تبصرۂ کتب ... بیان زندگی 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

تبصرۂ کتب ... بیان زندگی 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, تبصرۂ کتب ... بیان زندگی,
 

تبصرۂ کتب ... بیان زندگی

 

تبصرہ نگار: مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی (مدیر اہل حدیث)

نام کتاب:           بیان زندگی

تالیف:              ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی

صفحات:             510 صفحات ،  بڑا سائز

ناشر:                 الاثریہ فاؤنڈیشن‘ جہلم‘ پاکستان

تبصرہ نگار:           مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی (مدیر اہلحدیث)

زیر تبصرہ کتاب حاکم شارجہ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کی عربی زبان میں تحریر کردہ ایک بہترین خود نوشت سوانح حیات کا اردو ترجمہ ہے۔ ڈاکٹر سلطان ۲۵ جنوری ۱۹۷۲ء سے تا حال حاکم شراجہ ہیں۔ انہوں نے بچپن سے ہی تعلیم وتعلم کے ساتھ مضبوط رشتہ استوار رکھا۔ دین ودنیا کے علوم میں رسوخ حاصل کیا اور وہ علمی دنیا میں ممتاز مرتبہ رکھتے ہیں۔

یہ پڑھیں:   حافظ محمد یوسف گکھڑوی

اپنے ملک میں انہوں نے بے شمار مدارس اور مساجد کی بنیاد رکھی‘ کالجز اور یونیورسٹیز تعمیر کرائیں‘ ان کو اللہ نے حکومت کے ساتھ ساتھ حکمت کا حظ وافر عطا فرمایا۔ وہ خیر وامن کے داعی اور پیامبر ہیں اور جہالت مٹانے کے خواہاں بھی۔

ڈاکٹر سلطان نے دنیا کے کئی ممالک میں تعلیم وتعلم کے سر چشمے قائم کیے‘ وہ دنیا کے کئی تعلیمی اداروں کے بانی‘ چیئرمین‘ سربراہ ادارہ‘ رکن یا بنیادی معاون اور ممبر ہیں۔ پاکستان میں ان کے جاری کردہ کارہائے نمایاں میں سے ایک مثال جامعہ علوم اثریہ جہلم اور اس سے متصل پر شکوہ جامع مسجد سلطان ہے۔

رسول اکرمe کے فرمان: ’’تو خیر کی چابی بن جا‘‘ کی وہ عملی تصویر ہیں۔

ڈاکٹر سلطان نے بہت محنت کر کے یورپ کی یونیورسٹیوں سے PHd کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعض یونیورسٹیوں نے انہیں اعزازی ڈگریاں بھی عطا کیں‘ ان کی اعلیٰ تعلیم کی بنیاد زرعی کالج قاہرہ سے ۱۹۷۱ء میں چار سالہ ریگولر زیر تعلیم رہ کر BSc زراعت کی ڈگری کا حصول ہے۔

ڈاکٹر سلطان کی ڈیڑھ درجن سے زائد تالیفات علمی دنیا سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ وہ پختہ معلومات کے مصنف‘ مضبوط قلم کار‘ بین الاقوامی امور کے ماہر‘ معیشت اور معاشرت میں نگاہِ دور بین رکھنے والی شخصیت ہیں۔

ان کی اس خود نوشت کے عربی میں چار الگ الگ حصے شائع شدہ ہیں‘ پہلے حصے میں مؤلف کے بچپن سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے قاہرہ کے دورِ تعلیم کے چار سال تک کا مفصل تذکرہ ہے۔ دوسرے حصے میں شارجہ کے معاملات اور متحدہ عرب امارات UAE کے قیام کے اہم معاملات مذکور ہیں۔ تیسرے حصے میں خاص طور پر شارجہ کی تعمیر وترقی کا ذکر ہے جبکہ چوتھے حصے میں شارجہ کے ساتھ عرب امارات اور متصل برادر اسلامی ممالک کے امور مذکور ہیں۔

یہ پڑھیں:   قوم رو نہیں رہی، چیخیں مار رہی ہے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مؤلف نے ہر حصے میں دنیا کے متعدد ممالک کے دوروں اور پیشہ وارانہ یا تعلیمی اسفار کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ہر ملک کے حالات کا جائزہ بڑی گہرائی سے لیکن چند ایام میں ہی عمدہ طریقے سے لیا ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا کے ممالک کے بارے میں لکھا ہے ان ممالک کے باشندگان ان کی معلومات کی پختگی اور تجاویز پر ان کی لیاقت اور فطانت کی تحسین کرتے ہیں۔

الاثریہ فاؤنڈیشن جہلم کے چیئرمین جناب حافظ عبدالحمید عامر نے مجھے اس کتاب کے ترجمے کا حکم فرمایا‘ چاروں حصوں سے میں نے ضروری مقامات کی ترجمانی کی۔ بعد ازاں اسے دارالسلام لاہور کے شعبۂ تحقیق وتصنیف میں پیش کیا گیا جہاں جناب محسن فارانی اور ان کی معاون ٹیم نے اس میں کئی مقامات پر ترجمے کا اضافہ بھی کیا۔ بعض حواشی لگائے اور مفید معلومات بہم پہنچائیں۔

جناب محسن فارانی ممتاز ماہر جغرافیہ اور مضمون نگار ہیں ان کی نگارشات اخبارات ورسائل بطور مضامین نیز دار السلام کی کتب میں بطور مقدمہ اور حواشی کے جلوہ گر ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں معنوی اور صوری حسن اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مترجم کے ترجمہ میں بھی کچھ اصلاح کی ہے اور بعض حواشی بھی لکھے ہیں۔ البتہ مترجم کے حواشی کو بھی انہوں نے الگ سے برقرار رکھا ہے۔

کتاب کی کمپوزنگ‘ ڈیزائننگ‘ آرٹ پیپر پر اشاعت مضبوط جلد‘ جاذب نظر ٹائٹل وغیرہ دارالسلام کے بین الاقوامی معیارِ طباعت کا ایک مزید اعلیٰ مظہر بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ پڑھیں:   بھارت کی بربریت اور دنیا کی خاموشی

اس کتاب کا مطالعہ ہر کس کے لیے بہت سے فوائد کا باعث ہے اور اس کی تیاری اور اس کی اشاعت پر کثیر مصارفف اُٹھانے نیز سال بھر سے زائد عرصہ تک جہد پیہم پر استاذِ محترم جناب حافظ عبدالحمید عامر چیئرمین الاثریہ فاؤنڈیشن جہلم ادبیات عالم کے طالب علموں کی طرف سے بہت بہت شکریہ کے مستحق بھی ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Pages