عورت کا استحصال ... ایک معاشرتی بگاڑ 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

عورت کا استحصال ... ایک معاشرتی بگاڑ 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,عورت کا استحصال,معاشرتی بگاڑ,ایک معاشرتی بگاڑ,


عورت کا استحصال ... ایک معاشرتی بگاڑ

تحریر: جناب سعید ساجد (ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘)

بنظر غائر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں سے اشرف واعلیٰ پیدا کیا ہے‘ پھر اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرامo اور آسمانی کتب نازل فرمائیں تا کہ انسان دنیا میں کامیاب زندگی گذار سکے۔ لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول وضوابط سے روگردانی کرتا ہے تو اس سے معاشرتی بگاڑ کی راہیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں اور انسان شیطانی راستوں پر چل پڑتا ہے۔ عقل وفکر پر جہالت کے دبیز پردے پڑ جاتے ہیں اور درندوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ رحمدلی سے دل خالی ہو جاتا ہے اور شیطانی خواہشات کا اسیر اور قیدی بن کے رہ جاتا ہے۔ تو پھر کہیں قصور کی ننھی پری زینب کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو کہیں کراچی کی مروہ کا سانحہ دلخراش روپذیر ہو جاتا ہے۔ کہیں کالا شاہ کاکو میں شوہر کے سامنے اس کی بیوی کی عزت تار تار کی جاتی ہے تو کہیں موٹروے پر فرانس سے آئی ہوئی خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔

یہ پڑھیں:        منحوس کون؟!

زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کا سانحہ اس حوالے سے الگ نوعیت کا ہے کہ اس کی آہوں‘ سسکیوں اور دکھ بھری داستان نے پوری پاکستانی قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ویسے تو آئے روز ایسی ہی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کا کوئی سد باب نہیں ہو رہا۔ احساس عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ ہر شخص خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے مایوسی کا شکار ہے۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے۔ زنا بالجبر اور سفری رکاوٹیں بڑھ چکی ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔

دور جاہلیت سے لے کر اب تک عورت کا استحصال ہو رہا ہے۔ عورت صدیوں سے ایسی درندگی‘ وحشت اور ظلم وستم سے دو چار ہے۔ قصور مرد کا ہو یا کسی اور کا لیکن اس کا خمیازہ بیچاری عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔

سماج کے رویے سے تنگ آکر اکثر عورتیں خود سوزی جیسا قبیح عمل کر بیٹھتی ہیں‘ اس میں قصور کس کا ہے؟ قصور ہمارے بگڑے ہوئے معاشرے کا ہے جس نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔

حکمران ہر روز اپنی تقریروں میں یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ ہم پاکستان کو اسلامی ریاست بنا کر دم لیں گے۔ یہ ہے اسلامی ریاست جس میں ہر روز سینکڑوں اخلاق باختہ وارداتیں ہو رہی ہیں…؟!

اسلاف میں سے کسی کا قول ہے کہ: ’’اسلامی ریاست وہ ہوتی ہے جس میں ایک جوان عورت زیور پہن کر رات کے اندھیرے میں بغیر خوف وخطر سفر کر سکے۔‘‘

شاید متأثرہ خاتون بھی دل میں یہ ارمان لیے سوچ رہی ہو گی کہ پاکستان اب امن کا گہوارہ اور ریاست مدینہ کا ماڈل بن چکا ہو گا۔ اکیلی عورت پورے ملک میں بغیر کسی خوف وڈر سفر کر سکتی ہو گی۔ لیکن معاملہ اس کی سوچوں کے برعکس نکلا۔ یہ معاشرہ تو جنگلی درندوں اور جانوروں سے بھی آگے جا چکا ہے۔ یہاں کسی کی عزت وآبرو محفوظ نہیں‘ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ ہر سو غیرت کا جنازہ اُٹھ رہا ہے۔ یہاں تو قانون کے محافظ بھی جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ ان کا رویہ تشویشناک ہے۔ وہ مجرم کی بجائے مظلوم کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنی مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈال رہے ہیں اور جرائم پیشہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مجبور ومقہور لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی اور انہیں استہزاء کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ والی بات بن چکی ہے۔ کیونکہ عقل وفکر سے عاری انسان نما درندے کئی روپ دھارے کارروائی کر رہے ہیں‘ جن کو اس معاشرے میں پاکستانی عوام کا مسیحا بننا تھا وہی چور‘ ڈاکو‘ رہزن اور عصمت دری کرنے والوں کے محافظ بن گئے۔

یہ پڑھیں:        جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ

ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکمران وقت برائیوں کے سد باب‘ ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بجائے برائی کے درختوں کی کونپلیں اور شاخیں کاٹ دیتے ہیں جو ختم ہونے کی بجائے جہالت کا پانی ملنے پر خوب پروان چڑھتی ہیں۔

جن حکمرانوں نے عوامی فلاح وبہبود کے لیے پالیسیاں مرتب کرنا تھیں‘ ایک روڈ میپ دینا تھا‘ جہالت وگمراہی میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو صحیح راہ پر گامزن کرنا تھا‘ انہیں تعلیم وتربیت سے نوازنا تھا‘ ان کی ذہن سازی کرنا تھی اور انہیں کامل انسان بنانا تھا انہوں نے تو انسان کو حیوان تک نہ رہنے دیا۔

موجودہ معاشرہ میں انسان نما درندوں کو حیوانوں کے ساتھ تشبیہ دینا تو جانوروں کی بھی توہین ہے‘ اس وقت ہمارا معاشرہ سخت زوال وانحطاط کا شکار ہے جو عذاب الٰہی کو کھلی دعوت دے رہا ہے۔ وہ کونسا جرم ہے جو پہلی امتوں میں تھا اور اب نہیں۔ پہلی قوموں کو تو ایک جرم کی وجہ سے نیست ونابود کر دیا گیا اور ان کا اللہ تعالیٰ نے نام ونشان نہ چھوڑا۔ لیکن ان قوموں کے فردا فردا تمام جرائم اب ہمارے اندر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ رسولِ اکرم e کی دعاء کی وجہ سے ہمارے اوپر اس طرح کے عذاب نہیں آتے جو پہلی قوموں پر آتے تھے۔ ان کو تو نافرمانی کی وجہ سے بندر اور خنزیر تک بنا دیا گیا۔

ہمیں بحیثیت قوم اپنے گناہوں سے تائب ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی برائی سے بچنے کی دعا کرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں محفوظ فرمائے۔

یہ پڑھیں:        انسانی زندگی پر گناہ کے مضر اثرات

بات ہو رہی تھی انسان نما درندوں کی جنہوں نے موٹر وے پر اس نہتی خاتون کی عزت وآبرو کا جنازہ نکالا‘ خاتون نے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی ایک نہ سنی اور شیطانی خواہشات کے مرتکب ہوئے۔ اس عورت کے ساتھ جو ظلم وستم ہوا جس زیادتی اور درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ پوری زندگی اسے کبھی نہیں بھلا پائے گی۔ وہ تو حواس باختگی کے عالم میں اپنے گھر والوں سے موت کی بھیک مانگ رہی ہے کہ میں ایسے معاشرے میں زندہ نہیں رہنا چاہتی جس معاشرے میں ایسے دردندے‘ بھیڑیے اور بے غیرت قسم کے لوگ آباد ہوں۔ مجھے ایسے ماحول میں زندہ نہیں رہنا مجھے مار دو۔

بحیثیت قوم ہم سب کے لیے یہ انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔ اس بے چاری خاتون کو کیا معلوم تھا کہ یہ جانوروں سے بھی بد تر معاشرہ بن چکا ہے۔ ہرگذرتے دن کے ساتھ اخلاقی پستی اور معاشرتی بگاڑ کی نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ کوئی ایسا دن یا رات نہیں جس میں کوئی نہ کوئی درندگی نہ ہوتی ہو۔

پاکستان کے طول وعرض میں ایسے سانحات کا رو پذیر ہونا معمول بن چکا ہے۔ مجرم قانونی شکنجے سے آزاد ہیں‘ ریاستی گرفت کمزور ہے۔ درندوں کے حوصلے بڑھتے جا رہے ہیں‘ وہ اپنے شکار کی تاک میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ جب کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک دو دن رونا دھونا ہوتا ہے اس کے بعد پھر ہم پستی کے اسی سفر پر گامزن ہو جاتے ہیں جو دنیا وآخرت میں ہماری تباہی وبربادی کا پیش خیمہ ہے۔

جب کوئی درندہ صفت انسان ایسے قبیح وشنیع فعل کی پاداش میں گرفت میں آجاتا ہے تو انسانی حقوق کے نام پر نام نہاد تنظیمیں‘ این جی اوز حرکت میں آجاتی ہیں اور انسانی حقوق کے نام پر ایسے درندہ صفت بھیڑیوں کے ہمدرد بن کر سڑکوں اور سوشل میڈیا پر نمودار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں سرعام پھانسی کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ ان کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

یہ پڑھیں:        ماہِ صفر ... ایک تحقیقی جائزہ

کچھ سیاسی لوگ بھی ان کے ہم نوا بن جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پھانسی کی سزا ہونی ہی نہیں چاہیے۔ ان کا یہ نظریہ تو جرائم پیشہ لوگوں کو کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس ہمارا دین تو ایسے درندوں کو نشانِ عبرت بنانے کی تعلیم دیتا ہے‘ لیکن اس کے لیے ایمانی جرأت کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت اور عدلیہ میں مفقود نظر آتی ہے۔ وہ اس کڑی سزا پر تیار نہیں اسی لیے تو جرائم کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ کے دباؤ میں رہنے والے حکمران سخت فیصلے نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنا رول ماڈل سعودی عرب کو بنانا چاہیے جہاں قانون کی حکمرانی اور بالا دستی ہے۔ وہاں سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام کوڑے مارے جاتے ہیں اور ان کی گردنیں تن سے جدا کر دی جاتی ہیں۔ اس عمل سے جرائم پیشہ افراد پر خوف طاری رہتا ہے اور وہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا مرتب ہوں گے۔ اسی لیے وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ وہاں فیس نہیں کیس دیکھتے ہوئے سزائیں دی جاتی ہیں۔

ہمارے ہاں دو سال قبل قصور کی ننھی زینب کے قاتل علی عمران کو خفیہ پھانسی دینے کے بعد سینکڑوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں پھول سے بچوں اور کلی نما بچیوں کے ساتھ ایسے بدقماش قسم کے لوگ گھناؤنا کھیل کھیل چکے ہیں اور انہیں قتل کر دیا گیا تا کہ جرم کا نشان مٹ جائے۔ زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے بعد آج تک کسی کو سزا نہیں ملی جس سے ایسے لوگوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے اور زیادتی کے واقعات بند ہوئے اور نہ ہی کم ہوئے۔ یہ کیسا نظام زندگی ہے جس میں ظلم وجبر‘ بربریت اور درندگی تو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور مزید زور پکڑتی جا رہی ہے لیکن ظالم مرتا اور تڑپتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

یہ پڑھیں:        آئین پاکستان ... تکفیر قادیانیت اور حقائق

ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے ہمیں سب سے پہلے معاشرے کی تربیت کرنا ہو گی۔ وہ تربیت جو انسان نما جانوروں کو فقط انسان بنائے اور معاشرے میں خوف خدا پیدا کرنا ہو گا تا کہ گناہ کرتے وقت اسے احساس پیدا ہو کہ مجھے کل اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔

اس کے لیے منبر ومحراب‘ میڈیا اور تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر شرم وحیاء سے عاری ڈرامے اور فلمیں نشر نہیں ہونی چاہئیں۔ ایسے اشتہارات جن میں عورت کو نمائش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ بھی بند ہونے چاہئیں تا کہ کوئی بیمار ذہن اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی گناہ اور جرم کی جانب برانگیختہ نہ ہو سکے۔

امید واثق ہے کہ پنجاب پولیس مذکورہ واقعات کے ملزموں کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر انہیں گرفتار کرے گی اور متأثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی اور شقی القلب درندوں کو قرار واقعی سزا دے کر متاثرہ خاتون کے زخموں پر مرہم رکھے گی۔ کیونکہ موٹروے پر ایک عورت کا ریپ نہیں بلکہ انصاف کا ریپ ہوا ہے جو کسی طرح بھی ریاست کے لیے اچھا شگون نہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ سزا وجزا کا قانون ہر صورت نافذ کرے تا کہ کسی کو بھی جرم کرنے کی جرأت پیدا نہ ہو‘ نہیں تو پھر درندے ریپ کرتے رہیں گے اور عدالتوں سے چھوٹتے رہیں گے۔ ہم اگلے سانحہ کے رونما ہونے کا انتظار کرتے رہیں گے۔

اب ہم تمام جرائم کی بیخ کنی کا حل تلاش کرتے ہیں کہ اس کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے سخت قانون سازی کی جائے کیونکہ اب اس کی ضرورت پہلے کی بہ نسبت بڑھ چکی ہے۔

تعزیرات اسلامی‘ حدود اور شرعی سزاؤں کو عملاً نافذ کیا جائے۔ قتل کا بدلہ قتل‘ چور کے ہاتھ کاٹے جائیں اور زانی کو رجم کیا جائے اور کوڑے مارے جائیں پھر دیکھیں کیسے امن وسکون ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں:        شاہ فیصل مرحوم کا تاریخی خطاب

ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے ایسے عناصر کا قلع قمع کریں جو اس معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار ہیں اور جنہوں نے لوگوں کے امن وسکون کو تہہ وبالا اور معاشرے کو اپنی منفی سوچوں سے پراگندہ کر رکھا ہے۔

ملک سے جہالت‘ بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ کیا جائے جس کی وجہ سے منفی سوچیں پروان چڑھتی ہیں۔

ہماری دینی ومعاشرتی اقدار کو مغربی اور بھارتی ثقافت کی تباہ کاریوں سے بچایا جائے۔

جرائم کی بیخ کنی کے لیے بہتر تربیت کے حامل اداروں کے ’’ذمہ داران‘‘ کی ضرورت ہے اور ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیشہ کمزور کی گردن میں پھندا فٹ کرنے میں چاق وچوبند اور طاقتور کے سامنے آنے کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

فرسودہ تعلیمی نظام کی موجودگی میں اخلاقی انحطاط بڑھتا جا رہا ہے۔ اس پر نظر ثانی کی جائے اور اسے نئے سرے سے ترتیب دیا جائے جو نئی نسل کو اخلاقیات کا درس دے اور انہیں اچھا اور سچا مسلمان بنائے اور ان درخشندہ ستاروں کا مستقبل روشن کرے۔

معاشرے کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ملک سے سودی نظام معیشت کو ختم کریں جو برائی کی جڑ ہے۔ جس سے برائی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ سود کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ کیا ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ وہ خدا تو قہار وجبار ہے۔ {اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ} اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ہمارے برے اعمال کی وجہ سے اللہ کی رحمت بھی ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس روٹھے ہوئے خالق ومالک کو منائیں اور اپنے برے اعمال کی بناء پر اس کے غیظ وغضب کو دعوت مت دیں ورنہ نیست ونابود ہو جاؤ گے۔

یہ پڑھیں:        ہم مسافر ہیں عمر بھر کے

آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ پاکستان کی بقاء اسلامی قانون نافذ کرنے میں ہی ہے۔ اس سے ہی تمام خلفشار سے بچا جا سکتا ہے‘ اس کے ذریعے ہی امن وآشتی کا پیغام اور امن وسکون کا بول بالا ہو گا۔ صرف اور صرف اسلامی قانون ہی قانون انصاف ہے باقی تمام قوانین خود ساختہ ہیں‘ ان کے چنگل سے اب آزاد ہونا ہو گا۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages