مومن کا ہتھیار 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

مومن کا ہتھیار 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,درس حدیث,مومن کا ہتھیار,
 

درسِ حدیث

مومن کا ہتھیار

فرمان نبویﷺ ہے:

[عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ ‏"‏إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ‏".‏] (سنن ابن ماجہ)

سیدنا نعمان بن بشیرt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا: ’’دعا عین عبادت ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:        اللہ کے پڑوسی

اللہ رب العالمین کے انسانوں پر ان گنت اور لا تعداد احسانات اور نعمتیں ہیں ، اور پھر مسلمان تو پورے کا پورا ہی اللہ کےاحسانات اور رحمت میں ڈوبا ہوا ہے، اِن ہی نعمتوں میں سے مسلمان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت دعا ہے ، جسے نبی کریمe نے مومن کا ہتھیار قرار دیا ہے۔ دعا کی عظمت اور برکت کے بے شمار پہلووں سے ایک پہلو یہ ہےکہ دعا کبھی بھی ضائع نہیں ہوتی اور اس کا فائدہ ضرور بالضرور مانگنے والے کو ہوتاہے، یہ الگ بات ہے کہ اس فائدہ کا احساس مانگنے والے کو نہ ہو۔

سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایاکہ یقیناً ایمان والے (کی دعا) کی مثال ایک ایسے درخت کی مانند ہے کہ جس کے حصوں میں سے ایک انگلی کے پور کے برابر حصہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔نبی کریم e نے صحابہ] سے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے وہ کون سا درخت ہے جس کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ہر چیز جو اس درخت سے متعلق ہوتی ہے وہ کار آمد اور مفیدہوتی ہے؟صحابہ کرام] نے نفی میں جواب دیا تو اللہ کے رسول e نے فرمایا: ’’وہ کھجور کا درخت ہے کہ جس سے انگلی کے پور کے برابر بھی کوئی چیز بے کار نہیں ہوتی۔‘‘

یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی گٹھلی بھی مختلف طریقوں سے زیر استعمال آتی ہے۔ اس مثال کے بعد آنحضرت e نے فرمایا: ’’جس طرح کھجور کے درخت کی کوئی چیز ضائع نہیں جاتی اسی طرح مومن کی دعا کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں جاتا۔‘‘

یہ پڑھیں:        صدقہ کی ترغیب

اس قیمتی ہتھیار کے حصول کے لیے کسی خاص تگ و دو کی ضرورت نہیں ، آپ سفر وحضر اور بستر او رکرسی پر ،گھر اور دفتر میں الغرض کہیں بھی اس ہتھیار کو اپنے زیر استعمال لا سکتے ہیں، اوراس کی بدولت اپنی دنیوی اور اخروی فلاح کاسامان کرسکتے ہیں۔

نبی کریم e نے ایک اورحدیث میں ارشاد فرمایا: ’’کوئی بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے جبکہ اس میں دو باتیں نہ ہوں، گناہ اور قطع رحمی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے تین میں ایک نتیجہ ضرور عطاء کرتاہے: 1 اللہ مانگی ہوئی چیز فوراً دے دیں۔ 2 اللہ آخرت کے لیے محفوظ فرما لے۔ 3 آنے والی مصیبت اس دعا کی بدولت ٹل جائے۔

اس حدیث کو سننے کے بعد صحابہ] نے کہا تھا کہ دعا تین میں ایک نتیجہ پاتی ہے تو ہم بہت زیادہ دعا کیا کریں گے۔اللہ کے رسولe نے جواب میں فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے پاس اس سےکہیں زیادہ ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:        دھوکہ دہی اور ملاوٹ کی قبیح عادت

اللہ تعالیٰ سے اخلاص، یقین اورتوجہ کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کی دُعا قبول نہیں کرتا جو بے دلی اور توجہ کے بغیر دُعا کرتا ہے ۔ غرضیکہ دُعا کے وقت جس قدر ممکن ہو حضور قلب کی کوشش کرے اور خشوع وخضوع اور اِنسان سکون قلب ورقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages