نبی کریمﷺ سے مشابہت رکھنے والے خوش نصیب افراد 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

نبی کریمﷺ سے مشابہت رکھنے والے خوش نصیب افراد 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, خوش نصیب, نبی کریم سے مشابھت رکھنے والے,
 

نبی کریمﷺ سے مشابہت رکھنے والے خوش نصیب افراد

 

تحریر: جناب حافظ عبدالاعلیٰ درانی

نبی اکرمe خاتم النبیٖن کے مقام و مرتبے کی مشابہت تو ناممکن ہے۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ کیا خوب کہا

غالب ثنائے خواجہ را بہ یزداں گزاشتیم

کہ آں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

یہ پڑھیں:              رسول اللہ ﷺ معلم ومبلغ

البتہ آپ کی شباہت سے ملتے جلتے کچھ لوگ ضرور موجود تھے۔ جیسا کہ حضرات حسنین کریمین میں سے حضرت حسن شکل و شباہت  میں اور سیدنا حسین جسم کی ساخت میں آپ سے کافی مشابہت رکھتے تھے۔ خود سیدۃ نساء أہل الجنۃ فاطمہ الزھراء بھی چال ڈھال میں آپ کی مثل لگتی تھیں ان کے علاوہ بھی چند افراد نبی اکرمe سے مشابہت رکھتے تھے۔ علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب البغدادی (متوفیٰ ۵۴۲ ہجری) نے اپنی کتاب ’’المحّبر‘‘ میں ’’نبیe سے مشابہت رکھنے والے حضرات‘‘ کا باب قائم کرکے نو افراد کا ذکر کیا ہے جو آپe سے غیر معمولی  شباہت  رکھتے تھے۔ ان سب سے پہلے:

Ý       سیدنا حسن بن علیt کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ لکھتے ہیں کہ سیدہ فاطمہr جب آپ کو جھولا جھلاتیں تو یہ شعر پڑھا کرتی تھیں کہ واہ واہ تو! میرے باپ کے مشابہ ہے،علی سے مشابہ نہیں۔ امام بخاری اپنی صحیح کی کتاب المناقب میں ابو جحیفہؓ سے روایت لائے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو دیکھا ہے، حسن بن علیؓ آپe سے مشابہ تھے۔ اسی طرح مصنف عبدالرزاق میں بھی امام زہری کے طریق سے سیدنا انس بن مالکؓ کا قول مروی ہے کہ حسن بن علیؓ سے زیادہ کوئی بھی نبیe کے مشابہ نہ تھا۔ یہ دونوں روایات علامہ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب ’’الاصابہ فی تمییز الصحابہ‘‘ میں سیدنا حسن بن علیؓ کے حالات میں بھی لائے ہیں۔

Þ       علامہ ابو جعفر بغدادی دوسرے نمبر پر سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کا نام لکھتے ہیں۔ امام بخاری اپنی صحیح کی کتاب المغازی، باب عمرۃ القضاء کے تحت حدیث لائے ہیں کہ نبی اکرمe نے سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ سے فرمایا کہ تم شکل و شباہت اور اخلاق میں مجھ جیسے ہو۔ علامہ ابن حجر عسقلانی ’’الاصابہ‘‘ میں سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کے حالات میں سیدنا ابو ہریرہؓ کا قول لائے ہیں کہ نبیe کے بعد تمام لوگوں سے افضل جعفر بن ابی طالبؓ  تھے۔ سیدنا جعفرؓ سیدنا علیؓ کے بڑے بھائی تھے اور ان سے پورے دس سال بڑے تھے۔ سیدنا جعفرؓ سے دس سال بڑے عقیلؓ بن ابی طالب تھے اور عقیل ؓ بن ابی طالب سے دس سال بڑا طالب بن ابی طالب یعنی طالب بن عبدمناف تھا۔ ان چاروں بھائیوں میں دس دس سال کا فرق تھا۔

ß       کتاب المحبّر میں اس سلسلے میں تیسرا نام نبیe کے چچازا بھائی قثم بن عباس بن عبدالمطلبؓ: کا ہے۔ علامہ ابو جعفر بغدادی لکھتے ہیں کہ سیدنا عباس ؓ جب ان کو جھولا جھلاتے تو یہ شعر پڑھا کرتے۔

            اے میرے پیارے بچے! اے قثم! اے عزت والے کے مشابہ‘ یہ سیدنا حسن بن علیؓ کے رضاعی بھائی تھے کیونکہ ان کی والدہ سیدہ ام فضلؓ نے ان کے ساتھ ساتھ سیدنا حسنؓ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی  ’’الاصابہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ان کی صحابیت مختلف فیہ ہے۔ ابن السکن اور بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے یہ رسول اللہe کے مشابہ تھے۔ یہ سیدنا عثمانؓ کے دورخلافت  میں سمر قند میں جہاد کے دوران شہید ہوگیے تھے۔

یہ پڑھیں:            

à       نبیe سے مشابہت رکھنے والوں میں چوتھا نام محمد بن جعفر بن ابی طالبؓ کا ہے۔ محمد بن جعفر بن ابی طالب سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کے بھائی تھے۔ یہ سرزمین حبشہ میں پیدا ہوئے۔ ابو جعفر بغدادی کہتے ہیں کہ یہ پہلے شخص ہیں جن کا مہاجرین میں سے زمانۂ اسلام میں محمد نام رکھا گیا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنی چچازاد سیدہ ام کلثوم بنت علیؓ بیوہ سیدنا عمرؓ سے نکاح کرلیا تھا۔ البتہ ابن حجر عسقلانی ان کے نبیe سے مشابہ ہونے سے متعلق کوئی بات نقل نہیں کرتے۔

á       بلکہ ان کے بھائی سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ سے متعلق تصریح کرتے ہیں کہ وہ نبیe کے مشابہ تھے اور اس سلسلے میں سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کی شہادت اور غزوہ موتہ سے متعلق ایک لمبی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے نبیe کا قول نقل کرتے ہیں کہ ’’رہا عبداللہ تو شکل و شباہت اور اخلاق میں وہ مجھ جیسا ہے۔‘‘ یہ عبداللہ بن جعفرؓ یزید بن معاویہؒ، حجاج بن یوسف اور خالد بن یزید بن معاویہؒ کے سسر تھے اور پورے عرب میں اپنی جودوسخا کے لیے مشہور تھے۔

â       نبیe سے شباہت رکھنے والوں میں ایک نام نبیe کے چچا زاد بھائی ابوسفیانؓ بن حارث بن عبدالمطلب کا بھی ہے۔ ابوسفیان کا نام مغیرہ تھا اور یہ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے۔ ان ابوسفیانؓ کے ساتھ سیدنا علیؓ کی بہن جمانہ بنت ابی طالب بیاہی ہوئی تھیں۔ سیدنا علیؓ کی بہن ام ہانیؓ کا شوہر ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی اور اس کے یہ ہم زلف ابو سفیانؓ بن حارث بن عبدالمطلب دورِ جاہلیت میں نبیe کے سخت درپے آزار رہتے تھے، یہاں تک کہ جب فتح مکہ کے موقع پر معافی کے لیے یہ نبیe کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپe نے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا اور ان کی معافی کو قبول نہ کیا تھا کیونکہ نبیe کی بعثت سے قبل یہ آپe کے بہت اچھے دوستوں میں سے تھے لیکن آپe کے اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی آپ e کے شدید مخالف ہوگیے تھے اور پچھلی صلہ رحمی کو قطعی بھلا دیا تھا۔ جب نبیe نے اِن کی معافی کو قبول نہ کیا تو انہوں نے اپنے کم سن بچے کو لے کر بیابانوں میں نکل جانے کی بات کی جس پر آپe کا دل پسیج گیا اور آپe نے ام المومنین ام سلمہؓ کی سفارش پر ان کو معاف کردیا۔ ابن حجر عسقلانی ’’الاصابہ‘‘ میں ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ نبیe کے رضاعی بھائی بھی تھے کیونکہ انہوں نے اور نبیe نے حلیمہ سعدیہ کا دودھ ایک ساتھ پیا تھا۔ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی نے کتاب ’’المحّبر‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ اسی رات  پیدا ہوئے جس رات  نبیe پیدا ہوئے تھے اور آپe سے شباہت رکھتے تھے۔ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ دورِ جاہلیت میں آپe کی ہجو کیا کرتے تھے جس کا جواب شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابتؓ دیتے تھے۔ البتہ فتح مکہ کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور اپنے ہر برے کام کی تلافی کردی۔ یہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو غزوہ حنین میں ثابت قدم رہے اور نبیe کی حفاظت پر مامور تیر برساتے رہے۔ آپe کو ان کے اسلام  لانے کے بعددوبارہ ان سے خاص تعلقِ خاطر ہوگیا تھا۔

یہ پڑھیں:             خلیفہ بلا فصل ... سیدنا ابوبکر صدیقt

ã       اسی سلسلے میں ایک نام سیدنا عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کا بھی لیا جاتا ہے جو کہ نبیe کے بھتیجے تھے۔ محمد بن حبیب بغدادی کتاب ’’المحّبر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ نبیe کے ہم شکل تھے۔ ابن حجر عسقلانی ’’الاصابہ‘‘ میں عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کے حالات میں بتاتے ہیں کہ یہ نبیe کے مشابہ تھے اور سیدنا معاویہؓ کے دورِ خلافت میں مروانؓ کی طرف سے مدینہ میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ سب سے پہلے شخص ہیں جو مدینہ میں قاضی بنے۔ ان کی وفات ۴۸ ہجری میں ہوئی جبکہ بعض  اہل علم ان کے سیدنا معاویہؓ کے دورِ خلافت میں فوت ہونے کی روایت بھی نقل کرتے ہیں۔

ä       ابو لہب کے ایک پوتے مسلم بن معتب  بن ابی لہب کو بھی تذکرہ نگاروں نے ان افراد میں شامل کیا ہے جو کہ نبیe کے مشابہ تھے۔

å       ابو جعفر بن حبیب نے مسلم بن معتب بن ابی لہب اور سائب بن عبد یزید بن مطلب بن ہاشم بن عبد مناف کی بابت لکھا ہے کہ یہ دونوں نبیe سے شباہت رکھتے تھے۔

æ       اس کے علاوہ ایک شخص کابس بن ربیعہ بن مالک بن عدی بن الاسود کے بارے میں بھی مولف کتاب المحبر نے تصریح کی ہے کہ وہ نبیe کے مشابہ تھا۔ اس شخص کے متعلق جب سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ کو اپنے دورِ خلافت میں اطلاع پہنچی کہ بصرہ میں ایک شخص ہے جو کہ نبیe کے مشابہ ہے تو انہوں نے گورنرِ بصرہ عبداللہ بن عامرؓ بن کریز اموی کو خط لکھا کہ اس شخص کو میرے پاس روانہ کرے۔ پس گورنر نے کابس بن ربیعہ کو سیدنا معاویہؓ کی طرف بھیج دیا۔ کابس جب دربارِ خلافت پہنچے تو سیدنا معاویہؓ ان کے احترام میں اپنے تخت سے نیچے اترے، چل کر ان کے پاس آئے اور ان کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ماتھے پر بوسہ دیا اور ان کو علاقہ المرغاب جاگیر میں دیا۔

یہ پڑھیں:             سیرت النبیﷺ ... عظمت مصطفیٰﷺ

یہ حضرت معاویہ کی نبی اکرمe کے ساتھ عقیدت و محبت کی ایک اور نمایاں دلیل ہے۔ اللہ ہمیں نبی الحبیب کی شفاعت اور آپ کے دست اقدس سے جام کوثر پلائے اور ہمیں جنت میں آپ کی رفاقت نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین!


No comments:

Post a Comment

Pages