جگر چھلنی چھلنی ہے - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Wednesday, October 28, 2020

جگر چھلنی چھلنی ہے

ھفت روزہ اھل حدیث, جگر چھلنی چھلنی ہے


جگر چھلنی چھلنی ہے

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)

آج اس تصویر نے جگر چھلنی چھلنی کردیا ہے۔ الفاظ ساتھ نہیں دیتے کہ کیا نوحہ لکھوں۔ یہ بھی ایک باپ ہے جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہوگا۔ جس کی آنکھوں نے اپنے معصوم سے شہزادے کے پھول سے بدن کو زخموں سے چور چور دیکھا ہو گا اور پھر اس کو لاشے بدلا دیکھ کر اس پر کیا گذری ہو گی؟ یہ وہی بتا سکتا ہے۔ یقیناً اپنے ننھے پھول کے اس لاشے پر خون کے آنسو بھی بہائے ہوں گے۔

اس کو پڑھیں:    انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنا کم علمی اور کم عقلی ہے

آہ! کسی حکومتی اہلکار نے اس کی ڈھارس نہیں بندھائی ہوگی، کارِ سرکار میں روم روم مصروف سکار کے کسی اہلکار نے اس کو دلاسہ دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ہو گی۔

وہ بےبسی کی تصویر بنا ہوا اپنے پھول کی نعش کو دیکھتا رہا ہوگا۔ اس نے بھی اپنے لخت جگر کی لاش اٹھانے کے لیے ایمبولینس مانگی ہوگی لیکن غریب کے حصے میں تو ٹیکس بھرنا ہوتا ہے سہولیات تو لینا تو نہیں۔ بالآخر ایمبولینس نہ ملنے پر دل بڑا کرکے اپنی چادر میں ہی اپنے جگر گوشے کے لاشے کو ڈال کر پوری قوم کی بےحسی اور حکمرانوں پر چار حرف ڈالتے ہوئے چل دیا ۔

سوچتا کیا ہوگا کہ

’’کاش میرا بچہ بھی اے پی ایس میں شہیدا ہوتا  تو

کاش اس کے لیے آناً فانا ملک عزیز میں قانون نافذ کرنے والی بہت سی ایجنسیاں ایک دم سے متحرک ہو گئی ہوتیں۔

کاش اس کے پھول کی پتی ایسے زخم زخم بکھرے وجود کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانے والی ایک کی بجائے پانچ پانچ ایمبولینسیں کھڑی ہوتیں۔

کاش اس کو شہادت پا لینے کے بعد ہسپتال سے گھر تک کوئی سوٹڈ بوٹڈ پروٹوکول ملتا۔

اے پی ایس میں ہوتا تو یقینا گھر پر صاحب اقتدار واختیار آتے، بھلے ٹی وی سکرین پر مگر مچھ کے آنسو دکھانے کے لیے ہی سہی۔

اس کو پڑھیں:    محبت صحابہ واہل بیت]  ريلی ... آنکھوں دیکھا حال

میرا جرم تو بس غریب ہونا اور اپنے جگر گوشے کو دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسے میں بھیجنا تھا۔

کیا یہ ملک صرف اور صرف ایلیٹ کلاس اور صاحب اقتدار و اختیار کا ہے؟ کیا غریب بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس دینے اور قطار میں کھڑے ہو کر ذلیل ہوہے اور اصحاب اقتدار کو ووٹ دینے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے؟ کیا غریب کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اس کو جینے کا کوئی حق ہے؟!

خدانخواستہ اگر یہ دھماکہ کسی بڑے نام کے دنیاوی تعلیم کے کسی ادارے میں ہوتا، کسی قادیانی، ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی اور غیر مسلم کی عبادت گاہ میں ہوتا تو ایمبولینسوں کی قطاریں بھی ہوتیں، مفت علاج معالجہ کے لیے بڑے اعلانات بھی ہوتے، وزیر، مشیر، ترجمان، سارے حکمران، حزب اختلاف، علاقے کے ایم این اے اور ایم پی ایز ان کے گھروں میں جاتے، ٹی وی چینلز اپنی اسکرینیں سیاہ کرتے، باقاعدہ مہم چلا کر پوری قوم کو غم منانے کے لیے ابھارا جاتا، نغمے ریلیز ہوتے۔

لیکن۔۔۔۔۔

مدرسے میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے تو غریب ماں باپ کے جگر گوشے تھے۔

ان کی کمروں کے ساتھ بستے نہیں جھول رہے تھے بلکہ یہ معصوم تو قرآن مجید کو سینوں میں محفوظ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اس لیے ان کے لیے نہ کوئی بڑا اعلان، نہ کوئی تعزیتی اجلاس، نہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا اجلاس ان کے غم میں ملتوی ہوا۔ کیونکہ ان کا جرم غریبی اور دین سے محبت ہے۔ اس لیے ان کے لیے کچھ نہیں ہوسکتا۔

اس کو پڑھیں:    تحفظ شعائر اسلام سیمینار

فی زمانہ سمجھا جائے تو اصحاب اقتدار نے سمجھا دیا ہے کہ غریب عوام ایک غلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ادویات، ایمبولینس ودیگر تمام سہولیات صرف مقتدر لوگوں کے لیے ہیں غریب کے لیے ہرگز نہیں۔ لہٰذا  غریب کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر میں ہی اپنے پیاروں کے لاشے اٹھائے، خاموشی سے دفنا دے اور خون کے آنسوؤں کے گھونٹ پی لے اور جب جب یہ لمحات یاد آئیں تو رو کر اور حکمرانوں کی بےحسی پر آنسو بہا لیا کرے۔ حکومت کو وقت پر تمام طرح کے ٹیکس ادا کرتا رہے اور آئندہ مزید کسی حادثے کے لیے سر تا پا تیار رہے۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages