تبصرۂ کتب ... حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمہ اللہ 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

تبصرۂ کتب ... حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمہ اللہ 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, تبصرۂ کتب ... حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمہ اللہ
 

تبصرۂ کتب ... حافظ محمد یوسف گکھڑوی رحمہ اللہ

 

تحریر: جناب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی (مدیر ’’اہل حدیث‘‘)

نام کتاب:           حافظ محمد یوسف گکھڑویa

مرتب:             حافظ فاروق الرحمن یزدانی

صفحات:             496 صفحات ،  میڈیم سائز

ناشر:                 سکول بک ڈپو اردو بازار گوجرانوالہ

تبصرہ نگار:           مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی (مدیر اہلحدیث)

یہ پڑھیں:            مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی

زیر تبصرہ کتاب جماعت اہل حدیث کے ایک عظیم خطیب‘ داعی اور مبلغ جناب مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑویa کے سوانح‘ حیات وخدمات پر مشتمل ہے۔ مولانا ممدوح ۱۹۰۵ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اور ۷ مئی ۱۹۸۰ء کو انہوں نے وفات پائی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ!

اپنے قریبی گاؤں میں مولانا سلطان احمد انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی‘ جو حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا سلطان احمد نے حصولِ علم کے لیے حضرت شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کو خط لکھا‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ آپ حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کی شاگردی اختیار کریں۔

ابتدائی تعلیم کے بعد مولانا احمد دین گکھڑوی‘ مولانا سید داؤد غزنوی‘ مولانا اسماعیل سلفی اور مولانا محمد علی لکھویS جیسے اکابر سے علوم عالیہ وآلیہ کی تکمیل کی۔ حضرت مولانا نے تکمیل علوم دینیہ کے بعد تبلیغ وخطابت کو خدمت دین کا ذریعہ بنایا‘ وہ ملک بھر میں تبلیغی دورے رضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے۔

لاہور کے تعلق سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ شاہدرہ کے حاجی امام دین کوچوان سے اُنہوں نے دوستی کر لی اور انہیں اہل حدیث بنا دیا۔ حاجی امام دین مرحوم کے داماد مولانا محمد ارشد بیگم کوٹی معروف خطیب ہیں اور حاجی صاحب کی بیٹی بیگم کوٹ کے ایک مدرسۃ البنات کی مدیرہ ہیں۔ حضرت مرحوم کا مبلغانہ مرتبہ اس امر سے بھی واضح ہے کہ ایک مرتبہ سید داؤد غزنوی صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان نے موصوف کو مسجد چینیانوالی میں بطور خطیب مقرر کرنے کے لیے خط لکھا کر لاہور بلوایا۔

کتاب میں ان کے خطبات کے چند نمونے بھی دیئے گئے ہیں۔ کتاب کے مندرجات مولانا مرحوم کے صاحبزادے حافظ عطاء السلام عابد نے زیادہ تر مہیا کیے اور انہیں مرتب کرنے کے لیے مولانا محمد اسحاق بھٹی سے گذارش کی جو عدم فرصت کے سبب یہ کام نہ کر سکے۔

یہ پڑھیں:            مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی وتفسیری نظریات کی روشنی میں

انہوں نے برادرم مولانا رمضان یوسف سلفی کو یہ ذمہ داری سونپی لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ پھر قرعہ فال مولانا فاروق الرحمن یزدانی کے نام نکلا۔ انہوں نے اس کتاب کی ترتیب میں بہت محنت کی اور اسے ظاہری اور معنوی صورتوں میں نہایت احسن انداز میں پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ حافظ یوسف گکھڑوی کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages