بد اعمالی اور نعمتوں کی نا شکری کے اثرات 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

بد اعمالی اور نعمتوں کی نا شکری کے اثرات 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, بد اعمالی اور نعمتوں کی نا شکری کے اثرات


درسِ قرآن

بد اعمالی اور نعمتوں کی نا شکری کے اثرات

 

ارشادِ باری ہے:

﴿وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۰۰۱۱۲﴾ (النحل)

’’اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن اور اطمینان سے تھی، اُس کی روزی اُس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی، پھر اُس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا، جو کہ اُن کی بداعمالیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ ‘‘

یہ پڑھیں:            تربیت ایک اہم ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ فی الارض کو اشرف المخلوقات بنانے کے بعد اس کے لیے طرح طرح کی نعمتوں اور آسائشوں کا بندوبست فرمایا ہے اور مطالبہ صرف اور صرف اپنی ہی بندگی اور اطاعت کا کیا ہے۔ لیکن حضرت انسان کی ناشکری اور نافرمانی کا عالم یہ ہے کہ وہ اس رب کائنات سے نہ صرف منہ موڑتا ہے بلکہ اُس کے خلاف محاذ کھڑا کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی ناشکروں، نافرمانوں اور حد سے گزر جانے والوں کے لیے بارہا کی تنبیہ کے بعد عذاب سے دوچار کیا تاکہ یہ عذاب جہاں اہل بستی کے گناہوں کا وبال ہو وہاں آنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بھی ہو۔

خدائے بزرگ و برتر نے اپنے ہاتھ سے اس حضرت انسان کی مٹی کو گوندھا ہے، اور وہ کبھی بھی اسے عذاب میں مبتلا یا آگ میں جلتا نہیں دیکھنا چاہتا لیکن انسان کی اپنی ہی بداعمالیاں اسے اذیت اور مصیبت سے دوچار کرتی ہیں۔

﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ﴾ (يونس: 23)

’’لوگو! تمہاری سرکشی کا وبال تمہاری ہی جانوں پر پڑے گا۔‘‘

﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ﴾ (شورىٰ: 30)

’’اور (لوگو!) تم پر جو مصیبت پڑتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔‘‘

آج کا مسلمان اگر اپنا محاسبہ اور روز و شب کے معمولات کو اپنے خالق کے تابع کر دے تو یقیناً خوشحالی اور خوش بختی نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اُس کا مقدر ٹھہرے گی۔

دوسرے مقام پر فرمایا:

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔‘‘

یہ پڑھیں:            اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں

قرآن کا یہ قانون خوشحالی آج بھی موجود ہے، اگر ہم اس سے مستفید ہونا چاہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 

No comments:

Post a Comment

Pages