بھول چوک پر عدم مؤاخذہ 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

بھول چوک پر عدم مؤاخذہ 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, بھول چوک پر عدم مؤاخذہ, درس قرآن,
 

درسِ قرآن

بھول چوک پر عدم مؤاخذہ

 

ارشادِ باری ہے:

﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا﴾ (البقرة: 286)

’’اے ہمارے رب! ہم اگر بھول گئے ہوں یا ہم نے خطاء کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا"۔‘‘

یہ پڑھیں:              بد اعمالی اور نعمتوں کی ناشکری کے اثرات

اللہ تعالی کا انسانوں پر اور بالخصوص مسلمانوں پر کتنا کرم ہے کہ وہ انسانوں کو ہدایت کے سرچشمہ سے منور کرنے کے بعد بھی انہیں بخشش کے ذرائع اور طریقوں سے آگاہ کرتا ہے تاکہ میرے بندے کسی طرح سے عذاب وسزا سے بچ جائیں اور اپنے لیے مغفرت اور کامیابی کا سامان کرلیں۔ غلطی سے اگر کہیں نافرمانی اور عصیان کربیٹھیں تو انہیں یقین کروایا ہے کہ نادانی اوربھول چُوک پر اللہ رحیم و کریم مواخذہ نہیں فرمائیں گے۔ کیونکہ  اس ٹکڑے میں نسیان اور خطا پرمواخذہ نہ کرنےکی درخواست کی گئی ہے۔

نسیان یہ ہے کہ آدمی سمع و طاعت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے کوئی چیز بھول جائے اور خطا یہ ہے کہ اپنی ناسمجھی سے کسی کام کو غلط طور پر کر بیٹھے۔ اگرچہ یہ چیزیں اللہ کریم کی طرف سے معاف ہیں لیکن معاف شدہ چیزوں کے معافی کی درخواست بندے کی طرف سے غایت درجہ خشیت کا اظہار  ہے جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت و عنایات کے مزید دروازے کھلتے ہیں۔نبی کریمe کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے پھر بھی آپe استغفار میں زیادہ سےزیادہ مشقت اٹھاتے تھے۔ جب آپe سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو آپe نے فرمایا: "کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں"۔

اس درخواست کو اللہ کریم  نے شرف قبولیت بخشا ، چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد ہے:

[رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استکرهوا عليه ]

’’میری امت سے بھول چُوک اور جس (گناہ) پر اسے مجبور کر دیا گیا ہو، اس کی ذمہ داری اٹھا لی گئی ہے۔‘‘

جبکہ ایک اور مقام پر  یہ حدیث اس طرح مروی ہے:

[إن الله تجاوز عن أمتي الخطأ والنسيان وما استکرهوا عليه .](ابن ماجه، بيهقي)

’’اللہ تعالیٰ نے میری  امت کی بھول چُوک سے اور جس کام پر اسے مجبور کر دیا  جائے، اس سے درگزر فرمایاہے۔ ‘‘

یہ پڑھیں:            تربیت ایک اہم ذمہ داری

حقیقت یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ان دعاؤں کو قرآن کریم میں اس مؤثر انداز میں بیان کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول فرما لیا ، ورنہ وہ خود واضح فرما دیتا کہ یہ دعائیں قابل قبول نہیں ہیں ۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages