وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, وحدۃ الوجود, وحدۃ الشہود, حقیقت کے آئینہ میں,
 

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت

 

تحریر: جناب مولانا میاں محمد جمیل

وحدت الوجود اور وحدت الشہود صوفیاء کی اصطلاحیں ہیں۔ وحدت الوجود کا معنٰی اللہ تعالیٰ ہر ذات میں موجود ہے اور وحدت الشہود کا مطلب وہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ ان صوفیاء کے بقول اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو کائنات کی شکل میں ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مرکزی اصول ہوتا ہے، جو اس کے سارے نظام میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کا مرکزی اصول بلکہ بنیاد توحید ہے، توحید کا پہلا اصول اور تقاضا یہ ہے کہ انسان شعوری طور پر یہ بات سمجھے اور اس پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ کسی نے جنم دیا ہے اور نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے جس کی تفصیل سورۃ الاخلاص میں بیان کی گئی ہے۔

یہ پڑھیں:              تخلیق انسانی کے مختلف مراحل

اس قدر صاف، شفاف عقیدہ کے باوجود، نامعلوم بعض صوفیاء نے وحدت الوجود اور شہود کا عقیدہ کہاں سے نکال لیا ہے۔ افسوس! وہ اس کو ’’اللہ‘‘ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ اسے کفر و شرک گرداننے کے ساتھ سنگین ترین جرم قرار دیتے ہیں۔

صوفیاء اس نظریہ کو طریقت، روحانیت کے نام پر پیش کرتے ہیں، روحانیت میں ایک طرح کا سکون اور اطمینان پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے تصوف کی بالخصوص ان لوگوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے گناہ اور گھنائونے جرائم کیے ہوتے ہیں، وہ اپنے عقیدہ کی اصلاح اور شریعت پر عمل کرنے کی بجائے اس طرح کے تصوف کو آسان راستہ سمجھتے ہیں۔یہ اس لیے بھی ہے کہ اکثر ایسے لوگ برملا کہتے ہیں کہ مرشد کو خوش کرنا اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔ اس فکر کو بالخصوص اعلیٰ حکّام جلد قبول کرتے ہیں کیونکہ ان حضرات کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی قدرت و اختیارات کا جامع تصور ، عقیدے کی باریکی اور اس کی حساسیت کو نہیں سمجھتی۔ اس لیے وہ ملکوتی نظام کو دنیا کے نظام پر قیاس کرتے ہیں کہ جس طرح صدر یا وزیراعظم کو وزیروں، مشیروں اور نیچے تک ایک (System) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان کے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ بھی کائنات کا نظام اسی طرح چلا رہا ہے۔ اس بنا پر اس نے اپنے کچھ اختیارات بزرگوں میں تقسیم کر رکھے ہیں۔ اسی عقیدے کی بنیاد پر صوفیاء نے اولیاء کے مناصب اور ان کی تقسیم کار کر رکھی ہے۔

صوفیاء کی درجہ بندی کے مطابق کے یہ بزرگ رجال الغیب میں سے ہیں یعنی یہ حضرات لوگوں کی نظروں سے غیب رہتے ہیں، صوفیاء نے ان کے چھ درجے مقرر کیے ہوئے ہیں۔

1       غوث(فریادیں سننے والا)

2       قطب (چکی کے پاٹوں کے درمیان والی لکڑی)

3       اوتاد(کیل)

4       ابدال (بدل کی جمع)

5       نجیب کی جمع نجباء(نیک لوگ)

6       نقیب کی جمع نقباء ، (سردار)

Ý       صوفیاء کے ہاں غوث سب سے اُوپر کے درجے کا ولی ہوتا ہے ۔ ان کے نزدیک پیرعبدالقادر جیلانیa پیر دستگیر اور غوثِ اعظم ہیں۔ یعنی سب سے بڑے فریاد سننے اور گرنے والوں کو تھامنے والے ہیں۔اس حوالے سے ان کے بارے میں عجیب متعدد داستانیں بنائی اور سنائی جاتی ہیں۔

Þ       قطب کا معنی: چکی کی وہ لکڑی ہے جس پر چکی گھومتی ہے۔ صوفیاء کے بقول کائنات کا سارا نظام قطب کے گرد گھومتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا منظور نظر ہوتا ہے۔ قطب اپنی قطبیت میں قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس کو حروف مقطعات کے معانی معلوم نہ ہوں جو قرآنی سورتوں کی ابتدا میں ہیں۔گویا کہ اس کے پاس علم لدنی (خفیہ علم)ہونا ضروری ہے۔

یہ پڑھیں:              اللہ تعالیٰ کی پکڑ کب آتی ہے؟!

ß       اوتاد: وتد کی جمع ہے۔ لوہے کی میخ کو کہتے ہیں جس طرح کسی چیز پر کیل ٹھونک دی جائے تو وہ حرکت نہیں کر سکتی اس طرح اوتاد کیل کی طرح زمین کے پورے نظام کو قابو کیے ہوئے ہے۔ مشہور صوفی ابوسعید خراز سے سوال کیا گیا کہ اوتاد اور ابدال میں کون افضل ہے؟ انہوں نے کہا : اوتاد افضل ہیں، پوچھاگیا کہ وہ کس طرح ؟ ابو سعید خراز نے فرمایا : کیونکہ ابدال ایک حال سے دوسرے حال میں پلٹا رہتا ہے اور ایک مقام سے دوسرے مقام میں اپنا بدل چھوڑ کر جاتا ہے ۔ جب کہ اوتاد انتہائی بڑے مرتبہ پر پہنچا ہوتا ہے وہ اپنے مقام سے نہیں ہٹتا وہ اپنی جگہ اور مقام پر اس طرح قائم رہتا ہے جس طرح میخ کو کسی جگہ گاڑ دیا جا تا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے مخلوق کا نظام قائم رہتا ہے، ان کے احوال نہیں بدلتے اور وہ مقام تمکین پر فائز ہوتے ہیں۔

à       ابدال: امام راغب اصفہانی کے نزدیک ان کو ابدال اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی برائیاں نیکیوں میں بدل دی گئی ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابدال جو شکل چاہتے ہیں اختیار کر لیتے ہیں اور جہاں سے جاتے ہیں وہاں اپنی شکل کا ایک شخص چھوڑ جاتے ہیں۔ ابدال دنیا کے انتظام و انصرام کے لیے مختلف مقامات پر مامور کیے جاتے ہیں۔ بارانِ رحمت کا نزول اور آفات سماوی و ارضی کو ٹالنا انہی کے فرائض میں داخل ہے۔ان سے متعلق احادیث بھی بیان کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے ثابت نہیں۔

غور فرمائیں کہ نہ یہ صرف خود ساختہ مناصب ہیں بلکہ معنوی اور اعتقادی طور پر یہ کس طرح غیر ثابت القاب ہیں۔

ابتدائی دور کے صوفیاء میں تھوڑے اور بعد کے صوفیاء کی اکثریت نے اللہ احد کے عقیدہ کو وحدت الوجود کی شکل میں بدلا اور دین کو طریقت کا نام دے دیا۔یہاں تک کہ مسلمانوں میں ایک اچھا خاصا طبقہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتاہے اور نہ شریعت سمجھی جا سکتی ہے۔( مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ۔ دانشگاہ پنجاب لاہور)

دوسری صدی ہجری میں اہل تصوف نے ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کا یہ مفہوم بیان کیا کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے نہ مقصود اور نہ موجود ۔ یہ نظریہ مزید آگے بڑھا تو معبود ، مقصود کے الفاظ ختم کر دیئے گئے اور ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘  کا مطلب یہ لیا گیا کہ ’’لَا مَوْجُوْدَ اِلَّا اللّٰہَ‘‘ یعنی ’’اللہ‘‘ کے علاوہ کوئی موجود نہیں ۔‘‘

حالانکہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کائنات میں ایک ’’رب‘‘ ہے اور وہ اکیلا ہے ، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کے سوا جو بھی وجود ہے وہ عارضی ہے یعنی مستقل بالذات نہیں بلکہ فنا ہونے والا ہے۔

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚۖ۰۰۲۶وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ۰۰۲۷﴾ (الرحمٰن: ۲۶، ۲۷)

’’ جو کچھ زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہےاور صرف تیرے رب کی جلیل اور کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘

ساتویں صدی ہجری میں محی الدین ابن عربی نے عقیدۂ وحدت الوجود کو منظم اور مربوط شکل دی اور دعویٰ کیا کہ حقیقی وجود ایک ہے۔ اس کے سوا جو بھی نظر آتا ہے وہ محض دیکھنے میں نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک ہی وجود ہے۔ (خانقاہی نظام از ڈاکٹر امان اللہ صاحب، پنجاب یونیورسٹی لاہور)

یہ پڑھیں:              عقیدے کی حساسیت اور اس کا تحفظ

وحدت الوجود کا نظریہ رکھنے والے صوفیاء اس کے لیے ہمہ اوست کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں یعنی سب کچھ وہی ہے۔ وحدت الشہود والے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا الگ وجود ہے لیکن کائنات اس کا پرتو (Refelection) ہے، وہ اس کے لیے ہمہ از اوست کے الفاظ استعمال کرتے ہیں یعنی سب کچھ اسی سے نکلا ہے۔ بلھے شاہ اور بہت سے صوفیاء کے کلام اس عقیدے کی ترجمانی کرتے ہیں:

ایک الف پڑھو چھٹکارا اے

ایک الفوں دو تن چار ہوئے

پھر لکھ کروڑ ہزار ہوئے

پھر اوتھوں باہجھ شمار ہوئے

ایس الف دا نکتہ نیارا اے

اس الف (اللہ کا ) اور اس کی مخلوقات کا بھید نرالا ہے۔ایک الف (اللہ کا) پڑھو تو نجات ہو جانی ہے۔ ایک الف (اللہ کے) ہی سے دو، تین، چار، یعنی بہت سے جاندار وجود میں آئے ہیں جو بڑھ کر ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں ، پھر ان گنت ہو گئے۔

بلھے شاہ کے نزدیک اللہ اور رسولe کے درمیان صرف میم کا فرق ہے:

احد احمد وچ فرق نہ بلھیا

اِک رتی بھیت مروڑی دا

’’بلھے شاہ احد (اللہ) اور احمد (محمد) میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان میں فرق بظاہر حرف میم کی مروڑی کا ہے ورنہ اللہ اور محمد e میں کوئی فرق نہیں ۔‘‘

حالانکہ قرآن مجید نے سورۃ الاخلاص اور درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں آیات میں ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، صفات میں اکیلا ہے، اس کا کوئی بھی شریک ، جُزو اور ہم مثل نہیں ہے۔

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۰۰۱۱﴾  (الشوریٰ: ۱۱)

’’کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

سورۃ الاخلاص توحید ِ باری تعالیٰ کا مرقع ہے:

﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ۰۰۱اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ۰۰۲﴾

’’فرما دیں کہ وہ اللہ ایک ہے ،’’اللہ‘‘ بے نیاز ہے

یہ پڑھیں:              توحید بیانیہ کے مختلف انداز

اللہ تعالیٰ کی صفت ’’اَحَدْ‘‘ میں معنوی طور پر توحید کی تینوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود تفصیل کے لیے ’’الصّمد‘‘اور دوسری صفات کا بھی ذکر کیاگیا ہے، اہلِ لغت نے الصّمد کے بہت سے معانی ذکر کیے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے۔

\       الصّمد: ایسی ذات جس کی مشکل کے وقت پناہ لی جائے۔

\       وہ ذات جس میں کسی قسم کا خلا اورضُعف نہ پایا جائے۔

\       ایسی ذات جس کے وجود سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو اور نہ اس میں داخل ہوتی ہو۔

\       ایسی ذات جو ہر اعتبار سے کامل اوراکمل ہو۔

\       وہ ذات جس کے سب محتاج ہوں اور وہ کسی کی محتاج نہ ہو۔

مذکورہ بالا معانی کو سامنے رکھتے ہوئے مفسرین کی غالب اکثریت نے الصّمدکا معنٰی بے نیاز کیاہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہر اعتبار سے بے نیاز ہے ۔بے نیاز کا یہ معنٰی نہیں کہ اسے اپنی مخلوق کی کوئی پرواہ نہیں، بلکہ بے نیاز کا معنٰی ہے کہ وہ غنی ہے اورپوری مخلوق اس کی محتاج ہے۔

اگر ساری مخلوق مل کر بغاوت کردے تو اس کی ذات اور بادشاہت کو رائی کے دانے کے برابر فرق نہیں پڑتا۔ اگر سارےاس کے تابع فرمان ہو جائیں تو اس کی بادشاہت میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ ’’الصّمد‘‘ ہے ۔

﴿وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ۰۰۸﴾ (ابراھیم: ۸)

’’ موسیٰu نے فرمایا: اگر تم ز مین والے سب کے سب کفر کرو تو یقیناً اس سے ’’اللہ‘‘ بے پروا اوربہت تعریف والا ہے۔‘‘

﴿لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ﴾

’’نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنم دیا گیا ہے۔‘‘

یہودی حضرت عزیر uکواور عیسائی حضرت عیسیٰu کو ’ ’ اللہ‘‘کا بیٹا قرار دیتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات ان کو دے رکھے ہیں:

﴿وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ يُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ﴾ (التوبہ:۳۰)

’’اوریہودیوں نے کہاعزیر ’’اللہ ‘‘کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہامسیح ’’اللہ ‘‘کابیٹا ہے حالانکہ یہ ان کی محض زبانی باتیں ہیں، وہ ان لوگوں جیسی باتیں کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا ’’اللہ‘‘ انہیںغارت کرے کہ یہ کہاں سے بہکائے جارہے ہیں۔‘‘

یہ پڑھیں:              اللہ کی رضا والا عمل

عیسائیوں کا ایک گروہ اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ رکھتا ہے۔

﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۷۳﴾ (المائدہ: ۷۳)

’’بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے جنھوں نے کہا کہ ’’اللہ‘‘ تین میں سے تیسرا ہے ،حالانکہ اس ایک معبود کے سواکوئی معبود برحق نہیں جو وہ کہتے ہیں اگر اس سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے کفرکیاانھیں ضرور اذّیت ناک عذاب ہوگا۔‘‘

 اہلِ مکہ کی کذب بیانی:

﴿وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ۰۰۱۹﴾ (الزخرف: ۱۹)

’’انہوں نے فرشتوں کو جو الرّحمان کے خاص غلام ہیں، بیٹیاں قرار دے لیا ہے، کیا وہ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے کہ ان کی گواہی لکھ لی جائے انہیںہر صورت اس کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

﴿اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ۰۰اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۰۰اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَ۰۰﴾ (الصافات: ۱۵۰تا۱۵۲)

’’کیا ہم نے ملائکہ کو بیٹیاں بنایا ہے اور یہ اس وقت موجود تھے؟ سُن لو یقیناً یہ لوگ جھوٹی باتیں کرتے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کی اولاد ہے، بے شک یہ لوگ جھوٹے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ نے اپنے لیے بیٹوں کی بجائے بیٹیاں پسند کی ہیں؟‘‘

کلمہ پڑھنے والوں کا مبالغہ اور زیادتی:

دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبیu اپنی ذات کے اعتبار سے ’’اللہ‘‘ کے نور کا حصہ ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کے واقعہ کا ذکر فرما کر واضح کر دیا ہے کہ اس کے نور کی ایک جھلک نہ موسیٰu برداشت کر سکے اور نہ ہی پہاڑ برداشت کر سکا۔

﴿وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۴۳﴾ (الاعراف: ۱۴۳)

’’جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پرآئے اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا، اس نے کہا اے میرے رب! مجھے اپنا آپ دکھا، تاکہ میں تیری زیارت کرسکوں۔فرمایا: تو ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتا، لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگرپہاڑ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو توبھی مجھے دیکھ سکے گا۔ جب اس کے ’’رب‘‘ نے پہاڑ پر جلوہ ڈالا تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰu بے ہوش ہو کر گر پڑے جب اسے ہوش آیا تو کہنے لگے تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔‘‘

یہ پڑھیں:              ماہِ صفر ... ایک تحقیقی جائزہ

علامہ اقبال اس وحدت الوجود ،شہود عقیدہ کی یوں وضاحت اور تردید کرتے ہیں:

فرماتےہیں کہ میرے والد کو فتوحات اور فصوص سے کمال توغل رہا ہے اور چار برس کی عمر سے میرے کانوں میں ان کتابوں کا نام اور ان کی تعلیمات پڑنی شروع ہو گئیں۔ برسوں تک ان دونوں کتابوں کا درس ہمارے گھر میں رہا، گو بچپن کے دِنوں میں مجھے ان مسائل کی سمجھ نہیں تھی، تاہم محفل درس میں ہر روز شریک ہوتا بعد میں جب عربی سیکھی تو کچھ کچھ خود بھی پڑھنے لگا اور جوں جوں علم اور تجربہ بڑھتا گیا، میرا شوق اور واقفیت زیادہ ہوتی گئی۔( خط بنام یا پھلواروی: ۲۴/۲/۱۹۱۶)

مروّجہ تصوف کو اسلام کے سادہ عقائد اور روح دینی سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا بنیادی ستم یہ ہے کہ یہ خودی کو تباہ کرتا ہے، حالانکہ خودی ایک ایسی چیز ہے جو افراد اور اقوام کی زندگی کی ضامن اور انسان کو بلند ترین مادّی و روحانی مدارج پر پہنچانے کی کفیل ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر انسان کی خودی نہ صرف قائم رہے، بلکہ ارتقا کی منزلیں طے کرتے ہوئے وہ اس مقام پر پہنچ جائے جو اس کے لیے مقدر ہے اور جس سے بڑا کوئی مقام انسانی تصور میں نہیں آسکتا۔ میرا فطری اور آبائی میلان تصوف کی طرف ہے اور یورپ کا فلسفہ پڑھنے سے یہ میلان اور بھی قوی ہو گیا تھا، کیونکہ فلسفہ یورپ بحیثیت مجموعی وحدت الوجود کی طرف رُخ کرتا ہے، مگر قرآن مجید پر تدبر کرنے اور تاریخِ اسلام کا بغور مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنی غلطی معلوم ہوئی اور میں نے محض قرآن کی خاطر اپنے قدیم خیال کو ترک کر دیا اور اس مقصد کے لیے مجھے اپنے فطری او رآبائی رجحانات کے ساتھ ایک خوف ناک دماغی اور قلبی جہاد کرنا پڑا۔ ( بنام حسن نظامی: ۳۰/۱۲/۱۹۱۵)

رہبانیت دنیا کی ہر مستعد قوم میں اس کے عملی زوال کے وقت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مٹانا ناممکن ہے کہ بعض رہبانیت پسند طبائع ہمیشہ موجود رہتی ہیں جو کچھ ہم کر سکتے ہیں وہ صرف اس قدر ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کریں اور اس کو رہبانیت کے زہریلے اثر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ ہم وحدت الوجودیوں کو مسلمان بنانا نہیں چاہتے، بلکہ مسلمانوں کو ان کے تخیلات کے دام سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم حق پر ہیں تو خدا ہماری حمایت کرے گا اور اگر ہم نا حق پر ہیں تو ہم فنا ہو جائیں گے۔ ابن تیمیہ،ابن جوزی، زمحشری اور ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت عالمگیر غازی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شاہ اسماعیل دہلویa نے یہی کام کیا ہے اور ہمارا مقصد صرف اس سلسلے کو جاری رکھنے کا ہے اور کچھ نہیں۔( مقالاتِ اقبال)

یہ پڑھیں:              اعمال ایسے کہ رب روٹھے

اس عقیدہ کے حامل حضرات کی فکر اور غلط فہمی کی بنیاد درج ذیل آیات اور حدیثِ مبارکہ ہیں:

یہ حضرات (سورۃ البقرہ، سورۃ الحدید ، سورۃ المجادلہ) کی آیات اور حدیث مبارکہ سے مغالطہ لیتے یا دیتے ہیں ، حالانکہ ان آیات کا مقصد اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر کرنا اور یہ بتلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم، اقتدار، اختیار کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہوتا ہے نہ کہ اپنی مقدّس ذات کے ساتھ!

﴿وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۰۰۱۱۵﴾ (البقرہ: ۱۱۵)

’’مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی ’’اللہ‘‘ کی توجہ ہے ’’اللہ‘‘ یقیناً بڑی وسعت اور علم والا ہے۔‘‘

﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا يَعْرُجُ فِيْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۴﴾ (الحدید: ۴)

’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ افروز ہوا، جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ آسمان کی طرف چڑھتا ہے وہ اسے جانتا ہے ، سب کچھ اس کے علم میں ہوتا ہے، تم جہاں بھی ہوتے ہووہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو وہ اُسے دیکھتا ہے۔‘‘

﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۷﴾ (المجادلہ: ۷)

’’کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز ’’اللہ‘‘ کے علم میں ہے؟ ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا وہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان میں وہ چھٹا نہ ہو، خفیہ بات کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں کہیں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، پھر قیامت کے دن وہ انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا عمل کیے ’’اللہ‘‘ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘

[عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ إنَّ اللہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بِالْحَربِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْئٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَّفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَتَہٗ.] (رواہ البخاری:کتاب الرقاق،باب التواضع )

’’حضرت ابوہریرہt بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول e نے فرمایا: ’’اللہ‘‘ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس سے میں اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میںنے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میراقرب حاصل کرے ،بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کر تا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتاہوں وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتاہوں، میں کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتا۔ جتنا مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی ۔‘‘

یہ پڑھیں:              قرآن حکیم اور اطاعت رسولﷺ

اس حدیث مقدسہ میں نوافل کی فضیلت ،نیک بندے کی تابعداری اور اس کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ قربت بیان کی گئی ہے۔

وحدت الوجود اور الشہود کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے:

اس عقیدہ کی کمزوری کا اندازہ لگائیں کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی عطا کردہ حیا کی بنا پر اس قدر نفیس اور پاکیزہ فطرت ہیں کہ جب کوئی شخص برہنہ ہوتا ہے تو وہ حیا کی وجہ سے اس سے دور چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حیا کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ کیا ملائکہ ، جِنّ و انس، درندوں، پرندوں کو حیا دینے والا ’’اللہ ‘‘ہر جگہ اور ہر شخص کے ساتھ ہو سکتا اور ہر حالت میں؟

[عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍw ۔۔۔إنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ عَنِ التَّعَرّی فَاسْتَحْیُوْا مِنْ مَلٓائِکَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لاَ یُفَارِقُوْنَکُمْ إلَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ حَالَاتٍ اَلْغَائِطِ وَالْجَنِابَۃِ وَ الْغُسْلِ فَإذَا اغْتَسَلَ أحَدُکُمْ بِالْعرَاءِ فَلْیَسْتَتِرْ بِثَوْبِہِ أوْ بِجَذْمَۃِ حَائِطٍ أوْ بِبَعِیْرِہِ .] (رواہ البزار: باب مسند عبداللہ بن عباسw[ضعیف جداً])

’’حضرت عبداللہ بن عبا سw بیان کرتے ہیں لوگو! یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں ننگا ہونے سے منع کیا ہے ۔ تم ’’اللہ‘‘ کے فرشتوں سے حیاکر و۔فرشتے تم سے صرف تین حالتوں میں الگ ہوتے ہیں قضائے حاجت ، جنابت اور غسل کے وقت ،جب تم میں سے کوئی کھلی جگہ میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کوکسی کپڑے سے ڈھانپ لے یا درخت کے تنے کے پیچھے یااپنے اونٹ کو اوٹ بنا لے۔‘‘

حقیقت یہی ہے کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے عقیدہ کی ابتداء باطل لوگوں کے عقیدہ سے ہوئی اور ان سے متاثر ہو کر ہندو مذہب نے حلول کا عقیدہ اختیار کیا اور اسی کی بگڑی ہوئی شکل تصوف میں در آئی جس کو بعض صوفیاء کرام نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے طور پر اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ناشکری اور سنگین جرم قرار دیا ہے۔

﴿وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ﴾  (الزخرف:۱۵)

’’انہوں نے ’’اللہ‘‘ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا حصہ بنا لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان واضح طور پر کفر کرنے والا ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:              صحبت صالح ترا صالح کند

﴿وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ۰۰ لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّاۙ۰۰ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ۰۰ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ۰۰ وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ۰۰﴾

’’وہ کہتے ہیں کہ الرّحمان کی اولاد ہے بلاشبہ یہ بہت ہی بےہودہ بات ہے جو تم لوگ کہہ رہے ہو،قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گِر پڑیں کہ انہو ں نے الرّحمان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ الرّحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد قرار دے۔‘‘  (مریم: ۸۸تا۹۲)


No comments:

Post a Comment

Pages