نیکیوں میں سبقت کی فضیلت 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

نیکیوں میں سبقت کی فضیلت 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, نیکیوں میں سبقت کی فضیلت
 

نیکیوں میں سبقت کی فضیلت

امام الحرم المکی الشیخ ڈاکٹر فیصل جمیل الغزاوی d

 

ترجمہ: جناب عاطف الیاس  ………………… نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور ہر وقت اسے یاد رکھو۔ عبادت میں صرف اسی کی رضا کو ملحوظ خاطر رکھو۔ اخلاص والے تو مبارک باد کے حقدار ہیں، جو اللہ کی طرف پہنچنے والے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور پرہیزگاری اپناتے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسے خوش کرنے والے کاموں کو بجا لاتے ہیں۔ چنانچہ آپ لوگ بھی نیکیوں میں تیزی دکھانے کوشش کیجیے اور ایسے نیک اعمال کیجیے کہ جن کا اثر مدت مدید تک برقرار رہتا ہے، جلدی کیجیے کہیں تاخیر نہ ہو جائے۔

یہ پڑھیں:           خطبہ حرم مکی ... قول وعمل کی اذیت رسانی: الشیخ سعود الشریم﷾

اے مسلمانو! یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ بھی پیدا فرمائے ہیں، جو نیکیوں کی دوڑ میں جیت کا تاج اپنے سروں پر سجائے رکھتے ہیں، جو نیکی اور فضیلت والے کاموں میں ہمیشہ آگے آگے ہوتے ہیں، جو لوگوں کے لیے اچھا نمونہ بنتے ہیں۔ ان پر پروردگار عالم کا یہ فرمان صادق آتا ہے:

’’اور ہم نے اُن کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔‘‘ (الأنبیاء: ۷۳)

جو لوگ خود ہدایت کی راہ پر قائم اور دوسروں کو راہِ ہدایت دکھانے والے ہوتے ہیں، جو اللہ کے چنیدہ بندے ہوتے ہیں اور نیکیوں میں سبقت کی بدولت بلند رتبہ  اور شان دار مقام حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ بھلا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو ایسا رہنما بنا دے جس کے نقش قدم پر اصحابِ ہدایت چلنا شروع کر دیں، جسے اہل تقویٰ اپنا رہبر بنا لیں، جس کے طریقے پر راہِ ہدایت کے مسافر چل پڑیں۔ ایسے ہی سبقت لیجانے والوں کی تعریف اس آیت میں آئی ہے۔ بلندی اور عزت والے کا فرمان ہے:

’’وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۰۰)

یہ اپنی سبقت کی وجہ سے دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن گئے اور بعد میں آنے والوں کے لیے نمونے بن گئے۔

اللہ کے بندو! یہی وجہ ہے کہ بڑے اہتمام سے یہ بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام] میں سے کس نے پہلے پہل اسلام قبول کیا۔ امام ابن کثیرa بیان کرتے ہیں:

’’صحیح روایت یہی ہے کہ لڑکوں میں سب سے پہلے مسلمان سیدنا علیt تھے، عورتوں میں سب سے پہلی مسلمان خاتون سیدہ خدیجہr تھیں، غلاموں میں سب سے پہلے سیدنا زید بن حارثہ  تھے اور آزاد مردوں میں سب سے پہلے مسلمان سیدنا ابوبکرt تھے۔‘‘

امام ابن حجرa فرماتے ہیں:

سیدہ خدیجہr کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ ایمان لانے کے معاملے میں انہوں نے سب عورتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس طرح بعد میں مسلمان ہونے والی ہر عورت کے لیے وہ ایک نمونہ بن گئیں، اس لیے بعد میں مسلمان ہونے والی ہر عورت کا اجر انہیں بھی ملے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ

’’جو شخص کسی نیک طریقے پہ چلنے میں پہل کرتا ہے، جس پر اس کے بعد بھی عمل جاری رہتا ہے، تو اسے بعد میں اس پر قائم رہنے والوں کا اجر بھی ملتا رہتا ہے۔ مگر بعد والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔‘‘

مردوں میں ایسی ہی فضیلت کے حامل سیدنا ابو بکر  ہیں۔ ان کی اس سبقت کی وجہ سے انہیں کتنا اجر ملے گا، اسے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

یہ پڑھیں:            خطبہ حرم مکی ... پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں: الشیخ فیصل جمیل الغزاوی﷾

اللہ آپ پر رحم فرمائے! اس اجرِ عظیم کو دیکھو، جو درجۂ سبقت پہ فائز ان خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوا ہے، اور یہ مقام انہیں اس لیے ملا ہے کہ وہ  صرف اللہ کی طرف رخ کرنے میں پہل کرنے اور دینِ حق کی پیروی میں آگے بڑھنے والے تھے۔ اسی لیے انہیں سبقت کی فضیلت حاصل ہوئی اور وہ  دوسروں کیلیے اسوہ اور قدوہ قرار پائے، اور انہیں دیکھ کر بہت سے لوگ اہل ایمان کے قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود  بیان کرتے ہیں:

’’سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام کا اعلان کیا ان میں سر فہرست رسول اللہe، پھر ابو بکر، پھر عمار اور ان کی والدہ سمیّہ، پھر صہیب، پھر بلال، پھر مقداد۔‘‘ (ابن ماجہ)

کس قدر عزت وشرف کا مقام ہے کہ کوئی بندہ دینِ اسلام میں داخل ہونے میں پہل کرے، پھر اپنے اسلام کا اعلان کرتے ہوئے اپنی قوم کی مخالفت کرے، گمراہی اور کفر کو چھوڑ دے، اور اس راہ میں مشرکین کی طرف سے آنے والی تکلیفوں کو صبر سے برداشت کرتے ہوے اس راست دین پر قائم اور ثابت قدم رہے اور پھر اس کا داعی ومبلغ بن جائے؟!

اللہ کے بندو! نیکیوں میں سبقت لے جانے والے معاملے میں ایک اور ذی وقار ہستی بھی ہے، فضیلتوں کے باب میں جن کا بڑا نام ہے۔ وہ ہیں خلیل اللہ، ابراہیم۔ امام ابن عساکر کی روایت کے مطابق سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’سب سے پہلے مہمان نواز ابراہم  تھے۔‘‘

قرآنِ کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فرشتوں کی خوب میزبانی کی تھی۔ صاحب عزت کا فرمان ہے:

’’اے نبی! ابراہیمu کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟۔‘‘ (الذاریات: ۲۴)

آگے فرمایا:

’’پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر۔ مہمانوں کے آگے پیش کیا اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟۔‘‘ (الذاریات: ۲۶-۲۷)

یہ عظیم نیکی ان کے سر کا تاج ہے، کہ وہ نیکی کے اس کام میں پہل کرنے والے تھے، جنہیں دیکھتے ہوئے دوسرے لوگوں نے بھی مہمان نوازی اور ہر آنے والے کا اکرام شروع کیا۔ پھر جب شریعت اسلامیہ آئی تو اس نیکی کی قدر وقیمت مزید بڑھ گئی، بلکہ اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دے دیا گیا۔ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔‘‘ (بخاری ومسلم)

اسی طرح بخاری ومسلم کی صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’ابراہیمu نے قدوم کے علاقے میں ختنے کرائے۔ اس وقت ان کی عمر اسّی سال تھی۔‘‘

یہ پڑھیں:            خطبہ حرم مدنی ... مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت: الشیخ عبداللہ البعیجان﷾

اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا ابراہیمu ختنے کرانے والے پہلے شخص تھے، پھر انبیاءo انہی کی ملّت پر قائم رہے۔ اور ختنے بھی ان کی ملت کا حصہ بن گئے۔ آپe کے بعد جتنے بھی رسول آئے، سب ہی اس سنت پر قائم رہے۔

برادرانِ اسلام! نیکی میں پہل کرنے کی ایک مثال صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی آئی ہے کہ جب سیدنا عمر  نے خبیر کی ایک زمین کے بارے میں رسول اللہ e سے مشورہ لیا تو آپ e نے فرمایا:

’’اگر تم چاہو تو زمین اپنے پاس رکھ لو، اور اس کی پیدا وار کو صدقہ کر دو۔‘‘

امام احمد اور دیگر محدثین کی روایت ہے کہ سیدنا ابن عمرw نے کہا:

’’اسلامی تاریخ کی سب سے پہلی وقف زمین سیدنا عمرt کی زمین تھی۔‘‘

سیدنا عمر کی یہ حدیث وقف کی شرعی حیثیت کی دلیل ہے۔ پھر دیگر صحابہ کرام] نے بھی بہت سی چیزیں وقف کیں اور بعد میں آنے والے لوگوں نے بھی اللہ کی خوشنودی اور قرب کمانے کے لیے یہ سلسلہ جاری رکھا۔

اس کی ایک مثال وہ ہے جو امام مسلم روایت کرتے ہیں، سیدنا ابو ذر غفاری  کے قبولِ اسلام والے واقعے میں آپ  بیان کرتے ہیں:

’’رسول اللہ e کو سب سے پہلے اسلامی طریقے کے مطابق سلام میں نے ہی کیا تھا، جس کے جواب میں آپ e نے فرمایا تھا: تم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت بھی۔‘‘

اس باوقار صحابی نے بھی یہ عظیم فضیلت کما لی۔ یعنی نبیe کو سب سے پہلے سلام کرنے کی فضیلت حاصل کر لی، وہ بھی اسلامی طرز کے مطابق، وہ طریقہ جو اہلِ جنت میں بھی قائم رہے گا۔ ہمیں بھی اسے رواج دینا چاہیے اور اسے کسی دوسرے طریقے سے بدلنا نہیں چاہیے، نہ دوسرے طریقوں کو کافی سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ یہی سب سے بہتر طریقۂ ملاقات ہے، سب سے افضل اور اعلیٰ سلام ہے۔ عمیر بن وہب  کے قبولِ اسلام کے موقع پر ان کا جو مکالمہ آپ e کے ساتھ ہوا، اس میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے طریقے کے مطابق سلام کیا جو جاہلیت کا طریقہ تھا۔ تو آپ e نے فرمایا:

’’اللہ نے تمہارے اس سلام سے بہتر طریقہ ہمیں سکھایا ہے، ہمارے سلام کا طریقہ السلام علیکم قرار دیا ہے، جو کہ اہل جنت کا طریقہ ہے۔ عمیر  نے کہا: وہ وقت زیادہ دور نہیں جب آپ بھی ہمارا سلام ہی استعمال کرتے تھے۔ آپ e نے فرمایا: اللہ نے ہمیں اس سے بہتر عطا فرما دیا ہے۔‘‘ (طبرانی)

اللہ کے بندو! نیکی میں پہل کرنے کا ایک واقعہ وہ بھی ہے جو سیدنا جابر بن سمرہt بیان کرتے ہیں کہ

’’اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر حضرت سعد بن ابی وقاصt نے چلایا۔‘‘

اس حدیث میں سیدنا سعدt کی ایک فضیلت بیان ہوئی ہے۔ وہ دلیر مجاہد اور اسلام میں پہل کرنے والے تھے، دین اسلام کا دفاع کرنے والے اور اس کے محافظ تھے۔ سیدنا سعدt کو بجا طور پر اس پہ ناز تھا، وہ فرمایا کرتے تھے:

’’اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر میں نے چلایا تھا۔‘‘ (بخاری ومسلم)

جنگِ احد میں رسول اللہ e اپنے تھیلے سے تیر نکال کر سیدنا سعدt کے سامنے بکھیر دیتے اور فرماتے:

’’تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔‘‘

جیسا کہ صحیح بخاری میں آیا ہے۔

یہ پڑھیں:           خطبہ حرم مدنی .... علاج معالجہ کے آداب: الشیخ صلاح البدیر﷾

اس باب میں یہ بھی ذکر ہو جانا چاہیے کہ سیدہ امّ عمّار، سمیّہr اسلام کی پہلی شہیدہ تھیں۔ انہیں قبولِ اسلام کی وجہ سے خوب اذیت دی گئی۔ ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ دیں، مگر انہوں نے یہ نہ کیا بلکہ اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کر دی۔ اس طرح وہ اس بڑے مقام پر فائز ہو گئیں۔ امام ابن سعد نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

’’اسلام کی پہلی شہیدہ، سیدہ سمیّہ تھیں، جو سیدنا عمار بن یاسرw کی والدہ تھیں۔ آپ بوڑھی اور ضعیف ہو چکی تھیں۔‘‘

اے مسلمانو! نیکیوں میں پہل کرنے والوں میں سیدنا بلالt بھی تھے۔ آپt نے اذان میں پہل کی۔ قاسم بن عبد الرحمنt بیان کرتے ہیں:

’’سب سے پہلے اذان دینے والے بلال  ہیں۔‘‘

کیا شاندار نیکی ہے، جو اہل اسلام کی عبادت کا شعار ہے۔ جو قربتِ الٰہی کا بہترین طریقہ ہے۔ جو اللہ کی طرف بلانے کا ذریعہ ہے۔ جو اسلام کے ستون، نماز کی طرف آنے کی دعوت ہے۔

اسی باب میں حضرت عمر بن عبد العزیزa کی یہ خدمت بھی شامل کی جاتی ہے کہ آپ نے تدوینِ حدیث پر خوب توجہ دی۔ ابو بکر بن حزم کو خط لکھا، ابن شہاب زہری کو بھی اس حوالے سے حکم دیا۔ ابن حجرa بیان کرتے ہیں:

’’حدیث کو باقاعدہ کتابی شکل دینے والے ابن شہاب زہری ہیں، انہوں نے یہ کام سن سو ہجری میں عمر بن عبد العزیزa کے حکم سے کیا۔ ان کے بعد کتابت حدیث عام ہو گئی، پھر باقاعدہ کتابیں لکھی گئیں اور بہت خیر پھیلی۔ والحمد للہ!‘‘

اللہ آپ پر رحم فرمائے! دیکھیے، ان کے بعد کتنے لوگوں نے حدیث کی کتابیں لکھیں اور احادیث جمع کرنے کا کام سرانجام دیا۔ اس حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ صرف صحیح احادیث کو ایک کتاب میں جمع کرنے کا کام سب سے پہلے امام بخاریa نے کیا۔ پھر بہت سے لوگ ان کے راستے پر چل پڑے۔

نیکی میں سبقت کی ایک اور مثال مضر قبیلے کے وفد کی ہے جو رسول اللہ e کے پاس فقر وفاقہ کے عالم میں آئے  تھے۔  جب آپ نے ان کی حالت دیکھی تو آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری نظر آئی۔ آپ نے ایک تقریر میں صحابہ کرام کو صدقہ کرنے کی نصیحت کی۔ ایک انصاری صحابی ایک تھیلی لے کر آئے، جو اتنی وزنی تھی وہ اسے مشکل سے اٹھا پا رہے تھے،  یا وزنی ہونے کی وجہ سے وہ ان سے چھوٹنے ہی لگی تھی۔ انہیں دیکھ کر پھر اور لوگوں نے بھی صدقہ دینا شروع کیا، یہاں تک کہ لباس کے اور کھانے کے دو بڑے ڈھیر لگ گئے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہe کے چہرہ مبارک پر خوشی نظر آنے لگی۔ آپ e نے فرمایا:

’’جو اسلام میں کسی نیکی کو شروع کرتا ہے، اسے اپنا اجر بھی ملتا ہے اور اسے دیکھ کر نیکی کرنے والوں کا اجر بھی ملتا ہے۔ مگر نیکی کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اور جو اسلام میں کسی برائی کا رواج ڈالتا ہے، اسے اپنا گناہ بھی ملتا ہے اور اسے دیکھ کر برائی کرنے والوں کا گناہ بھی ملتا ہے۔ مگر بعد میں برائی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔‘‘ (مسلم)

یہ پڑھیں:          خطبہ حرم مدنی ... سیرت رسولﷺ کے چند اہم واقعات : الشیخ عبداللہ البعیجان﷾

اس حدیث میں نیکی میں پہل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، تاکہ اسے دیکھ کر اور لوگ بھی نیکی کرنے لگیں۔ برائی میں پہل کرنے سے خبردار بھی کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسے دیکھ کر برائی نہ کرنے لگیں۔

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

اے اللہ کے بندو! جس طرح نیکی میں کچھ لوگ پیشوا  اور ہدایت کی راہ میں امام ہوتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ اس کے بر عکس بھی ہوتے ہیں۔ جو گمراہی میں بہت زیادہ بھٹک چکے ہوتے ہیں، برائی اور بے راہ روی میں بہت آگے نکل چکے ہوتے ہیں، برے کام اور برے احوال ان کی وجۂ تعریف بن جاتے ہیں۔ یہ خواہش پرستوں اور بے سمجھوں کی راہ پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ غافلوں اور شریر لوگوں کے قافلے میں آگے آگے ہوتے ہیں، بلکہ اہل فسق وفجور اور گمراہی والے بدبختوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ ان پر اللہ کا یہ فرمان صادق آتا ہے:

’’ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا۔‘‘ (القصص: ۴۱)

یہ خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ کے بندو! اس کی مثال وہ ہے جو  صحیح حدیث میں آئی ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

’’میں نے عمروبن عامر بن لحی خزاعی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب میں سائبہ کی رسم کو ایجاد کیا۔‘‘

یہ وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے ابراہیم  کے دین کو بدل کر شرک اور بت پرستی کی دعوت دی تھی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹے۔ تاکہ اسے سزا مل جائے، اور اس جیسے عمل کرنے والوں کو سبق مل جائے۔ اسی طرح روایت میں ہے کہ آپ e نے فرمایا:

’’جب بھی کوئی معصوم قتل ہوتا ہے، تو اس کا کچھ وبال آدمu کے پہلے بیٹے پر ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ اسی نے قتل کا آغاز کیا۔‘‘

یہ اس کی سزا ہے، کیونکہ اس نے سب سے پہلا قتل کیا۔ اس لیے جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے، تو اسے ضرور اس کا گناہ ملتا ہے۔

اہل علم بیان کرتے ہیں کہ عقیدے کے معاملے میں تقدیر کا انکار سب سے پہلے معبد جہنی نے کیا تھا۔ یعنی: وہ تقدیر کا انکار کرنے والا سب سے پہلا شخص تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اللہ کو مستقبل کی کسی چیز کا علم نہیں ہے۔ اس نے اللہ پر الزام لگایا اور بڑا جھوٹ بولا۔ ان ظالموں کی باتوں سے اللہ انتہائی بلند وبالا ہے۔

اللہ کے بندو! ہر مسلمان اس کوشش میں رہتا ہے کہ نیکی میں آگے نکلے، پروردگار کو راضی کرنے والے کاموں میں پیش پیش رہے، دوسروں کے لیے نمونہ بننے کی کوشش کرے۔ اللہ نے جناب موسیٰu کے بارے میں فرمایا:

’’اور اے موسی! کون سی چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی؟ اُنہوں نے عرض کیا: وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں۔ میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں، اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے۔‘‘ (طٰہٰ: ۸۳-۸۴)

یہ پڑھیں:       خطبہ حرم مکی ... تاریخ الٰہی سے چند سبق آموز واقعات : الشیخ ماہر المعیقلی﷾

یعنی: تیرے قرب کی تلاش مجھے جلد لے آئی ہے، تیری خوشنودی میں مسابقت اور تجھ سے ملاقات کا شوق مجھے بھگا لایا ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان گناہوں اور غلطیوں میں پہل سے بچتا ہے، برا نمونہ بننے سے دور رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کفر میں پہل کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

’’اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ یہ اُس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچو۔‘‘ (البقرۃ: ۴۱)

یعنی: تم اہل کتاب کا وہ پہلا گروہ نہ بنو جو قرآن کا انکار کر دے، ایسا نہ ہو کہ لوگ بھی تمہیں دیکھ کر کفر کرنے لگیں، اس طرح تم کفر میں پیشوا بن جاؤ گے اور تمہیں اپنے گناہ کے ساتھ ساتھ تمہاری پیروی میں انکار کرنے والوں کا گناہ بھی جھیلنا پڑے گا۔

اے امت اسلام! ہمارے سلف صالحین میں کتنے  پہل کرنے والے عظیم لوگ ہیں جنہوں نے نیکی میں مقابلے کی بہترین مثالیں قائم کیں۔ نیکی میں پہل کا شرف حاصل کیا، علم وعمل میں قیادت کی فضیلت حاصل کی۔ آج بھی امت کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نیکی کے کاموں میں پیش قدمی کرنے والے ہوں، تخلیقی کام کریں اور پوری مہارت کے ساتھ عصر حاضر کی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں، تاکہ وہ بھی محنت، سنجیدگی اور کوشش میں پہل کرنے سے جانے جائیں۔ جو اپنے معاملات میں پروردگار کی کتاب اور سنت رسول e کے پابند رہیں۔ آج کے لوگوں کو بھی یہی زیب دیتا ہے کہ وہ بھی نیکی میں پیش قدمی کریں اور لوگوں کے لیے اچھی مثالیں قائم کریں، تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں، ان کے ارادے بلند ہو جائیں اور ہمتوں کو عروج مل جائے۔ آج کے لوگوں کو یہ بھی زیب دیتا ہے کہ ان میں سبقت لیجانے والے راسخ اہل علم بھی ہوں، جو ماہر فن بھی ہوں اور اپنے فن میں نمایاں بھی ہوں، جو سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہوں اور بخوبی اپنے کام کرنا بھی جانتے ہوں، اسے پھیلانے اور مخلوق کو اپنا علم سکھانے کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔ ان میں بلند اور فضیلت وشرف والے کاموں میں سبقت لیجانے والے بھی ہوں۔ اخلاق کریمہ میں بھی پہل کرنے والے ہوں، اچھی صفات میں بھی، اچھے آداب میں بھی، اور اچھے اعمال میں بھی آگے بڑھنے والے ہوں۔ لوگوں میں صلح کرانے میں بھی، انہیں محبت، الفت اور اتحاد اتفاق کی طرف بلانے میں بھی سبقت لیجانے والے ہوں۔ خیر کی طرف بلانے میں بھی، نیکی کرنے میں بھی، لوگوں کے کام کرنے میں بھی، ان کی تکلیفیں دور کرنے میں بھی آگے بڑھنے والے ہوں۔ سخاوت اور عطا میں بھی، صدقہ خیرات میں بھی، دینے اور سخاوت کرنے میں بھی سبقت لیجانے والے ہوں۔ دعوت کے مختلف طریقوں کو اپنانے میں بھی، دینِ حنیف کو پھیلانے میں بھی، جہان والوں کو اسلام کی بھلائیاں دکھانے میں بھی آگے نکلنے والے ہوں۔ اگلی نسلوں کی تربیت میں بھی، انہیں فائدہ مند کام دینے میں بھی سبقت کرنے والے ہوں۔ اسی طرح امت کو ایسی عورتوں کی بھی ضرورت ہے جو سبقت لیجانے والی ہوں، نیک ہوں، اللہ کی طرف رجوع کرنے والی ہوں، دین اسلام کو باعثِ افتخار سمجھنے والی اور رب العالمین کے احکام کی حفاظت کرنے والی ہوں۔

اللہ کے بندو! آج ہمیں ہر فن میں اچھی مثالوں کی پیروی کی ضرورت ہے، جو سبقت لے گئے، فضیلت پا گئے اور بلندی حاصل کر گئے۔ علم میں خدا خوفی رکھنے والے علما کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے، عبادت وانابت میں فرمان بردار عبادت گزاروں کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔ توبہ میں رجوع اور توبہ کرنے والوں کی راہ پر، ذکر میں ذاکرین کی راہ پر، صبر میں صابرین کی راہ پر، شکر میں شاکرین کی راہ پر، سچائی میں سچوں کی راہ پر، ثابت قدمی میں اپنے دین اور موقف پر ثابت قدم رہنے والوں کی راہ پر، سنجیدہ اور اپنے اعمال پوری طرح ادا کرنے والوں کی راہ پر، اپنے وقت کی حفاظت کرنے والوں کی راہ پر، محنت کرنے والوں کی راہ پر، والدین کی فرمان برداری میں فرمان برداری کرنے والوں کی راہ پر، صلہ رحمی میں صلہ رحمی کرنے والوں کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہر میدان میں ہمیں بہترین لوگوں کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔

یہ پڑھیں:           خطبہ حرم مدنی ... چند قابل غور نصیحتیں : الشیخ عبدالمحسن قاسم ﷾

اے اللہ! ہم تجھ سے نعمتوں کے زوال سے، عافیت کے خاتمے سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما! ہماری نیک خواہشات پوری فرما! ہمارے اعمال کا خاتمہ نیک اور دیر پا اجر والے کاموں پر فرما!

اے اللہ! اپنے بندے اور رسول، محمد e پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما! وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔


No comments:

Post a Comment

Pages