محبت صحابہ واہل بیت ریلی ... آنکھوں دیکھا حال 20-23 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 22, 2020

محبت صحابہ واہل بیت ریلی ... آنکھوں دیکھا حال 20-23

ھفت روزہ اھل حدیث, مرکزی جمعیت اھل حدیث, محبت صحابہ, محبت اھل بیت, محبت صحابہ واہل بیت,
 

محبت صحابہ واہل بیت  ریلی ... آنکھوں دیکھا حال

رپورٹ: جناب محمد ابوبکر فاروقی

۲/ اکتوبر بروز جمعہ فیصل آباد کی جماعتی تاریخ میں ایک تابناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ مرکزی جامع مسجد اہل حدیث امین پور بازار فیصل آباد کی تعمیر نو کے بعد افتتاحی خطبہ جمعہ کے لئے قائد ملت سلفیہ علامہ پروفیسر حافظ ساجد میر صاحب حفظہ اللہ تعالی امیر مرکزیہ پاکستان کو مدعو کیا گیا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث فیصل آباد نے باہمی مشاورت سے مجوزہ ’’محبت صحابہ و اہل بیت] ریلی‘‘ کو حتمی شکل دینے کا ارادہ کر لیا اور حضرت امیر کی آمد کو غنیمت جانتے ہوئے اس عظیم الشان ریلی کے انعقاد کا فیصلہ کر لیا۔

یہ پڑھیں:          اجلاس کابینہ وعاملہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب

جماعت نے دو اکتوبر کو خطبہ جمعہ کے فورا بعد دو بجے دوپہر ریلی کا اعلان کیا تو فیصل آباد کے پندرہ جماعتی حلقہ جات میں رابطہ مہم کا آغاز کر دیا گیا‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اہل حدیث یوتھ فورس کے ذمہ داران نے تمام حلقہ جات کے طوفانی دورے کیے تو فیصل آباد کے در و دیوار محبت صحابہ و اہل بیت] کے اشتہارات اور بینرز سے سج گئے اور سوشل میڈیا پر ریلی کی دھوم مچ گئی،شہر کے معروف چوراہوں میں جہازی سائز کے فلیکس آویزاں کردیے  گئے۔

ایک طویل عرصہ کے بعد فیصل آباد میں تحریک دیکھنے میں آئی، پروفیسر نجیب اللہ طارق امیر مرکزیہ فیصل آباد، مولانا عبد المنان نور پوری ناظم مرکزیہ فیصل آباد، قاری محمد حنیف بھٹی، یاسر بٹ صدر یوتھ فورس فیصل آباد، انور نعیم جنرل سیکرٹری فیصل آباد نے اپنے اپنے ارکان کابینہ اور دیگر رفقاء کے ساتھ شبانہ روز محنت کی اور  ایک تاریخ رقم کر دی۔ فیصل آباد کی ہر مسجد تک خود پہنچے،ہر علاقہ تک اشتہار پہنچائے، ہر فرد تک پر خلوص دعوت پہنچی۔قائدین ہر دوسرے روزمختلف کمیٹیوں کے اجلاس طلب کرتے اور روزانہ کی رپورٹ پہ غور و غوض کیا جاتا۔صرف پندرہ دن کا وقت میسر تھا اور کئی سالوں کے بعد تحریک کو تیز کرنا تھا مگر مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اہل حدیث یوتھ فورس فیصل آباد کے قائدین نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا ذیلی سے ایک دن پہلے رات تین بجے تک امیر شہر اپنے رفقاء کیساتھ انتظامات میں مصروف تھے جب ان کی یہ تصاویر وائرل ہوئیں تو جماعت کے کارکنان کے جوش وجذبہ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ امیر محترم کا خطبہ جمعہ ایک تاریخی اجتماع کی شکل اختیار کر گیا فیصل آباد کی تمام تحصیلوں اور اضلاع بھر سے قافلے پہنچ گئے۔

یہ پڑھیں:          ناموس صحابہ وناموس اہل بیت] پر حملے ناقابل برداشت ہیں: پروفیسر ساجد میر

خطبہ جمعہ کے بعد شہر بھر سے حلقہ ذمہ داران کی قیادت میں کارکنان جلوسوں کی شکل میں دیوانہ وار امین پور بازار پہنچنا شروع ہوگئے خطیب شہر قاری احمدحسن  ساجد، خطیب پاکستان قاری بنیامین عابد اور عالمی شہرت یافتہ مبلغ مولانا ناصر مدنی بہت بڑے جلوسوں کی قیادت کرتے ہوئے ریلی میں شریک ہوئے علاوہ ازیں شہر بھر سے نگران حلقہ جات اور یوتھ فورس کے ذمہ داران کی قیادت میں سینکڑوں قافلوں میں شریک ہزاروں کارکنان عظمت صحابہ و اہل بیت] کے ترانے گاتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے سینکڑوں پلے کارڈ،بینرز اور فلیکسز نے ریلی کے حسن کو دوبالا کر دیا‘ ریلی میں جب قائد ملت سلفیہ علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب شریک ہوئے تو کار کنان کا جوش دیدنی تھا فلک شگاف نعروں سے فیصل آباد کی فضاء گونج اٹھی صحابہ اہل بیت رضی اللہ عنھم کے دیوانے دیوانہ وار چلے جا رہے تھے ریلی جب سرکلر روڑ پر پہنچی تو کارکنان امین پور بازار تک ایک طویل جلوس کی شکل میں موجود تھے قافلے آتے جارہے تھے اور ریلی کو ریلہ بناتے جا رہے تھے ادھر جلسے کیلئے سجایا گیا پنڈال بھی محبان صحابہ و اہل بیت] سے بھرتا جا رہا تھا واقفان حال بتاتے ہیں کہ فیصل آباد کی تاریخ میں اتنی بڑی جماعتی ریلی کبھی دیکھنے کو نہیں ملی دوسرے مسالک کے لوگ جو لائیو دیکھ رہے تھے یا فیس بک پر لائیو دیکھ رہے تھے وہ یہ کہنے پے مجبور ہو گئے تھے کہ ’’اینے وہابی کتھوں آگئے نے‘‘۔

دو اکتوبر صبح آٹھ بجے سے سٹیج کی تیاری اور جلسہ گاہ کی نگرانی پر مولانا عبدالمنان نورپوری،علامہ عبد الصمد معاذ،پروفیسر امین الرحمان ساجد اور انور نعیم مامور تھے جن کی معاونت اہل حدیث یوتھ فورس کے سیکیورٹی دستہ نے کی اور ایک خوبصورت سٹیج دیکھنے کو ملا‘ سٹیج پر کھڑے احباب کو کچہری بازار کی وسعتیں سمٹتی نظر آئیں۔ ضلع کونسل چوک  پریس کلب تک ریلی کے شرکاء پھیلے ہوئے تھے یوں لگتا تھا کہ انسانوں کا ایک سمندر امڈ آیا ہے دوپہر کا وقت، تپتی دھوپ کی حدت اور موسم کی شدت کے باوجود صحابہ و اہل بیت] کے دیوانے قائدین کی زیارت اور ان کی گفتگو سننے کو مشتاق تھے‘ سٹیج کے بلکل سامنے میڈیا نمائندگان کے مخصوص ایریا میں موجود پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینوں کا ایک ہجوم تھا جو ان تاریخی لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھے پیغام ٹی وی کی اسپیشل ٹیم بھی میڈیا گیلری میں موجود تھی اگلے روز فیصل آباد کے تمام مقامی اور انٹرنیشنل اخبارات میں ریلی کو بھر پور کوریج  بھی دی گئی۔

سٹیج اور پنڈال میں دوران ریلی کی ذمہ داری اہل حدیث یوتھ فورس فیصل آباد کے چاق و چوبند کارکنان سنبھالے ہوئے تھے برادر انور نعیم نے سکیورٹی جیکٹس بھی سکیورٹی اہلکاران کو فراہم کر رکھی تھیں۔

یہ پڑھیں:          اہل مدارس کے نام ایک دردمندانہ اپیل

ریلی کچہری  بازارپہنچ کر ایک عظیم الشان جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی عظیم سکالر پروفیسر امین الرحمٰن  ساجد صاحب نے مائیک سنبھالا اور قاری عبد القیوم فرخ صاحب مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی تلاوت سے اس عظیم الشان پروگرام کا آغاز کیا اسٹیج پر حضرت الامیر کے علاوہ امیر پنجاب، امیر ضلع، امیر شہر، خطباء عظام، علماء  کرام، قائد ین مرکزیہ، قائدین یوتھ فورس، جمعیت اساتذہ، جمعیت طلباء اور پیغام ٹی وی کے نمائندگان اور شہر بھر کے زعماء کی کثیر تعداد موجود تھی۔ پروفیسر محمد یاسین ظفر صاحب حفظہ اللہ تعالی کی گفتگو سے تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا، انہوں نے ریلی کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ فیصل آباد کی فقید المثال ریلی کسی مسلک کے خلاف نہیں، اور نا ہی اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں بلکہ ہم صحابہ و اہل بیت] کی محبت میں نکلے ہیں اور ان پاکباز ہستیوں کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

خطیب شہر قاری احمد حسن ساجد نے اپنے پرجوش خطاب سے ریلی کے شرکاء کے جذبات کی خوب ترجمانی کی انہوں نے محبت صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنھم کیلیے تن من دھن قربان کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اہل حدیث یوتھ فورس کی نمائندگی کرتے ہوئے  قائد پنجاب حافظ  محمد قسیم شیخوپوری نے ایک قائدانہ خطاب کیا، انہوں نے نوجوانوں کو اسوہء صحابہ و اہل بیت] پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دی، اور دشمنان صحابہ و اہل بیت] کی ریشہ دوانیوں پر گہری نظر رکھنے کی ترغیب دی۔

 امیر شہر علامہ پروفیسر نجیب اللہ طارق نے طبیعت کی ناسازی کے باوجود ایک ولولہ انگیز خطاب کیا، انہوں نے صحابہ و اہل بیت] کے نعرے لگوا کر ماحول کو گرما دیا  بعد ازاں امیر شہر نے کہا کہ ۱۵ روزہ محنت شاقہ کی شدید تھکاوٹ اس فقید المثال ریلی کو دیکھ کر  دور ہو گئی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ مبلغ مولانا ناصر مدنی نے اپنے مخصوص انداز میں فکر انگیز خطاب کیا، مختصر وقت میں جامع گفتگو کرتے ہوئے ناموس صحابہ و اہل بیت] کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد لیا۔

قائد پنجاب مولانا عبد الرشید حجازی  صاحب نے مرکزیہ سٹی و ضلع فیصل آباد اور یوتھ فورس،سٹی و ضلع فیصل آباد کے جملہ ذمہ داران اور کارکنان کو اس بے مثال ریلی کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی علاوہ ازیں انہوں نے جملہ معاونین خصوصاً مہر عبداللہ کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا۔

یہ پڑھیں:          استحکام پاکستان ریلی

قائد ملت سلفیہ علامہ پروفیسر ساجد میرd کو جب دعوت خطاب دی گئی  تو کارکنان نے پر جوش انداز میں ان کا استقبال کیا، امیر محترم نے عوام الناس کے جم غفیرکو دیکھ کر اور کارکنان کی محبت کا مشاہدہ کر کے ایک فکر انگیز اور جذباتی گفتگو کی  انہوں نے صحابہ و اہل بیت] کی گستاخی کے جسارتوں کے بڑھتے واقعات پر گہرے رنج والم کا اظہار کیا اور اس عفریت کو قابو کرنے کے لیے حکومت کو بہترین تجاویز پیش کیں۔

امیر محترم کے خطاب کے بعد شیخ الحدیث علامہ حافظ مسعود عالم صاحبd کی دعا سے اس عظیم الشان پروگرام کا اختتام ہوا۔

کارکنان محبت صحابہ و اہل بیت] سے لبریز دلوں کے ساتھ ایک نیا جوش اور ولولہ لے کر گھروں کو واپس روانہ ہوئے  پروگرام کے اختتام پر جملہ شرکاء کے لیے ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔


ضروری اطلاع


بیرون ملک جامعات میں داخلہ کے خواھشمند طلبہ کے حصول تزکیہ کیلئے ضروری گذارشات


No comments:

Post a Comment

Pages