انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنا کم علمی اور کم عقلی ہے - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, October 25, 2020

انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنا کم علمی اور کم عقلی ہے

ھفت روزہ اھل حدیث, مرکزی جمعیت اھل حدیث, پروفیسر ساجد میر, سینیٹر پروفیسر ساجد میر, ساجد میر,


انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑ کر کم علمی اور کم عقلی کا مظاہرہ کیا

 

فرانسیسی صدر پہلے اسلام کا مطالعہ کریں،اسلام تو سراسر دین امن ہے : سینیٹر پروفیسر ساجد میر

جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق کوئٹہ میں تحفظ شعائر اسلام سیمینار سے خطاب، سیمینار سے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر،

سید عتیق الرحمن شاہ، حافظ عامر صدیقی اور حافظ محمد سالم نے بھی خطاب کیا

 

کوئٹہ ... مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر﷾ نے فرانسیسی صدر کو کند ذہن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’انہوں نے انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑ کر کم علمی اور کم عقلی کا مظاہر ہ کیا۔فرانسیسی صدر کو چاہیے کہ وہ پہلے اسلام کا مطالعہ کریں،اسلام تو سراسر دین امن ہے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ بھی سراپا امن ہیں۔اگر انہیں کسی انتہا پسند گروہ سے شکایت ہے تو اس پر تنقید کریں اسلام کو بطور مذہب نشانہ بنا کر انہوں نے مذہبی تعصب کا مظاہرہ کیا۔‘‘

اس امر کا اظہار پروفیسر صاحب نے جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق کوئٹہ میں ’’تحفظ شعائر اسلام سیمینار‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’فرانسیسی صدرصلیبی نظریات کے حامل ہیں۔ وہ اسلام اور پیارے نبی ﷺ کو نشانہ بنا ئیں گے تو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گا۔وہ آگ سے مت کھیلیں۔اسلام اور پیارے نبی ﷺ پر حملے شرانگیزی ہے جس سے انارکی کا دروازہ کھلے گا۔ مغربی ممالک کی حکومتیں نسل پرستی اور اسلام دشمنی کی سرپرستی کررہی ہیں اور یہ عمل ان کے اپنے معاشرے کیلئے کسی صورت ٹھیک نہیں۔ یورپی ممالک کے سیاستدان اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسلم دشمنی کو استعمال کررہے ہیں۔

اسلام ایک عالمگیر دین ہے۔ فرانس سمیت دنیا کا کوئی ملک بھی میں اسلام کی پرامن دعوت کو پھیلنے سے نہیں روک سکتا۔ اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا سب سے بڑا مذہب ہے۔یہ انسانیت سے محبت کرتا ہے۔ اسلام میں کوئی جبر نہیں،اس کی تعلیمات آفاقی ہیں۔ یہ خطوں اور نسلوں کا امتیاز نہیں رکھتا۔اس لیے  مغربی دنیا کو اسلام سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انفرادی گروہ اگر کسی انتہا پسند رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں تو دین ان کا بھی محاسبہ کرتا ہے۔تاہم مساجد، داڑھی اور حجاب سمیت دیگر اقدار اسلامی شعائر ہیں ان کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘

سیمینار سے علامہ ابتسام الہی ظہیر،سید عتیق الرحمن شاہ، حافظ عامر صدیقی اور حافظ محمد سالم نے بھی خطاب کیا۔

دریں اثنا پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد میر کاکہنا تھا کہ ’’احتساب آخر اپوزیشن کاہی کیوں؟اپنے ساتھ جوبیٹھے ان کا احتساب کیوں نہیں؟ وردی والوں کا احتساب کیوں نہیں؟ احتساب ہونا چاہئے سب کا ہونا چاہئے۔عمران خان جس چیز کا بھی نوٹس لیتا ہے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے بہتر یہی کہ نوٹس نہ لے۔ جس نئے پاکستان میں غریب 2 وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا ہمیں یہ پاکستان نہیں چاہیے ہمیں وہی پرانا پاکستان واپس لوٹا دو۔‘‘

 

No comments:

Post a Comment

Pages