حضورﷺ نبوت ورسالت کے سایہ میں 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

حضورﷺ نبوت ورسالت کے سایہ میں 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, حضورﷺ نبوت ورسالت کے سایہ میں,
 

حضورﷺ نبوت ورسالت کے سایہ میں

 

(ساتوی قسط)      تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفار حلیم

وہ خاورِ حیات کا درخشندہ آفتاب

صبح ازل ہے جس کی تجلی سے فیض یاب

شایان ہے جس کو سرورِ کونین کا لقب

نازاں ہے اسے رحمتِ دارین کا خطاب

یہ پڑھیں:   سیرت النبی ﷺ (پہلی قسط)

حضرت محمدؐ کی عمرمبارک جب چالیس برس کے قریب ہوچلی، نبوت سے تین سال قبل یعنی 37 کی عمر میں آپ ؐ کو گوشہ نشینی محبوب کردی گئی۔نبیؐ کا اس عمر میں تنہائی پسند ہونا درحقیت اللہ کی تدبیر کا حصہ تھا جو آپؐ کو ایک عظیم کام(بارِنبوت کے لیے) تیارکررہے تھے۔جس شخصیت سے بڑا کام لینا مقصود ہو وہ انسانی زندگی کے حقائق پر اثرانداز ہوکر اس کا رخ بدل ڈالے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمین کے مشاغل، زندگی کے شور وغل اور لوگوں کے ہم وغم کی دنیا سے کٹ کے کچھ عرصہ کے لیے الگ تھلگ خلوت نشیں رہے۔اسی سنت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ کو امانتِ کبری کا بوجھ اٹھانے اور روئے زمین کو جہالت کی تاریکیوں سے مٹانےکے لیے تیارکرنا چاہا۔ چنانچہ آپ ؐ غارِ حرا میں اکثر عبادت اور غور وفکر کے لیے خلوت فرماتےاور کئی کئی رات گھرتشریف نہ لاتے۔اس دوران بھوک مٹانے کے لیے حسبِ مزاج توشہ لے جاتے۔آپ کو اپنی قوم کے شرکیہ عقائد اور رسومات پر بالکل اطمینان نہ تھالیکن آپؐ سے پہلے کوئی واضح راستہ ،معین طریقہ اور افراط وتفریط سے ہٹی ہوئی کوئی ایسی راہ نہ تھی جسے آپ انشراحِ قلب کے ساتھ اختیار کرتے،غارِحرا میں آپ ؐ کائنات پر غوروفکر کرتے۔ ماہِ رمضان میں آپؐ مہینہ بھر کے لیے اعتکاف کرتے۔

سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ اس عرصہ میں رسول اللہ ؐ پر وحی کی ابتدانیند میں اچھے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے تھے وہ صبح سپید کی طرح نمودار ہوجاتاتھا یہاں تک کہ جب آپ ؐ کی عمر قمری حساب سے چالیس سال چھ ماہ بارہ دن اور شمسی حساب سے انتسالیس سال تین ماہ بائیس دن ہوئی ۔ ماہِ رمضان میں اعتکاف کی حالت میں اکیسویں رمضان طاق رات آپؐ کے پاس پہلی دفعہ فرشتہ آیا ۔فرشتہ نے حضورؐ سے کہا اقرا۔ پڑھ اے محمدؐ۔ حضور فرماتے ہیں کہ میں نے جواب دیا ما انا بقاری میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔

’’اس نے مجھے پکڑ کر دبایا یہاں تک کے میں بے بسا ہو گیا۔‘‘

فرشتہ نے دوسری مرتبہ پھر کہا اقرا پڑھیے۔ میں نے پھر جواب دیا میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ فرشتہ نے مجھے پھردبوچایہاں تک کہ میں بے بسا ہو گیا۔ ثم ارسلنی پھرمجھے چھوڑدیا۔پھرتیسری مرتبہ فرشتہ نے کہا اقرا۔پڑھیے ۔تو میں نے کہا میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ فرشتہ نےتیسری مرتبہ مجھے دبوچاحتیٰ کہ میں بے طاقتا ہو گیا۔ فرشتے نے مجھے چھوڑ دیا اور میری زبان رواں ہوگئی۔فرشتہ نے کہا:

’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جو بڑا بزرگ ہے جس نے قلم کے ذریعہ انسان کو سکھایا اور اسے وہ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔‘‘

فرشتہ اس کے بعد غائب ہوگیا اور رسول اللہ ؐاس حالت میں گھر لوٹے کہ آپؐ کا دل کانپ رہا تھا۔ حضرت خدیجہ ؓسے کہا کہ مجھے چادراُڑھادو۔آپؐ کے جسم پرکپکپی طاری تھی۔آپؐ کو چادر اوڑھادی گئی۔کچھ دیر آرام کے بعد وہ خوف جاتا رہا۔ آپؐ نے حضرت خدیجہؓ کو سارا واقعہ سنایا اور کہا:

’’مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘

حضرت خدیجہ ؓ نے آپ کو دلاسادیا اورکہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں۔اللہ آپؐ کو رسوا نہیں کرے گا آپؓ صلہ رحمی کرنے والے،سچ بولنے والے درماندوں کا بوجھ اٹھانے والے،تہی دستوں کی مدد کرنے والے ، مہمان نوازاور مصائب پر لوگوں کی اعانت کرنے والے ہیں ۔حوصلہ دینے کے باوجود خود حضرت خدیجہؓ دِل سے ڈرگئیں۔ پھر وہ اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی مذہب کا بڑا عالِم تھا ۔ ان سے کہا اے بھائی جان! اپنے بھتیجے کی بات سنیں کیا کہتے ہیں۔ ورقہ نے کہا:

’’اے بھتیجے تو نے کیا دیکھا ہے؟‘‘

یہ پڑھیں:   سیرت النبی ﷺ (دوسری قسط)

آپ ؐ نے سارا وقعہ بیان کردیا ۔ ورقہ نے کہا یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ نے موسیٰu پر نازل کیا تھا۔کاش میں اس وقت جوان وتوانا ہوتاجب آپؐ کی قوم آپؐ کو مکہ سے نکال دے گی۔رسول اللہﷺ نے تعجب سے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے شہر سے نکال دیں گے؟ا ورقہ نے کہاہاں ،جب بھی کوئی اس جیسا پیغام لے کرآیا تو اس کے اپنے بھی بیگانے اوردشمن بن گئے۔اگر میں نے آپؐ کا زمانہ پالیا تو میں ضرورآپؐ کی مدد کروں گا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ فوت ہوگئے ۔ پہلی وحی کے بعد وحی ایک دفعہ رک گئی۔

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اِک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

پہلی وحی اکیس رمضان المبارک کی طاق رات کو نازل ہوئی:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ﴾

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ۰۰۱﴾

ورقہ سے ملاقات کے بعد آپؐ کویقین ہوگیا کہ آپؐ پیغمبربنادیے گئے ہیں۔آپ ؐ نے اپنا اعتکاف تیس رمضان تک مکمل کیا اوریکم شوال کو گھر گئے۔ آپ ؐکے ذہن کو اورپختہ کرنے کے لیے کچھ دنوں کے لیے وحی روک دی گئی۔حافظ ابن حجرفرماتے ہیں کہ وحی کی چندروزہ بندش اس لیے تھی کہ آپ ؐپرجوخوف طاری ہوگیا تھا وہ رخصت ہوجائے اور دوبارہ وحی کی آمد کا شوق و انتظارپیدا ہوجائے۔ چونکہ آپؐ کویقینی طورپرمعلوم ہوگیاتھاکہ مجھے نبوت کے لیے چن لیا گیا ہےاس لیے آپؐ کا خوف ختم ہوگیااورآپؐ وحی کاشدت سے انتظارکرنے لگے۔حضرت جبرائیل دوبارہ تشریف لائے۔صحیح بخاری میں ہے کہ میں چلاجارہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آوازسنائی دی۔میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی توکیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارحرا میں آیا تھاآسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے،میں اس منظر سے خوف زدہ ہوکر زمین کی طرف جھک گیا۔پھر میں ہمت کرکے اٹھا اوراپنے اہل خانہ کے پاس آکرکہا مجھے چادر اوڑھا دو مجھے چادراوڑھادو۔انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی اسی حالت میں فرشتہ نے مجھ پر یہ دوسری وحی نازل کی:

﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ۰۰۱ قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ۰۰۲ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ۰۰۳ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ۰۰۴ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ۰۰۵ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ۰۰۶ وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ۰۰۷﴾

’’اے چادر اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی کراوراپنے کپڑوں کو پاک رکھاکر، اورظاہری نجاست اورشرک کی نجاست سے دوررہو اوراحسان کرکے زیادتی کی خواہش نہ کر، اوراپنے رب کی راہ میں صبر کر۔‘‘

اور پھر تشریف لے آئے محمدمصطفیٰ

حبذا صلی علی اہلا و سھلا و مرحبا

مطلعِ صبحِ نبوت، مقطعِ دورِ رسل

داعی حق، صاحبِ معراج، ختم الانبیا

ذاتِ اقدس محترم فخرِ عرب، نازِ عجم

رحمت للعالمین، شمس الضحیٰ، بدر الدجیٰ

اے محبوب! اب سونے ،آرام کے دن گئے۔اُٹھیے سونے کے ایام بیت گئے اورفرصت کے لمحات ختم ہو گئے۔ اب آپe کھڑے ہوجاؤ توحیدکے سنانے ،اللہ سے ملانے،رب کے حضورمخلوق کو جھکانے، محبت لانے، نفرتوں کو مٹانے، شرک کو گرانے، مخلوق کو اللہ سے اور روزِ قیامت سے ڈرانے کے لیے‘ کمربستہ ہو جائو اور اپنے رب کی بڑائی بیان کروجو مشرق ومغرب کا رب ہے، اس کو اپنا وکیل وکارساز بنا لو۔ اوراپنے لباس کو پاک صاف رکھا کرو اور ہر ناپاکی سے دوررہو۔جیسے موسیٰu کو بھی پہلی ملاقات میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا:

﴿اِنِّيْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ؕ۰۰۱۲﴾

’’اے موسی تمہارا رب پاک ہے اس سے تعلق جوڑنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ہرقسم کی ناپاکی اورنجاست سے الگ تھلگ ہو جائیے۔‘‘

پھرآپؐ ایسے کھڑے ہوگئے کہ بقیہ تئیس سالہ زندگی میں کھڑے ہی رہے۔

یہ پڑھیں:   سیرت النبی ﷺ (تیسری قسط)

 نبی امی:

﴿فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ﴾

قدرت نےکہا کہ پڑھے ہوئوں کو کیا پڑھانا ہے؟ ہم محمدؐ کو ایسا علم پڑھائیں گے کہ دنیا کی کسی مسند کسی مکتب سے نہ مل سکے۔اس طرح پڑھائیں گے کہ کبھی بھولے گا بھی نہیں۔وہ امی جو کسی استاد کے سامنے حصول علم کے لیےدوزانونہ بیٹھا ہو اُسے ساری کائنات کا استاد اورپیشوا بنائیں گے اور اسے علم لدنی عطافرمائیں گے۔

وہ امی کہ جس نے مکتب میں الف ب تک نہیں سیکھی

بنا وہ مصر اور یونان کے لیے استاد حکمت کا

ادھرلاکھ ستاروں سے ہے بزم کہکشاں روشن

ادھرایک شمع روشن سے دونوں جہاں روشن

ایک مرتبہ آپe کمبل اوڑھ کرسورہے تھے کہ وحی نازل ہوئی۔

﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ۰۰۱ قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ۰۰۲ نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ۰۰۳ اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ۰۰۴ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا۰۰۵ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِيْلًاؕ۰۰۶﴾

’’اے کمبل اوڑھ کرسونے والے، رات کوقیام کر،مگر تھوڑی رات یا آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ۔اورقرآن کو ٹھہرٹھہر کر صاف پڑھاکر۔ہم آپؐ پر ایک بہت بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔درحقیقت رات کا اٹھنانفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگراورقرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے موزوں ہے۔‘‘

وحی کے نزول کے وقت آپؐ جبریلu کے ساتھ جلدی جلدی آیات پڑھتے تاکہ اللہ کا پیغام ذہن میں محفوظ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی:

﴿لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ۰۰۱۶ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ۰۰۱۷ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ۰۰۱۸ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗؕ۰۰۱۹﴾

’’اے محبوب! آپ قرآن کو یادکرنے کرنے کے لیے اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیں اس کا جمع کرنا اور آپ سے پڑھوادینا ہمارے ذمہ ہے ۔ جب ہم پڑھ چکیں تو پھر آپ وحی کے الفاظ پڑھیں۔ پھر اس کا بیان(آپؐ کی زبان سے) ہمارے ذمہ ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:   سیرت النبی ﷺ (چوتھی قسط)

نبیu کو وحی سے مانوس کردیا گیااورآپؐ کو وضاحت کردی کہ اللہ کا پیغام یادکروانا اور پھر اسے آپ کی زبان سے جاری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ؐ کو جب نبوت کے منصب کی ذمہ داریوں سے اچھی طرح آگاہ کردیا گیاتو پھر دعوت ِ دین کا سلسلہ شروع کرنے کاحکم دیاگیا۔

مکے چن چڑھیا جگ لو ہوگئی

سوہنا کفر دی رات مکون آیا

راہوں بھلیاں جاندیاں راہیاں نوں

گلی باغ بہشت وکھون آیا

پھسے ہوئے گناہواں دی وچ دلدل

باہوں پھڑ مشفق بنے لون آیا

حسین دیو مبارکاں آن مینوں

ایس امت دی شان ودھون آیا

(جاری ہے)


No comments:

Post a Comment

Pages