حاجی عبدالرزاق رحمہ اللہ 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

حاجی عبدالرزاق رحمہ اللہ 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, حاجی عبدالرزاق رحمہ اللہ
 

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مخلص ترین رہنما

حاجی عبدالرزاق رحمہ اللہ

 

تحریر: جناب محمد عمران مجاہد (اکاؤنٹنٹ مرکز اہل حدیث)

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم مالیات اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میرd کے معتمد خاص جناب حاجی عبدالرزاقa وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

یہ پڑھیں:            ولی کامل حضرت مولانا محمد یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ

 تعارف:

آپ کا مکمل نام عبدالرزاق ولد میاں لعل دین اور مغل فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ۳ جنوری ۱۹۳۶ء کو پسرور کے نواحی علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد انتہائی نیک‘ عالم دین‘ تاجر اور علاقہ کی مشہور ومعروف شخصیت تھے۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے آبائی علاقہ میں حاصل کی کچھ عرصہ بعد آپ کے والدین کامونکی ضلع گوجرانوالہ منتقل ہو گئے۔ آپ نے موڑ ایمن آباد (ضلع گوجرانوالہ) سے اعلیٰ نمبروں میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ چنانچہ تجارت کی غرض سے لاہور منتقل ہو گئے۔ آپ کی موجودہ رہائش ۸ انفنٹری روڈ دھرم پورہ لاہور میں ہے۔ آپ کی اولاد میں ۸ بیٹے اور ۵ بیٹیاں ہیں۔ آپ نے اپنے بچوں کو بہترین دنیوی اور دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔

 جماعتی زندگی:

آپ ۱۹۷۰ء کو مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ساتھ باقاعدہ منسلک ہوئے۔ میاں فضل حق مرحوم کی رفاقت میں آپ نے ۲۵ سال گذارے۔ ۱۹۸۶ء میں آپ کو پہلی باقاعدہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کی مجلس شوریٰ نے بطور ناظم مالیات منتخب کیا اور آخر دم تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ آپ نے بھر پور جماعتی خدمات انجام دیں۔ جماعت کے ساتھ ہمیشہ تعاون کرتے تھے۔ جماعتی پیسے کی حفاظت انہوں نے اپنے مال سے بڑھ کر کی۔ آپ کو امیر محترم پروفیسر ساجد میرd اور مجلس شوریٰ کا بھر پور اعتماد حاصل رہا۔ ہمیشہ گاڑی میں اپنی جیب سے پٹرول ڈلواتے اور مرکزی بیت المال سے کبھی سفر خرچ کی مد میں کوئی رقم وصول نہ کی۔ آپ نے یورپ اور عرب ممالک کے جماعتی دوروں کے اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا کیے۔

انہوں نے مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ کی تعمیر میں دامے درمے قدمے سخنے تعاون کیا اور اس کی بہترین تعمیر میں بھر پور کردار ادا کیا۔ آپ نے ۲۰۰۵ء کو آزادکشمیر زلزلہ میں بھی بھر پور خدمات انجام دیں اور فنڈز کو انتہائی ایمانداری اور نیک نیتی سے خرچ کیا۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۰ء کے جنوبی پنجاب میں سیلاب کے دوران بھی آپ نے بھر پور رفاہی خدمات سرانجام دیں۔ چنانچہ آپ نے ساری زندگی خدمت اسلام اور مسلک اہل حدیث کی ترویج واشاعت میں وقف کر دی۔ جب بھی ملک پاکستان پر کوئی آفت آئی اس میں انہوں نے جان ومال سے خدمت خلق کی خدمات انجام دیں۔ آپ نے ہمیشہ اپنی ذات پر جماعت کو ترجیح دی۔ کبھی جماعت کے حوالے سے سمجھوتا یا سودے بازی نہیں کی۔ بلکہ ہمیشہ جماعت اور جماعتی کاموں کو مقدم رکھا۔

یہ پڑھیں:            خطابت کے شہسوار ... علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ

 سیاسی زندگی:

آپ نے پہلی مرتبہ لاہور کے صوبائی حلقہ PP-121 سے جنرل انتخابات ۱۹۹۳ء میں حصہ لیا۔  آپ کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار جہانگیر بدر تھے جن کا شمار اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ جن کو آپ نے واضح اکثریت سے شکست دی اور ممبر صوبائی اسمبلی صوبہ پنجاب منتخب ہوئے۔ اسی طرح آپ نے ۱۹۹۷ء کے جنرل الیکشن میں دوبارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی حلقہ PP-121 سے میدان میں اترے۔ آپ کے مد مقابل سردار ایاز صادق (جو کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے جو بعد میں قومی اسمبلی کے سپیکر بنے اور اب MNA ہیں) اور عمران احمد خان (پاکستان مسلم لیگ جونیجو) کے امیدوار تھے۔ آپ ۲۸۰۰۸ ووٹ لے کر پہلے اور عمران احمد خان نے ۸۰۰۶ ووٹ لے کر دوسرے اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سردار ایاز صادق ۴۵۴۱ ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ آپ نے اپنے حلقہ کے عوام کی بہتری میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ہمیشہ جائز کام کیے اور خدمت خلق کو فروغ دیا۔ کبھی مالی بدعنوانی نہ کی۔ بطور MPA آپ کے پاس حلقہ سے بلکہ پاکستان بھر سے جماعتی لوگ اپنے مسائل لے کر آتے‘ آپ نے ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور بہترین رویہ اپنایا۔ دوران کمپیئن آپ نے دین کو مقدم رکھا‘ اسی طرح آپ نماز کی پابندی دوران کمپئین بھی کرتے تھے۔

 زہد وتقویٰ:

حاجی عبدالرزاق مرحوم نے ساری زندگی اسلام اور مسلک اہل حدیث کی ترویج اور سربلندی میں گذاری۔ آپ ہمیشہ نماز کی خصوصی طور پر پابندی کرتے تھے۔ کبھی جماعت کے بغیر نماز نہ پڑھی۔ ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ نماز کے وقت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سفر کیا۔ جہاں وقت ہوا نماز ادا کی‘ حتی کہ اسمبلی اجلاس‘ سمیت شوریٰ عاملہ کے اجلاس چھوڑ کر نماز ادا کرتے۔ اپنی ساری زندگی آپ نے جس چیز میں شبہ ہوا اس کو چھوڑ دیا۔ مالی حساب کتاب میں آپ ہمیشہ صاف شفاف رہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔ زکوٰۃ‘ صدقات وخیرات ہمیشگی سے ادا کرتے تھے۔ کوئی سائل آتا تو آپ نے کبھی اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ نیکی اور خوف الٰہی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی امیر‘ ناظم اعلیٰ صاحب کے حکم پر ان کے ہاں چندہ کی غرض سے حاضر ہوئے۔ مجھے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ سلام دعا کے بعد جب آپ نے سائل سے غرض پوچھی تو انہوں نے تعارف کرانے کے ساتھ ان کی مسجد میں اپیل پر اصرار کیا۔ آپ نماز ظہر ادا کرنے ان کے ساتھ چل دیئے۔ نماز ادا کرنے کے بعد مولانا موصوف نے چندہ کی اپیل کی اور پیچھے یعنی مسجد کے گیٹ پر اپنی چادر بچھا کر بیٹھ گئے۔ حاجی عبدالرزاق مرحوم سنتیں ادا کرنے کے بعد ان کے پاس آئے اور پچاس ہزار روپے نکال کر چادر میں رکھ دیئے تو مولانا موصوف نے کہا کہ آپ چندہ جمع کرنے کی غرض سے یہاں میری جگہ بیٹھیں میں نماز ادا کر لوں۔ آپ وہاں بیٹھ گئے اور لوگوں سے چندہ وصول کرتے رہے۔ یہ آپ کی سادگی اور نیکی تھی کہ آپ نے اللہ کے دین کے لیے اس کام میں عار یا شرمندگی محسوس نہ کی۔

اسی طرح حاجی عبدالرزاق مرحوم نے ساری زندکی اللہ کے خوف اور ڈر میں گذاری اور دین اسلام پر کاربند رہے۔ خوفِ الٰہی کبھی ان کے دنیاوی کاموں میں حائل نہ ہوا۔ انہوں نے ہمیشہ دین کو اول درجہ دیا اور وہ اللہ کے دین اور مسلک اہل حدیث کی خدمت کرتے رہے۔ آپ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ ایام بیض کے روزے (چاند کی تیرہ‘ چودہ‘ پندرہ تاریخ کو) باقاعدگی کے ساتھ رکھتے اور تسلسل کے ساتھ سوموار اور جمعرات کے روزہ کا بھی اہتمام فرماتے۔ اسی طرح آپ ہر سال عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جاتے‘ آپ نے بے شمار حج اور عمرے ادا کیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حسنات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آپ حسد وبغض سے پاک شخصیت کے مالک تھے۔ کبھی کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو اس اختلاف کو دل میں نہیں رکھتے تھے بلکہ معاف فرما دیتے۔

یہ پڑھیں:            شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ

 دفتری رفاقت:

میں ۱۷ جولائی ۲۰۰۹ء کو بطور اکاؤنٹنٹ مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ لاہور میں شامل ہوا۔ اس دن سے حاجی صاحب کی رفاقت نصیب ہوئی جو کہ ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء تک رہی۔ آپ کو میں نے ایک ایماندار‘ جماعتی جذبے سے سرشار اور مالی بدعنوانی سے پاک ہستی پایا۔ آپ نے ہمیشہ میری تربیت کی اور مجھے وعظ ونصیحت اور دعاؤں سے نوازا۔ ہمیشہ آپ دفتری عملہ سے حسن سلوک اور نرم دلی سے پیش آیا کرتے تھے۔ کبھی دل میں بغض‘ حسد اور عناد کو پیدا نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ جماعت اور اس کی بہتری کا سوچا۔ کوئی بھی دفتری ملازم عرضی لے کر آتا تو آپ ضرور اس کی داد رسی کی اور فوری احکامات صادر فرماتے۔ میں نے ان کو قول وفعل میں بھی صادق پایا۔ ہمیشہ جو کہا اس پر کار بند رہے اور اس سے کبھی روگردانی نہ کی۔

 تربیت اولاد:

آپ نے اپنے تمام بچوں کو بہترین دنیاوی ودینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کے بیٹوں میں عالم دین‘ تاجر‘ بیوروکریٹ‘ وکیل‘ ڈاکٹر ہیں۔ آپ کے تمام بیٹے نمازی‘ صوم وصلوٰۃ کے پابند‘ جماعت کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے اور مالی تعاون کرنے والے ہیں۔ آپ کے بیٹوں کے نام اور شعبہ جات درج ذیل ہیں:

1       جمیل الرحمن      بیوروکریٹ

2       حفیظ الرحمن        عالم دین + تاجر

3       عتیق الرحمن       وکیل

4       حسیب الرحمن    تاجر

5       خلیل الرحمن      تاجر

6       عزیز الرحمن       تاجر

7       شفیق الرحمن       تاجر

8       حبیب الرحمن     ڈاکٹر (ایم بی بی ایس)

یہ پڑھیں:            مولانا میر محمدی بھانبڑی رحمہ اللہ

 سفر آخرت:

آپ نے مختصر علالت کے بعد ۱۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء کی صبح تقریبا ۲۴:۱ پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی۔ آپ اس دنیا فانی میں ۸۴ سال ۹ ماہ ۹ دن زندہ رہے۔ آپ کی نماز جنازہ عیدگاہ صدر کینٹ لاہور میں ۲ بجے دوپہر آپ کے بیٹے مولانا حفیظ الرحمن کی امامت میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں مذہبی وسیاسی‘ سماجی اور جماعتی احباب نے شرکت کی۔ بعد ازاں ان کو صدر کینٹ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ ۸ بیٹے اور ۵ بیٹیاں‘ نواسے‘ نواسیاں‘ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ اللہم ادخلہ الجنۃ الفردوس۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages