دو یارانِ کُہن کا اَنتقال پُر ملال 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

دو یارانِ کُہن کا اَنتقال پُر ملال 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, دو یارانِ کُہن کا اَنتقال پُر ملال!
 

بشیر انصاری اور حاجی عبدالرحمن جوارِ رحمت میں

دو یارانِ کُہن کا اَنتقال پُر ملال!

 

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور

پچھلے دنوں ہمارے دو یارانِ کہن ایڈیٹر ’’اہل حدیث‘‘ بشیر انصاریa اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم مالیات حاجی عبدالرزاق داغِ مفارقت دے گئے۔ دونوں سے نصف صدی سے زائد عرصہ سے دوستانہ تھا۔ بشیر انصاریa پر بہت سے احباب نے تعزیتی مضامین تحریر کیے ہیں اور لکھے جائیں گے۔ مرحوم ایک مرنجاں مرنج شخصیت‘ کہنہ مشق صحافی وادیب اور مصنف تھے جبکہ وہ شگفتہ وعمدہ اخلاق وکردار کے مالک بھی تھے۔

یہ پڑھیں:            مفسر قرآن الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

جماعتی اجلاسوں میں جب بھی جانا ہوتا تو وہ میری معذوری اور علالت کا سہارا بنتے۔ بعض اوقات آگے بڑھ کر مناسب جگہ پر بٹھاتے۔ ان کی میٹھی میٹھی باتیں اور انکسار وعجز بھری یادیں بھلائے نہیں بھولتیں۔ انہوں نے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa کی سرپرستی اور رہنمائی میں پہلے ’’الاسلام‘‘ کی ادارت کئی برس کی اور پھر ’’اہل حدیث‘‘ میں برسوں سے مدیر اعلیٰ کے طور پر خوب کام کیا۔ حالات حاضرہ اور ملکی ودینی مسائل پر مختصر مگر جامع انداز سے تبصرہ فرماتے  جسے اہل قلم وقارئین سراہتے۔

مختلف موضوعات اور اسلاف کے سوانح پر راقم کے مضامین کو بڑی خوبصورتی سے شائع فرماتے۔ کئی دفعہ اہم موقعوں پر لکھنے کے لیے کہتے تو میں فورا تعمیل کرتا۔ چند ماہ سے وہ علیل چلے آ رہے تھے۔ میں ہفتہ عشرہ بعد فون پر ان کی خیریت پوچھتا رہتا تو بڑے خوش ہوتے اور دعائیں دیتے۔ ان کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے پکارتے وقت کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن نظامِ قدرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو اپنے پاس بلا لیا وہ بلاشبہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے حقیقی ترجمان اور اخلاص ومحبت پھیلانے والی بڑی مسحور کن ہستی تھے۔ عرب وعجم ہر مقام پر ان کی شہرت طرۂ امتیاز تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات پر اجر عظیم سے نوازے اور بخشش ومغفرت فرمائے۔

حاجی عبدالرزاق کا سانحۂ ارتحال بھی جماعتی لحاظ سے بڑا نقصان ہے۔ وہ مرکزی جمعیت کے مرحوم ناظم اعلیٰ میاں فضل حقa کی دریافت تھے۔ میاں صاحب دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ایک مردم شناس رہنما تھے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے حسب لیاقت ان سے کام لینا میاں صاحب کی خوبی تھی۔ حاجی عبدالرزاق سالہا سال سے مرکزی جمعیت کے ناظم مالیات چلے آ رہے تھے۔ اپنے پیش رو ناظم مالیات میاں عبدالمجید مرحوم کے وہ نعم البدل تھے‘ میاں صاحب مرحوم حساب وکتاب کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے ماہر مالیات تھے جنہوں نے مولانا داؤد غزنویa اور مولانا اسماعیل سلفیa جیسے اکابر کے ساتھ ہمیشہ جماعتی خزانہ کو مضبوط رکھا۔ حاجی عبدالرزاق نے بھی ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مالیات کے شعبہ میں انتہائی سرگرمی اور جد وجہد کی۔ امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میرd کے وہ انتہائی قریبی اور با اعتماد رفیق تھے۔

حاجی صاحب مالیات کی فراہمی کے لیے ملک کی جمعیتوں سے رابطہ رکھتے اور انہیں جماعتی زندگی اور تنظیم کے لیے فنڈز کی اہم ضرورت کا احساس دلاتے رہتے۔ جماعت کے عاملہ اور شوریٰ کے اجلاسوں میں گوشوارے جو آمدن واخراجات پر مبنی ہوتے بڑی ذمہ داری اور امانت ودیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان فرماتے۔ مرکزی جمعیت کے شاندار دفاتر کی تعمیرات میں ان کی تگ وتاز کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس شعبہ میں ان کے دونوں مرحوم رفقاء شیخ منظور احمد اور میاں نعیم الرحمن کی مساعی حسنہ کا بھی بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے اور اعمال صالحہ کو قبول فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

یہ پڑھیں:            شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید ہزاروی رحمہ اللہ

سیاسی لحاظ سے بھی حاجی صاحب مرحوم مشہور قائد تھے۔ صوبائی اسمبلی کے ممبر ہوتے ہوئے ان کی ملکی وملی خدمات کا بھی ہمیشہ اعتراف کیا جاتا رہا۔ غرضیکہ بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں جو کامیاب تاجر بھی تھے اور دینی وسیاسی رہنما بھی۔


No comments:

Post a Comment

Pages