بانکے رام سے محدّثِ زماں تک 20-23 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Thursday, October 22, 2020

بانکے رام سے محدّثِ زماں تک 20-23

ھفت روزہ اھل حدیث, شخصیات, علمائے اھل حدیث, محدث زماں, بانکے رام سے محدّثِ زماں تک,

بانکے رام سے محدّثِ زماں تک

 

(دوسری قسط)    تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالرب ثاقب (برمنگھم)

اور نہ جانے کتنی کتابیں اور مضامین ومقالات اور کتابچے ! ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی ہر کتاب کے ان کی زندگی میں ہی کئی کئی ایڈیشن شائع ہوکر مقبول عام ہوئے اور بہت سی زبانوں میں ان کے تراجم ہوئے انھوں نے روز اول ہی سے ان تمام کتابوں کی کوئی رائلٹی اپنے نام پہ نہیں رکھی انھوں نے کھلے عام اجازت دی ہے کہ میری ساری کتابوں کو ان کے تراجم کو ان کے خلاصہ جات کو جس طرح چاہیں شائع کرسکتے ہیں مجھ سے اجازت لینے کی کوئی ضرور ت نہیں ہے !

یہ پڑھیں:         حیات وخدمات ... حافظ صلاح الدین یوسفa

اللہ اکبر یہ ان کے لئے بہت بڑا صدقۂ جاریہ ہے اللہ کریم قبول فرمائے آمین !  ایک اہم سیرت کی کتاب کو جو پانچ؟ ہجری کے بعدسے اب تک نو سو سال میں محدثین عظام کے منہج پر ایسی کتاب شائع نہیں ہوئی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیرت مطہرہ کی یہ عظیم الشان کتاب شاید ان کی زندگی کی آخری تصنیف ہو ، الحمدللہ ان کی ایک ایک کتاب زندۂ جاوید معلوم ہورہی ہے ،اور دیگر کتب اللہ کی توفیق ومدد سے منظر عام پر آسکیں، [ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء]

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں!

ڈاکٹر اعظمی صاحب کی وفات کے بعد مولانا عبدالمالک مجاہد حفظہ اللہ مدیر دارالسلام ریاض، پاکستان، امریکہ ولندن نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ ڈاکٹر اعظمی صاحب بڑے مہمان نواز ،بہت زیادہ محبت کرنے والے ،محدث زماں فضیلۃ الشیخ الدکتور محمد عبد اللہ الاعظمی المعروف ضیاء الرحمن بڑی ہی عظیم شخصیت کے مالک تھے ۹؍ذی الحجہ عرفہ کے دن اذان ظہر کے وقت ان کے بیٹے کا فون آیا کہ ابھی والدصاحب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں! میں نے ان کے تعلق سے پڑھا بھی تھا اور سنا بھی تھا، غالباً وہ جس وقت کلیۃ الحدیث کے ڈین تھے میں ان سے ملاقات کی اور اس کے بعد یوں سمجھئے کہ ان کا دولت خانہ گویا میرا ’’ پیر خانہ ‘‘ بن گیا ،اس لئے کہ میں نے مدینہ منورہ میں بھی دارالسلام ریاض کی برانچ قائم کی تھی اور میرا ایک بیٹا بھی مسجد نبوی میں حفظ قرآن کررہا تھا اسی مناسبت سے مدینہ منورہ میرا گھر آنگن ہوگیا اور اکثر ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی ؒ سے ملاقات ہوتی رہتی تھی اور وہ ہمیشہ پرتپاک ملتے تھے اپنی دنیا ہی وہ الگ رکھتے تھے ہر وقت وہ اپنی وسیع لائبریری میں رہتے اور ساتھ ہی چائے کی کیتلی اور اس کا سامان بھی رکھتے تھے تاکہ اس کے لئے گھر سے بن کر آنے کاانتظار نہ رہے ۔ایک رات میں اور ڈاکٹر ذاکر نائک اور ایک نجی ایرلائن کے مالک دکتور ضیاء الرحمن ؒ کے مکان میں عشاء کی نماز کے بعد بیٹھ گئے ،ڈاکٹر صاحب کے مکان کے قریب ترکی ہوٹل ہے جس کے کباب بڑے اچھے ہوتے ہیں ہماری خواہش پر انہوں نے ترکی ہوٹل کے کباب منگوائے اور فجر کی اذان تک ہماری بات ہوتی رہی ،مولانا عبد المالک مجاہد نے کہا کہ دکتور ضیاء الرحمن اعظمی ؒ نے ایک خواب بیان کیا کہ میں نے ’’الجامع الکامل فی الحدیث الشامل‘‘ سے فراغت کوئی تو اسکی طباعت کا مسئلہ تھا ،خواب میں حضرت شیخ بن باز ؒ نے کہا کہ یہ کتاب عبد المالک مجاہد سے چھپواؤ ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کتاب مجھے عنایت کی ،میں اور میری ٹیم نے بڑے ہی اہتمام سے بیروت سے اس کی بہترین طباعت کا انتظام کیا، ڈاکٹر ذاکر نائک بھی ان کی کتب کو دنیا میں پھیلانے کے لیے کوشاں رہتے تھے ! واضح ہوکہ مولانا عبد المالک مجاہد صاحب ( اللہ ان کو سلامت رکھے اور انکی عمر بعافیت دراز فرمائے) ہندوپاک بلکہ ساری دنیا میں مولانا مختار احمد ندوی ؒ کے بعد سب سے زیادہ بہترین لڑیچر پھیلانے میں ان کی کوششوں کا بڑا دخل ہے ! اللہ کریم انھیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ! دہلی کے ایک عالم دین کا سفر امریکہ جو آج سے غالباً بارہ ،پندرہ سال قبل ان کے سفر نامہ میں نے پڑھا تھا کہ امریکہ میں گویاکہ سلفی لٹریچر کا فلڈ آگیا ہے، ڈاکٹر علامہ محدث زمانہ محمد عبد اللہ اعظمی المعروف ضیاء الرحمن ؒ کے تعلق سے مولانا محمد عبدالہادی العمری فاضل مدینہ یونیورسٹی جو ڈاکٹر صاحب کے کلیۃ الحدیث میں شاگرد بھی ہیں یہ اکثر سعودی عرب کی دعوت پر ریڈیو اور TVپر دعوت وارشاد کے لئے برطانیہ سے جاتے ہیں انہوں نے اپنا ایک بیان سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’اللہ کا انعام بانکے رام یہ وہ مضمون ہے جسے صاحب مضمون کی سند حاصل ہے۔ محترم فضیلۃ الشیخ الدکتور ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق بہت سے احباب نے لکھا اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا ہر ایک نے اپنے انداز سے گلہائے عقیدت نچھاور کئے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیردے لیکن ان میں ایک مضمون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے وہ  استاذ العلماء الشیخ حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری ناظم جامعہ دارالسلام کا مضمون ہے ’’اللہ کا انعام بانکے رام‘‘ یہ مضمون ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہی لکھا گیا تھا اور راہ اعتدال کے جس شمارہ میں چھپا اسکی ایک کاپی مدینہ منورہ آنے والے کے ذریعہ دستی طور پر پہنچ چکی تھی اور ان ہی دنوں ڈاکٹر شیخ محمد الیاس اعظمی عمری استاذ جامعہ دارلسلام عمرآباداور محترم شیخ عبداللہ سعود سلفی ناظم جامعہ سلفیہ بنارس اور کچھ معززین کی ملاقات ڈاکٹر صاحبa کے گھر پر طے تھی اسی بیٹھک میں جس میں جامعہ دارالسلام اور جامعہ سلفیہ سے وابستگان موجود تھے شیخ ضیاء نے راہ اعتدال کا تازہ شمارہ میرے ہاتھ میں تھما تے ہوئے مذکورہ مضمون پڑھنے کا حکم دیا میں نے اس کو بآواز بلند پڑھنا شروع کیا اور سب ہی معززین سن رہے تھے جن میں خود ڈاکٹر صاحب کے فرزندان بھی شامل تھے، جب موصوف کی ابتدائی زندگی کا تذکرہ آیا تو مجھ پر رقت کی عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی کیونکہ جن کے متعلق یہ بات کہی گئی تھی اب ان کی قدر و قیمت اتنی ہے کہ انکے ساتھ ملاقات کے لیے بھی معززین کو وقت لینا پڑتا ہے اور ڈاکٹر صاحب سرنگوں سارا مضمون سنتے رہے، جب مضمون ختم ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے نہایت متواضع انداز میں اتنا کہا کہ یہ استاذ محترم مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری صاحب کے سیال قلم کا کمال ہے ورنہ میں کیا اور میرا کمال کیا، یوں گویا مذکورہ مضمون کو صاحب مضمون کی سند حاصل ہوگئی! ‘‘

یہ پڑھیں:          مدیر اعلیٰ بشیر انصاریa سے ایک یادگار انٹرویو

راقم الحروف جب جامعہ دارالسلام عمرآباد میں غالباً چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اس سال شام کے کھانے بعد چہل قدمی میں محترم ضیاء الرحمن صاحب سے تعارف ہوا، بعدازاں گاہے ماہے ان سے علیک سلیک ہوتی رہتی تھی اور مگر ان کی عظمت دل میں جاگزیں ہوچکی تھی کہ پانی کے حوض کے قریب بیٹھ کر درسی کتابیں پڑھتے تھے اور اس ڈرسے کہ کہیں آنکھ لگ جائے تو پانی کے حوض میں گر پڑیں گے ! اس طرح ایک سال میں دوسال کا کورس مکمل کیا اور حضرت ابو البیان حماد ؔ صاحب العمری مدظلھم العالی کے پاس کوئی وقت نہیں تھا تو انھوں نے تہجد کے وقت اپنے اس تلمیذ رشید کو پڑھانے کے لئے وقت دیا تھا اور شاگرد رشید اس وقت آخر شب میں مولانا کی خدمت میں پہنچ جاتے تھے اور پس پردہ مولانا کی أہلیہ( آپا صاحبہؒ) بھی ان کے ساتھ پڑھتی تھیں بیک وقت دونوں کو تعلیم دیتے تھے ،یہ باتیں واقعی ہر ایک کی بس کی نہیں ہیں الامن رحم ربی! (سوائے ان کے جن پر اللہ کریم نے فضل وکرم کیا ہو) اور انجمن دائرۃ الادب میں جب ان کی تقریر ہوتی تو بڑی ہی گرج دار آوازمیں اور بڑی ہی جوشیلی تقریر ہوتی اور انجمن کے سارے طلبہ ہمہ تن گوش ہوکر ان کی تقریر سنتے تھے ،میرے خیال میں تحریر بھی مولانا ابوالکلام آزادؒ جیسی تھی اور تقریربھی ان ہی جیسی ہلادینے والی ہوتی تھی ! اس سال انھوں نے میری خواہش پر سالانہ جلسہ کے لئے ایک تقریر لکھ کر دی تھی ،تقریر کیا تھی گویا کہ مولانا آزادؒ کی تحریر یا تذکرہ کے اقتباسات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ضیاء الرحمن صاحب نے مولانا آزادؒ کو اتنا پڑھا تھا کہ انکی تحریر میں مولانا آزاد ؒ کا رنگ غالب تھا۔

یہ پڑھیں:          پروفیسر عبدالرحمن لدھیانویa

مولانا چونکہ’’ عمر لائبریری‘‘ کے لائبریرین تھے ،صبح ناشتہ تک اور شام بعد نماز عصر سے نماز مغرب کے قریب تک روزانہ لائبریری میں بیٹھے کتابیں پڑھتے تھے جس کی وجہ سے شاید سیکٹروں کتابیں ان کے مطالعہ سے گزرچکی تھیں ،بحرحال اس سال کے سالانہ جلسہ میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن کو تقریر کا انعام اول اور راقم الحروف کو انعام دوم کا مستحق قرار دیا گیا ! میری یہ خواہش ہوتی کہ میں انجمن کے سالانہ جلسوں میں ہمیشہ تقریر ہی کروں ، مگر انجمن کے ذمہ داران طلباء اور بعض اساتذہ کرام کے حکم پر دو سال مجھے مکالمہ کرنا پڑا، مکالمہ میں ناچیز کو مو لوی کا کردار پیش کرنا ہوتا اور میرے کلاس فیلو جناب عبد الحق شوراپوری کو مسٹر کا کردار دیا جاتا رہا (اللہ میرے دوست کو غریق رحمت کرے چند سال قبل وہ اللہ کے پاس چلے گئے ہیں آمین یا رب العالمین) اور بقیہ دو سال مجھے بخاری کے جلسوں میں نظم پڑھنے کا حکم دیا جاتا رہا ! اس طرح نو سال میں انجمن کے سالانہ جلسوں میں اور بخاری جلسوں میں تسلسل کے ساتھ مجھے ان میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہا ! یہ اعزاز بھی شاید جامعہ دارالسلام میں بہت ہی کم طلباء کو حاصل ہوا ہوگا ! ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء ،انجمن اصلاح الاخلاق کے سالانہ جلسہ میں جب کہ میں جماعت سوم میں تھا اور اس سال مولانا حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی حفظہ اللہ، مدینہ منورہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوکر جامعہ واپس آئے تھے ان کی صدارت میں سالانہ انجمن کا اجلاس ہوا تھا اس میں راقم الحروف کو انعام اول سے نوازا گیا تھا اور مجھے یاد ہے اس وقت مولانا جلال الدین انصر ؔ عمری صاحب حفظہ اللہ کی مصنفہ کتاب’’عورت اسلامی معاشرہ میں‘‘ بطورانعام دی گئی تھی الحمدللہ رب العالمین۔ ایک سال مولانا ضیاء الرحمن اعظمی صاحب کی جانب سے مضمون نویسی کے مقابلہ کا اعلان نوٹس بورڈ پر لگایا گیا تھا ، چوتھی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلباء کے لئے مضمون نویسی کا عنوان’’ سچ کی جیت ‘‘ دیا گیا اور اس پر نقد انعام بھی رکھا گیا تھا ، راقم الحروف نے اس میں حصہ لیا اور الحمدللہ اس میں انعام اول کا مستحق قرار دیا گیا ! میرا زمانۂ طالب علمی ۱۹۶۲ء تا ۱۹۷۰ء ہے اور اس وقت جامعہ میں ۹ سال کا نصاب تعلیم تھا بعد میں ابتدائی جماعت میں زیادہ تر فارسی کی کتابیں ہوتی تھیں وہ کلاس ختم کردی گئی بلکہ بڑے طلباء کے لیے مزید ۳ سال گھٹا کر ۵ پانچ سال کا تعلیمی نصاب بنادیا گیا تاکہ طلباء عزیز کی عمر عزیز کے مزید ۳ سال کو بچایا جاسکے ! اور جامعہ کے تعلیمی سال کے اختتام پر صبح ۹ بجے جلسہ کا آغاز ہوتا اور سب سے پہلے فارغ ہونے والے طلباء صحیح بخاری کی آخری ایک ایک حدیث باری باری پڑھتے اور صحیح بخاری کی آخری حدیث آخری طالب علم پڑھتے بعدازاں حضرت ناظم جامعہ واستاذ مولانا حافظ عبد الواجد رحمانی ؒ اسی آخری حدیث پر تقریباً نصف تا پون گھنٹہ کا علمی اور دلنشیں انداز میں درس دیتے اور اس سال فارغ ہونے والے طلباء کو سند بخاری دی جاتی بعد ازاں اس کا دوسرا پروگرام شروع ہوتا تھا ،بعد میں پتہ چلا کہ ختم بخاری کا یہ پروگرام ختم کردیا گیا۔ بحر حال داستاں دراز ہوگئی ہے ،مختصر یہ کہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی صاحب کے جامعہ سے فراغت کے بعد مولانا خلیل احمدعمریؒ کی زبانی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میںدونوں کے داخلے کی خوشخبری ملی۔

ناچیز کو شادی کے بعد کسب معاش کے لیے صحرانوردی کرنی پڑی تو الخبر سعودی عرب پہنچا، اللہ کریم نے چارمرتبہ حج بیت اللہ اور کئی عمروں کی سعادت عطا فرمائی، ربنا تقبل منا! اس عرصہ میں ایک مرتبہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب اعظمی عمری مدنی سے ان کے دولت کدہ پر ملاقات کی، مولانا نے میرے ہاتھ کولڈرنک کا ایک ڈبہ تھما دیا اور غالباً اپنے ایک شاگرد کو املا کرارہے تھے ،عصر کے بعدکا وقت شیخ محترم کے خاص مطالعہ کا ہوگا ،مجھے اس کا پتہ نہیں تھا اور نہ میں قبل از وقت فون پر اجازت لے کر گیا تھا بس اچانک ہی وارد ہوگیا تھا اس کے باوجود ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے مجھے پہچان لیا اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں میرے داخلہ کے لئے کوشش کرنے کا وعدہ فرمایا تھا مگر میرا حال ایسا کہ ’’ مدعی سست وگواہ چُست‘‘ وہ اللہ کے ولی تو بالکل تیار تھے مگر میں معاشی افکار ودیگر مسائل کا شکار ان سے پھر رابطہ نہ کرسکا ،دونوں کے درمیان ایک ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ جہاز الخبر سے جدہ پورے دو گھنٹے وقت لیتا ہے! انہوں نے اپنی ہمدردی اور شفقت کی پیشکش کی مگرمیں قبول کرنے سے محروم رہ گیا ! میرے دونوں بیٹوں محمد عبد الرؤف عمری اور حافظ محمد عبد الرافع کو اللہ کریم نے جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض میں تعلیم حاصل کرکے فراغت کا موقع عطا فرمایا ہے یہ سوچ کر میں دل کو بہلانے کی کوشش کرتا ہوں اور اللہ کی حمد وشکر میں جیتا ہوں ۔ لہ الحمد ولہ الشکر !

یہ پڑھیں:          علوم اسلامیہ کا سائباں جو اُٹھ گیا ... پروفیسر عبدالرؤف ظفرa

اب آخری ایک بات عرض کروں کہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب اپنے نام کے ساتھ ــ’’ پتھک‘‘ کا لفظ لگاتے تھے ،میں سمجھتا ہوں یہ ان کا تخلص تھا ،شاید ابتداء میں اُنھیں شاعری کا کچھ ذوق تھا، میری طالب علمی کے زمانہ میں دائرۃ الادب کے طلباء قلمی ماہنامہ’’ تنویر‘‘ کے نام سے نکالتے تھے اس میں ایک مرتبہ محترم ضیاء الرحمن پتھک کے چند اشعار چھپے تھے مجھے اب تک جو یاد ہیں وہ یوں ہیں اردو اور انگریزی زبان کی مشترکہ شاعری تھی !

اک دن نکلے گھر سے ہم

رین واز فالنگ جھمّا جھم

پھر بھی ٹرائی خوب کیے ہم

لیگ مائی پھسلا گر گئے ہم

ھلّو مُلاّ کَمْ کَمْ کَمْ

مُلاَّ آکر کردیا دَم

اور بھی کچھ اشعار تھے جو آدھ پونے یاد آرہے ہیں مگر پورے نہیں شاید جامعہ دارالسلام عمرآباد کی لائبریری یا دارالمطالعہ کے اسٹور میں ۱۹۶۶ء تا ۱۹۶۹ء کے درمیانی عرصہ کے’’ تنویر ‘‘ میں ہوں گے اگر وہ اوراق پارینہ محفوظ ہوں تو ! انسان تیزی سے چلے جارہا ہیں تو اوراق پارینہ کا کیا بھروسہ ہے ! نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے !بقول:

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں!

یہ پڑھیں:          شیخ القراء قاری محمد یحییٰ رسولنگریa

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہMAاور PHDکی ڈگریاں لینے کے بعد اردو ،عربی ،ہندی اور انگریزی میں شاعری کرتے یا ہر زبان میں الگ الگ اور ہر زبان میں شاعری کے کچھ مجموعے ضرور تیار کرلیتے مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کی کونسی خدمت ہوتی ،سوائے اس کے کہ ردّی میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا مگر اللہ کریم نے ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب سے وہ کام لیا ہے جو روز قیامت تک یاد رکھائے گا اور مخلوق خدا کی زبان پر قال اللہ اور قال الرسول ؐ کی پیاری صدائیں نغمے بکھیرتی ہوں گی اور مولف ومرتب کا شمار أمیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری ،امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام بیہقی، امام ابن جوزی ،امام نووی ،امام ابن حجر العسقلانی رحمہم اللہ اجمعین اور جملہ محدثین عظام کے پاکیزہ طائفہ منصورہ کی فہرست میں اس نو مسلم محدث کا نام بھی آئے گا اور یہ بھی روز حشر ان ہی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ان شاء اللہ ! سچ ہے ’’ ومن یر د اللہ بہ خیرا یشرح صدرہ للاسلام‘‘ (اللہ کریم جس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں) اے اللہ ہم ایسے تو نہیں بن سکے مگر ہمارے دل ودماغ میں ایسے نیک لوگوں کی محبت وعقیدت کوجاگزیں فرمادے اور وہ جو علمی ورثہ چھوڑ کر گئے ہیں ان سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور ہمیں عمل کے جذبہ سے سرشار فرمادے ! آمین یا رب العالمین !

احب الصالحین ولست منھم

لعل اللّٰہ یرزقنی صلاحا

ترجمہ: ’’میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں اگرچہ کہ میں نیک لوگوں میں سے نہیں ہوں، اِس اُمید پر کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں کچھ صالحیت سے مجھے بھی نواز دے !‘‘

دعا ہے کہ مولائے کریم کل کے بانکے رام اور آج کے محدث زماں ڈاکٹر وپروفیسر محمد عبد اللہ اعظمی عمری مدنی صاحبa المعروف ضیاء کی لغزیشوں سے درگزر فرماکر انہیں جنت الفردوس میں اونچے مقام پر فائز فرمادے اور ان کے علمی ورثہ کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے ۔اور اے رب العالمین جنہوں نے ان کے اسلام لانے کے لئے کوشش کی ہے اور جنہوں نے ان کی نصرت کی ہے اللہ کریم سب کو بھی تو ان سب کو بھی دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین !

یہ پڑھیں:          دار العلوم سراجیہ (نیپال) کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمنان سلفیa

پتھک ہندی لفظ ہے جس کے معنی رہبراور راہنما کے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے مشرق ومغرب اور شمال وجنوب اور عرب وعجم کے لوگوں کی رہبری اور رہنمائی کاکام کس طرح سے لیا ہے ما شاء اللہ تبارک اللہ ! وہ شاید صرف شاعری کے پتھک تھے مگر اللہ کریم نے ان سے مخلوق خدا کی کس طرح رہنمائی لی ہے! اور کس طرح رہبری کا کام ان سے لیا ہے ۔الحمدللہ علی ذلک!

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

ورنہ دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لیے



ضروری اطلاع


بیرون ملک جامعات میں داخلہ کے خواھشمند طلبہ کے حصول تزکیہ کیلئے ضروری گذارشات


No comments:

Post a Comment

Pages