کبیرہ گناہ 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

کبیرہ گناہ 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, کبیرہ گناہ,
 

درسِ حدیث

کبیرہ گناہ

 

فرمان نبویﷺ ہے:

 [عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: الکَبَائِرُ؛ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ.]

سیدنا عبداللہ بن عمروw سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’بڑے گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، والدین کی نافرمانی، کسی انسان کو ہلاک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ہیں۔‘‘ (بخاری)

یہ پڑھیں:              زبان درازی اور لغو گفتگو

رسول اکرمe اپنی امت کو دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش فرماتے اور دین و دنیا کی بھلائی کے اصول بیان کر کے قیامت تک کے مسلمانوں کو عقائد واعمال کی درستگی کی تعلیم دیتے تا کہ نیک اعمال کی رغبت اور برے کاموں سے نفرت پیدا ہو جائے۔ اس حدیث میں حضور اکرمe نے چار ایسے کام بیان فرمائے جن کا تعلق کبیرہ گناہوں کے ساتھ ہے۔

گناہ کی دو اقسام ہیں ایک کبیرہ اور دوسرے صغیرہ ۔ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے جب کہ صغیرہ گناہ نیک اعمال کرنے سے ہی معاف ہو جاتے ہیں۔ اسی بنا پر رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب تم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد کوئی نیکی کر لو وہ نیکی اس گناہ کو ختم کرنے کا سبب بن جائے گی۔‘‘ وضو کرنے سے بہت سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں میں کچھ کا تعلق عقائد کے ساتھ ہے اور کچھ کا معاشرے کے ساتھ ہے۔

جو فہرست اس حدیث میں بیان ہوئی ان میں پہلے نمبر پر کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔ اللہ کریم کو سب سے زیادہ غصہ اسی بات پر آتا ہے کہ کوئی کسی کو اس کے ساتھ شریک بنائے‘ شرک کو ہی اللہ نے بہت بڑا ظلم قرار دیا ہے اور اعلان فرمایا ہے کہ میں ہر ایک کو معاف کر دوں گا مگر شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ ہاں اگر مشرک موت سے پہلے پہلے شرک سے توبہ کر کے عقیدہ توحید پر قائم ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔

دوسرا کبیرہ گناہ والدین کی نافرمانی ہے، والدین کی خدمت بہترین عبادت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔ اس دور میں اکثر لوگ اس کبیرہ گناہ کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ والدین کا نافرمان دنیا میں بھی رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب میں رہے گا۔

یہ پڑھیں:              تربیت کے لیے بنیادی وصف

تیسرا کبیرہ گناہ کسی انسان کو ناحق قتل کرنا ہے، انسانی جان بڑی قیمتی ہے اسے قتل کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے وہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مکمل تحقیق کے بعد جرم ثابت ہو جائے تو اس کو قتل کروا دے، وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے یا مرتد ہو جائے یا کسی انسان کو کسی وجہ کے بغیر قتل کر دے اس بڑے گناہ کی وجہ سے معاشرہ کا امن تباہ ہو جاتا ہے اور چوتھا کبیرہ گناہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔ اس جرم میں بھی بہت سے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں ۔ ان چاروں کبیرہ گناہوں سے بچ کر آخرت بہتر بنانے کی فکر کرنا چاہیے۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages