عقیدے کی حسّاسیّت اور اس کا تحفظ 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

عقیدے کی حسّاسیّت اور اس کا تحفظ 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,عقیدے کی حساسیت,عقیدے کی حساسیت اور اس کا تحفظ,عقیدے کا تحفظ
 

عقیدے کی حسّاسیّت اور اس کا تحفظ

تحریر: جناب میاں محمد جمیل (لاہور)

یقیناً آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ایمان اور اعمال کی بنیاد کلمۂ توحید ہے اور یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا حصہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اور دوسرا ’’محمد رسول اللہ‘‘ پر مشتمل ہے ۔ کلمے کے پہلے حصہ کے دو جُزو ہیں۔ پہلے جُزو میں اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ زمین وآسمانوں میں کوئی ’’الٰہ‘‘ نہیں۔ دوسرے جُزو میں اثبات اور اقرار ہے کہ صرف ’’اللہ‘‘ ہی الٰہ ہے۔ گویا کہ پہلے نفی ہے اور پھر اثبات ہے۔ پہلے نفی کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ کلمہ مبارکہ سے پہلے لفظِ نفی لا کر باطل نظریات اور نظام ہائے زندگی کی نفی اس لیے کی جاتی ہے کہ اس کے بغیر آدمی نہ حق قبول کر سکتا ہے اور نہ ہی صحیح انداز میں اس کا ابلاغ اور نفاذ کر سکتا ہے۔ پھر ’’لا‘‘ میں ایک طرح کی جرأت اور بہادری پائی جاتی ہے۔ جب تک یہ دو چیزیں سچائی کے بارے میں پیدا نہ ہوں اس وقت تک کسی اچھی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

یہ پڑھیں:        تخلیق انسانی کے مختلف مراحل

دوسری حکمت یہ ہے کہ شرک ایسا روگ اور مرض ہے کہ بسا اوقات آدمی کو اس کا علم اور احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ بالخصوص دو قسم کے لوگ اس میں دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ایک وہ جن کی تربیت مشرکانہ ماحول میں ہوئی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اسے گناہ اور شرک نہیں سمجھتے، دوسرے فیشن اور نمود ونمائش کرنے والے حضرات اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ حالانکہ نبیe نے عقیدے کی حساسیت اور اس کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ توجہ دینے کا حکم دیا ہے۔یہ اس قدر حساس مسئلہ ہے کہ کسی نبی، عالم ، پیر اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ لوگوں کو ’’اللہ‘‘ کا بندہ بنانے کی بجائے انہیں اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے یا اس کے لیے ایسا ماحول پیدا کرے۔

’’ کسی انسان کو جائز نہیں کہ اسے ’’اللہ ‘‘کتاب ، حکومت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم ’’اللہ ‘‘ کے سِوا میرے بندے بن جائو اسے تو یہ کہنا چاہیے کہ تم سب ’’رب‘‘ کے بندے بنو، اس لیے کہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اسے پڑھتے ہو۔‘‘ (آل عمران: ۷۹)

سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولe نے فرمایا: ’’شرک اندھیری رات میں پتھر پر چلنے والی چھوٹی چیونٹی سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوتا ہے۔‘‘ (المستدرک علی الصحیحین:وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ بِسْمِ اللہ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ[حسن لغیرہ])

سیدنا زید بن خالد جہنیt بیان کرتے ہیںکہ اللہ کے رسولe نے رات کی بارش کے بعد حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئےاور پوچھا۔ جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ صحابہ y نے عرض کی، اللہ اوراس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ صحابیt بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘ نے فرمایا ہے کہ صبح کے وقت میرے بندوں میںسے کچھ مومن رہےاورکچھ کافر ہوگئے۔ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش ہوئی ہے‘ وہ مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور ستاروں کے منکر ہیں اور جنہوں نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے وہ کافر ہوئے‘ اس لیے کہ وہ ستاروں پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (ستاروں کے منکر ہونے سے مراد ان کی تاثیر کے منکر ہیں۔) (صحیح بخاری)

یہ پڑھیں:        اللہ تعالیٰ کی پکڑ کب آتی ہے؟!

نبی معظمؐ نے عقیدہ کی حساسیت کااز حد خیال فرمایا:

سیدہ ربیع r بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ جب میری رخصتی ہوئی تو نبی گرامی e آئے‘ تیرے بیٹھنے کی طرح میرے بسترپر تشریف فرما ہوئے۔ ہماری چھوٹی بچیوں نے دف بجانا شروع کی اور ہمارے باپ دادا جو بدر میں شہید ہوئے تھےان کے اوصاف بیان کرنا شروع کیے۔ ایک بچی نے کہا ’’ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی باتیں جانتے ہیں۔ آپe نے فرمایا: یہ بات نہ کہو،وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

ربیّع r کے والد غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے‘ ان کی دلجوئی کے لیے نبی کریمe ان کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے پیار کیا ۔

سیدنا عدی بن حاتمt بیان کرتے ہیں کہ نبیeکے سامنے ایک خطیب نے تقریر کی اور اس نے کہا : جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پاگیا،اور جو دونوں کی نافرمانی کرے گا، (وہ گمراہ ہو جائے گا۔) آپ نے فرمایا یہاں سے نکل جا ئوتو بُرا خطیب ہے ۔ (ابوداؤد)

اس نے پہلی مرتبہ کہا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ، دوسری مرتبہ اللہ اور اس کا رسول کہنے کی بجائے اللہ اور رسول کے الفاظ کہے۔اس نے درمیان میں ’’اس کے‘‘ الفاظ چھوڑ  دیئے گویا کہ اس نے اللہ اور رسولe کو برابر بیان کیا، جس وجہ سے آپe نے اسے اپنی مجلس سے نکل جانے کا حکم دیا۔

فال نکالنے اور جادو کے بارے میں آپﷺ کا ارشاد:

’’جو شخص فال نکالے یااس کے لیے فال نکالی جائے‘ کوئی غیب کی خبریںدے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے، کوئی خود جادوکرے یا اس کے لیے دوسرا جادو کرے وہ ہم سے نہیں، جو ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے اس کا انکار کر دیا جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے۔‘‘ (مسند بزار[صحیح])

ہر دور میں وہم پرست اور اَن پڑھ لوگوں میں بدشگونی لینے کی عادت رہی ہے۔ جس کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل یہ تھی کہ لوگ خاص اوقات میں بیٹھے ہوئے کسی پرندے کو اڑاتے۔ اگر پرندہ اُڑتے ہوئے دائیں جانب رخ کرتا‘ تو اڑانے والا سمجھتا کہ وہ جو کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر پرندہ دوسری جانب اڑتا تو کام نہ کرنے اور اس میں برکت نہ ہونے کا تصور لیا جاتا۔ اسی طرح ہی وہ تیروں سے فال نکالتے‘ جس طرح ہمارے ہاں سڑکوں پر بیٹھے ہوئے کچھ لوگ یہ کام طوطے اور جانوروں سے لیتے ہیں۔ اس عمل کو عربی میں فال، طیرہ اردو میں شگون لینے اورانگلش میں اسے  (BADOMEN ) کہا جاتا ہے۔ اس سے آدمی نفسیاتی مریض، توہم پرست اور بزدل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد اور توکل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بد اعتقادی بھی پیدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور بھی مکمل یا جزوی طور پر غیب جانتا ہے۔ یہ حرکات عقیدہ اور ایمان کے سرا سر منافی ہیں۔ اس لیے ان سے منع کیا گیا ہے البتہ کوئی شخص کسی بات سے اچھا شگون لینا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

اچھا شگون لینے کا معنٰی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے‘ یا وہ سفر کے لیے نکلا ہے‘ تو کسی نےابتداء میں اسے اچھی خبر سنائی کہ آپ کا فلاں کام ہو چکا ہے۔ یا جس طرف آپ جانے لگے ہیں وہاں کے حالات بہت اچھے ہیں۔ آپ e کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو اچھے شگون کے طور پر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس سے آدمی کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ اگر کام کرنے سے پہلے یا سفر کے آغاز میں گاڑی میں خرابی یا کوئی بُری بات سننے میں آ جائے، تو بُرا شگون سمجھ کر آدمی کو اپنا ارادہ نہیں بدلنا چاہیے۔

سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ میں نےاللہ کے رسولe  سے سنا، آپ نے فرمایا: بد شگونی لینا جائز نہیں البتہ فال بہتر ہے۔ صحابہ کرام t نے پوچھا کہ فال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:جو تمہیں اچھی بات سنائی دے۔‘‘ (بخاری)

’’سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیںکہ اللہ کے رسولe نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ الُّو بدروح ہے اورنہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ ایک دیہاتی نے سوال کیا، اللہ کے رسول! اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے جو ریتلے علاقے میں چرتے اور ہرنیوں کی طرح پھرتیلے نظرآتے ہیں لیکن جب ان کے ساتھ خارش زدہ اونٹ ملتاہے تو ا ن کو خارش لگ جاتی ہے؟ رسولِ محترمe نے فرمایا: اگر معاملہ اس طرح ہے ‘تو بتائو کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیاتھا؟ ‘‘ (بخاری)

سیدنا ابوہریرہ t بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولe نے فرمایا: ’’کوئی مرض متعدی نہیں اورنہ الّوبدروح ہے۔ نہ کوئی ستارہ اثر انداز ہوتا ہےاور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہوتا ہے۔‘‘ (مسلم)

یہ پڑھیں:        توحید بیانیہ کے مختلف انداز

دم، تعویز اور کڑا پہننے کے بارے میں ارشادات:

کڑا اور انگوٹھی کا خاص نگینہ پہننے کے پیچھے بھی یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ اس سے برکت حاصل ہوتی یا فلاں بیماری دور ہو جائے گی۔شریعت نے اسے بھی شرک تصور کیا ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہئے۔

سیدنا عوف بن مالکtبیان کرتے ہیں کہ جہالت کے دور میں ہم دم جھاڑ کیا کرتے تھے، اللہ کے رسولeنے فرمایا: اپنے دم مجھے سنائو ، فرمایا: ایسے دم میں کوئی حرج نہیں جس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔‘‘ (مسلم)

’’عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ میںبیمار پرسی کے لیے عبداللہ بن عکیم ابی معبد جہنیt کے ہاں گیا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے، اس نے کہا: یہ کام کرنے سے موت بہتر ہے، اللہ کے رسولe نے فرمایا: جس نے کوئی چیز باندھی وہ اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔‘‘ (رواہ الترمذی: [حسن])

کچھ علماء کرام غیر شرکیہ تعویز کو جائز سمجھتے ہیں‘ بے شک جواز کی صورت ہو سکتی ہے لیکن اس میں بے عملی ضرور پائی جاتی ہے‘ وہ اس طرح کہ تعویز باندھنے والا یقین کر لیتا ہے کہ اس میں شفا ہے‘ اس کے بعد کچھ مدت تک وہ اس اخلاص اور توجہ سے دعا نہیں کرتا جس طرح پہلے کیا کرتا تھا۔البتہ شرکیہ تعویز اور کڑا پہننا بالاتفاق حرام ہیں۔

سیدنا عمران بن حصینtبیان کرتے ہیں کہ نبیe نے ایک آدمی کے ہاتھ میں کڑا دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟اس نے کہا کہ یہ واہنہ کی بیماری سے بچنےکے لئے ہے، فرمایا :اسے اتار دو یہ تیری بیماری میں اضافہ ہی کرے گا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ[حسن])

سیدنا عمران بن حصین t بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں تانبے کا کڑا دیکھا ۔پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ علاج کے طور پر ہے، فرمایا: یہ تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ تمہاری بیماری کو بڑھائے گا، اگر تو اس سے فائدہ حاصل ہونے کا عقیدہ رکھتے ہوئے فوت ہو گیا تو تیری موت فطرتِ اسلام پر نہیں ہو گی۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ[حسن])

سیدنا عبداللہ بن مسعودtکی بیوی زینبr بیان کرتی ہیں کہ عبداللہ بن مسعودt  بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولe سے سنا کہ دم، جھاڑ، تعویز، گنڈے اور ٹونے شرک ہیں،ان کی بیوی نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ ایک مرتبہ مجھے آنکھ میں تکلیف ہوئی تو میں نے ایک یہودی سے دھاگا لے کر باندھا جس سے میری تکلیف دور ہو گئی۔ سیدنا ابن مسعودt نے فرمایا: یہ شیطانی عمل تھا ۔اس نے تیری آنکھ میں کچوکا مارا ، جب تم نے دھاگا باندھا تو اس نے چھوڑ دیا۔ تمہارے لیے وہی دعا کافی ہے جو اللہ کے رسولe پڑھا کرتے تھے: (اے لوگوں کے رب! میری تکلیف دور کر دے اور مجھے شفا عطا فرما دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا ، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کے اثرات ختم کر دے۔) (ابوداؤد: [صحیح])

یہ پڑھیں:        اسم اعظم کیا ہے؟!

شہنشاہ کہلوانے اور دوسرے کو اپنا بندہ کہنے سے اجتناب کرنا چاہئے:

سیدنا ابوہریرہtبیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولeنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں وہ شخص سب سے زیادہ ذلیل اور قابلِ نفرت ہو گا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلاتا ہے کیونکہ شہنشاہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ (رواہ مسلم)

سیدنا ابو ہریرہ tبیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول eنے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کو میرا بندہ نہ کہے بے شک تم سب کے سب اللہ کے بندے ہو ،ہاں میرا نو جوان کہہ سکتا ہے اور تم میں سے کوئی کسی کو اپنا مولیٰ نہ کہے کیونکہ تم سب کا مولیٰ اللہ ہے‘ ہاں میرا سردار کہہ سکتے ہو۔‘‘ (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی[صحیح])

اسلام نے آقا اور غلامی کا تصور ختم کیا ہے۔ اس لیے آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کے ساتھ اس میں غلامانہ ذہن کے ساتھ شرکیہ تصور کو بھی تقویت ملتی ہے جس سے روکا گیا ہے۔یاد رہے کہ علمائے کرام کو سردار کے معنوں میں ہی مولانا کہا جاتا ہے جسے جائز قرار دیا گیا ہے۔

لفظِ ’’کاش‘‘ کہنے سے اجتناب کرنا ہو گا:

سیدنا ابوہریرہtبیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولeنے فرمایا: ’’اللہ‘‘ کے نزدیک قوی مومن کمزور مومن سے بہتر ہے، ہاں خیر اور بھلائی دونوں میں ہے۔ فرمایا کہ اس چیز کے لیے بھرپور کوشش کرو جس میں تمہارے لیے بہتری ہے۔ اس کے حصول میں کمزور ی نہ دکھانا  جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ کاش! میں اس طرح کرتا تو اس طرح ہو جاتا، بلکہ کہو کہ جو ’’اللہ‘‘ نے چاہا وہ ہو گیا کیونکہ کاش کہنا شیطان کے کام کو آسان کر دیتا ہے۔‘‘ (مسلم)

کاش کا لفظ حسرت کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اس میں  قدرے عقیدے کی کمزوری پائی جاتی ہے جس سے شیطان فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ وہ انسان کو کمزور خیالات اور وسوسوں میں مبتلا کر دیتا ہے جس سے عقیدہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

’’جب تک اللہ نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ یقیناً اللہ بڑا علیم وحکیم ہے۔‘‘ (الدھر: ۳۰)

نمود و نمائش بھی شرک کے زمرہ میں شامل ہے:

سیدنا شداد tبیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ eکو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: جس نے دکھلاوے کی نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے دکھلاوے کاروزہ رکھا، اس نے شرک کیا‘ جس نے دکھلاوے کاصدقہ دیا اس نے بھی شرک کیا۔‘‘ (رواہ احمد:مسند شداد)

یہ پڑھیں:        اللہ کے پڑوسی

’’اے ایمان والو !اپنی خیرات کو احسان جتلا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر معمولی سی مٹی ہوپھر اس پر زور دار بارش برسے اور وہ اسے بالکل صاف کر دے ایسے ریا کاروں کو اپنی کمائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگااور اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ‘‘ (البقرہ: ۲۶۴)

اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے۔ آمین!


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages