ریاستِ مدینہ ... ہلکا سا تقابل 20-22 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 16, 2020

ریاستِ مدینہ ... ہلکا سا تقابل 20-22

ھفت روزہ اھل حدیث,ریاست مدینہ,ریاست مدینہ کا تعارف,ریاست مدینہ کا تقابل,
 

ریاستِ مدینہ ... ہلکا سا تقابل

تحریر: جناب پروفیسر عتیق اللہ عمر

رسول اللہe کا شمار ان چند انبیاء اور رسل میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی بادشاہت اور سلطنت سے بھی نوازا تھا۔تقریبا اپنی نبوت کا دو تہائی حصہ صرف کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست قائم ہوئی اور ایسا کرنا یا ہونا اسلام کے نظام کے نفاذ کے لیے بہر صورت ضروری تھا۔پھر تاریخ کی آنکھ نے دیکھا کہ اس کائنات میں انسانوں کا بہترین نظام سلطنت قائم ہوا جہاں احترام انسانیت سے لے کر عدل و انصاف اور انسانوں کے بنیادی حقوق سے لے کر جانوروں تک کے حقوق کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ایک ایسی ریاست کہ جس میں ہر کسی کو جینے کا برابر حق حاصل تھا۔

یہ پڑھیں:        ٹک ٹاک بندش ... مارکیٹنگ اجارہ داری کی جنگ

ایسی ریاست کہ جس میں معاشی‘ سیاسی اور سماجی انصاف کا دور دورہ تھا۔ ایسی ریاست کہ جس میں امیر غریب‘ شاہ و گدا قانون کے سامنے سب برابر تھے‘ ایسی ریاست کہ جس میں جزا و سزا کا یکساں نظام قائم تھا ایسی ریاست کہ جس میں حکومت کو خدمت اور سربراہ کو سب سے بڑا خادم بن کے رہنا ہوتا تھا۔

ایسی ریاست کہ جہاں پر مساوات‘ رواداری اور بھائی چارہ غرضیکہ وہ تمام چیزیں موجود تھیں جو انسانوں کے لیے کسی بھی معاشرے کو پر امن بنانے کے لئے مطلوب ہوتی ہیں۔

صرف یہ نہیں بلکہ ریاست چند ہی سالوں میں عرب سے نکل کے عجم اور پھر تین براعظموں تک پھیل گئی۔ انصاف اس قدر عام ہوا کہ بھیڑ اور بھیڑیا ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے نظر آئے‘ کوئی خاتون تن تنہا حراء سے لے کر صنعاء تک پہنچی زیورات میں ملبوس لیکن کوئی اس کی دولت اور عزت کو ٹیڑھی نگاہ سے نہ دیکھ سکا۔

ایسی ریاست کہ جہاں زکوۃ دینے والے تو عام تھے لیکن لینے والے کوئی نہ تھا۔ ایسی ریاست جس کا سربراہ اپنی وفات کے بعد اپنے پچھلوں کے لئے کوئی لمبی چوڑی جائیداد چھوڑ کر نہیں جاتا تھا۔ ایسی ریاست جو غیر مسلموں کو بھی ان کے حقوق برابر دیتی نظر آئی۔ ایسی ریاست جو اندرون اور بیرون تمام تر سازشوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی تھی۔ ایسی ریاست جس نے دنیا میں پہلی مرتبہ تحریری آئین متعارف کروایا۔

ایسی ریاست جس میں نہری نظام‘ عدالتی نظام‘ معاشی نظام‘ سیاسی نظام ذرائع آمدورفت اور ذرائع مواصلات کا ایسا نظام قائم ہوا کہ تاریخ انسانی دنگ رہ گئی۔

یہ پڑھیں:       جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ نظام نہ صرف یہ کہ باقی کی تمام اسلامی ریاستوں میں بلکہ پوری دنیا کے مختلف ممالک میں ایک ماڈل اور نمونے کے طور پر اپنایا جاتا لیکن بدقسمتی یہ کہ بیگانے تو کیا اپنوں نے بھی  منہ موڑ لیا اور نتیجتاً انسانی نظام قائم ہوئے اور پھر انسان دن بدن زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا گیا۔ہر روز ایک نیا نظام سر اٹھانے لگا۔۔۔ایک نیو ورلڈ آرڈر آنے لگا اور مختلف تجربات کرتے کرتے انسان آج تلک سرگرداں ہیں کہ کس طرف کا سفر ہے اور منزل کون سی ہے؟؟؟

ریاست پاکستان کے حوالے سے بھی پہلے دن قائد پاکستان نے فرمایا تھا کہ ہمارا نظام چودہ سو سال پہلے ترتیب پا چکا ہے‘ بدقسمتی سے وہ اس کے نفاذ سے پہلے ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔بعد میں آنے والوں نے اپنے اپنے تجربات کر کے نت نئے نظام آزمائے۔ ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن حالت یہ ہے کہ

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

چند سال پہلے پاکستان کے ایک سیاسی لیڈر اورموجودہ وزیر اعظم کرکٹ کی دنیا میں مجھ سمیت بہت سارے پاکستانیوں کے ہیرو جناب عمران خان نے اسی ریاست مدینہ کا خواب دکھانا شروع کیا۔بائیس سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد یہ کارواں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گیا۔ اپنی آئینی مدت کا تقریبا ۴۰ فیصد حصہ مکمل کرنے کے بعد آج میری طرح ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ وہ ریاست مدینہ جس کا دعوی آپ کرتے تھے‘ جس کے خواب آپ نے دیکھائے تھے‘ جس کا تذکرہ تقریبا آپ کے ہر خطاب میں ہوتا ہے وہ وعدہ کیا ہوا؟!

یہ تو نہیں کہنا چاہ رہا کہ ان چند سالوں میں  میں مکمل ریاست مدینہ کا نظام قائم ہو جاتا لیکن کم از کم سفر شروع تو ہونا چاہیے یا کم ازکم شروع ہوتا نظر آنا چاہیے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ہلکا سا تقابل کریں کہ اس ریاست مدینہ اور آج کے والی ریاست مدینہ کے نظام میں کیا تقابل ہے تو لیجئے جناب ہلکی سی مماثلت تفاوت یاتقابل ہے۔چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

یہ پڑھیں:       مکہ مکرمہ ... مہبط وحی اور مولد النبی ﷺ

ریاست مدینہ کا والی جس مکان میں رہتا تھا اس میں چارپائی بچھنے کے بعد جائے نماز کی جگہ بھی باقی نہیں بچتی تھی‘ آپ کا بنی گالہ اور زمان پارک؟

ریاست مدینہ کے والی کی قمیض پر 17۔17 پیوند ہوتے تھے اور آپ کی ڈریسنگ؟

ریاست مدینہ کے والی کے گھر کا چولہاہفتوں نہیں چلتا تھا اور آپ کے کچن کا خرچہ؟؟؟!

ریاست مدینہ کا والی دن کو مخلوق اور رات کو خالق سے رابطے میں رہتا تھا اور آپ کی راتیں؟

ریاست مدینہ کا والی زندگی کی آخری سانس پر بھی پاؤں گھسیٹتے ہوئے نماز باجماعت کے لئے آیا اور آپ کی نمازیں؟

ریاست مدینہ کا والی نماز عید کے لیے جاتے ہوئے غریب کے بچے کو روتا دیکھ کر گھر پلٹا‘ حسنین] کے کپڑے پہنائے  اور پھر اس غریب بچے کی انگلی پکڑ کر میدان عید میں گیا‘ آپ نے ایسی کتنی  عیدیں پڑھی ہیں؟؟؟ ریاست مدینہ کا والی رات کو گلیوں میں چکر لگا کر رعایا کی خبرگیری کرتا تھا‘ آپ کو اپنے عوام کی کتنی فکر؟

ریاست مدینہ کا والی ایک پائی بھی جمع کرنے کا روادار نہیں تھا‘ آپ کے بینک بیلنس؟ ریاست مدینہ کا والی اس زمانے کی تمام سپر پاورز کے ساتھ ٹکر لینے کے باوجود کھلے میدان میں اینٹ کا سرہانہ لے کر سو جایا کرتا تھا‘ آپ کی سکیورٹی اور گارڈز ؟

ریاست مدینہ کا والی اپنے عوام کی بھوک ختم کرنے کے لیے رات کے پچھلے پہر راشن کی بوری اپنے کندھوں پر اٹھا کر غریب کے دروازے تک پہنچاتا تھا‘ آپ کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی؟

ریاست مدینہ کا والی دریائے فرات کے کنارے کسی جانور کے بچے کا مر جانا بھی اپنی مسؤلیت سمجھتا تھا‘ آپ کا سانحہ ساہیوال؟

ریاست مدینہ کا والی لوگوں کو ان کی جان  اور عزت کا تحفظ فراہم کرتا تھا‘ آپ کا موٹروے زیادتی کیس؟

یہ پڑھیں:        حج 2020ء ... سعودی حکمت عملی

ریاست مدینہ کا والی ایک معاذ بن جبلt کو کہیں گورنر لگاتا تو پورے کا پورا یمن چند سالوں میں امن اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا‘ آپ کا وسیم اکرم پلس؟ ریاست مدینہ کا والی قانون کی نظر میں اپنی صاحب زادی حسنین کریمین] کی اماں حیدر کرارt کی اہلیہ اور جنتی عورتوں کی سردار بی بی فاطمہ الزہرہr کا ہاتھ بھی کاٹنے کی بات کرے‘ آپ کا جہانگیر ترین‘ پرویز خٹک‘ خسرو بختیار اور سب سے بڑھ کر علیمہ باجی کا کیا بنا؟ ریاست مدینہ کا والی کامیابیوں کے بعد سب سے پہلے اپنے دشمنوں کو معاف کرے اور آپ ہر روز اپنے سیاسی دشمنوں کو نیچا دکھانے کی نئی کہانی اور نوید سنائیں؟

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں

جناب من!!!! ریاست مدینہ کا والی ایک عام خاتون کی درست رائے کے مقابلے میں ایک منٹ سے پہلے  اپنی بات واپس لے اور آپ کی عقل کل؟

ریاست مدینہ کا والی غسان کے بادشاہ کو بھی کسی کو تھپڑ مارنے کی پاداش میں بدلہ دینے یاراضی کرنے کا حکم سنائے اور آپ کے دندناتے اور صحافیوں پر چڑھ دوڑتے وزراء؟

ریاست مدینہ کا والی عوام کے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر کے مقابلے میں دو پتھر باندھ کے چلتا تھا اور آپ کے بے روزگار ہوتے ہوئے عوام؟

ریاست مدینہ کا والی اپنی زرہ گم ہونے کے مقدمے میں عدالت میں پیش ہوکر قانونی مطالبات پورے نہ کرنے پر مقدمہ واپس لے‘ سرنڈر کرے اور آپ کی عدالتوں سے مسلسل غیر حاضر ی اور نیب کی یکطرفہ کارروائیاں؟

ریاست مدینہ کا والی جو کہے کر دکھائے اور آپ کے نت نئے یوٹرنز؟

یہ پڑھیں:        قرار دادِ مقاصد کی اہمیت

جناب وزیراعظم صاحب! میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ سے پہلے گزرنے والے حکمران فرشتے تھے اور دودھ کی نہریں بہا کے چلے گئے لیکن کم از کم آپ انہیں چور ڈاکو کہنے اورنت نئے دعوے کرنے سے باز تو آئیں‘ خدارا! اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پاؤں گرم اور دماغ ٹھنڈا رکھیے۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔


درس بخاری شریف


دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید


No comments:

Post a Comment

Pages