سیرت کا پیغام 20-23 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 22, 2020

سیرت کا پیغام 20-23

ھفت روزہ اھل حدیث, اداریہ, سیرت کا پیغام,
 

سیرت کا پیغام

 

قمری مہینوں میں ربیع الاول کے مہینے کو یہ شرف ملا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیe اس ماہ میں اس دنیا میں تشریف لائے‘ ربیع الاول کا مہینہ اور سوموار کا دن بلا اختلاف متعین ہے۔ البتہ تاریخ پیدائش کے متعلق ماہرین نے تحقیق کے نتیجہ میں ۹ ربیع الاول کو ترجیح دی ہے۔  اور ۱۲ ربیع الاول وہ دن ہے جب آنحضرتe اس دنیا سے اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے۔ اللہم بالرفیق الاعلیٰ۔

یہ پڑھیں:          تحفظ ناموس صحابہ]

ربیع الاول کی مناسبت سے اگر ہم غور کریں تو ہمیں سیرت کا ایک جامع پیغام ملتا ہے۔ سیرت کا پیغام عالمگیر پیغام ہے جو بنی نوع انسان کی رشد وفلاح پر مبنی ہے یہ نجات کا راستہ ہے اور بلاشبہ اس سے ہٹنے والا نجات وکامرانی کی راہ سے ہٹ جاتا ہے۔

سیرت کا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کیا جائے‘ حاجت روا اور مشکل کشا اسے ہی سمجھا جائے۔ امید‘ توکل بھروسہ اور لو لگانے کا سزا وار اسے ہی گردانا جائے اور اس کے ما سوا سے آرزوؤں کے بر آنے کو شرک سمجھا جائے اور اپنی زندگیوں سے شرک کا ہر شائبہ نکال دیا جائے۔

سیرت کا پیغام یہ ہے کہ انسان خصوصاً مرد اپنی معاشی ذمہ داریوں کو بچپن سے سمجھنا شروع کرے‘ وہ کسی پر بوجھ نہ بنے‘ نہ دست سوال کسی کے سامنے دراز کرے‘ گدا گری سے مکمل گریز کرے اور کسب معاش میں اگر بکریاں چرانی پڑیں یا لڑکپن سے ہی پیشۂ تجارت ملے تو اس کے ساتھ وابستہ ہونے سے گریز نہ کرے۔

سیرت کا پیغام یہ ہے کہ انسان زندگی کے ہر حصے میں حق کی پہچان اور حق کی تبلیغ کے لیے جد وجہد جاری رکھے‘ کبھی اس سے نہ رکے اور نہ کبھی عاجز آئے۔

سیرت کا پیغام معیشت کے شعبے کو سود سے پورے طور پر پاک کرنا اور ضرورتمندوں کی حاجات کا خیال رکھنا ہے‘ سودی سسٹم کے ذریعے کیا گیا تعاون دراصل پریشانی اور قرض لینے والے کے لیے مزید وبالِ جان ہے اور مال دینے والے کے لیے بے برکتی اور خیرات کے اُٹھ جانے اور رحمتوں کے خاتمے کی بنیاد ہے۔ لینے اور دینے والوں کے امور شرعاً درست ہوں‘ تجارت کاروبار اور مزدوری میں بھی آجر اور اجیر کے لیے بھی سیرت نے اپنا روشن پیغام دیا ہے۔ جس پر عمل کر کے ہم معیشت کا شعبہ درست کر سکتے ہیں۔

معاشرت میں سیرت کا پیغام باہمی محبت اور یگانگت کی دعوت ہے کہ معاشرے میں ہر فرد خصوصا کمزوروں اور پسے ہوئے طبقات کا خیال رکھا جائے اس خبر گیری پر اُخروی اجر وثواب کے وعدے اور فضائل اس کی ترغیب کو مضبوط کرتے ہیں‘ یہ اسلام کے معاشرتی نظام کا حسن ہے۔

یہ پڑھیں:          ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

استحصال کی سب سے زیادہ شکار عورت تھی‘ پیغام سیرت سے اسے محفوظ اور باوقار مقام ملا‘ لیکن لبرلزم پر فریفتہ اور یورپ کے مادر پدر آزاد معاشرے سے متأثرہ گروہوں نے اس کی عزت میں کوئی اضافہ نہ کیا بلکہ اسے پہلے سے زیادہ پستی اور ذلت کی گہرائی میں گرا دیا اور اسے اشتہار بنا دیا۔

سیرت کا پیغام معاشرے میں اَمن وامان کا قیام ہے‘ اس کی بنیاد اسلام کے بلند پایہ اور عادلانہ قوانین پر رکھی گئی ہے۔ ان قوانین پر عملدرآمد کی آج اشد ضرورت ہے‘ لیکن عجب ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں جرائم پر انگریز کا قانون لاگو کیا جاتا ہے یا قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے اور اُن روشن قوانین سے روشنی نہیں لی جاتی جن کی بنیاد پر (مخالفین اسلام کے نزدیک بھی) لازوال امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سیرت کا پیغام فیصلوں میں عدل وانصاف ہے‘ لیکن عدل وانصاف کے ذمہ دار افراد اور ادارے عدل وانصاف کے لفظوں کے اظہار میں اور ان کی طرف محض اپنی نسبت میں ہی کھوئے ہوئے ہیں۔ عدل وانصاف کی حقیقت سے ان کا تعلق نہیں ہے یہاں یہ چیزیں بیچی جا رہی ہیں جو غریب لوکوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ سستا اور مفت صرف ظلم ہی ملتا ہے۔

سیاست اور قوم کی رہبری میں سیرت کا پیغام بہت جامع ہے۔ امیر وحکمران عام رعایا کی طرح ملک وقوم کے افراد ہیں اور سہولیات کے حصول میں عام شہری ہیں لیکن ہم جس نظام سے جڑے ہوئے ہیں اس نے اس حوالے سے بڑے طبقاتی بعد پیدا کر دیئے ہیں جن کے ہوتے ہوئے اصلاح احوال ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

سیرت کا ایک پیغام دنیا کی بے ثباتی پر یقین کر کے اپنی آخرت اور ہمیشہ کی زندگی کی کامیابی کے لیے کوشش کرنا بھی ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے سے تعلق رکھے‘ ذکر وعبادات کے ذریعے سے اپنے دل کی دنیا آباد رکھے کہ اسی سے دلوں کو حیاتِ جاودانی اور سکون ملتا ہے۔

سیرت کا پیغام حق کو قبول کرنا‘ اسے دوسروں تک پہنچانا اور اس پر عمل کرنا بھی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے خالی انسان سراسر خسارے میں ہے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو بڑا کامیاب سمجھتا رہے۔ سیرت کا پیغام حق کے ابلاغ میں لگے رہنا‘ تسلسل عمل اور جد وجہد سے پیچھے نہ ہٹنا ہے اور اس راہ میں آنے والی تکالیف کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا ہے۔

یہ پڑھیں:          سعودی عرب کا قومی دن

سیرت کے پیغام کی وسعتوں کا کوئی اِحاطہ نہیں کر سکتا‘ اس وسیع سمندر سے چند موتی وجواہر پیش کیے ہیں۔

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان اور مسلک اہل حدیث سے وابستہ تمام افراد سیرت کے پیغام کو واضح کرنے‘ اس پر عمل کرنے اور اسے آگے پہنچانے پر یقین رکھتے ہیں۔

ربیع الاول پہلی بہار ہے جو انسانوں کی خزاں رسیدہ زندگیوں میں آئی‘ اسی بہار سے بہاریں وابستہ ہیں‘ اگر اس بہار کے پیغام کو سمجھ لیا جائے۔                 ؎

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا

وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

 

ضروری اطلاع


بیرون ملک جامعات میں داخلہ کے خواھشمند طلبہ کے حصول تزکیہ کیلئے ضروری گذارشات


No comments:

Post a Comment

Pages