اِک امین شخصیت 20-25 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 06, 2020

اِک امین شخصیت 20-25

ھفت روزہ اھل حدیث, حاجی عبدالرزاق, اِک امین شخصیت, شخصیات, علماء اھل حدیث,

حاجی عبدالرزاق ... اِک امین شخصیت

 

تحریر: جناب جہاں زیب قریشی

گھر ہو‘ دکان ہو‘ نہیں چلتا نظام اگر کوئی امین نہ ہو۔ پھر جہاں سیٹ اپ بڑا ہو وہاں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ فیکٹری‘ کارخانہ وغیرہ۔ اسی طرح تنظیموں اور جماعتوں میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے اور اہمیت کیوں نہ ہو اگر ’امین‘ امین نہ ہو تو خزانے کے خزانے اُجڑ جاتے ہیں۔

یہ پڑھیں:              دو یارانِ کہن کا انتقال پر ملال

کم ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جس نے ایسی ذمہ داری کو قبول کیا ہو اور پھر تعریف کے ساتھ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوا ہو۔ ایسے کم لوگوں میں ایک نام حاجی عبدالرزاق کا بھی ہے۔ وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم مالیات تھے اور میاں فضل حق کے با اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

جب اہل حدیث جماعتوں‘ جمعیت اہل حدیث اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کا اتحاد ہوا تو میاں فضل حق نے انہیں ناظم مالیات برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی جسے مان لیا گیا۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے تمام جماعتی افراد کا اعتماد حاصل کر لیا۔ پھر کبھی کسی کو کہنا نہ پڑا کہ انہیں ناظم مالیات لگانے کی سفارش کرتا ہوں۔

یہاں میں اپنے مضمون سے ہٹ کر کہوں گا کہ میاں فضل حق بھی کمال مردم شناس تھے۔ جہاں جس فرد کو مقرر کرتے تھے وہاں وہی خوب تھا اور اس کو وہاں سے علیحدہ کرنا کوئی عقلمندی نہ ہوتی تھی۔

ایک مرتبہ جب غلام حیدر وائیں کے خلاف اسٹیبلشمنٹ نے وٹو کی حکومت قائم کی تو اسی دن میاں محمد نواز شریف اس وقت کے صدر مسلم لیگ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سیکرٹریٹ ۱۰۶ راوی روڈ میں موجود تھے اور حاجی عبدالرزاق نے اسمبلی میں اپنا ووٹ کاسٹ کر کے وہاں پہنچنا تھا۔ یاد رہے کہ مرکزی جمعیت کا وہ دفتر یہ نہ تھا جو آج کل بڑی خوبصورت بلڈنگ کی شکل میں ہے بلکہ ایک پرانی بلڈنگ تھی۔ اسی کے لان میں تقریب جاری تھی اور اسٹیج پر قائد اہل حدیث علامہ ساجد میرd اور میاں محمد نواز شریف تشریف فرما تھے کہ حاجی عبدالرزاق بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر کے پہنچ گئے۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج اسٹیبلشمنٹ والوں نے خزانوں کے منہ کھولے ہوئے تھے‘ ضمیر فروشوں نے دل بھر کر مال بنایا ہے۔

لیکن ایسے حالات میں میں علامہ ساجد میرd کو سلام پیش کرتا ہوں کہ ان کی جماعت کے اس ایم پی اے کا ایمان ذرا بھی نہیں ڈگمگایا۔ پھر حاجی عبدالرزاق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’حاجی صاحب آپ کو بھی مال کی آفر ہوئی تھی۔‘‘ حاجی صاحب نے اقرار کیا کہ جی ہوئی تھی۔ نواز شریف نے پوچھا: پھر جی نہیں چاہا کہ مال لے لیا جائے؟ تو حاجی صاحب نے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بہت مال دیا ہوا ہے پھر مال نے کونسا آخرت میں ساتھ جانا ہے۔ اس لیے ساتھ جانے والی چیز ’ایمان‘ کو بچا لیا ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:              آسمانِ علم حدیث کے آفتاب .... الشیخ محمد علی آدم الاثیوبی

ہماری نظر میں ایک ایسا انسان اس دنیا سے چلا گیا ہے جو ایمان ساتھ لے کر گیا ہے۔ جو جماعت کو ہر پانچ سال کے بعد کہتا تھا کہ اپنا مال پورا کر لو میرا دورانیہ پورا ہو گیا ہے۔ مرکزی شوریٰ مال پورا کر لیتی تو اگلے پانچ سالوں کے لیے پھر اپنی امانت انہی کے پاس رکھ دیتی اور کہتی کہ دورانیہ پورا نہیں ہوا ابھی جاری ہے۔ لیکن اب کے حاجی صاحب خود ہی اس ذمہ داری کو چھوڑ گئے ہمیشہ کے لیے‘ ورنہ وہ تو امانت دار تھے کہ ان کے جیتے جی مرکزی شوریٰ کی نظر میں ’’امین‘‘ کے طور پر کسی اور پر نظر ہی نہ ٹھہرتی تھی۔ اب واقعی ان کا دورانیہ پورا ہو گیا ہے لیکن وہ اس ذمہ داری سے تعریف کے ساتھ رخصت کیے گئے ہیں۔

حاجی صاحب کے جنازے میں شرکت کرنے والا ہر شخص حاجی صاحب کے نمازی ہونے اور ان کی امانت داری کی تعریف میں رطب اللسان تھا۔ نماز بھی تو ایک امانت ہی ہے جو حاجی صاحب انتہائی پابندی سے وقت پر لوٹاتے تھے۔ ایسے ہی جماعت کا مال بھی۔ کمال آدمی تھے وہ۔

ایک دن بات شروع ہوئی تو کہنے لگے کہ ایم پی اے کا عہدہ میرا مزاج نہیں‘ زندگی کچھ اس طرح گذری ہے کہ صبح اُٹھتے تھے تو معلوم ہوتا کہ پنجاب کے دور دراز کے علاقہ سے کچھ نہ کچھ لوگ گھر پہنچے ہوئے ہیں۔ انہیں ناشتہ وغیرہ کرانے کے بعد آنے کا مقصد پوچھتے تو کہتے کہ مسجد بنا رہے ہیں تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم توفیق کے مطابق تعاون کرتے لیکن پروفیسر ساجد میرd نے مشکل نیکی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اب رات کے دو بجے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ملنا چاہتے ہیں۔ ملنے پر معلوم ہوتا ہے کہ جی بیٹے سے قتل ہو گیا ہے مدد کیجیے۔

یہ پڑھیں:              وفاؤں کا پیکر تھا چل بسا ہے

پھر کہنے لگے کہ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ آسان نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ کتنے بہادر تھے سیدنا ابوبکر‘ سیدنا عمر‘ سیدنا عثمان اور سیدنا علی] کہ خلافت کرتے تھے۔ کہنے لگے ہم میں یہ مشکل نیکی کرنے کی ہمت نہیں۔

یوں تو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان میں بہت اچھے لوگ ہیں لیکن جماعت کی فضائیں تا دیر اس امین کی کمی کو محسوس کریں گی۔ ان شاء اللہ!


No comments:

Post a Comment

Pages