عظمتِ مصطفیٰﷺ 20-23 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 22, 2020

عظمتِ مصطفیٰﷺ 20-23

ھفت روزہ اھل حدیث, عظمتِ مصطفی, سیرت نبوی, سیرۃ النبی,
 

سیرۃ النبیﷺ  ......   چوتھی قسط

عظمتِ مصطفیٰﷺ

 

تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفار حلیم

سیدِکائنات حضرت محمدe کے سرمبارک پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے تمام مخلوقات میں سے انسانوں کاانتخاب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’تین کی قسم، زیتون کی قسم، طور سیناکی قسم، مکہ شہر کی قسم، لقد (یہ بھی ایک قسم ہے) اللہ نے پانچ قسمیں کھائیں۔ ہم نے تمام مخلوق سے انسان کو احسن بنایا۔‘‘ (التین)

’’ہم نے انسان کو ساری مخلوق سے مکرم بنایا۔‘‘

یہ پڑھیں:         سیرت النبی ﷺ (پہلی قسط)

تمام مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو چن لیا۔فرشتوں نے اپنی عظمت اورانسان کی پستی کاتذکرہ کیا  اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایامیں انسان کی عظمت کو جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔میں نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ خَلَقْتَہٗ بِیَدَیَّ اورتم کو کُنْ کہہ کر پیداکیا۔تمہاری سرشت میں صرف خدمت ،فرماں برداری اورتسبیح و تقدیس کرنا شامل ہے مگرانسان کی سرشت میں ہدایت یا کفر کو اختیارکرنے کی صلاحیت بھی رکھی ہے ۔

﴿اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا۰۰۳﴾

﴿فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ﴾

فرشتوں نے اپنے آپ کو بہتر کہا تھااورانسان کو گھٹیا، لڑائی جھگڑا، خون خراباکرنے والا فسادی کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کوانسانوں کی خدمت پرمامورکردیا۔

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

سبق ملا ہے معراجِ مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

اور پنجابی کے شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

جس آدم تھیں بہتر ملکاں اپنی ذات بتائی

اوسے دے رب خادم کیتے اٹھ گئی اُچیائی

حدیث شریف میں ہے کہ فرشتوں نے ایک دن اکٹھا ہوکر اللہ تعالیٰ سے التماس کی کہ یا اللہ دنیا اور اس کی نعمتیں آپ نے انسان کو دے دیںجنت ہمیں عطاکردے۔اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاکہ میں جنت بھی اُسی کو دوں گا جس کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔اس لیے نیابت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو چنا ۔

’’ہم نے اپنی امانت سب مخلوق پر پیش کی سب نے یہ بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا مگر انسان نے اس منصبِ نیابت کی ذمہ داری اُٹھالی۔‘‘ (الأحزاب)

یہ پڑھیں:          سیرۃ النبی ﷺ (دوسری قسط)

اور اللہ نے خلافت کے لیے مخلوقات میں سے انسانوں کو چنا۔اورنبوت کے لیے انسانوں میں سے انبیاء کو چنا۔

﴿اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۳۳﴾ (ال عمران)

آدم اصطفیٰ، نوح اصطفیٰ، ابراہیم اصطفیٰ، اسحاق اصطفیٰ، یعقوب اصطفیٰ، یوسف اصطفیٰ، سلیمان اصطفیٰ، دائود اصطفیٰ، زکریا اصطفیٰ، یحییٰ اصطفیٰ، عیسیٰ اصطفیٰ، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اصطفٰیٰ اور پھر اصطفٰی میں سے جسےچُنا وہ ہیں محمدمصطفیٰ e۔

[عن وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى كِنَانَةَ مِنْ وَّلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفٰى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفٰى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ".] (رواہ مسلم)

چُنے ہوؤں سے پھرچنا،ساری کائنات میں سے انسانوں کو چنا، انسانوں میں سے ابراہیم ؑ کو چنا، ابراہیم ؑ کے دوبیٹوں میں سے اسماعیل ؑ کو چنا، اسماعیل ؑ سے بنوکنانہ کو چنا،بنو کنانہ سے بنوقریش کو چنا، بنوقریش سے ہاشم کو چنا، ہاشم سے عبدالمطلب کوچنا، عبدالمطلب کے دس بیٹوں میں سے عبداللہ کو چنا،عبداللہ اور آمنہ کے لختِ جگر دُرِّ یتیم محمدکو چنا (e) اور پھر فرمایا

آپe نے فرمایا: ’’میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہتر لوگوں میں پیدا کیا۔ پوری دھرتی سے عرب کوچنا، عرب سے حجازکوچنا، حجاز سے مکہ مکرمہ کوچنا، مکہ مکرمہ سے عبداللہ کے گھر کو چنا جہاں مصطفٰی کی ولادت ہوئی۔اللہ نے سب سے بہتر قبیلے میں مجھے پیداکیا، سب سے بہتر گھر میں میری ولادت ہوئی، میں سب سے بہتر نسب میں اوربہتر گھر میں پیدا ہوا۔‘‘ (ترمذی)

پھر اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ ﴾ (ال عمران)

یہ پڑھیں:          سیرۃ النبی ﷺ (تیسری قسط)

عظمت ِ مصطفیٰe یہ ہے کہ اپنے محبوب کو عبداللہ کے گھر بھیج کر کائنات والوں کو کہا کائنات والو چلو میرے محبوب ؐکے دروازےپر،ابوبکر بنو تمیم کو چھوڑ کے محبوبؐ کے دروازے پر،عمر فاروق بنو عدی کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،عثمان ذوالنورین بنو امیہ کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،علی بنو ہاشم کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،بلال حبشہ کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،صہیب روم کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،سلیمان فارس کو چھوڑ کر محبوبؐ کے دروازے پر،جبریل سدرہ کو چھوڑکر محبوبؐ کے دروازے پر،کلام خدا قرآن مجید لوح محفوظ سے اتر کر محبوبؐ کے دل اطہر پر،ساری کائنات جنت کے دروازے پر اور دروازۂ جنت مصطفیٰؐ کے کھلوانے سے کھلے گا۔

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

فخر دو عالم eکی ۹ ربیع الاول پیر کی صبح ولادت ہوئی۔ ۹ ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اللہ نے کہا ربیع الاول۔ ربیع بہار کو کہتے ہیں اوّل‘ پہلی بہار۔ جب بہار آتی ہے تو کلیاں مسکراتی ہیں۔جب بہار آتی ہے تو پھول کھلتے ہیں۔ جب بہار آتی ہے تو بلبل گنگناتی ہے۔جب بہار آتی ہے تو سبزے لہلہاتے ہیں۔جب بہار آتی ہے تو دل و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔جب بہار آتی ہے تو ہر سو رونقیں آ جاتی ہیں اور بہار اس وقت آتی ہے جب خزاں ہو،صبح تب ہوتی ہے جب پہلے رات ہو ،جب اندھیری رات عین شباب کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ صبح صادق کو پیدا کرتے ہیں،جب خزاں گلستاں کو ویران کرے اس کی شادابی کو اجاڑ دے تو اللہ تعالیٰ بہار کو پیدا کرتے ہیں۔عرب کی تپتی ہوئی وادی میں کفر پھیلا تھا، شرک کا دور دورہ تھا،ظلمت چھائی ہوئی تھی،دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔روشنی اور نور کی کوئی بھی کرن نہ تھی۔ جہالت اور خباثت کا دوردورہ تھا۔بتوں،شمس و قمر اور شجر و حجر کی پوجا تھی۔ماں ،بہن،بیٹی کی کوئی تمیز نہ تھی۔بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔صدیوں کی دشمنی سے قبائل مٹ چکے تھے۔مردار کھایا جاتا تھا۔شرابیں پینا فخر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ معاشرہ اس قدر ابتر ہو چکا تھا کہ اس وقت انسان کی درندگی پر درندے بھی شرمائیں۔اس جہالت میں صدیاں گزر چکی تھیں۔

[فَکُنَّا عَلٰی ذٰلِکَ حَتَّی بَعَثَ اللہُ فِیْنَا رَسُوْلًا نَعْرِفُ نَسْبَہُ وَحَسْبَہُ وَصِدْقَہُ وَدِیَانَتَہُ.] (بخاری)

یہ پڑھیں:            معلم انسانیت اور حکمت وتدریس

اچانک رب کی رحمت جوش میں آئی ۔اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے جو حسب نسب میں امانت دیانت صداقت میں ممتاز تھا، اُس کے سرپر نبوت کا تاج رکھ دیا۔

’’اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ جس وقت رسول معبوث کیا جو انہی میں سے ہے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی کتاب تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔‘‘ (آل عمران)

جو نبی بڑی خوبیوں والا، نہایت اعلیٰ صفات والا، بڑی عظمت والا، مکہ بھی اعلیٰ، خاندان بھی اعلیٰ، قبیلہ بھی اعلیٰ، حسب ونسب بھی اعلیٰ، حجاز بھی اعلیٰ، عبداللہ کا گھر بھی اعلیٰ اور رسول بھی اعلیٰ (e)

ہوئے پہلوئے آمنہ سے ہویدا

دعائے خلیل ونوید مسیحا

اللہ تعالیٰ نے سیدہ آمنہ کے آنگن میں ایک ایسا سدا بہار پھول کھلا دیا جس کی مہک سے ساری کائنات معطر ہو گئی ۔جس کی روشنی سے جہاں روشن ہو گیا۔

اَج دھرتی تے موسم بہار آ گیا

بی بی آمنہ دا سوہنا  منٹھار آ گیا

……

اُدھر لاکھ ستاروں سے ہے بزم کہکشاں روشن

اِدھر ایک شمع روشن سے ہے دونوں جہاں روشن

﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ۰۰۴۵ وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا۰۰۴۶﴾ (الأحزاب)

آیا  مزمل  آیا  مدثر

طہٰ  آیا  یسین  آیا

دردیں بھکیاں داساقی تسیاں دا

بن کے رحمت للعالمین آیا

سراج منیر بشیر نذیر آیا

رب گھلیا لے کے نور مبین آیا

قسم رب دی پچھ حُسین کولوں

کائنات تھیں ودھ حسین آیا

ہمیشہ چمکتا ہوا سراج

ہمیشہ چمکتا ہوا سورج

یہ پڑھیں:         قرآن کریم اور اطاعت رسولﷺ

سیدہ عائشہ صدیقہ نے کیا خوب فرمایا تھا:

لَنَا شَمْسُ وَلِلْاٰفَاقِ شَمْسُ

وَشَمْسِیْ خَیرٌ مِنَ شَمْسِ السَّمَاءِ

فَاِنَّ الشَّمْسَ تَطْلَعُ بَعْدَ فَجْرٍ

وَشَمْسِیْ طَالِعٌ بَعْدَ الْعِشآءِ

نبوت کے چمکتے ہوئے سورج سے جہان کا ذرہ ذرہ روشن ہو گیا۔پر نور کعبہ اور بھی پر نور ہو گیا۔آفتا ب نبوت کی روشنی ہر سو پھیلتی چلی گئی ۔دن بھی روشن،رات بھی روشن،صبح بھی چمکے ،شام بھی چمکے،مشرق بھی اجالا،مغرب بھی اجالا‘ شمال بھی اجالا جنوب بھی اجالا،دنیا کا چپہ چپہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ کی صدا سے گونج اٹھا۔

نبوت کا سورج طلوع ہوتے ہی اس کی پہلی کرنوں نے برملا اعلان فرما دیا:

1       یتیموں کو کہہ دو کہ تمہارے سر پر در شفقت رکھنے والا محمدؐ آگیا ہے۔

2       بیواؤں کو کہہ دو کہ تمہارے سروں پر دوپٹہ رکھنے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

3       رونے والوں کو کہہ دو کہ تمہیں ہنسانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

4       اُجڑے ہوؤں کو کہہ دو کہ تمہیں بسانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

5       مظلوموں سے کہہ دو کہ تمہیں انصاف دلانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

6       غریبوں کو کہہ دو کہ تمہاری دلجوئی کرنے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

7       بھوکوں کو کہہ دو کہ تمہیں راہ راست پر لانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

8       زنگ آلود دلوں سے کہہ دو کہ تمہارا تزکیہ کرنے والامحمدؐ آ گیا ہے۔

9       بھٹکتے ہوؤں سے کہہ دو کہ تمہیں راہ راست پر لانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

0       گنہگاروں سے کہہ دو کہ تمہیں بخشوا کر جنت میں لیجانے والا محمد ؐ آ گیا ہے۔

!       مایوس ہونے والوں سے کہہ دو کہ تمہیں آس دلانے والا محمدؐ آ گیا ہے۔

@       یتیموں سے کہہ دو کہ تمہارے آنسو پونچھنے والا محمدؐ آگیا ہے۔

یہ پڑھیں:          معراج النبی ﷺ

کائنات کی مخلوقات میں سے انسانوں کو چناانسانوں سے نبیوں کو چنا اور نبیوں سے امام کائنات فخر دو عالم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو چنا۔

﴿وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ۰۰۸۱﴾ (ال عمران)

عالم ارواح میں انبیاء کرام سے جس کا امتی ہونے کا وعدہ لیا گیا۔ محمدرسول، تم اس کے امتی۔ محمدمقتدا ،تم اس کے مقتدی۔محمد امام،تم اُس کے پیچھے نماز پڑھنے والے‘ نبیوں کا نبی، نبیوں کا امام، نبیوں کا پیشوا، امام کائنات، سیدالاولین والآخرین حضرت محمد e۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

……

خدا سے تو کم ہیں اور سب سے زیادہ

دو عالم سے اعلیٰ ہمارے محمد e

[قَلَّبْتُ مَشَارِقَ الْاَرْضَ وَمَغَارِبِہَا فَمَارَاَیْتُ رَجُلًااَفْضَلَ مِنْ مُحَمَّدٍ.] (عن عائشہ سیرت النبی ابن کثیر)

جبریل کہے میں

لہندے چڑھدے ڈھونڈیا جگ ترسیلا

نہ  مانس  کو ئی  محمد  جیہا  نہ  ہاشم  جیہا  قبیلہ

یہ پڑھیں:          نبی کریمﷺ بحیثیت منصف  و قانون ساز

پھرفخردوعالمؐ کو ہرچیز چن کردی ۔قرآن دیاتمام کتابوں سے چن کر، مکہ مکرمہ دیا تمام قبلوں سے چن کر، مدینہ منورہ دیا تمام شہروں سے چن کر، بیویاں دیں سارے جہان کی بیویوں سےچن کر، اصحاب دیے تمام نبیوں کے اصحاب سےچن کر، اہل بیت دیے تمام نبیوں کے اہل بیت سےچن کر، زمانہ دیا تمام زمانوں سےچن کر(خیر القرون قرنی)، خلفائے راشدین دیے تمام خلفاء سےچن کر، اُمت دی تمام امتوں سےچن کر۔ کنتم خیر امۃ۔

نہ ہم سیم و زر اے خدا مانگتے ہیں

نہ ہستی شوکت نما مانگتے ہیں

فقط ایک تجھ سے دعا مانگتے ہیں

محمد کے در کی قضا مانگتے ہیں


ضروری اطلاع


بیرون ملک جامعات میں داخلہ کے خواھشمند طلبہ کے حصول تزکیہ کیلئے ضروری گذارشات


No comments:

Post a Comment

Pages