مدیر اعلیٰ بشیر انصاری رحمہ اللہ کے قلم کی جولانگاہ 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

مدیر اعلیٰ بشیر انصاری رحمہ اللہ کے قلم کی جولانگاہ 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, مدیر اعلیٰ بشیر انصاری رحمہ اللہ کے قلم کی جولانگاہ
 

مدیر اعلیٰ بشیر انصاری رحمہ اللہ کے قلم کی جولانگاہ

 

(تیسری وآخری قسط)       تحریر: جناب مولانا حمید اللہ خاں عزیز (ایڈیٹر ماہنامہ ’’تفہیم الاسلام‘‘)

عالم اسلام کو درپیش مسائل پر اداریے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

یہ پڑھیں:            مدیر اعلیٰ بشیر انصاری رحمہ اللہ  ... تحریری بانکپن (پہلی قسط)

عالمی سطح پر مسلمان طاغوتی طاقتوں میں گھرے بے حسی‘ مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہیں۔ کشمیری مسلمان بھارت کی درندگی کا شکار ہیں‘ فلسطین میں انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی شرمناک سازشوں کے نتیجے میں دنیا کے کئی مسلمان خطوں میں مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ افسوس ہے کہ ساٹھ (۶۰) اسلامی ریاستوں میں حکمران تو موجود ہیں لیکن ایک بھی صلاح الدین ایوبیa نہیں۔

مولانا بشیر انصاری وسعت معلومات کی بناء پر احوال عالم بالخصوص مسلمان ممالک کے اندرونی وبیرونی حالات اور عالم کفر کی سازشوں کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ دیکھیے چند نمونے:

1       فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں اپنے ایک اداریے: ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’فلسطینی مسلمان ایک عرصہ سے ملک کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اس کے لیے انہوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ صیہونیوں نے ان پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی۔ بایں ہمہ فلسطین کی آزادی کا مسئلہ معرض التواء میں ہے۔ امریکہ‘ اسرائیل کے ذریعے فلسطینی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ المناک بات یہ بھی ہے کہ امریکی غنڈہ گردی دنیا بھر میں اس وقت پورے عروج پر ہے۔ وہ جہاں چاہتا ہے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کروا دیتا ہے۔ یہودی‘ اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ وسائل اور افرادی قوت کے باوجود اسلامی ریاستیں اسرائیل سے خائف ہیں۔ کیونکہ وہ امریکہ کا پالتو غنڈہ ہے۔ افغانستان‘ عراق اور مقبوضہ کشمیر کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء سے غزہ کی پٹی ’’خاں یونس کا علاقہ‘‘ دریائے اردن کا غربی حصہ اور شام کی پہاڑیوں پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اُردن کے کچھ حصے پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا قبلہ اول بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ ایسے حالات میں یہ خبریں نہایت افسوسناک ہیں کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے ایک حصے کو شہید کر دیا ہے۔‘‘

2       ’’مسئلہ کشمیر کا واحد حل … استصواب رائے‘‘ کے عنوان پر یوں رقمطراز ہیں:

’’پوری دنیا مسئلہ کشمیر کی اہمیت ونزاکت سے آگاہ ہے کہ اس وقت کشمیری نوجوان‘ بوڑھے‘ مائیں اور بہنیں اپنی بقاء کشمیر کی آزادی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے برسر پیکار ہیں۔ اب تک ظالم وسفاک بھارت نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید‘ لاتعداد بچوں کو یتیم اور بے شمار خواتین کو بیوہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں بچیوں کی چادر عصمت کو تار تار کر دیا ہے۔ اس ظلم وتشدد کے باوجود گذشتہ سال سے حریت وآزادی کے متوالے اور شہادت کے متلاشی سربکف ہو کر میدان وفا میں ہیں اور انہوں نے اپنے خون سے ہمت وجرأت کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں اور بے مثال جذبہ جہاد واستقامت سے بھارت کی سنگ دل ہندو فوج کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں۔ دراصل تحریک آزادی سے گھبرا کر بھارت نے تحریک کو دبانے کے لیے کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہاء کر دی ہے تا کہ اس تحریک کو عالمی سطح پر غیر مؤثر بنا دیا جائے مگر اس کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

سبھی لوگ جانتے ہیں کہ تنازع کشمیر نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے لا ینحل چلا آ رہا ہے۔ بھارت خود ہی اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اور اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں میں یہ طے کر دیا تھا کہ کشمیر کے عوام اپنے آئینی مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کریں گے مگر بھارت نے ان قرار دادوں کے علی الرغم اٹوٹ انگ کی رٹ لگا رکھی ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:           مدیر اعلیٰ محمد بشیر انصاری رحمہ اللہ ... قلم کی جولانگاہ (دوسری قسط)

 عوامی مسائل پر اداریے:

اب ان کی تیرہ شبی بھی چراغ چاہتی ہے

جو لوگ نصف صدی تک رہے اندھیروں میں

ہمارا ملک پاکستان بے شمار عوامی مسائل میں گھرا ہے کسی کی عزت وآبرو اور جان ومال محفوظ نہیں۔ بیسیوں اہل وطن اغوا ہو چکے‘ عدل وانصاف اور امن وامان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ عوام کو بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں بشیر انصاری صاحبa ایسا زیرک صحافی خاموش کیسے بیٹھ سکتا تھا؟ انہوں نے اپنے متعدد اداریوں میں عوامی مسائل کو اٹھایا اور اُنہیں مقتدر حلقوں میں پہنچایا۔ پانی کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ان کے اداریے کا ایک حصہ پڑھیے وہ ایک ماہر وکیل کی طرح عوامی مسائل کا مقدمہ لڑتے دکھائی دیتے ہیں:

1       ’’پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ ستر فیصد آبادی کا دار ومدار زراعت پر ہے مگر اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ سبزیاں‘ چینی اور بکرے بھارت سے درآمد ہو رہے ہیں۔ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پانی کی کثیر مقدار ہر سال سمندر کی نذر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں وسیع نظام آبپاشی اور زراعت کا مستقبل خطرے کی زد میں ہے۔ قدرتی چشمے خشک اور ملک میں پانی کی زیر زمین ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کے نامور انجینئر حضرات کی رائے ہے کہ کالا باغ ڈیم اگر نہ بنایا گیا تو آئندہ چند برسوں کے بعد پاکستان صحرا کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم کے علاوہ دیگر چھوٹے ڈیم بھی بننے چاہئیں تا کہ عوام کو سستی بجلی مل سکے اور پورے پاکستان کی زرعی اور بنجر اراضی کو سیراب کر کے پاکستان کے عوام کو خوشحالی کی نوید دی جا سکے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بجلی کی کھپت میں اضافے اور نئے آبی ذخائر نہ بننے کے باعث اس سال کے دوران عوام کو ملکی تاریخ کی خوفناک لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ واپڈا نے گذشتہ سال میں ایک بھی نیا بجلی گھر نہیں بنایا اور اس کا سارا سسٹم اوور لوڈ ہے جو کسی وقت بھی بجلی کے بریک ڈاؤن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لوڈ شیڈنگ سے واپڈا اور صنعتوں کو روزانہ ۵ سے ۱۰ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جب تک کالا باغ ڈیم اور دوسرے ڈیم معرض وجود میں نہیں آتے اس دوران کراچی جو بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے‘ کراچی کے ساحل پر سمندری پانی کو صاف میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کا پلانٹ لگایا جائے اور اس پانی کو فصلوں کی سیرابی کے لیے استعمال کیا جائے اور اناج میں خود کفالت حاصل کی جائے۔ اگر سمندر کے پانی سے بجلی پیدا کر لی جائے تو غیر ملکی پاور پلانٹ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ سمندر پر ایسے پلانٹ لگانے میں کسی پارٹی اور کسی صوبہ کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہو گا۔ اس طرح سوکھے ہوئے دریاؤں میں بھی زندگی لوٹ آئے گی اور عوام لوڈشیڈنگ سے بھی نجات حاصل کر سکیں گے۔‘‘

یہ پڑھیں:            وفاؤں کا پیکر تھا جو چل بسا ہے

2       اپنے ایک کالم ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قبل ازیں پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا‘ عوام بلبلا اُٹھے۔ کیونکہ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھ جانے سے ضروریات زندگی کی اشیاء گراں ہو جاتی ہیں اور جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور عوام چلا رہے ہیں کہ یہاں بھی پٹرولیم کے نرخ کم کیے جائیں۔ چنانچہ وزیر اعظم نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا اور پٹرول چار روپے فی لیٹر اور ڈیزل ایک روپیہ فی لیٹر سستا کر دیا جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے اور عوام سے کھلا مذاق ہے۔ کیونکہ اس معمولی کمی سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ سے حکومت اور تیل کمپنیوں کی ملی بھگت سے جس طرح عوام کو لوٹا جا رہا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں کم از کم تیس فیصد کمی کی جائے تا کہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور وہ سکھ کا سانس لے۔‘‘

 سماجی ومعاشرتی موضوعات پر اداریے:

چراغِ علم جلائیں گے‘ روشنی کے لیے

علاج ہے یہ‘ جہالت کی تیرگی کے لیے

ہمارا معاشرہ کئی ایک سماجی برائیوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ معاشرتی بے راہ روی کو ہی دیکھ لیجیے۔ آئے دن بڑھتی جا رہی ہے۔ رشوت ستانی‘ کمائی کے حرام ذرائع‘ دہشت گردی‘ جنسی بے راہ روی‘ چوری‘ ڈاکہ زنی ایسے کئی سلگتے ہوئے مسائل ہیں جن پر ارباب اقتدار کو فکر کرنی چاہیے اور تطہیر معاشرہ کے لیے پیغمبر اسلام حضرت محمدe کی تعلیمات سے استفادہ از حد ضروری ہے۔

مولانا بشیر انصاریa صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ فکری رہنما اور معاشرے کے نباض تھے۔ انہوں نے سماجی ومعاشرتی برائیوں کو اپنے کالمز اور اداریوں میں موضوع بنایا اور اس کا حق ادا کر دیا۔

اپنے ایک اداریے: ’’احساسِ زیاں کا فقدان‘‘ میں سماجی برائیوں کی نقاب کشائی کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا معاشرہ جس تیزی کے ساتھ رو بہ انحطاط ہے اس کے تصور مآل سے دل کانپ اُٹھتا ہے۔ مسئلہ ایک ہو تو اس کا رونا رویا جائے‘ صورت حال یہ ہے کہ   ع

تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم

کردار واخلاق کو ہی لے لیجیے پورا معاشرہ اخلاقی اقدار سے تہی دامن ہو چکا ہے‘ اخلاقی انحطاط کے مظاہر ہر سو دیکھے جا سکتے ہیں۔ انسانی شرافت‘ باہمی ہمدردی اور رواداری عنقا ہو کر رہ گئی ہے۔ احترام آدمیت اُٹھ چکا ہے۔ ناپ تول میں کمی‘ رشوت ستانی‘ شراب نوشی‘ ڈاکہ زنی‘ چوری‘ دہشت گردی‘ جنسی بے راہ روی‘ سیاہ کاروبار اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سی برائیاں معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہیں۔ ہر بات میں مغرب کی تقلید ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ غیر اسلامی نظریات کی تشہیر ہو رہی ہے۔ ٹی وی اور بعض چینلز میں ایسے بے ہودہ پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں جنہیں فیملی کے تمام افراد یکجا بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ عریانی اور فحاشی بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض خواتین ایسا لباس زیب تن کرتی ہیں کہ حیاء وعفت اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ہے۔ کاروباری اور فلمی اشتہارات میں عورت کی تشہیر اس کی تذلیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عورت تو چراغ خانہ تھی‘ اب رونق محفل بن کر رہ گئی ہے۔ نام نہاد ترقی پسند معاشرے نے عورت پر ایسی بے روا ذمہ داریاں عائد کر دی ہیں کہ اسے اپنے دامن عفت کو بچانا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ اسلام کا ہی فیضان ہے کہ اس نے عورت کو اس کے حسن کردار پر وہ مقام بخشا کہ جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی ہے۔

یہ پڑھیں:            الشیخ علی محمد آدم الاثیوبی رحمہ اللہ

ستم کی بات ہے کہ برائیاں ہماری آنکھوں کے سانے پنپ رہی ہیں مگر اصلاح احوال کے لیے حکمران اور نہ عوام مضطرب ہیں۔ مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو زبان سے روکے‘ اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو کم از کم اسے دل سے تو برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم مسائل واحوال پر غور وفکر کی عادت کو فراموش کر چکے ہیں۔ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے کہ ہم نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے؟ شاید ایسے مواقع پر علامہ اقبال نے کہا تھا   ؎

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

جب احساس زیاں باقی نہ رہے تو وہ قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر فرد کس حد تک اصلاحِ احوال کے لیے فکر مند اور کوشاں ہے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم نے اخلاق وکردار کی دولت ضائع کر دی مگر احساس زیاں کی کوئی چنگاری بھی سلگتی نظر نہیں آتی۔‘‘

 تنظیمی وجماعتی اداریے:

آغشتہ ایم ہر سر خارے نجون دل

قانون باغبانی صحرا نوشتہ ایم

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان بنیادی طور پر ایک دینی تنظیم وتحریک ہے جس کا مقصد قرآن وسنت کی اشاعت وتبلیغ اور اعلائے کلمۃ الحق کی ترویج کرنا ہے جس کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میرd اور ناظم اعلیٰ سینیٹر حافظ عبدالکریمd ہیں۔ دین ومسلک کی اشاعت کے لیے مرکزیہ پاکستان سیاسی میدان کو بھی رونق بخشتی ہے۔

یہ پڑھیں:            بانکے رام سے محدث زماں تک

مولانا بشیر انصاری مرحوم ومغفور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ترجمان میگزین ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے کم وبیش تیس (۳۰) برس خدمات کی توفیق پاتے رہے۔ اس دوران انہوں نے اپنے اداریوں کے ذریعے تنظیم وجماعت کے استحکام کے لیے زبردست کالم تحریر کیے۔ مرکزیہ کے منشور ومقاصد کو آگے بڑھایا اور اس کی دینی علمی‘ تاریخی‘ تحقیقی اور تبلیغی خدمات کی پاسبانی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میرے سامنے اس وقت ان کے چند اداریے اس موضوع کی ترجمانی کرتے موجود ہیں۔ دیکھیے چند اقتباسات:

1         ’’آپ سے یہ بات مخفی نہیں کہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان بنیادی طور پر قرآن وسنت کی حامل اور اس کی تبلیغ واشاعت کی علم بردار ہے اور کتاب وسنت کی بالا دستی کی غرض وغائیت اور مطلوب ومقصود ہے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ ملک میں نظام مصطفی کی تحریک ہو یا ختم نبوت کی‘ جمہوری ودینی قدروں کے ایماء کا مسئلہ ہو یا استحکام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی بات ہو۔ ناموس رسالتe اور حدود اللہ کے تحفظ کا مسئلہ ہو‘ سونامی طوفان یا آزادکشمیر اور سرحد میں زلزلہ سے متاثرہ لوگوں سے تعاون اور امداد کی ضرورت ہو تو جماعت نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ خلیج کے مسئلہ میں ہمارا کردار تاریخ کا ایک تابناک اور مستقل حصہ بن چکا ہے۔ سیاست بھی چونکہ دین کا حصہ ہے اس لیے جماعت نے ہر دور میں ملکی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے جس انداز سے جماعت کو منظم اور مستحکم کیا ہے اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کی ذات‘ ان کا کردار‘ ان کی سیاست اور ان کی قیادت اپنے ایک منفرد رنگ کی حامل ہے۔ انہوں نے جس جرأت کے ساتھ اپنی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائی ہے اور جابروں اور آمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق وصداقت کا علم بلند کیا ہے وہ دادِ تحسین سے بالا تر ہے۔ اقبال نے ایسی ہی شخصیتوں کے بارے میں کہا تھا   ؎

نگہ بلند‘ سخن دلنواز‘ جاں پرسوز

یہی ہے رخت ِ سفر میر کارواں کے لیے

2         اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام اور وطن عزیز کے لیے دھڑکنے والا دل‘ کفر کے خلاف جذبہ فراواں اور کلمہ حق بلند کرنے والی زبان عطا کی۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ اس دور میں کاروانِ حق وصداقت کے حدی خواں اور حق گوئی وبے باکی کی پہچان ہیں۔ اس طرح آپ کے جرأت مندانہ کردار نے اہل توحید کے سر فخر سے بلند کر دیئے ہیں۔ جماعت کے مرکزی ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd ایک فعال اور علمی شخصیت ہیں وہ جماعتی امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امیر محترم کے شانہ بشانہ سراپا عمل ہیں۔ آپ کو جس شعبہ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی آپ نے اس کی انجام دہی کا پورا حق ادا کر دیا۔

اس سے میری مراد ریلیف کمیٹی اور رکن سازی ہے‘ اب وہ نظامت اعلیٰ کی ذمہ داریاں بھی بحسن وخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح جماعت کے دیگر رہنماؤں کی مساعی جمیلہ بھی قابل قدر ہیں۔‘‘ (ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ ج: ۳۸‘ شمارہ: ۰۱۔ ۱۲ تا ۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء)

یہ پڑھیں:            تذکرۂ اسلاف

 تاریخ ورجال حدیث پر اداریے:

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

مسلک اہل حدیث کا تاریخی ارتقاء‘ اس کی قدامت‘ عظمت اسلاف کی خدمات اور تحریک عمل بالحدیث کی برتری‘ اہل حدیث رجال واکابر کا تعارف‘ علمی وتصنیفی‘ فکری‘ تحقیقی اور منہجی وتبلیغی خدمات ایک دلکش اور نادر ترین موضوع ہے۔ مولانا امام خان نوشہرویؒ‘ مورخ اسلام مولانا محمد اسحاق بھٹیؒ‘ مولانا محمد رمضان یوسف سلفیؒ ودیگر حضرات نے وقت کے تقاضوں کے مطابق تاریخ اور عظیم اسلاف کے علمی کارناموں کو مرتب ومدون کر کے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی۔

محققین اور مصنفین کی اسی صف میں ہمارے مخدوم محترم مولانا بشیر انصاریa کا نام نامی بھی سرفہرست ہے۔ ان کا شمار مولانا محمد اسحاق بھٹیa کے معاصرین میں ہوتا ہے۔ جس طرح مولانا بھٹیa نے اپنی کتب اور رسائل میں تاریخ اہل حدیث کو زندہ وتابندہ کیا بعینہٖ مولانا انصاریa نے ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ اور ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے اداریوں اور عام مضامین میں تاریخ ورجال اہل حدیث کے متعلق لکھ کر اہل حدیث کو ایک تحریک‘ ایک جہد مسلسل‘ ایک عمل پیہم اور ایک فکر صحیح ثابت کر کے تاریخ اہل حدیث کو رخشندہ وتابندہ کر دیا۔

انصاری صاحبa کا ایک بہت پرانا مضمون میرے سامنے ہے جو ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ کے اوائل ایام میں (تقریبا چالیس برس قبل) لکھا تھا۔ اس مضمون (اداریہ) کی تازگی اور ہمہ جہتی ملاحظہ فرمائیے۔ اگر باتیں دل میں اترتی جائیں تو مربی ومحسن انصاری صاحب کی دعائے مغفرت کے لیے اپنے ہاتھ بارگاہِ ربانی میں اٹھا لیجیے۔ مولانا رقمطراز ہیں:

’’ہو سکے تو اس کا جواب پیدا کر!

مولانا سید عبداللہ غزنویa کے تقویٰ وطہارت‘ للہیت اور ایثار وقربانی سے کون واقف نہیں؟ جب افغانستان کے علمائے سوء حضرت غزنویa کے مسکت دلائل کا سامنا نہ کر سکے تو انہوں نے افغانستان کے والی کے سامنے حضرت غزنویa کو ایک سیاسی طاقت ور شخصیت کے روپ میں پیش کیا اور والئی افغانستان س واشگاف طور پر کہا کہ یہ شخص کسی وقت بھی تمہاری بساط اقتدار کو الٹ کر تخت حکومت پر قابض ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اپنے اقتدار کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے حضرت غزنویa سے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم غزنی کی جائیداد‘ گھر بار‘ وطن عزیز اور اپنے وسیع حلقہ احباب کو باقی رکھنا چاہتے ہو تو حدیث وسنت کو چھوڑ دو ورنہ تمہیں ان تمام چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ فیصلہ کرو کہ ان دونوں میں سے تمہیں کونسی صورت پسند ہے؟!

یہ پڑھیں:            شیخ القراء قاری محمد یحییٰ رسولنگری رحمہ اللہ

حضرت مولانا عبداللہ غزنویa نے بلا تامل حکمرانوں پر واضح کر دیا کہ وطن عزیز‘ جائیداد‘ گھر بار الغرض سب کچھ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن رسول اللہe کی حدیث سے سرمو انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ حضرت غزنویa نے دوسری صورت اختیار فرمائی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وطن عزیز کو تج کر پرچم حدیث کو بلند کیا۔ ہندوستان کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر یہاں ان کے صاحبزادگان گرامی مولانا سید عبدالجبار غزنویa‘ مولانا عبدالواحد غزنویa‘ مولانا عبدالاوّل غزنوی اور دیگر بیٹوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔

مولانا محمد اسماعیل غزنویa‘ مولانا سید محمد داؤد غزنویa‘ مولانا احمد علی غزنویa‘ مولانا محمد زکریا غزنویa‘ مولانا سید عبدالغفار غزنویa اور پروفیسر سید ابوبکر غزنویa کی گوناں گوں علمی‘ دینی‘ تبلیغی‘ اسلامی‘ تنظیمی‘ جماعتی‘ ملکی‘ ملی‘ مسلکی اور سیاسی خدمات سے کون بے خبر ہے؟

اسی طرح روپڑی لکھوی‘ اور قصوری خاندان کے کارہائے نمایاں سے سبھی آگاہ ہیں۔ ہمارے ان عظیم اسلاف نے تعلیم وتدریس‘ تصنیف وتالیف‘ وعظ وتذکیر‘ بحث ومناظرہ‘ سیاست وصحافت‘ تقویٰ وطہارت‘ عبادت وریاضت‘ استخلاص وطن‘ قیام پاکستان‘ جہاد بالسیف اور جمیع میدانوں میں اپنی سیادت وقیادت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اسلام کی پاسبانی کی‘ حدیث وسنت کو پھیلایا‘ فکر حدیث کو فروغ دیا‘ توحید وسنت کے عقائد کو مستحکم کیا۔ کتابوں کے انبار لگا دیئے۔ تمام منکرین اسلام‘ منکرین حدیث‘ علمبرداران رفض وبدعت‘ منکرین ختم نبوت اور منکرین عظمت صحابہ] کا پوری پامردی اور زور دار طریقے سے نہ صرف نوٹس لیا بلکہ ان سے کتاب وسنت کا لوہا منوایا۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام اور اہل علم‘ اہل حدیث کی زور دار تحریک عمل بالحدیث سے نہ صرف متأثر ہوئے بلکہ اس تحریک میں پورے شد ومد کے ساتھ شریک ہو گئے۔ اس مقام پر حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa‘ حضرت مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہیدa اور مولانا عبدالخالق قدوسی شہیدa کی دینی وملی‘ جماعتی ومسلکی اور سیاسی وعلمی خدمات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جنہوں نے کتاب وسنت کی بالا دستی‘ انسانیت کے فروغ‘ ملکی استحکام اور سیاسی وجمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اہل توحید کے سروں کو اونچا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!‘‘

یہ پڑھیں:            علوم اسلامیہ کا سائباں جو اُٹھ گیا ... پروفیسر عبدالرؤف ظفر رحمہ اللہ

انصاری صاحبa نے کئی نامور علمائے اہل حدیث کی رحلت پر اداریے لکھے۔ شخصیات پر لکھے ان کے مضامین ادبی چاشنی اور جامعیت کا بھر پور مظہر ہوتے تھے۔ دیکھے ان کا ایک مضمون سلطان المناظرین حضرت مولانا حافظ عبدالقادر روپڑیa (متوفی ۶ دسمبر ۱۹۹۹ء) کی رحلت پر لکھا:

’’حضرت حافظ روپڑیa کی پوری زندگی دین کی تبلیغ واشاعت میں بسر ہوئی۔ آپ کی تقریر کا انداز مناظرانہ ہوتا۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی وعظ وتبلیغ کے لیے سراپا مستعد رہتے۔ آپ کے لکھنے پڑھنے کا ذوق تحقیقی تھا۔ تبلیغی سرگرمیاں تصنیف وتالیف میں مانع رہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ دینی جلسوں کی رونق دوبالا نہیں سہ بالا کر دیا کرتے تھے۔ تحریک پاکستان میں آپ نے بھر پور کردار ادا کیا اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قیام پاکستان سے قبل آپ مسلم لیگ انبالہ کے صدر تھے۔پاکستان میں تحریک ختم نبوت اور تحریک نظامِ مصطفیe میں بھی پابند سلاسل رہے۔ پاکستان جمہوری پارٹی کے نائب صدر بھی رہے۔ چوک دالگراں میں جامعہ اہل حدیث آپ کی حسین علمی یادگار ہے جہاں دینی علوم کی تعلیم وتدریس کا معقول انتظام ہے۔‘‘ (المختصر)

 صحافت حاضرہ پر اداریے:

قلم بشکن‘ سیاہی ریز‘ کاغذ سوز‘ دم درکش

حمید ایں قصۂ عشق ست در دفتر نمی گنجد

صحافت‘ اخبارات اور جرائد کی اہمیت وافادیت اور ضرورت سے کوئی قوم وملت انکار نہیں کر سکتی بلکہ لا مذہب بھی نہیں کر سکتے۔ برصغیر پاک وہند میں اسلامی صحافت ایک اہم موضوع ہے۔ اسلامی صحافت نے مسلم معاشرے کی ذہنی برداشت وپرداخت‘ فکری تربیت کو بلند کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

مولانا بشیر انصاریa دورِ حاضر کے بلند پایہ صحافی تھے۔ انہوں نے قدیم اور جدید دور کی صحافت کو اپنے اداریوں کا موضوع بنایا اور اس کی درخشاں علمی وادبی روایت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذات باری تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ذکاوت‘ غیرت ایمانی اور جذبہ ایقانی کے ساتھ ڈٹ کر اسلامی صحافت کو پروموٹ کیا اور صحافت حاضرہ کی خرابیوں پر کڑی تنقید بھی کی۔ اس موضوع پر ان کے بہت سے لیکچر بھی مل جائیں گے۔ جس کا احاطہ میں نے اپنے ایک الگ مضمون ’’خطباتِ صحافت‘‘ میں کیا ہے۔ جس میں ان کے رشحات فکر جمع کیے ہیں۔ بطورِ نمونہ صحافت حاضرہ پر ان کے دو اداریوں کے اقتباسات پڑھیے:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دور میڈیا کا دور ہے۔ وہی جماعتیں اپنے پیغام اور نصب العین کو صحیح انداز میں لوگوں تک پہنچا کر نہ صرف نیکی اور صداقت کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرتی ہیں بلکہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں اور صحت مند انقلاب کے لیے راہیں ہموار کرتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ابلاغ عامہ کے عالمی ذرائع پر اس وقت مغرب کو بالا دستی حاصل ہے اور اس کی پشت پر یہودی دماغ جس مہارت اور چابکدستی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی پہچان کو خراب کرنے کی سازش کر رہا ہے اس کی وجہ سے جدید ترین ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک میڈیا تک رسائی آج عالم اسلامی کا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلم امہ کے دانشور حضرات کو اس مسئلہ پر غور وفکر کر کے کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ پھر اہل علم کو اس مسئلہ پر بھی غور ووخوض کرنا چاہیے کہ تصنیف وتالیف کے عصری تقاضے کیا ہیں؟ اور ہماری علمی اور فکری ضرورتیں کیا ہیں؟‘‘

یہ پڑھیں:            عظمت وسادگی کا حسین پیکر ... پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی رحمہ اللہ

۱۹۹۵ء میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے صحافیوں کو دھمکایا کہ وہ آزادی صحافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ ان کے اخبارات پر قدغن لگا دی جائے گی۔

مولانا بشیر انصاریa کی رگ صحافت بھڑک اٹھی انہوں نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۵ء میں ہفت روزہ ’’اہل  حدیث‘‘ کا اداریہ تحریر کیا جس کا عنوان تھا: ’’حکمران اور آزادی اظہار‘‘ … اس میں انہوں نے صحافت اور صحافیوں کا خوب دفاع کیا۔ لکھتے ہیں:

’’آزادی اظہار ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اسلام‘ جس کے ہم سب پیروکار ہیں‘ وہ آزادی اظہار کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اگر ملک میں اخبارات کو تھوڑی بہت آزادی حاصل ہے تو حکومت کا ان پر کوئی احسان نہیں۔ یہ ان کی جد وجہد کا نتیجہ ہے۔ اہل صحافت ابھی بھولے نہیں ہیں کہ چند ماہ قبل کراچی میں شام کو شائع ہونے والے چھ اخبارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس آمرانہ روش کے خلاف اخبار نویس متحد ہو گئے اور انہوں نے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کرنے کا اعلان کیا لیکن ہڑتال سے ایک روز قبل حکومت نے پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اس کے باوجود بہت سے چھوٹے بڑے رسائل کے ڈکلریشن منسوخ کر دیئے گئے۔کیا اسے آزادی اظہار رائے کہتے ہیں؟‘‘

مولانا بشیر انصاریa آزادی اظہار کے قائل تھے لیکن مادر پدر آزادی نہیں۔ ایسی آزادی جو اسلامی نظام میں اسلامی حدود وقیود کے اندر ہو۔ اپنے ایک اداریے ’’آزادئ صحافت کے نام پر …!‘‘ میں رقمطراز ہیں:

یہ پڑھیں:            عظیم علماء کرام کی رحلت

’’اسلامی نظام میں فرد‘ ریاست اور اخبارات سبھی احکام وحدود کے پابند ہوتے ہیں۔ سب کا مقصد خیر کا فروغ اور شر کا انسداد ہوتا ہے۔ سب کے حقوق وفرائض کے دائرہ ہائے کار متعین ہوتے ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز  کرے یا اللہ تعالیٰ کی مقر کردہ حد کو توڑے۔ اگر کوئی ایک فریق ایسا کرتا ہے تو دوسرے پر اس کی مزاحمت کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تحدید وتوازن کا ایسا نظام قائم کر دیا ہے جس کی پابندی سے معاشرت میں کوئی خرابی جڑ نہیں پکڑ سکتی۔ شاعر مشرق نے اس طرح کہا ہے:   ؎

دھرم میں عیش دوام آئین کی پابندی سے ہے

موج کو آزادیاں سامان شیون ہو گئیں


No comments:

Post a Comment

Pages