مدیر اعلیٰ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

مدیر اعلیٰ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, مدیر اعلیٰ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
 

مدیر اعلیٰ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

 

بتاریخ ۲۷ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ لاہور میں ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے مدیر اعلیٰ کہنہ مشق صحافی جناب محمد بشیر انصاری مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کا اہتمام جمعیۃ اساتذہ پاکستان کے صدر جناب پروفیسر عتیق اللہ عمر نے کیا تھا۔ اس نشست کے خصوصی مہمانوں میں امیر محترم جناب علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر‘ ناظم اعلیٰ جناب ڈاکٹر حافظ عبدالکریم مدیر اعلیٰ مرحوم کے فرزندان جناب خالد بشیر انصاری‘ طارق بشیر انصاری‘ رانا تنویر قاسم‘ حافظ بابر فاروق رحیمی ودیگر اعیان جماعت شامل ہیں۔

یہ پڑھیں:            سیرت کا پیغام

پروگرام کی نقابت صدر جمعیۃ اساتذہ جناب حافظ عتیق اللہ عمر کے حصے میں آئی جو انہوں نے خوب نبھائی۔ ہر مقرر کے اظہارِ خیال سے قبل یا بعد وہ حضرت بشیر انصاری کی خدمات کے اچھوتے علمی اور ادبی اشارے پیہم دیتے گئے۔ تلاوتِ قرآن پاک کے بعد شاعر جماعت جناب جعفر طیار نے حضرت انصاری صاحب کو منظوم ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ یہ نظم انہوں نے خاص طور پر اس تقریب کے لیے لکھی تھی جو شامل اشاعت کی جا رہی ہے۔ ان کی آواز میں ساز سے بڑھ کر کمالِ سوز تھا۔

سلسلۂ اظہار خیال میں سب سے پہلے صدر ASF پاکستان انجینئر وسیم عباس سلفی کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ ایک مرکزی پرچہ اور ہمارا ترجمان ہے وہاں انصاری صاحب بھی نہایت مشفق تھے اور انہوں نے ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت کی۔‘‘

صدر حکماء محاذ جناب شاہد اقبال ظہیر نے کہا کہ ’’انصاری صاحب نے اس رسالے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور اس کی محبت میں دیگر رسالوں میں ادارت پر لاکھوں کی تنخواہ کی آفریں بھی ٹھکرا دیں۔‘‘

پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر سیکرٹری جنرل جمعیۃ اساتذہ نے کہا کہ ’’ہر گھر اور ہر مکتبہ میں ان کی خدمات بصورت ہفت روزہ ’’اہل حدیث نظر آتی رہیں گی۔‘‘

ان کے بعد انصاری صاحب کے جانشین کے طور پر راقم کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی میں نے گذارش کی کہ ’’ان کی خدمات نا قابل فراموش ہیں وہ جماعت کا اثاثہ تھے ان کا رویہ محبت والا اور مزاج دھیمہ تھا۔ وہ کسی گروپ بازی کا کبھی حصہ نہ بنے۔ بظاہر کمزور اور ناتواں نظر آنے والا وہ شخص اپنے فن میں امام اور فن صحافت میں ایک پہاڑ تھا۔‘‘

AYF پاکستان کے صدر حافظ فیصل افضل شیخ نے کہا کہ ’’اللہ نے انہیں لمبی زندکی عطاء کی لیکن ہماری محرومی ہے کہ ہم بزرگوں سے اچھی طرح استفادہ نہیں کرتے۔ آج کے نوجوانوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔‘‘

جناب خالد بشیر انصاری نے کہا کہ ’’ہمارے والد صاحب ایک عظیم باپ تھے‘ ہم اس نشست کے اہتمام پر اراکین جماعت کے شکر گذار ہیں اور دعا کے درخواست گذار ہیں۔‘‘

ناظم اعلیٰ پنجاب حافظ محمد یونس آزاد نے کہا کہ ’’میں نے جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے علم حاصل کیا ہے۔ ان کا گھر وہاں قریب ہی تھا‘ میں نے دوران تعلیم ان کی بہت شفقتیں حاصل کی ہیں۔‘‘

امیر پنجاب مولانا عبدالرشید حجازی نے کہا کہ ’’وہ اپنے فن سے اچھی طرح وابستہ رہے اور سفر وحضر میں اسی سے اخلاص اور تعلق رکھا۔ وہ جماعت کے مخلص قائد تھے۔‘‘

ایڈیشنل سیکرٹری جنرل جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری نے کہا کہ ’’وہ مبتدی لکھاریوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ میں ۹ویں میں پڑھتا تھا کہ انہوں نے میرا مضمون شائع کر دیا اور دیگر کی طرح میری حوصلہ افزائی کی ان کی جماعتی وابستگی مضبوط تھی اور وہ لابیوں سے بچ کر رہتے تھے۔‘‘

یہ پڑھیں:            اپوزیشن کی اے پی سی

سینئر نائب ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم بٹ نے انصاری صاحب کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے جماعت کے لیے بڑا اونچا کردار پیش کیا ہے‘‘

ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ ’’انصاری صاحب کی زندگی کے مختلف پہلو ہیں 1 وہ مستقل مزاج تھے۔ 2 لمبی خدمات میں بے مثال تھے۔ 3 اخلاق ادب واحترام میں بلند مرتبہ تھے۔ 4 میری کوشش ہوتی ہے کہ ناظم اعلیٰ کی ذمہ داری میں کسی بڑے سے مشورہ مقصود ہو تو میں ان کے دفتر چلا جاتا ہوں لیکن وہ بڑے ہو کر بھی میرے دفتر آجاتے میں انہیں کہتا کہ مجھے یاد فرما لیتے لیکن وہ بہت بلند اخلاق تھے۔ 5 وہ باوجود بڑے ہونے کے دفتری اور جماعتی امور میں ہمیشہ امیر اور ناظم کی بات کو قبول کرتے تھے۔ 6 وہ با عمل شخصیت تھے۔ 7شرافت اور سنجیدگی کا پیکر تھے۔ میں جمعیۃ اساتذہ پاکستان اور ناظم ذیلی تنظیمات کو اس نشست اور اس جیسی دیگر محافل کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘

ناظم ذیلی تنظیمات جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے اس موقع پر امیر محترم اور ناظم اعلیٰ کی شمولیت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس نشست میں شمولیت اور اظہار خیال پر ذیلی تنظیمات کے ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انصاری صاحب نے ہمیشہ جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی مضبوط رکھی اور حالات کی تنگی یا پریشانی انہیں اپنے نصب العین سے ہٹا نہ سکی۔ امیر محترم چونکہ آغاز محفل میں شریک نہ ہو سکے اس لیے ان کے خطاب سے قبل محترم جعفر طیار نے انصاری صاحب کے متعلق اپنی نظم دوبارہ سنائی۔

آخر میں امیر محترم علامہ پروفیسر ساجد میرd نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ڈاکٹر عبدالغفور راشد صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ فوت شدگان اکابرین جماعت کے تذکروں کے لیے محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ انصاری صاحب کی خدمات نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ وہ پہلے اہل حدیث میں تھے‘ پھر الیوم میں‘ پھر ترجمان الحدیث میں‘ پھر ہفت روزہ الاسلام کے مدیر اعلیٰ بنے اور آخرش دوبارہ ’’اہل حدیث‘‘ میں آئے اور تا دمِ واپسیں اس سے وابستہ رہے۔ ان میں انتہاء درجے کی شرافت تھی اور وہ انا اور تکبر سے مکمل طور پر بچے ہوئے تھے۔ وہ [من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا] کے فرمان رسولe پر زندگی بھر عمل پیرا رہے اور اس میں انہوں نے سر مو فرق نہ آنے دیا۔ وہ سنجیدگی وقار اور شرافت کا نمونہ تھے۔ انہوں نے مولانا محمد عبداللہ سابق امیر جمعیت‘ حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید اور میرے ساتھ تعلق وفاء کا رشتہ خوب نبھایا۔ اللہ نے ان کو نیک ساتھیوں کے ساتھ اولاد بھی نیک عطاء فرمائی۔ دنیا کی نعمتوں سے بھی نواز۔ انہوں نے جماعت کے ساتھ تعلق اپنے دل سے رکھا۔ ان میں ایک بڑائی مروت کی عادت بھی تھی۔ وہ جماعتی معلومات‘ شخصیات اور کانفرنسوں کی تاریخ میں انسائیکلوپیڈیا تھے میں ان سے کوئی بات ذکر کرتا تو وہ حوالے نکال کے تاریخ پیش کر دیتے تھے۔

یہ پڑھیں:            تحفظ ناموس صحابہ

نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان جناب حافظ عبدالحمید عامر کی دعائے خیر پر یہ خوبصورت علمی وادبی نشست ختم ہوئی اور شرکاء کی بڑی تعداد کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ شرکاءِ محفل میں اہم جماعتی رہنما اور شہری جمعیت لاہور وگوجرانوالہ کے ذمہ داران شامل ہیں۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages