سیدنا ابوبکر صدیق 20-24 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

سیدنا ابوبکر صدیق 20-24

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اہل حدیث, اھل حدیث, سیدنا ابوبکر صدیق
 

خلیفہ بلا فصل بلا اختلاف

سیدنا ابوبکر صدیق ﷜

 

تحریر: جناب مولانا محمد بلال ربانی (سیالکوٹی)

سیدنا ابوبکر صدیق t وہ شخصیت ہیں کہ جن کی خدمات کا اعتراف تو خود جناب رسول اللہ e کی ذات گرامی کو بھی تھا ابوبکر صدیق t  کی حیثیت بطورِ رفیق نبوت اور پھر بحثیت خلیفہ اول مسلمہ رہی ہے قرون اولیٰ سے لے کے آج تک سبھی مسلمان حضرت ابوبکر صدیقt کی دین اسلام سے وفا،محبت اور انتہاء درجہ کے صادقانہ خصائص تسلیم کرتے ہوئے آپ کو نبی کریم e کے بعد خلیفہ بلا فصل تسلیم کرتے ہیں اور اس پر ایمان کی حد تک یقین بھی رکھتے ہیں۔

یہ پڑھیں:            صحابہ کرام] کے بارے میں اہل سنت کا موقف

تاریخ میں ایک خاص گروہ مسلمانوں کی صفوں شامل رہا ہے جو صدیق اکبر t  کی صداقت اور خلافت کو جھٹلانے کے درپے ہے مگر صدیق اکبر t  کی عظمت ایک ایسا دمکتا فانوس ہے کہ جس کی روشنیوں کو کوئی بھی آندھی یا طوفان گزند نہیں پہنچا سکا بلکہ باد مخالف کی تندی بھی نام صدیق t کو نقصان نہ پہنچا سکی الٹا مزید پرواز کو اور بھی بلند کر گئی۔

بدقسمتی سے شرذمہ قلیلہ اس امت کی صفوں میں ہر دور میں شامل رہی ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر یار غار پیغمبر اکرم e سے ہر دور میں عناد جس کے دلوں میں پلتا رہا ہے اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں موقع ملتے ہی بغیر کسی سوچ بچار کے حرمت صدیق t  پر چھینٹے اڑانے کی ناپاک جسارت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر و بیشتر ان کی خلافت کو موضوع سخن بنایا جاتاہے یہیں سے ایک دروازہ کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے یاران پیغمبر اسلام e کی تنقیص کی جانب اور سیدنا علی المرتضیٰ t  اور اہل بیت] کی محبت کی آڑ لے کر لوگ کمال تندہی سے یہ جسارت کرتے ہیں انہی لوگوں میں سے ایک نام جہلم سے ایک مرزا انجینئر کا بھی ہے جنہیں موسموں اور مہینوں کے حساب سے اپنا رنگ بدلنا خوب آتا ہے جو ربیع الاول میں سبز عمامہ زیب سر کیے جشن عید میلاد النبی e کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں تو محرم الحرام میں کالے پیرہن میں آن دھمکتے ہیں اور اپنی موشگافیوں سے حتی المقدور فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے اپنے تئیں اصحاب النبیe کی شخصیات کو پراگندہ کرنے کی کوششوں میں رہتے ہوئے کوئی نہ کوئی ہوائی چھوڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔

حال ہی میں ان کا ایک ویڈیو کلپ نظروں سے گزرا جس میں موصوف پر صدیوں بعد یہ عقدہ کھلا بے کہ سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت ہی سے امت اختلاف کا شکار ہوگئی ہے اور موصوف کے مطابق اس کے ذمہ دار سیدنا ابوبکر صدیق t اور جناب عمر فاروق t ہیں نہ صرف وہ ذمہ دار ہیں بلکہ جو شیخین کا دفاع کرنے کی کوشش کرے اسے وہ ناصبی قرار دے کے ایک نئی اصطلاح متعارف کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ کے مصداق مرزا جہلمی رفتہ رفتہ اپنے انجام اور آخری اسٹیشن پر رکنا ہی چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تلبیس کے پھیلائے اس جال میں اپنے سادہ لوح چاہنے والوں کو بھی اپنے پیش رو مرزا قادیانی کی طرح اسی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں جہاں آج قادیانی حضرات موجود ہیں۔

یہ پڑھیں:          خلافتِ راشدہ .. ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے

کمال مہارت اور انتہائی لطیف انداز میں امت میں پھیلے موجودہ دور کے تمام اختلاف اور افتراق کا ذمہ دار سیدنا ابوبکر صدیق t کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں آج اگر حضرت ابوبکر صدیق t کو اسلامی تاریخ کے یہ دو ٹکڑے دکھائے جائیں تو وہ خون کے آنسو روئیں بادی النظر میں یہ منوانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق t کی خلافت جب قائم ہوئی تو مس ہینڈلنگ ہوئی‘ حضرت ابوبکر صدیق t کی شخصیت کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں تو ساتھ ہی ان تمام تر حالات کا ذمہ دار بھی انہی کو ٹھہرانے کی کوشش بھی کیے جاتے ہیں دلیل کے طور پر چھ ماہ تک حضرت علی کا بیعت نہ کرنا اور پھر حضرت عمر فاروق t کا فرمان کہ میرے بعد ابوبکر صدیق t کی خلافت کو مثال بنا کے کسی کے ذمہ امت کی قیادت کا فریضہ نہ سونپنا اور پھر یہاں سے نکتہ نکالتے ہیں اور ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت کو مسلمہ تسلیم کرنے والی امت مسلمہ کے اجماع پر انتہائی شاطرانہ انداز میں ناصبی ہونے کی پھبتی کستے ہوئے اندر کا رفض بھی اگلتے ہیں اور ساتھ ہی بچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

مرزا جہلمی کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل مختصر دورانیے کے اس ویڈیو کلپ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ موصوف کس منزل کا تعین کیے ہوئے ہیں اور آئندہ ان کی ترجیحات کیا ہیں قطع نظر اس سے کہ مرزا جہلمی جیسے سارے دشمنان صدیق اکبر t مل کے بھی رازدار نبوت سیدنا ابوبکر صدیق t کے قدموں کی خاک تک کو نہیں پہنچ سکتے‘ صدیق اکبر t کی ہستی اللہ اور اس کے پیارے رسول e کی بارگاہ میں بلند مقام پر فائز نظر آتی ہے‘ جس شخصیت کا مقام اس قدر بلند ہو کہ رسول اکرم e نے سب سے زیادہ اسی پر اعتماد کیا ہو نہ صرف اعتماد بلکہ اپنی زندگی ہی میں اپنی مسند کا امین قرار دیا ہو اب کسی انجینئر، ڈاکٹر یا ماہر علوم و فنون، مشاق ضرب و حرب کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق t پر انگلی اٹھائے اور ان کے دفاع کے لیے کھلنے والی زبانوں کو ناصبیت کا طعنہ دے‘ اگر اسی کا نام ناصبیت ہے تو پھر ہمیں صدیق اکبر t کی محبت میں یہ تمغہ بھی قبول ہے۔ مرزا اور اس قبیل کے شر پسند جو گرد اڑاتے ہیں اسے ہم فقط اس لیے صاف کریں گے کہ ہمارا نام بھی صدیق اکبر t کے چاہنے والوں کی فہرست میں شامل ہوجائے۔

مرزائے جہلم کی ویڈیو دیکھنے کے بعد ہم درج ذیل خرافات تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں:

1       مرزا یہ ثابت کرنے پر مصر ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقt کی خلافت مس ہینڈلنگ بالفاظ دیگر غلط فیصلہ تھا اور اس میں عمر فاروق t بھی قصور وار تھے

2       سیدنا علی المرتضیٰ t نے ۶ ماہ بیعت نہ کی تھی وہ بھی اسی غلط فیصلے کا شاخسانہ تھی اور پھر سیدنا علی t نے سیدنا ابوبکر صدیق t کو بلایا تھا پاس گئے نہیں تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق t جب سیدنا علی المرتضیٰ t کے پاس گئے تو سیدنا علی المرتضیٰ t کے اعتراضات سن کے روئے تھے سیدنا ابوبکر صدیق t کا رونا انہیں قصور وار ثابت کرتا ہے

3       سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت برحق ثابت کرنے والے ناصبی ہیں اور ان کے بقول سیدنا علی المرتضیٰ t کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیق t نے کوئی جواز نہیں پیش کیا بلکہ اپنی غلطی کو تسلیم کیا لہٰذا اب جو سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت کو جائز ثابت کرتا ہے وہ ناصبی قرار پائے گا

4       سیدنا فاروق اعظم t کی وصیت کہ میرے بعد ویسے خلیفہ نہ چننا جیسے ابوبکر صدیق t کو چنا گیا تھا لہٰذا حضرت عمر کی یہ بات بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وہ طریقہ غلط تھا۔

5       تمام حقائق اور واقعات جو مرزا نے بیان کیے ہیں وہ ان کے مطابق بخاری، مسلم میں موجود ہیں۔ ذیل کی سطور میں ہم ایک ایک کر کے مرزا کے ان تمام اعتراضات کا جائزہ مرحلہ وار لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت مس ہینڈلنگ یا رسول اللہ e کی مرضی؟

اب اس وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ مرزا جہلمی نے عام علماء کرام اور اکابرین امت سے ہٹ کر جس انداز میں صحابہ کرام] کی ہستیوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی ہے اس کے لیے انداز کچھ یوں اپنایا ہے کہ اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے یہ سب بخاری مسلم میں موجود ہے کی گردان کو رٹا بھی خوب لگایا ہے سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت کو بلا فصل اور بلا اختلاف بخاری مسلم ہی سے ثابت کیا جائے گا مرزا جی کا کہنا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق t کی خلافت پر مس ہینڈلنگ ہوئی مرزا جی کی اس بات کا جائزہ لینے کے لیے مرزا جی کی گردان ہی سے بخاری مسلم کا مطالعہ کرتے ہیں۔

جہاں تک تعلق ہے سیدنا ابوبکر صدیق t کی بلافصل خلافت کا تو اس کی وصیت تو خود جناب رسول اللہ e نے فرمائی ۔ جیسا کہ صدیقۂ کائنات ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr سے مروی ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:

یہ پڑھیں:            خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق

 کہ اپنے باپ حضرت ابوبکر ؓ اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک ایسی کتاب لکھوا دوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی خلافت کی تمنا نہ کرنے لگ جائے اور کوئی کہنے والا یہ بھی نہ کہے کہ میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں اور اللہ اور مؤمنین (رضی اللہ عنھم) سوائے حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کے اور کسی کی خلافت سے انکار کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم کتاب: فضائل کا بیان حدیث نمبر: ۶۱۸۱)

حدیث مبارکہ سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ یہ مس ہینڈلنگ نہیں تھی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا پسندیدہ فیصلہ تھا ایک ایسی بات جسے رسول اللہ e پسند فرمائیں کہ اللہ، رسولe اور تمام مومنین کے ہاں اگر خلافت کے لیے کوئی موزوں ترین شخصیت تھے تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق t تھے اب ان کے متعلق مرزا کا کہنا ہے کہ ان کی خلافت مس ہینڈلنگ تھی اور یہیں سے امت میں اختلافات کی بناء پڑتی ہے یہ بات غلط ہے بلکہ سیدنا صدیق اکبر t مسلمہ شخصیت ہیں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں اور پھر مرزا کا حضرت عمر فاروق t کے خلاف بات کرنا بذات خود مرزا کی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دو شخصیات وہ ہیں جن کو خود رحمت عالم e نے اپنا وارث قرار دیا اور پھر ان کی اِس حیثیت پر خاندان رسالت مآب e کے ساتھ ساتھ جمیع اصحاب النبی e میں سے کسی کو کوئی اختلاف نہ تھا جیسا کہ جناب عبد اللہ بن عمر t فرماتے ہیں:

’’نبی کریم e  کے زمانہ ہی میں جب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکرt کو قرار دیتے، پھر عمر بن خطابt کو پھر عثمان بن عفانt کو۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاءo کا بیان بیان حدیث نمبر ۳۶۵۵)

سیدنا علی المرتضیٰؓ کا چھ ماہ تک بیعت صدیقی سے انکار

مرزا محمد علی کا اس واقعے کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ آپ مانیں گے کہ مس ہینڈلنگ ہوئی پھر بخاری کی آدھی روایت بیان کرنا کہ سیدنا علی t نے اعتراض کیا اور حضرت ابوبکر صدیق t روئے لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق t کا جس انداز میں انتخاب ہوا وہ غلط تھا‘ قرین انصاف تو یہ تھا کہ مرزا مکمل حدیث ریکارڈ کراتے لیکن اپنے اندر کی تسکین کی خاطر مطلب کی بات کہہ گئے بقیہ چھپا گئے ذیل میں مکمل حدیث نقل کی جاتی ہے پڑھئے اور پھر خود ہی فیصلہ کیجئے کہ ان کے باہمی تعلقات کیسے تھے اور اختلاف کی وجہ کیا تھی اور پھر یہ بھی معلوم کیجئے کہ اس کے بعد ان کے دل میں جو تھوڑا بہت غبار تھا وہ بھی ختم ہوگیا تھا:

نبی کریم e کی صاحبزادی r نے ابوبکر صدیق t کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم e کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر t نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم e نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے‘ البتہ آل محمد e اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم e چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ e کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں  (اس کی تقسیم وغیرہ) میں‘ میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ e کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر t نے rکو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر r ابوبکر t کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لی اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ r آپ e کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی t نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر t کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ r جب تک زندہ رہیں علی t پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر t سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر t سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر t کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر t ان کے ساتھ آئیں۔ عمر t نے ابوبکر t سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر t نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی t کے یہاں گئے۔ علی t نے اللہ کو گواہ کیا‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی  ہم رسول اللہ e کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے (کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے) ابوبکر t پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ e کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم e کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی t نے اس کے بعد ابوبکر t سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر t منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی t کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی t نے پیش کیا تھا پھر علی t نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر t کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکرt سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی t نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی t سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب تک کہ انہوں نے اچھی بات اختیار فرمالی۔ (بخاری حدیث نمبر ۴۲۴۰)

یہ پڑھیں:            جذبۂ حب رسول ﷺ اور صحابہ کرام]

اس روایت کے بعد ہم تو کسی قسم کا تبصرہ نہیں کریں گے البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ اپنے علمی کتابی زعم میں اتنا بھی آگے نہ بڑھ جائیے کہ وہ کینے یا حسد کی صورت میں ڈھل جائے اور دین دشمنوں کو کوئی مہمیز فراہم کرے۔

اپنے دعوے کو مزید مضبوط کرنے کے مرزا جہلمی حضرت عمر فاروق t کی وصیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے یہی ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہیں کہ خلافت صدیقی مس ہینڈلنگ اور غلط فیصلہ تھا ذیل میں بخاری کے واسطے سے وہی حدیث نقل کی جاتی ہے جسے بنیاد بنا کر مرزا نے سیدنا صدیق اکبر t کی ذات گرامی پر اعتراض کرنے کی جسارت کی ہے اور ساتھ ہی اپنے مشوروں سے صحابہ کرام] کو نوازنا بھی ضروری سمجھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس روایت کو پڑھنے کے بعد آپ رحلت نبوی e کے بعد پیش آنے والے حالات کو ناصرف جان سکیں گے بلکہ حضرت ابوبکر صدیق t کی۔مسلمہ حیثیت بھی واضح ہو جائے گی لہٰذا عبداللہ بن عباس t بیان کرتے ہیں:

 میں کئی مہاجرین کو  (قرآن مجید)  پڑھایا کرتا تھا عبدالرحمن بن عوف t بھی ان میں سے ایک تھے۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ عمر t کے آخری حج (سنہ ۲۳ھ) میں ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ ابوبکر t کی بغیر سوچے سمجھے بیعت تو اچانک ہو گئی اور پھر وہ مکمل ہو گئی تھی۔ اس پر عمر t بہت غصہ ہوئے اور کہا میں ان شائاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو زبردستی سے دخل درمعقولات کرنا چاہتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف t نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا امیر المؤمنین! ایسا نہ کیجئے۔ حج کے موسم میں کم سمجھ اور برے بھلے ہر ہی قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے۔ عمر t نے کہا ہاں ٹھیک ہے اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے۔ جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے (مسجد نبوی) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمر t بھی باہر نکلے، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل t سے میں نے کہا کہ آج عمر t ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی۔ پھر عمر t ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد e کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا، ان میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا۔ رسول اللہ e نے خود (اپنے زمانہ میں) رجم کرایا۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کر بیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ e نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھا کر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریمi کی حد سے بڑھا کر تعریفیں کی گئیں  (ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا) بلکہ  (میرے لیے صرف یہ کہو کہ)  میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ ابوبکر t کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر t جیسا متقی، خدا ترس ہو۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوا دیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت نبی کریم e کی وفات ہوئی تو ابوبکر t ہم میں سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح علی اور زبیرw اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین ابوبکر t کے پاس جمع ہو گئے تھے۔ اس وقت میں نے ابوبکر t سے کہا: اے ابوبکر! ہمیں اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس لے چلئے۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری، اُن کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ (سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں) اور انہوں نے پوچھا حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب (سردار خزرج) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہt ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی۔ پھر کہا: امابعد! ہم اللہ کے دین کے مددگار (انصار) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین! کم تعداد میں ہو۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد ہے‘ اپنی قوم قریش سے نکل کر تُم ہم لوگوں میں آرہے ہو۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی۔ میری بڑی خواہش تھی کہ ابوبکر t کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر t کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنا چاہی تو ابوبکر t نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور اللہ کی قسم! وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر‘ پھر وہ خاموش ہو گئے۔ ابوبکر t کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزاوار‘ ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو۔ ابوبکر t نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کی ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات میری سوچ کے سوا ہوئی۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بیگناہ میری گردن مار دی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر t خود موجود ہوں۔ میرا اب تک یہی خیال ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرتا۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذر یوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں  (دونوں مل کر کام کریں)  ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ میں ڈر گیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھاؤ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی (چلو جھگڑا تمام ہوا جو منظور الٰہی تھا وہی ظاہر ہوا) اس کے بعد ہم سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے (انہوں نے بیعت نہیں کی)  ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: بھائیو! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے خون کر ڈالا۔ میں نے کہا اللہ اس کا خون کرے گا۔ عمر t نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو ابوبکر t کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کر بیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا (پھوٹ پڑ جاتی) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے بیعت کرنے والے اس کی پیروی نہ کریں، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے۔                  (صحیح البخاری الرقم: ۶۸۳۰)

یہ پڑھیں:            قرآن کریم سے صحابہ کرام] کا طریق استفادہ

مرزا جی کو بخاری، مسلم سے یہ روایات تو ملیں اور پھر ان روایات سے اپنی مرضی کے مطالب اخذ کرنے کی بھی جسارت کرلی اور ساتھ ہی صدیق اکبر t کی خلافت حقہ کو بلا فصل اور بلا اختلاف ماننے والوں پر ناصبیت کی پھبتی کسی ہے‘ ایک لحاظ سے تو شکر گزار ہونا چاہئے ہمیں کہ اس قبیل سے مرزا جی کی صورت میں کوئی تو ملا جس نے ناصبیت کی تعریف کی اور تمام محبان صحابہ کرام] کو ایک ہی صفحے پر لا جمع کیا اگر اسی کانام ناصبیت ہے تو پھر ہمارے لیے یہ لقب بھلا ہے کیوں کہ ہم جب تک جسم میں جان ہے سیدنا ابوبکر صدیق t اور دیگر اصحاب النبی اور اہل بیت عظام] کی عظمت کا دفاع کرتے رہیں گے۔ بخاری مسلم ہی کو پڑھئے تو وہیں سے سیدنا ابوبکر صدیق t کا مقام واضح ہوگا۔ سیدنا ابوبکر صدیق t کے متعلق حضرت علی t کے خیالات کو سمجھ لیجئے اور پھر خود بخود اس نتیجے پر آپ پہنچ جائیں گے کہ امت میں اختلافات کا مرجع نہ ابو بکر صدیق t کی خلافت ہے بلکہ اس کے ذمہ دار کہیں اور ہیں چنانچہ حضرت علی t اپنے فرزند ارجمند حضرت محمد بن حنفیہ کے استفسار پر جواب عنایت فرماتے ہیں:

’’ رسول اللہ e کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ ابوبکرt میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا، اس کے بعد عمرt ہیں۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب (پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟) کہہ دیں گے کہ عثمانt اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف مسلمانوں کی جماعت کا ایک عام شخص ہوں۔ (صحیح بخاری کتاب: انبیاءo کا بیان۔ حدیث نمبر: ۳۶۷۱)

یہ پڑھیں:            سیدنا زید بن ثابت

اس ضمن میں دلائل کا مزید اظہار کیا جاسکتا ہے اور اس حقیقت کو مزید واضح کیا جاسکتا ہے کہ ہر دور میں امت مسلمہ میں حضرت ابو بکر صدیق t کی حیثیت مسلمہ رہی ہے اور آپ کا یہ مقام کسی خود ساختہ علمی کتابی یا کسی فتنہ پرور عناصر کے اصرار پر کبھی کم نہیں ہوگا۔ ان شاء اللہ!


No comments:

Post a Comment

Pages