سورۃ الضحیٰ کے معانی پر غور وفکر 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

سورۃ الضحیٰ کے معانی پر غور وفکر 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, سورۃ الضحی, معانی پر غور وفکر,خطبہ حرم مدنی,
 

سورۃ الضحیٰ کے معانی پر غور وفکر

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر عبدالباری الثبیتی d

 

ترجمہ: جناب عاطف الیاس  ………………… نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۲)

یہ پڑھیں:             خطبہ حرم مکی ... نیکیوں میں سبقت کی فضیلت ... امام الحرم الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی﷾

قرآن کریم میں ایک سورت ہے، جو نبی e کے دل پر نازل ہوئی، جس نے آپ کو مانوس کیا، آپ کی تکلیفوں کو ختم کیا، آپ کے دکھوں کا مداوا کر دیا، آپ کے دل کو اطمینان بخشا۔ کچھ عرصے کے لیے نزول وحی کا سلسلہ آپ e سے رک گیا تو گھات  میں بیٹھے دشمنوں نے باتیں بنانا شروع کر دیں، شکوک وشبہات پھیلانے والے بھی اپنا کام کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:

’’قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے  (اے نبی) تمہارے رب نے تمہیں ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔‘‘ (الضحیٰ: ۱-۳)

اس سورت میں واضح طور پر نبی کریم e کا مقام ومرتبہ بیان کیا گیا، بتایا گیا کہ اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے، آپ e اللہ کے ہاں بڑے معزز اور فضیلت والے ہیں۔

’’(اے نبی) تمہارے رب نے تمہیں ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔‘‘ (الضحیٰ: ۳)

اللہ تعالیٰ ایسے دل کو کیسے چھوڑ سکتا ہے جو اسی سے مانوس ہو، جو اس سے گریہ زاری کرتا ہو، جو اس کی آیات اور اس کے کلام کو پڑھتا ہو؟ اللہ کسی ایسے بندے کو خود سے دور نہیں کرتا جس کا دل اس سے لگا ہو، بلکہ وہ تو ایسے لوگوں کو اپنے قریب کرتا ہے، انہیں اپنی جناب میں پناہ  دیتا ہے اور انہیں سربلندی عطا فرماتا ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں نبی کریم e کو اور اللہ کے ساتھ سچائی والا معاملہ کرنے والے ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر نفس میں قربِ الٰہی اور اس کی معیت کا احساس جاگتا ہے، اسے سن کر دل سعادت، رضا مندی اور ایک عجیب مٹھاس محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

’’میرا بندہ نفل عبادتوں کے ذریعے میرے قرب کا متلاشی رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے دیتا ہوں۔ اور اگر وہ میری پناہ  میں آنا چاہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔‘‘

آیت مبارکہ کے اگلے حصے میں ارشاد ہے:

’’اور یقینا تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔‘‘ (الضحیٰ: ۴)

یہ پڑھیں:             خطبہ حرم مکی ... قول وعمل کی اذیت رسانی ... امام الحرم الشیخ سعود الشریم ﷾

تمہارے ہر کام کا آخری نتیجہ اس کے ابتدائی نتائج سے بہتر ہو گا۔ نبی کریم e سربلندی کے زینے چڑھتے گئے، انتقال تک آپ e کو اللہ تعالیٰ کی نصرت ملتی رہی اور اس کی مدد شامل حال رہی، آپ e کی عمر کے ہر دن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی عزت میں اضافہ فرماتا، آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرماتا، آپ کی مزید تائید کرتا، یہاں تک کہ آپ e نے لوگوں کو جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہوتے دیکھا۔ اللہ کی ہر تقدیر میں آخری دور پہلے دور سے بہتر ہی ہوتا ہے۔ بندے کا معاملہ ایک کریم پروردگار سے ہوتا ہے، جو بندے کو آزماتا ہے اور پھر اسے آسانیاں بھی عطا فرما دیتا ہے، اس کے حالات کشادہ بھی کر دیتا ہے۔ نئے حالات گزشتہ حالات سے بہتر ہی ہوتے ہیں۔

’’اور یقینا تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔‘‘ (الضحیٰ: ۴)

اللہ کو معلوم ہے کہ آئندہ دور کا گزشتہ دور سے بہتر ہونے کا یقین رسول اللہ eکو بھی ہے۔ آپ e کا فرمان ہے:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں، کسی کان نے نہیں سنیں اور نہ کسی کے وہم وگمان میں کبھی آئی ہیں۔‘‘

اسی طرح آپ e کا فرمان ہے:

’’جنت میں ایک لاٹھی جتنی جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔‘‘

مرض الموت میں رسول اللہ e کو اختیار دیا گیا۔ اگر چاہیں تو دنیا میں مزید رہ لیں اور چاہیں تو اللہ کے پاس چلے جائیں۔ اس وقت آپ e نے اللہ کے پاس جانا پسند کیا۔ ہر دانشمند  اور عاقل جانتا ہے کہ آخرت دنیا سے بہتر ہے کیونکہ دنیا تو زوال پذیر ہے۔

’’ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الرحمن: ۲۶-۲۷)

یہ عظیم عقیدہ انسان کے ایمان میں بہتری لاتا ہے، اس کی نیکیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، اور اس کا دل صاف کر دیتا ہے اور اس کے وقت میں برکت ڈال دیتا ہے۔ پھر فرمایا:

’’اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔‘‘ (الضحیٰ: ۵)

صدیوں سے ان آیات کی تلاوت جاری ہے، کان انہیں سن کر لطف اندوز ہوتے ہیں، دل انہیں سن کر دہل جاتے ہیں، ان میں نوازے جانے والے کا مقام ومرتبہ بیان ہوا ہے، عطا کرنے والے کے ہاں اس کا درجہ بتایا گیا ہے۔ یہ آیات اپنے معانی اور مفاہیم کی بدولت خود ایک بڑی نعمت ہیں۔ کیسی شاندار اور عظیم نعمت ہیں! جنہیں نازل کرنے والا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا، جس کی عطا سے بڑھ کر کوئی  عطا  نہیں ہے، جس کی جزا کی کوئی حد نہیں ہے، جس کی نعمتوں کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ دنیا میں اللہ نے اپنے نبی کو ایک بلند مقام سے نوازا، جو بلند آسمانوں سے بھی اونچا تھا، جس سے آپ e تمام انبیاءo سے افضل قرار پائے۔ اللہ کے پیغامات کی تکمیل آپ e کی رسالت پر ہوئی۔ آپ e کی امت کو افضل ترین امت قرار دیا، آپe پر نازل کردہ قرآن کو بہترین آسمانی کتاب بنایا، آپ e کی شریعت کو سب سے اچھی شریعت ٹھہرایا، آپ e کے صحابہ کو بھی سربلندی نصیب فرمائی اور ازواجِ مطہرات کو بھی عزت عطا فرمائی۔ اتنی فضیلت عطا فرمائی کہ جس کا احاطہ بھی ممکن نہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل۔‘‘ (الفرقان: ۱۰)

یہ پڑھیں:              خطبہ حرم مکی ... پرندوں کی تخلیق میں چند نشانیاں ... امام الحرم الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی﷾

میدانِ حشر میں آپ e کو حساب کتاب کا آغاز کرنے کے لیے سفارشی بننے کا شرف دیا، اہلِ جنت کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھی آپ e کو سفارشی بنایا۔ اللہ کے بندو! اللہ کی خوشنوی بھی اللہ کی ایک عطا ہے، جو وہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ایسے لوگوں سے وہ محبت کرتا ہے۔ اور جس سے وہ محبت کرے، اسے تو وہ اپنا قریبی اور ساتھی بنا لیتا ہے، اسے تو وہ ضرور راضی کرتا ہے، اسے نفس کا سکون دیتا ہے، دل کا اطمینان دیتا ہے، بے فکری سے نوازتا ہے، پریشانیوں اور بے چینیوں سے بچا لیتا ہے۔ پھر آخرت میں انہیں خوش گوار زندگی نصیب فرماتا ہے:

’’اے نفس مطمئن! چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو خوش اور رب کے ہاں پسندیدہ ہے۔‘‘ (الفجر: ۲۷-۲۸)

پھر فرمایا:

’’کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔‘‘ (الضحیٰ: ۶-۸)

جس طرح یتیمی میں ان کی مدد فرما کر انہیں وحی سے ہدایت نصیب فرمائی تھی، اسی طرح زندگی کے ہر  مرحلے میں انہیں اپنی نعمتیں دے کر سب سے بے نیاز فرمایا۔ ابو طالب کی پرورش میں رکھ کر انہیں بے نیاز رکھا۔ جب ابو طالب کمزور ہوئے تو سیدہ خدیجہr کا مال دے کر انہیں بے نیاز رکھا، جب وہ بھی کم ہوا تو سیدنا ابو بکر   کا مال دے کر بے نیاز رکھا، جب وہ بھی کم ہوا تو ہجرت کا حکم دے دیا، انصاریوں کی مدد عطا فرما کر انہیں بے نیاز کر دیا۔ یہ نعمتیں جو اللہ نے اپنے نبی کو دی تھیں، اگر پریشان لوگ ان نعمتوں پر دھیان دیں، یا مصیبت زدہ لوگ ان پر غور کریں، یا پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہونے والے ان پر غور وفکر کریں تو ان کے لیے اچھی توقعات کا دروازہ کھل جائے، ان کے دلوں میں امید کی کرنیں پھوٹ پڑیں، انہیں عزم وہمت مل جائے اور محنت پر آمادہ ہو جائیں۔ بلکہ یہ آیات تو زندگی کے ہر معاملے میں مایوسی اور سستی کو ختم کرنے، ناکامیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے دل شکستہ نہ ہونے کی تلقین کرتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمت تو بہت کشادہ ہے اور اس کی عطا کی کوئی حد نہیں ہے۔ پھر فرمایا:

’’لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو۔‘‘ (الضحیٰ: ۹-۱۰)

یہ پڑھیں:              خطبہ حرم مدنی ... مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت ... امام الحرم الشیخ عبداللہ البعیجان﷾

ان آیات میں کامیاب زندگی کے اصول بتائے گئے ہیں، جن میں بنیادی چیز ایک دوسرے کی مدد اور رحم دلی ہے۔ یہ آیات ان تمام لوگوں کو مخاطب کرتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معروف ہونے کے بعد بڑے بڑے عہدے عطا فرمائے، جنہیں یتیمی کے بعد ٹھکانہ نصیب فرمایا، فقر وفاقہ کے بعد تونگری عطا فرمائی، ذلت کے بعد عزت وسربلندی عطا فرمائی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ کسی یتیم کو دھتکاریں، نہ جھڑکیں اور نہ ہی اسے رسوا کریں، بلکہ اس کے ساتھ اچھا سلوک اور  شفقت والا معاملہ کریں۔ ضعیفوں کے ساتھ تکبر، سختی اور بے رحمی سے پیش نہ آئیں، بلکہ انہیں روکنا بھی ہو تو نرمی اور شفقت کے ساتھ روکیں۔ سورت کے آخر میں فرمایا:

’’اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔‘‘ (الضحیٰ: ۱۱)

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔‘‘ (الضحیٰ: ۱۱)

اپنی زندگی کے ورق پلٹو تاکہ تمہیں اللہ کی نعمتیں نظر آئیں۔ اس وقت سے لے کر جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، یہاں تک کہ تم ایک قابل ذکر چیز بن گئے۔ ہر حرکت اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کی نعمتیں ہمارے شامل حال ہوتی ہیں۔ تخلیق کی نعمت، ہدایت کی نعمت، صحت کی نعمت، امن کی نعمت، سماعت کی نعمت، بینائی کی نعمت، مال کی نعمت، اولاد کی نعمت، آرام دہ نیند کی نعمت، امن وسکون میں بیداری کی نعمت۔ تم سر کے بالوں سے پاؤں کی انگلیوں تک نعمتوں سے لدے ہوئے ہو۔

دیکھو کہ اللہ نے احسان فرماتے ہوئے تمہارے لیے کیا کچھ مسخر کیا ہے۔ سورج ہے، چاند ہے، دریا ہیں، سمندر ہیں، درخت ہیں، مویشی ہیں، رات ہے، دن ہے۔ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو اور ان کے بارے میں گفتگو کرو، ان کا اعتراف کرو، ان کی وجہ سے سر جھکاؤ، وفا داری کا مظاہرہ کرو، تاکہ تمہیں اللہ کے فضل کا احساس ہو، اور اس کے حق کا علم ہو، تاکہ تم غفلت سے نیکی کی طرف آ جاؤ، کوتاہی سے شکر کی طرف آجاؤ۔ گفتار سے، کردار سے، دل سے اور جسمانی اعضاء سے اس کا شکر ادا کرو، اس کی نعمتوں کو فرائض کی ادائیگی اور شریعت پر عمل کرنے میں استعمال کرو۔

اللہ کے بندو! رسول ہدایت e پر درود وسلام بھیجو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیe پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: ۵۶)

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمدe پر اور آپe کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں یقینا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اور برکتیں نازل فرما، محمد e پر، اور آپ e کے اہل بیت پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں یقینا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

یہ پڑھیں:              خطبہ حرم مدنی ... علاج معالجہ کے آداب ... امام الحرم الشیخ صلاح البدیر ﷾

اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو سب سے بڑی چیز ہے۔ اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔


No comments:

Post a Comment

Pages