نے داؤد کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو! اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا۔ اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو۔‘‘ (سبا: ۱۰)

یعنی: اس کے ساتھ مل کر تسبیح کرو۔ اسی طرح فرمایا:

’’داؤد کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخّر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے۔‘‘ (الأنبیاء: ۷۹)

پرندے اس لشکر میں بھی تھے جسے اللہ تعالیٰ نے سلیمان کے ما تحت کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’سلیمانu کے لیے جن اور انسانوںاور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔‘‘ (النمل: ۱۷)

انہیں تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی زبانیں بھی سکھائی تھیں۔ وہ ان کی باتیں اور گفتگو سمجھتے تھے۔ اسی لیے سلیمانu نے شکر کرتے ہوئے اور نعمتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

’’لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بیشک یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے۔‘‘ (النمل: ۱۶)

اے مسلمانو! پرندے لوگوں کو کئی طرح کے سبق سکھاتے ہیں۔ لوگ ان سے بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ ہابیل اور قابیل کے واقعے سے  جو سبق ملتے ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ  اللہ نے کوّے کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ زمین کو کھود کر اس میں مردہ کوّے کو دفن کر کے قابیل کو سکھائے کہ اپنے مردہ بھائی کی لاش کس طرح چھپائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔‘‘ (المائدہ: ۳۱)

اسی طرح سلیمانu کے واقعے میں بھی بہت نشانیاں ہیں، جب انہوں نے اپنے  ماتحت پرندوں کا جائزہ لیا تو ہدہد نے سلیمانu سے کہا:

’’میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔‘‘ (النمل: ۲۲)

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مکی ... تاریخ الٰہی سے چند سبق آموز واقعات: الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی﷾

ہدہد کے اس بیان سے بھی واضح ہے کہ سلیمان   کو نبوت، حکمت، وافرعلم اور بے انتہا معلومات عطا فرما رکھی تھیں۔ پھر اللہ نے انہیں علم کی آزمائش میں ڈالا۔ ہدہد کو وہ بات بتا دی جو سلیمانu کو نہیں بتائی تھی، اسے وہ دکھا دیا جو سلیمانu کو نہیں دکھایا تھا۔ اللہ کی ایک چھوٹی اور ضعیف سی مخلوق کو وہ علم مل گیا جو سلیمانu جیسے نبی کے پاس نہ تھا، تاکہ وہ اپنے نفس کی حقیقت کو جان لیں، اپنے عمل کو کم سمجھیں، خود پسندی سے محفوظ رہیں، کیونکہ خودپسندی سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور شکر سے انسان غافل ہو جاتا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ علم اور عمر میں کم تر شخص کے علم میں بھی وہ چیز ہو سکتی ہے جس سے بڑی عمر کا شخص محروم ہو، اس لیے کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ہر کسی سے سیکھنا چاہیے، کسی کی بات کان لگا کر سننے اور اس سے کچھ سیکھ لینے سے تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہے جتنا بھی علم مل جائے، بہر حال مخلوق کا علم تو کم ہی رہتا ہے، اللہ کے کشادہ اور بے انتہا علم کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، کیونکہ اللہ کا علم تو ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ موسیٰu اور خضرu کے واقعے میں آتا ہے جیسا کہ (صحیح بخاری) میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’اس دوران میں ایک چڑیا آئی اور اس نے کشتی کے کنارے بیٹھ کر دریا میں ایک مرتبہ اپنی چونچ ماری۔ سیدنا خضرu نے کہا:  میرے اور آپ کے علم کی حیثیت اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے سمندر سے پانی کم کیا ہے۔‘‘

یعنی خضرu کے علم، سیدنا موسیٰu کے علم اور ساری مخلوقات کے علم کے بارے میں اللہ کا یہی فرمان صادق آتا ہے کہ

’’تم لوگوں کو کم ہی علم دیا گیا ہے۔‘‘ (الاسراء: ۸۵)

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیجیے:

’’میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔‘‘ (النمل: ۲۲)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد کو بھی خبروں اور معلومات کی تحقیق اور درستی کا خیال تھا۔ وہ بھی افواہیں نہیں پھیلاتا تھا، نہ اِدھر اُدھر کی باتیں بتاتا تھا، نہ تحقیق کے بغیر سنی سنائی باتیں آگے بیان کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیجیے:

’’میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔‘‘ (النمل: ۲۴-۲۵)

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مدنی ... چند قابل غور نصیحتیں: الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن قاسم﷾

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد کی فطرت میں بھی توحید موجود تھی، اسے بھی عبادت سکھائی گئی تھی۔ کیونکہ ملکہ سبا اور اس کی قوم کا سورج کو سجدہ کرنا اسے ناگوار گزرا، کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اسی طرح ہر سلیم الفطرت نفس بھی توحید پر قائم  ہے، وہ حق کو جانتا  اور اسی پر چلتا ہے، باطل کو ناپسند کرتے ہوئے اس کا انکار کرتا ہے۔

اللہ کے بندو! قومِ فرعون نے جب نبیوں کو جھٹلایا اور ہٹ دھرمی کی تو اللہ نے ان پر ایک عذاب بھیجا۔ وہ عذاب ٹڈیوں کا عذاب تھا۔ ٹڈیاں ان کی کھیتیاں اور نباتات کھا جاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ٹڈی دل چھوڑے، سرسریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے اور خو ن برسایا‘ یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سر کشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔‘‘ (الاعراف: ۱۳۳)

ابابیل کے واقعے کو بھی دیکھ لیجیے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کے لشکر پر بھیجا تھا، اصحاب فیل کے لیے بھیجا تھا، جب وہ کعبہ شریف کو منہدم کرنے کے لیے آئے تھے۔ اس واقعے میں بھی ایک نشانی اور سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔ جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا۔‘‘ (الْفِیلِ: ۳-۵)

اے مسلمانو! پرندے توکل علیٰ اللہ کی بھی شاندار مثال ہیں۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’اگر تم لوگ اللہ پر یوں بھروسہ کرو جیساکہ اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں یوں ہی رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے، صبح کووہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد‘ ترمذی)

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مکی ... بہترین نصیحت: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی﷾

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محنت مزدوری اور تگ ودو کو چھوڑ کر، رزق کے انتظار میں بیٹھ جائے۔ بلکہ رزق کے دروازے تو کھٹکھٹانے چاہئیں۔ کیونکہ پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں بیٹھ کر رزق کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ صبح نکلتے ہیں، کمائی کرتے ہیں اور رزق کی تلاش کرتے ہیں پھر شام کے وقت جب لوٹتے ہیں تو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔ جو اللہ پر حقیقی معنوں میں بھروسہ کرتا ہے، اس کا دل اسی سے جڑ جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کمائی، بے نیازی اور سود مندی ذہانت، طاقت، مہارت، پیشہ اور کام کی نوعیت پر منحصر نہیں، بلکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ ہی مسبب الاسباب ہے اور ہر معاملے کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر وہ اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرتا ہے، حلال ذرائع سے رزق تلاش کرتا ہے، اور اللہ تو بے نیاز اور رزق دینے والا ہے، بندوں کا رزق اسی کے ذمے ہے۔ وہ اپنی مرضی کرتا ہے۔ جس کا چاہتا ہے، رزق فراواں اور کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کا چاہتا ہے، قلیل اور تنگ کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کی تقدیر اور حکمت کے مطابق ہی ہوتا ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پرندے بھی اپنے خالق کو پہچانتے ہیں، رزق کی تلاش کے لیے تگ ودو بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ اپنے فائدے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ پھر وہ دور دراز علاقوں تک جا کر  واپس اپنے گھونسلوں میں لوٹ آتے ہیں۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت نظر آتی ہے کہ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اسے راہ دکھائی۔

میرے مسلمان بھائیو! پرندوں سے سیکھے جانے والے سبق تو بہت ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ  رسول اللہ e فرماتے ہیں:

’’جنت میں ایسی قومیں داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔‘‘

اس حدیث کی تین طرح تشریح ہو سکتی ہے۔ یا تو نرمی، رحمت، پاکیزگی اور رقت میں پرندوں کی طرح ہوں گے۔ یا ڈر اور ہیبت کے لحاظ سے پرندوں کی طرح ہوں گے۔ کیونکہ پرندے سب سے زیادہ باخبر اور چوکنے رہنے والے ہیں۔ یعنی نرمی کی وجہ سے ان کے دل آخرت سے خوف زدہ ہوں گے۔ اور یا ان کے دل توکل اور بھروسے میں پرندوں کی طرح ہوں گے، کیونکہ توکل اور بھروسے کے لحاظ سے بھی پرندے مخلوقات میں سب سے آگے ہیں، یہ صحرا میں بھی پائے جاتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہاں دانا ملے گا یا نہیں۔ مگر انہیں مل جاتا ہے، اور کسی حیلے کے بغیر ہی وہ اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔ پرندے ایسی مخلوق ہیں کہ جو اپنا رزق کمانے یا جمع کرنے سے قاصر ہیں۔ کل کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھتے۔ بلکہ ان کی کمزوری کے باوجود انہیں رزق با آسانی ملتا ہے، بلکہ اللہ ان کے لیے حصول رزق آسان فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ اُن کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔‘‘ (العنکبوت: ۶۰)

یہ پڑھیں:       خطبہ حرم مدنی ... ماہِ محرم‘ نیا سال اور اسلامی تعلیمات: الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان

اسی طرح فرمایا:

’’زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔‘‘ (ہود: ۶)

اے مسلمانو! پرندوں کی عبادت وتسبیح کی مثالیں بھی کئی ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’جب تم مرغ کی آواز سنو  تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے۔‘‘

اسی طرح صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’مرغ کو گالی مت دیا کرو، کیونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

امام احمد کی روایت میں ہے: ’’وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔‘‘

پاک ہے وہ ذات جس نے اس کے دل میں یہ بات ڈالی، اسے بہترین ساخت اور شکل وصورت پر بنایا۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی فائدہ مند چیز کو گالی نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھنا چاہیے۔ بلکہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اس کا اکرام کرنا چاہیے۔ اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنا چاہیے۔

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

پرندوں کی بلند شان اور اعلیٰ مقام ومرتبے کی ایک دلیل یہ ہے کہ انہیں بعض انبیاءo کے لیے بطورِ نشانی بھیجا گیا۔ مرد وں کوپھر سے زندگی بخشنے کی قدرت پر انہیں بطور دلیل پیش کیا گیا، جیسا کہ سیدنا ابراہیمu کے واقعے میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

’’اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیمu نے کہا تھا کہ: میرے مالک، مجھے دکھا دے، تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ اُس نے عرض کیا: ایمان تو رکھتا ہوں، مگر دل کا اطمینان درکار ہے۔ فرمایا: اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے‘ خوب جان لے کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶۰)

یہ پڑھیں:        خطبۂ حج برائے سال 2020ء بمطابق 1441ھ

اسی طرح سیدنا عیسیٰu لیے لیے بطورِ دلیلِ نبوت حجت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے بارے میں فرمایا:

’’اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا کہ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت میں ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۴۹)

وہ مٹی سے پرندہ نما ایک شکل بناتے تھے، پھر اس میں پھونکتے تو وہ اللہ کے حکم سے ایک جان دار پرندہ بن جاتا۔

اللہ کے بندو! پرندوں کا گوشت ان طیبات، یعنی پاکیزہ چیزوں میں سے ہی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جائز ٹھہرایا ہے۔ صرف شکار جانوروں اورپنجہ سے شکار کرنے والے پرندوں کا کھانا حرام کیا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔ پرندوں کے گوشت کا فائدہ صرف اس دنیا ہی تک محدود نہیں، بلکہ یہ جنت والوں کا کھانا بھی ہو گا، جہاں وہ پرندوں کا گوشت مزے سے کھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں۔‘‘ (الواقعہ: ۲۱)

اے مسلمانو! جانوروں کے ساتھ برتاؤ کے چند شرعی آداب واحکام ہیں۔ اسلام نے ان کے ساتھ نرمی برتنے کا حکم دیا ہے۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تنظیمیں نہیں تھیں۔ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ نرمی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انہیں اذیت نہ دی جائے، انہیں بھوکا نہ رکھا جائے، ان سے ایسا کام نہ کروایا جائے، جو وہ نہ کر سکیں۔ ان پر لعنت نہ بھیجی جائے، تیر اندازی سیکھنے کے لیے انہیں بطورِ مشق نشانہ نہ بنایا جائے۔

جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ e نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی جو کسی جاندار چیز کو نشانۂ مشق بناتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح جانور کو اذیت ملتی ہے بلکہ اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’جو ذبح کرتے وقت کسی چڑیا پر بھی رحم کرے، اللہ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘ (الادب المفرد للبخاری)

یہ پڑھیں:        خطبہ حرم مکی  ... سیرت نبویﷺ اور واضح کامیابی: الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس﷾

اہل علم بیان کرتے ہیں:

’’یہاں خاص طور پر چڑیا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ ذبح کے بعد کھایا جانے والا سب سے چھوٹا جانور ہے۔ اگر اس کے ساتھ بھی نرمی اور رحمت کا نتیجہ اللہ کی رحمت کا حصول ہے، باوجود اس کے کہ وہ لوگوں کی نظر میں انتہائی کمزور اور حقیر چیز ہے، تو اس سے بڑی اور طاقتور چیزوں بالخصوص انسانوں پر رحم سے رحمتِ الٰہی کا حصول تو بدرجہ اولیٰ ہے۔‘‘

صحیح روایت میں ہے کہ 

’’نبی کریم e نے چار قسم کے جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور لٹورا۔‘‘ (ابو داؤد)

لٹورا ایک بڑے سر اور بڑی چونچ والا پرندہ ہے۔ جہاں اسلامی شریعت نے نقصان دہ اور اذیت ناک جانوروں کو قتل کرنے کی اجازت دی ہے، وہاں ایسے جانوروں اور پرندوں کو مارنے سے منع کیا ہے جنہیں مارنے میں کوئی فائدہ نہیں، یا جن سے کوئی اذیت متوقع نہیں۔ یہ شارع کی رحمت کا ایک پہلو ہے۔ اس نے ہر طرح کی اذیت اور دست درازی سے منع فرمایا ہے۔ جب کچھ صحابہ کرام] نے چڑیا کے دو بچوں  کو اس سے لے لیا، اور رسول اللہ e نے اس کی پریشانی کو دیکھا تو آپe نے فرمایا:

’’اس کے بچے چھین کر کس نے اسے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچے اسے لوٹا دو۔‘‘ (ابوداؤد)

آپ e پرندوں پر اتنی زیادہ رحمت کرتے تھے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بندوں کے ساتھ تو بدرجہ اولی نرمی اور احسان والا معاملہ کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ شفقت اپنا شیوہ بنانا چاہیے۔

اللہ کے بندو! حکمِ الٰہی کی تعمیل میں درود وسلام بھیجو اللہ کی مخلوقات میں بہترین ہستی محمد بن عبد اللہ e پر۔  بلندی اور عزت والے کا فرمان ہے:

یہ پڑھیں:        وبائی بیماریوں سے بچنے کے لیے مشورے

اے اللہ! ہمیں ہدایت کی راہ پر قائم رہنے والا بنا، گمراہ اور گمراہ کرنے والا نہ بنا۔ اے اللہ! اپنی نشانیوں سے سبق سیکھنے والا بنا، ان سے منہ پھیرنے والے غفلت کرنے والے، عبرت اخذ نہ کرنے والے اور تدبر سے خالی لوگوں میں سے نہ بنا۔ اے اللہ! ہم نعمتوں کے زوال سے، عافیت کے خاتمے سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، پھلبہری سے، پاگل پن سے اور جلد کی بیماریوں سے، اور تمام بری امراض سے۔ اے اللہ! ہمیں برے اخلاق سے، بری خواہشات سے، برے اعمال سے اور بری بیماریوں سے محفوظ فرما۔ ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہے۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages