رسول اللہ ﷺ ایک معلم اور مبلغ 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

رسول اللہ ﷺ ایک معلم اور مبلغ 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, رسول اللہ ﷺ ایک معلم اور مبلغ


رسول اللہ ﷺ ایک معلم اور مبلغ

 

تحریر: جناب مولانا طارق جاوید

معلم کا معنی ہے سکھانے والا، اور مبلغ کا مطلب ہے پہنچانے والا۔ یہ دو الفاظ معاشرے کی اصلاح میں بہت ہی اہم ہیں۔ دراصل یہ دونوں کام ایک شخص کرتا ہے یا دو مختلف افراد یہ کام کرتے ہیں۔ انسان نے سب سے پہلے جس ہستی سے علم سیکھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے [وَعَلَّمَ آدَمَ الاسماءَ کُلَّھَا] اور سکھا دئیے آدم کو سب چیزوں کے نام۔ تو پتہ چلا کہ انسان کے علم کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات اور اُس کی وحی ہے جیسے اُس نے سکھایا اُسی طرح اُس کو آگے پہنچانے کا بھی حکم دیا۔ فَلْیُبَلّغ الشاھد الغائب اور وما عَلَینا الّا البلغ المبین۔ تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی ابلاغ اور تبلیغ ہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد e کو مخاطب کر کے فرمایا:

{یا ایہا النبی بلغ ما انزل الیک۔ فان تفعل فما بلغت رسالتہ}

یہ پڑھیں:            عظمتِ مصطفیٰﷺ

یعنی تبلیغ کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ کی طرف جس چیز کی وحی کی گئی ہے آپ اُس کو آگے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے رسالت کا حق ہی ادا نہ کیا۔

ایک معلم کو معلم ہونے کے ساتھ ساتھ مُرّبی بھی ہونا چاہئے۔ کہ وہ اپنے طالب علموں کو نہ صرف علم سے روشناس کرائے بلکہ اُن کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت بھی کرے۔ ایک اچھے معلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کورس کی کتابیں پڑھانے کے ساتھ دینی اور اخلاقی بہتری کے لیے لیکچر بھی دے تاکہ کل کو یہ طالب علم اچھے انسان اور اچھے مسلمان بن سکیں۔ اسی طرح ایک مبلغ کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ پوری خیر خواہی کے ساتھ اپنی دعوت کو پہنچائے تاکہ سامعین اُس کی بات کو پوری طرح سمجھیں اور عمل کریں اور اپنے کردار کا حصہ بنائیں۔ معاشرے میں تین قسم کے افراد ایسے ہیں کہ انہیں ہمہ وقت عوام کی خدمت کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ معلم، مبلغ اور ڈاکٹر۔معلم سے اُس کا طالب علم کسی بھی وقت سیکھنا چاہے کوئی سوال پوچھے تو معلم کو اس کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ مبلغ سے بھی کسی بھی وقت دین کے بارے میں کوئی بھی مسئلہ پوچھیں یا رہنمائی لیں تو انہیں اُسی وقت اُن کی دینی رہنمائی کرنی چاہئے۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر کو بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیونکہ کسی بھی وقت کوئی مریض آ سکتا ہے۔ اُس کی تکلیف رفع کرنے کی پوری کوشش کرنا، اُس کی ذمہ داری ہے۔

اگر ہم معلمِ انسانیت، معلمِ کائنات حضرت محمد کریمe کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ آپ e ہر وقت تعلیم و تربیت اور ابلاغ کے لیے تیار رہتے تھے۔آپ e ایک دفعہ اپنے صحابہ کے ساتھ دارِ ارقم میں تھے دارِ ارقم مکہ مکرمہ میں کوہ صفا پر تھا یہ وہی گھر ہے جس میں نبی کریم e ابتدائے اسلام میں تشریف رکھتے تھے اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ اور صحابہ کرام] کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرتے تھے۔ اسی میں بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ اسی لیے دارِ ارقم کو دارالاسلام کا نام دیا گیا۔ عثمان بن ارقمt بیان کرتے ہیں کہ میں ساتواں شخص تھا جو آپe پر ایمان لایا تھا۔

یہ پڑھیں:            سیرت رسولﷺ کے چند اہم واقعات

نبی کریم e خواتین کی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ کبھی آپ خواتین کو کسی جگہ جمع ہونے کا حکم دیتے اور پھر وعظ فرماتے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ e کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی ساری باتیں مرد لے گئے یعنی وہ ہی زیادہ سنتے ہیں‘ اپنے وقت میں سے ایک دن ہمارے لیے مخصوص فرما دیجئے کہ ہم اس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے علم سے ہمیں تعلیم دیں۔ تو جنابِ رسول کریمe نے فرمایا: تم فلاں اور فلاں دِن جمع ہو جانا، چنانچہ وہ حسبِ ارشاد اکھٹی ہو گئیں۔ تو رسول اللہe ان کے ہاں تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے علم سے انہیں تعلیم دی۔ پھر آنحضرت e نے فرمایا: تم میں سے جو خاتون اپنی اولاد میں سے تین بچے آگے بھیجے گی (یعنی اس کے بچے چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے دوزخ کے سامنے رکاوٹ ہوں گے۔ ایک خاتون نے عرض کی اور دو اور دو آپe نے فرمایا اور دو اور دو بھی۔

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جہاں مردوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے تھے اِسی طرح عورتوں کی تعلیم و تربیت کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ تاکہ خواتین میں بھی علم کے حصول کی جستجو پیدا ہو۔ اور اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے لیے الگ نشست کا اہتمام کرنا چاہئے۔ تاکہ وہ اپنے سوالات بھی کر سکیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کر سکیں۔ ایک دفعہ آپ نے خواتین کو تعلیم دینے کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کو بھیجا وہ بھی دین کی تعلیم دے کر آئے۔

ایک دفعہ نبی کریمؐ معلمِ انسانیت ایک صحابی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاصw کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ کو معلوم ہوا تھا کہ وہ روزے (نفلی) بہت رکھتے ہیں۔ آپ نے انہیں راہِ اعتدال پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی۔ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔رسولِ کریم e انسانی نفسیات سے کس قدر آگاہ تھے۔ کسی پیرو کا شاگرد کی خیر خواہی کی غرض سے اس کے گھر جا کر اسے نصیحت کرنا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ تاثیر رکھی ہے۔ اے اللہ کریم ہمیں بھی نبی کریم e کے طریقے پر خیر خواہی سے تعلیم دینے کی توفیق عطا فرما۔ آمین!

ہجرت سے قبل مدینہ طیبہ میں رسول کریم e نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو ان کی تعلیم وتدریس کے لیے روانہ فرمایا وہ اُن کے گھر گھر جا کر دین اسلام کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک دفعہ سیدنا ابوہریرہt مدینہ کے بازار سے گزرے تو وہاں رک گئے کہنے لگے: اے بازار والو! تم کس قدر سست ہو! انہوں نے عرض کی: اے ابو ہریرہ کیا ہوا۔ انہوں نے فرمایا: وہاں رسول اللہ e کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم یہاں ہو، تم جا کر اس سے اپنا حصہ کیوں نہیں لے رہے؟ وہ کہنے لگے کہاں میراث تقسیم ہو رہی ہے انہوں نے جواب دیا: مسجد میں، وہ تیزی مسجد (نبوی) کی طرف گئے اور ابو ہریرہؓ ان کے واپس آنے تک وہیں رکے رہے واپس پلٹ کر کہنے لگے۔ اے ابو ہریرہ! ہم مسجد میں گئے اور اس میں داخل بھی ہوئے اور ہم نے وہاں کوئی چیز تقسیم ہوتی نہیں دیکھی، ابو ہریرہؓ نے ان سے فرمایا۔ تم نے مسجد میں کسی کو نہیں دیکھا وہ کہنے لگے کیوں نہیں۔ ہم نے ایک جماعت کو نماز پڑھتے دیکھا۔ ایک گروہ قرآن کریم کی تلاوت کر کے دیکھا اور ایک گروہ کو حلال وحرام اور دین کے مسائل آپس میں سمجھتے سمجھاتے دیکھا۔ ابو ہریرہؓ فرمانے لگے تم پر افسوس!  یہی تو رسول اللہ e کی میراث ہے۔

یہ پڑھیں:            معلم انسانیت اور حکمت وتدریس

اس واقعہ سے پتہ چلا کہ علم انبیاء کی وراثت ہے۔ اور علم سکھانے والوں کو انبیاء کے ورثاء کہا گیا ہے۔ فرمایا: العلماء ورثة الانبیاء۔

رسولِ کریمe کا فرمان ہے کہ [انما بعثت معلما] سوائے اس کے  نہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ کبھی بازاروں میں جا کر دعوت دیتے۔ گھروں میں دعوت دیتے اپنوں کو بھی دعوت دیتے غیروں کو بھی دعوت دیتے۔ سفر میں دعوت دیتے حضر میں بھی تعلم و تربیت کا اہتمام فرماتے۔

ایک دفعہ آپ سفر میں تھے آپ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا آپ e کے ساتھ ایک صحابی تھے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم e نے میری طرف توجہ فرمائی اور فرمایا کیا میں تمہیں قرآن کی افضل سورۃ کی خبر نہ دوں؟ وہ کہتے ہیں پھر آپ e نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت فرمائی۔

اس سے پتہ  چلتا ہے کہ دورانِ سفر بھی آپ تعلیم و تعلم کو جاری رکھتے تھے۔ آپ e کی زندگی تعلیم و تعلم سے عبارت ہے۔

نبی کریم e کا طریقہ تعلیم بھی کچھ عجیب ہی تھا۔ آج کل کی طرح  دو دو چار چار آٹھ آٹھ سال کا نصاب نہ تھا بلکہ جس شخص کو جتنی فرصت ملی اپنے لیے کافی علم حاصل کر لیتا اور اپنے علاقہ کے لیے پورا مبلغ اور معلم بن کر جاتا۔

حضور e باتوں ہی باتوں میں اپنے شاگردوں کو بڑے بڑے علمی نکات سمجھا دیتے۔ اخلاقی سبق سکھا دیتے۔ تمدن کے اصول بنا دیتے۔ تجارت و فلاحت کے گُر سکھا دیتے۔ صنعت و حرفت کی خوبیاں بتلاتے اور تمام علومِ ضروریہ کی تحصیل پر توجہ دلاتے۔ آپؐ کو علم اور علمی اداروں سے اس قدر شغف تھا کہ آپ عموماً یہ دعا کیا کرتے تھے۔ [رب زدنی علما ]۔

یہ پڑھیں:            خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق

اللہ تعالیٰ نے آپe کو جو خوبیاں عطا فرمائیں تھیں اُن میں آپؐ کو جامع کلمات کا عطا کرنا بھی ہے۔ آپe کے الفاظ مختصر اور جامع ہوتے۔ ارشاد فرمایا [السعید من وعظ بغیرہ ] سعادت مند وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت پکڑے۔ ایک موقع پر فرمایا: [سید القوم خادمھم ] قوم کا سردار گویا قوم کا خادم ہوتا ہے۔ بقول شاعر            ؎

جو منطقیوں سے حل نہ ہوا اور فلسفیوں سے کھل نہ سکا

وہ راز اک کملی  والے نے بتلا دیا  چند اشاروں میں

الغرض یہ چند کلمات طیبہ حضور e کے اس درس کا ادنیٰ ترین نمونہ ہیں جو آپؐ نے اہل عرب کو دیا اور جس سے وہ جاہل اور اجڈ قوم ایک مہذب، متمدن اور تعلیم یافتہ قوم بن گئی اور اسی تعلیم کا یہ اثر تھا کہ وہ غلامی کے تختہ سے اُٹھ کر حکومت کے تخت پر جا بیٹھے اور اس قدر ممتاز ہوئے کہ دنیا کی اقوام ان کی نظروں میں ہیچ ہو گئیں۔

نبی کریم e معلمِ انسانیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب مبلغ بھی تھے۔ جس طرح حضور e نبی ہو کر تمام انبیاء میں ممتاز اور اعلیٰ تھے اسی طرح ایک مبلغ ہونے کی حیثیت میں تمام دنیا کے مبلغوں، لیکچراروں، خطیبوں کے رہنما تھے اور انہیں صحیح طور پر تبلیغ، پرچار، لیکچر، تقریر اور خطبہ دینے کی تعلیم سکھانے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔

حضور نبی کریم e نے اپنی کوششیں زندگی کے تمام شعبوں میں زیادہ وقت اور توجہ تبلیغ کے لیے صَرف کیں۔ اور تبلیغ کو ہی سب سے زیادہ ترجیح دی۔ آپ بے شک ایک خاوند بھی تھے۔ ایک باپ بھی تھے۔ ایک امام بھی تھے۔ ایک حاکم بھی تھے مگر یہ سب حیثیتیں تبلیغی حیثیت کے تابع تھیں۔ آپ کی یہ تمام حیثیتیں تو محض اس لیے تھیں تاکہ آپ دنیا کے سامنے ایک کامل و اکمل اسوۂ حسنہ پیش کر سکیں۔

چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنا آخری رسول اور پیغام بر بنایا تھا۔ اس لیے آپ اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے۔ غرض زندگی کی ہر راہ میں عمل کے ہر شعبے میں مبلغ تھے۔ آپ کا ذکر و فکر تبلیغ تھا۔ آپ کی عبادت و ریاضت تبلیغ تھی آپ کی سپہ گری اور کشور کشائی تبلیغ تھی۔ آپ تبلیغ کا پیکر اور سراپا تبلیغ تھے۔ آپ مبلغ پیدا ہوئے، مبلغ بن کر جئے اور تبلیغ کی راہ میں نثار ہو گئے۔

آپ e نے اپنی اس تبلیغی حیثیت کے امتیاز کو خود ہی اس قدر واضح کر دیا ہے کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ آپ نے حجۃ الوداع کے دن جب ایک لاکھ چوبیس ہزار کے مجمع میں آخری تقریر کی تو تقریر کے بعد حاضرین سے پوچھا: اے حاضرینِ امت! کیا میں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ تو سب نے بیک آواز کہا:

[نشھد انک قد بلغت وادیت ونصحت ]

’’حضور! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے حق تبلیغ خوب ادا کیا۔ اپنا فرض ادا کر دیا۔ اور پوری خیر خواہی فرمادی۔‘‘

یہ پڑھیں:            صحابہ کرام] کے بارے میں اہم سنت کا موقف

اس پر آپ نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی طرف اُٹھائی اور فرمایا: [اللھم اشھد، اللھم اشھد، اللھم اشھد۔ ] اے اللہ سن لے۔ اے اللہ گواہ ہو جا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ یہ لوگ میرے حقِ رسالت و نبوت کے پہنچانے اور تبلیغ کے گواہ ہیں۔

تبلیغ صرف تقریر سے ہی نہیں ہوا کرتی بلکہ تبلیغ عمل سے بھی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے اپنے اعمال اچھے ہوں آپ کے اخلاق اچھے ہوں، آپ کا کریکٹر اچھا ہو تو یقیناً اس کا اثر دوسروں پر پڑے گا۔ حضورؐ کی تبلیغ میں بس یہی ایک راز تھا کہ آپ خود پیکر عمل تھے۔ اگر ہم بھی اپنے اخلاق اور اعمال کو درست کر لیں تو یقیناً ایک بہترین مبلغ بن سکتے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم زندگی کے تمام شعبوں میں تبلیغ کو مقدم رکھیں اور اس کو ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages