ولادتِ مصطفیﷺ اور بعثت کے مقاصد 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

ولادتِ مصطفیﷺ اور بعثت کے مقاصد 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, ولادتِ مصطفی, بعثت کے مقاصد,
 

ولادتِ مصطفیﷺ اور بعثت کے مقاصد

 

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)

دنیا پر جب جہالت و گمراہی کے گہرے بادل چھا چکے تھے انسان انسانیت سے عاری ہو چکا تھا اور مقصد تخلیق کو بھول کر ایک رب کے بجائے بیشمار جھوٹے معبودوں کے آگے سجدہ ریز ہورہا تھا۔ اللہ رب العالمین خالق حقیقی اور منعم ہے اسے اس سسکتی ہوئی ہوئی انسانیت پر رحم آیا۔ اللہ تعالی نے  دعائے خلیل اللہ اور نوید مسیحا کو پورا کرتے ہوئے انسانیت پر احسان عظیم فرمایا اور خاتم النبیین رحمۃ للعالمین e کو عبداللہ کے گھر سیدہ آمنہ کے بطن سے مکہ کی سرزمین پر پر بیت اللہ کے پڑوس میں ۹ ربیع الاول صبح کے وقت پیدا فرمایا‘ آپ کی ولادت باسعادت سے کسری کا محل لرز اٹھا اور اس کے ۱۴ کنگرے گر پڑے، فارس کی آگ جو متواتر ایک ہزار سال سے جل رہی تھی وہ بجھ گئی اور بحیرہ ساوہ خشک ہوگیا۔

یہ پڑھیں:              رسول اللہ ﷺ ... بحیثیت معلم ومبلغ

یہ اشارہ تھا کہ وہ عظیم المرتبت انسان دنیا میں تشریف لا چکا ہے جس کے آنے سے کفر و شرک کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو گا۔ جہالت و گمراہی ختم ہوکر وہاں نور توحید جگمگائے گا اور ہر سو اللہ وحدہ و لاشریک کی عبادت کا پیام عام ہوگا۔

اللہ تعالی نے آپ کو اعلی گھرانے سے منتخب فرمایا۔ آپe نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے اسماعیل u کی اولاد سے کنانہ کو، کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم اور ان میں سے مجھے کو منتخب کیا۔‘‘ (صحیح مسلم)

سیدنا ابن عباس w سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:

’’اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے بہترین مخلوق اور فریقین میں سے بہتر فریق میں کیا۔ پھرقبائل کا انتخاب کیا تو مجھے بہترین قبیلے میں کیا، اس کے بعد خاندان کا انتخاب کیا تو مجھے بہترین خاندان میں بھیجا‘ اس لیے میں بلحاظ نفس اور بلحاظ خاندان سب انسانوں سے بہتر ہوں۔‘‘ (جامع ترمذی)

عبداللہ بن عمر t سے روایت ہے کہ آپe نے فرمایا:

’’اللہ تعالی نے مخلوق کو چنا تو ان میں سے بنو آدم کو پسند فرمایا پھر بنو آدم سے عرب کو اور عرب سے مجھے پسند فرمایا۔ پس میں ہمیشہ سے پسندیدہ اور پسندیدہ لوگوں سے پیدا ہوا ہوں۔ خبردار!! جس نے عربوں سے محبت کی، اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھنے کی بناء پر ان سے بغض رکھا۔(طبرانی)

آپ e کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد عبداللہ فوت ہوچکے تھے آپ یتیم پیدا ہوئے۔ ﴿اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى﴾

چھ سال کی عمر میں والدہ محترمہ سیدہ آمنہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔ پھر آپ دادا عبدالمطلب کی کفالت میں آگے لیکن جب آپ کی عمر ۸ برس ہوئی تو دادا بھی راہی ملک عدم ہوئے اور اپنے رب کے پاس جا پہنچے۔

حضرت جعفر صادق a سے کسی نے پوچھا نبی اکرم e کو یتیم پیدا کرنے میں کیا حکمت تھی تو انہوں نے فرمایا:

’’آپ کو یتیم پیدا کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالی چاہتے تھے کہ مخلوق میں سے کسی کا آپ پر کوئی حق نہ رہے۔‘‘

آپ کی ولادت باسعادت سے سینکڑوں سال قبل  یہود و نصاریٰ کی مذہبی کتب میں آپ e کے صفات اوصاف، خصائص اور کمالات بالکل واضح تھے۔ بلکہ آپ کے رفقاء اور اصحاب کی خوبیاں بھی بیان ہو چکی تھیں۔جیسا کہ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۵۷ میں بیان ہوا ہے۔

رسول اکرم e کو اللہ تعالی نے بلند مقام عطا فرمایا اور آپ کا ذکر ساری کائنات سے بلند کردیا ﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾

یہ پڑھیں:              توحید بیانیہ کے مختلف انداز

اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات طیبہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ رکھنے کا انتظام فرمایا۔ سیرت طیبہ کے پاکیزہ موضوع پر ہزاروں کتب، لاکھوں مقالات اور کروڑوں مضامین دنیا کی ہر زبان میں لکھے جا چکے ہیں۔

آج بھی اگر کسی انسان کو اعلی آداب، عمدہ اخلاق، شفاف عقائد، صحیح عبادات، اعلیٰ اوصاف، دل کی طہارت، روح کی نفاست، جہاد فی سبیل اللہ سے محبت اور راہ حق میں میں شہادت کا پاکیزہ جذبہ چاہیے تو وہ پوری گہرائی سے رسول اکرم e کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرے۔ کیونکہ آپ کی سیرت طیبہ ملک کے حکمران سے لے کر مزدور تک ہر شخص کے لیے مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ کامیاب اور بہترین ومثالی زندگی گذارنے کے تمام رموز آپ e کی سیرت طیبہ میں پنہاں ہیں۔ اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید میں اعلان فرما دیا:

﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾

تمہارے لیے رسول اکرم e کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اور آپ کی اطاعت کو کائنات کے لیے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا: ﴿وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا﴾ یعنی اگر تم میرے پیغمبر کی اطاعت کروگے تو ہدایت پاجاو گے۔

اس وقت ہمارے چاروں اطراف ایمان کی کمزوری، روحانیت کا فقدان، بے راہ روی، دلی اضطراب، ذہنی انتشار اور اخلاقی گراوٹ صرف اور صرف اس لئے ہے کہ ہمارے معاشرے کے چھوٹے بڑے لوگوں نے سیرت رسول e کو فراموش کر دیا ہے۔

 بعثت کے مقاصد:

رسول اکرم e کی بعثت کا ایک مقصد یہ ہے کہ آپ کی اطاعت اللہ کے حکم سے کی جائے:

﴿ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾

اور آپ کی اطاعت ہی درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔

﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾

رسول اکرم e کی اطاعت میں ہی اخروی کامیابی ہے۔

﴿اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۵۱﴾

’’مومنوں کو فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور پیروی کریں گے یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘

یہ پڑھیں:              ماہِ صفر ... ایک تحقیقی جائزہ

رسول اکرم e کی نافرمانی کرنے والے کے لیے ذلت ورسوائی ہے۔ آپe کا فرمان ہے:

[جعل الذلة والصغار علی من خالف امری۔] (مسند احمد)

’’ذلت اور رسوائی میرے حکم کی مخالفت کرنے والے کا مقدر ہے۔‘‘

 محبت رسول ﷺ:

دنیا کی ہر چیز اور ہر رشتے سے زیادہ محبت نبی اکرمﷺ سے کی جانی چاہیے۔ آپ کی ذات گرامی کو ہماری تمام تر محبتوں کا محور و مرکز ہونا چاہیے۔ کیونکہ محبت رسول عین ایمان ہے۔

ایک مرتبہ رسول اکرم e سیدنا عمر فاروق t کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے کہ عمر t نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول e آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوائے میری جان کے، تو نبی اکرم e نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (ایمان مکمل نہیں ہوسکتا) جب تک کہ میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ پھر سیدنا عمر فاروق نے عرض کیا: اب آپ میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ تو رسول اکرم e نے فرمایا: ’’عمر اب تیرا ایمان مکمل ہوا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

یہ محبت اطاعت کے جذبے میں ڈوبی ہوئی ہونی چاہیے کیونکہ اتباع رسول ہی کامیابی کا معیار اور محبت رسول کی دلیل ہے۔ اس سے انسان کے اندرونی رجحانات اور احساسات کا تعین ہوتا ہے۔ رسول اکرم e سے محبت کرنے والا اور صدق دل دل سے آپ کی عظمت و جلالت کو تسلیم کرنے والا آپ کے حکم سے سرمو  انحراف نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۳۲

یہ پڑھیں:              شاہ فیصل مرحوم کا تاریخی خطاب

 درود پڑھنا:

رسول اکرم e پر کثرت سے درود بھیجنا چاہیے فرمان الٰہی ہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ١ؕ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰۵۶﴾

’’اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو!! تم بھی ان پر درود بھیجو اور اچھی طرح سے سلام بھیجتے رہا کرو۔‘‘ (الاحزاب)

رسول اکرم e نے فرمایا:

’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

آپe نے ارشاد فرمایا:

’’وہ انسان بخیل ہے جس کے پاس میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے۔‘‘ (جامع ترمذی و مسند احمد)

نیز آپe نے ارشاد فرمایا:

’’جب کوئی مجلس بیٹھتی ہے تو نہ اللہ کا ذکر کرتی ہے ہے اور نہ ہی اپنے نبی پر درود پڑھتی ہے تو ان پر افسوس ہے اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے اور چاہے تو معاف کردے۔ ‘‘

لہٰذا ہمیں دن اور رات کی ساعتوں میں کثرت کے ساتھ درود پڑھنا چاہیے۔

 اطاعت کرنا:

نبی اکرم e کی اطاعت کو واجب جاننا اور آپ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اللہ تعالی کا فرمان ہے ہے:

﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ۰۰۲۰﴾ (الانفال)

’’اے ایمان والو!! اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور مت منہ موڑو اطاعت سے درآنحالیکہ تم سن رہے ہو۔ ‘‘

نیز فرمان الٰہی ہے:

﴿وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴾ (الحشر)

’’جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے رسول روک دے پس اس سے رک جاؤ۔‘‘

فرمان ربانی ہے:

﴿ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۶۳﴾ (النور)

’’پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو خلاف ورزی کرتے ہیں رسول کے حکم کی اس بات سے کہ کہیں نہ آپڑے ان پر کوئی فتنہ یا نہ آلے انہیں درد ناک عذاب۔‘‘

یہ پڑھیں:              اہل مدارس کے نام ایک دردمندانہ اپیل

 نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۱۳ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا﴾ (سورۃ النساء)

’’جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی، داخل کرے گا اللہ اس کو ایسی جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم کامیابی ہے۔ اور جو نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی، اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ اس کو آگ میں ڈال دے گا وہ ہمیشہ اس میں پڑا رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ t سے روایت ہے:

[ان رسول اللہﷺ قال: ’من اطاعنی فقد اطاع اللہ ومن عصانی فقد عصی اللہ‘۔] (بخاری و مسلم)

بے شک رسول اللہ e نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘

 نیز بیان کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا:

[کل امتی یدخلون الجنۃ إلا من ابی قالوا یارسول اللہ و من یابی قال: من اطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد ابی۔]

’’میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا (صحابہ نے) کہا اے اللہ کے رسول e کون انکار کرے گا؟ آپ نے فرمایا: کہ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی اس نے جنت میں داخل ہونے سے انکار کیا۔‘‘

یہ پڑھیں:              معلم انسانیت اور حکمت وتدریس

 آپﷺ کے فرمان کو اتھارٹی مانا جائے:

رسول اکرم e کی بات، فرمان اور سنت کو فائنل اتھارٹی مانا جائے اور آپ کے فیصلے پر سر تسلیم خم کیا جائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ۰۰۵۹﴾ (النساء)

’’اے ایمان والو!! فرمانبرداری کرو اللہ تعالی کی اور فرمانبرداری کرو رسول (e) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاو  اللہ تعالی کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔‘‘

نیز فرمان ربانی ہے:

﴿ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰۶۵﴾ (النساء)

’’قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں۔ پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔‘‘

آپ کی وفات کے بعد تمام اختلافات اور جھگڑے آپ کی سنت اور شریعت کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

 آپ کو بلند مقام و مرتبے والا ماننا:

رسول اکرم e کے مقام ومرتبہ کو بغیر غلو، افراط اور تقصیر کے ماننا، ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ رب العالمین نے حضرت محمد رسول اللہ سلم کو سید ولد آدم، رحمت للعالمین، خاتم النبیین، سرور کائنات اور فخرموجودات بنایا۔ آپ کے مقام ومرتبہ کو خطیب کی خطابت‘ شاعر کی شاعری اور ادیب کا قلم بیان نہیں کر سکتا۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یہ پڑھیں:              خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیقt

نبی اکرمﷺ پر ایمان لانا:

رسول اکرمe پر ایمان لانا اور جو چیز آپ اللہ تعالی کی طرف سے لائے ہیں اس کی تصدیق کرنا۔ فرمان رب العالمین ہے:

﴿ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۸﴾ (التغابن)

’’پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے اور اللہ اس سے جو تم عمل کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔‘‘

فرمان الٰہی ہے:

﴿ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۸﴾  (الاعراف)

’’پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو خود بھی ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلام پر، اور پیروی کرو اس کی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘

نبی اکرم e نے ارشاد فرمایا:

[امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ ویومنوا بی وبما جئت بہ۔]

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرو یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیدیں اور مجھ پر اور میں جو کچھ لایا ہوں اس پر ایمان لے آئیں۔‘‘ (مسلم)

تعظیم و توقیر کرنا:

رسول اکرم e کی سب سے زیادہ تعظیم و توقیر کی جائے۔ آپ کے مقابلہ میں ہر شخصیت مقام و مرتبہ میں کم ہے۔ اس لیے سب سے بڑھ کر آپ ہی اکرام اور توقیر کے لائق ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۰۰۹﴾ (الفتح)

’’تاکہ اے لوگو!! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی تعظیم و احترام کرو اور تاکہ تم اللہ کی تسبیح صبح و شام کرو۔‘‘

ماہ ربیع الاول رسول اکرمe کی ولادت کا مبارک مہینہ ہے اس لحاظ سے یہ مہینہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ آپ کو جن مقاصد کے لئے مبعوث کیا گیا تھا ان مقاصد کو پورا کیا جائے۔ صرف زبانی خوشیاں نہ منائی جائیں  بلکہ آپ پر نازل ہونے والی شریعت کو زندگی کے ہر شعبہ میں نافذ کیا جائے۔ ہماری نجی زندگی ہو ہو یا جماعتی زندگی، معاشرتی زندگی ہو یا معاشی زندگی۔ خوشی ہوئی یا غمی، عبادات کا معاملہ ہو یا معاملات کا، زندگی کے ہر گوشہ میں آپ e کا اسوہ حسنہ ہی ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آنا چاہیے۔

یہ پڑھیں:              تذکرۂ اسلاف

ہم محبت رسول e کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر پر بہت پیچھے رہتے ہیں۔ مساجد ویرانی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت صرف رمضان المبارک میں ہی زیادہ ہوتی ہے جبکہ عام دنوں میں قرآن مجید کی تلاوت بہت کم کی جاتی ہے۔ اسی طرح سے اطاعت رسول اور اتباع رسول میں بھی امت بہت پیچھے جا رہی ہے۔ ہماری ظاہری زندگی بھی اطاعت رسول کے جذبات سے عاری دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں خود جشن منانے سے زیادہ رسول اکرم e کے مشن کو اپنانے کی فکر کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعثت مصطفی e کے مقاصد کو عملی طور پر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages