اللہ کی رضا والا عمل 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

اللہ کی رضا والا عمل 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, اللہ کی رضا والا عمل
 

اللہ کی رضا والا عمل

 

تحریر: محترمہ شاکرہ شبیر حسین

جب رات کی سیاہی چھائی ہوئی ہو اور اس کی کالی چادر نے کائنات کے لوگوں کو اپنے پہلو میں سمیٹا ہوا ہو اور ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہو‘ کائنات کے باسی اپنے نرم وگرم بستروں پر آرام کی نیند سوئے ہوئے ہوں تو اس وقت شیطان کے آہنی پنجوں کو توڑ کر بندہ جب وضو کر کے اپنے خالق ومالک کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور قیام کے لیے کمربستہ ہو جاتا ہے تو اس وقت عرش معلی پر رب کائنات اپنے اس بندے کے اس عظیم اور بلند وبالا عمل پر مسکراتے ہیں۔

یہ پڑھیں:            خوشی اور شکر کی نعمتیں

 جنہیں دیکھ کر اللہ مسکراتا ہے:

[ثَلَاثَةٌ یُّحِبُّہُمُ اللہُ وَیَضْحَكُ إِلَیْہِمْ وَیَسْتَبْشِرُ بِہِمْ ]

’’تین آدمیوں سے اللہ محبت اور والہانہ پیار کرتے ہیں اور انہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکراتے اور ہنستے ہیں اور ان کو بشارت سناتے ہیں۔‘‘

ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں اپنے نرم وگداز بستر کو چھوڑ کر یخ بستہ پانی سے وضو کر کے اپنے خالق ومالک کے حضور قیام اللیل کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ نماز ادا کرتا ہے تو رب تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو اس چیز پر کس نے آمادہ کیا ہے۔ جواب میں اللہ کے فرشتے عرض پرداز ہوتے ہیں کہ الٰہی تیری رحمتوں‘ نعمتوں‘ محبتوں کی امید نے اور تیری بھڑکتی اور دھاڑتی ہوئی جہنم کے خوف وہراس نے۔

پھر رب ذوالجلال والاکرام اپنے فرشتوں کو گواہ بنا کر فرماتے ہیں: ’’میرے فرشتو! جس چیز کی امید لے کر یہ میرا بندہ ساری کائنات سے بے نیاز ہو کر میرے دروازے کا منگتا بنا ہوا ہے وہ میں نے اسے عطا فرما دی ہے اور جس چیز کے ڈر وخوف نے اس کو بستر سے نکال کر مصلیٰ کی پشت پر کھڑا کر دیا ہے میں نے اپنے اس بندے کو اس سے امن وچین اور سکون عطا فرما دیا ہے۔‘‘

ایسے شخص کو دیکھ کر رب کعبہ عرش معلی پر مسکراتے ہیں۔

غور کیجیے! اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جن کی راتیں شراب وکباب کی محافل میں گذرتی ہیں جن کی راتیں زنا کاری اور بدکاری کے اڈوں پر گذرتی ہیں چوری‘ ڈاکہ زنی کرتے گذرتی ہیں ان کی راتیں اللہ کی معصیتوں اور نافرمانیوں میں گذرتی ہیں ان پر اللہ کا غضب اور ناراضگی ہوتی ہے‘ یہی لوگ اللہ کی رحمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔

یہ پڑھیں:            پیغام پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق

 عظیم جوڑا:

سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ نبی کائنات جناب محمد رسول اللہe نے اس میاں بیوی کے لیے اپنا دامن رحمت اُٹھا کر اللہ تعالیٰ سے رحم کی اپیل کی وہ بلند بخت جوڑا وہ ہے جو رات کی سیاہی میں قیام اللیل کے لیے ایک دوسرے کو جگاتے ہیں۔

[رَحِمَ اللہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰى وَاَیْقَظَ اَھْلَہٗ… الخ] (ابوداؤد: ۱۴۵۰)

’’اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحمت فرمائے جو رات جاگ کر تہجد کی نماز پڑھتا ہے‘ اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے اور اس نے بھی نماز ادا کی‘ اگر وہ نیند کے غالب آجانے کی وجہ سے نہیں اُٹھتی تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اٹھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم فرمائے جو رات کو نماز تہجد کے لیے اُٹھتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی بیدار کرتی ہے اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر جگاتی ہے۔‘‘

آج ہمارے معاشرے میں ایسا جوڑا تلاش کرنے سے بھی میسر نہیں آئے گا‘ کیونکہ آج مسلمانوں کی سوچ وفکر بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے۔

کاش! آج مسلمان محمد رسول اللہe کے فرامین کے مطابق اپنی زندگی بنا لیں تو دنیا وآخرت کی کامیابیاں ان کے قدم چومیں گی۔

 والدین کی پریشانیوں کا سبب:

آج والدین کی پریشانیاں جو دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں‘ اس کے ذمہ دار والدین خود بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین کو چاہیے تھا کہ وہ تہجد کے وقت اٹھ کر اپنی اولاد کے لیے اپنے رب کی منت سماجت کرتے‘ جس سے اللہ تعالیٰ اولاد کے حالات بدل دیتا۔ آج والدین اپنی ذمہ داری بھول گئے جس کی وجہ سے آج معاشرہ طرح طرح کی پریشانیوں اور زخموں سے چور چور ہے۔ آج بھی اگر والدین اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں تو معاشرہ درست خطوط پر چل سکتا ہے۔

قیام اللیل … گناہ کو مٹانے کا بہترین ذریعہ:

رات کا قیام بندے کی زندگی کے گناہوں کو مٹانے کا بہترین اور بڑا ذریعہ ہے۔ سیدنا معاذ بن جبلt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جیسے پانی آگ کو اور آدھی رات کو نماز پڑھنا۔‘‘

 جب رحمان اپنے بندوں کو صدا لگاتا ہے:

سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’ہمارا رب تبارک وتعالیٰ رات کو آسمان دنیا پر اترتا ہے جب کہ آخری تہائی رات باقی رہتی ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو دے دوں‘ اور کون ہے جو مجھ سے بخشش چاہے تو میں اس کو بخش دوں۔‘‘

یہ پڑھیں:            ریاست مدینہ کا ہلکا سا تقابل

 پلٹ آؤ لوگو!

لوگو! تمہارا رب تمہیں پکار رہا ہے لوٹ آؤ جو گناہ ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے سچی توبہ کر لو‘ تمہارا رب تمہارا خالق تمہیں پکار رہا ہے کہ ’’ہے کوئی میرا بندہ جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اس کو بخش دوں؟ کوئی رزق کا طالب ہے مانگے میں اسے رزق دوں گا اور کوئی اولاد کا طالب ہے مانگے میں اسے اولاد دوں گا۔‘‘ لوگو! تمہارا رب تم سے بہت محبت کرتا ہے اس کی طرف لوٹ آؤ۔ وہ تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ایک دفعہ تہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اشکبار ہو کر تو دیکھو … اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ۔


No comments:

Post a Comment

Pages