مدیر اعلیٰ بشیر انصاری ... اسلامی صحافت کا درخشندہ ستارہ 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

مدیر اعلیٰ بشیر انصاری ... اسلامی صحافت کا درخشندہ ستارہ 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, مدیر اعلیٰ بشیر انصاری ... اسلامی صحافت کا درخشندہ ستارہ,
 

مدیر اعلیٰ بشیر انصاری ... اسلامی صحافت کا درخشندہ ستارہ

 

تحریر: جناب پروفیسر مولا بخش محمدی

محمد بشیر انصاری (ایم اے) کے آباؤ اجداد جنڈیالہ گرد اسٹیشن ضلع امرتسر کے سکونت پذیر تھے۔ ان کے والد ماجد میاں کریم بخش بھی ایک انتہائی شریف النفس ملنسار مخلص‘ صاحب تقویٰ وطہارت شخص تھے جو اپنے پورے علاقہ میں عزت وشرافت کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔

یہ پڑھیں:   صحافتی افق کا درخشاں ستارہ... بشیر انصاری مرحوم

۱۹۴۷ء کے پر آشوب حالات میں ان کے خاندان والے ہندوستان سے ترک وطن کر کے اور اپنی بہن بھائیوں‘ بھانجوں کی قربانیوں کے بعد گوجرانوالہ تشریف لائے۔ ہجرت کے وقت مولانا بشیر انصاری کی عمر عزیز صرف ۱۴ برس تھی۔ گوجرانوالہ میں قیام کے دوران آپ نے متعدد مصائب بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیے مگر تعلیم سے رشتہ برقرار رکھا اور گوجرانوالہ کے مشہور ادارے جامعہ اسلامیہ اہل حدیث سے باقاعدگی سے حصول تعلیم میں محنت شاقہ اختیار کر کے ایک دن تکمیل تعلیم سے سرفراز ہوئے۔ پھر علوم عصریہ میں پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ اسلامیات اور اردو ادب میں ڈبل ایم اے کی امتیازی نمبروں سے ڈگریاں حاصل کیں جو اس دور میں کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ پھر باقاعدگی سے وسعت مطالعہ‘ مشاہدہ میں دن رات ایک کر کے تحریر‘ تقریر‘ تصنیف اور مضمون نگاری ومقالہ نویسی میں ایک بلند مقام حاصل کیا۔

تحریر ونگارش میں انصاری صاحب نے وہ بلند مقام پایا کہ ان کے گرانقدر مضامین ومقالات اپنے وقت کے معیاری مجلات کے صفحات کی زینت بننا شروع ہوئے۔ پھر غم روزگار میں آپ نے بادل نخواستہ کچھ وقت کے لیے تو بنک کی ملازمت بھی اختیار کی مگر جلد ہی ان کے قلب سلیم نے بنک کے غیر شرعی معمولات کے پیش نظر ملازمت سے علیحدگی اختیار کر لی۔

یہ زخم آسودگان فن بھی کیا درویش سیرت ہیں

اُجالے بانٹے ہیں اور دیا گھر میں نہیں رکھتے

پھر باقاعدہ شعبہ صحافت سے منسلک ہو گئے‘ چونکہ پہلے ہی شعبہ صحافت ان کے لیے کوئی اجنبی نہ تھا لہٰذا انہوں نے باقاعدہ ۱۹۶۹ء سے لکھنے پڑہنے کا محبوب مشغلہ اختیار کر لیا۔ پھر حسن اتفاق سے جب علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa نے جماعت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے مؤقر ماہنامہ مجلہ ’’ترجمان الحدیث‘‘ لاہور سے بڑی آب وتاب سے شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس محبوب مجلہ کے لیے وطن عزیز میں جس معاون مدیر کا انتخاب عمل میں آیا وہ بابائے صحافت مولانا بشیر انصاری a تھے۔ پھر بعد میں ان کو ’’ترجمان الحدیث‘‘ کا باقاعدہ مدیر بنا دیا گیا۔

کارواں در کارواں رنگیں بہاریں کٹ گئیں

اور گل شاخوں پہ داغوں کی طرح جلتے رہے

۱۹۷۴ء میں بشیر انصاری صاحب نے باقاعدہ اپنا علیحدہ ہفت روزہ ’’الیوم‘‘ لاہور سے جاری فرمایا جس میں خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۷۵ء سے ۱۹۹۰ء تک وہ جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ترجمان ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ لاہور کے مدیر رہے۔ جس سے انہیں علمی ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی نصیب ہوئی۔ جس کی خصوصی اشاعتیں تو بڑی علمی معلومات کی حامل تھیں۔

بالآخر رسوخ فی العلم‘ بے پناہ تجربات ومشاہدات کے بعد آپ کو مؤقر ہفت روزہ اہل حدیث لاہور کا ۱۹۹۰ء میں مدیر بنایا گیا جس نے ۵۱ سال سے آج تک بحسن وخوبی جماعت اہل حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے مسلک اہل حدیث کا داعی ہونے کی حیثیت میں علمی جہاں میں ایک معیاری ممتاز مقام حاصل کر لیا۔ یہ مجلہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے بڑی شان وشوکت سے‘ علم ودانش‘ فہم وفراست‘ حکمت وموعظت کے ساتھ قارئین کرام کی جھولیاں علم وبصیرت سے پر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ انصاری صاحب مرحوم نے مختلف اوقات میں ماہنامہ ’’الضحیٰ‘‘ گوجرانوالہ‘ ’’جنت الماویٰ‘‘ گوجرانوالہ‘ ’’النصیحت‘‘ اور ’’المیزان‘‘ کے ذریعے بھی دعوت وتبلیغ‘ علم وادب کی صحافت کے ذریعے خوب خدمت فرمائی۔ اللہ رب العزت ان کی جہود علمیہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!

یہ پڑھیں:   جماعتی یادوں کے امین ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم

وہ پوری پون صدی تک دنیا کے جھمگٹھوں اور ہنگاموں سے منہ موڑ کر یکسو ہو کر قلم وقرطاس کے ذریعے محبت واخلاق‘ کتاب وسنت‘ حقانیت اسلام‘ اخلاق کی سربلندی کے لیے دن رات کوشاں رہے۔ ان کی متعدد تصنیفات ہیں جن میں سے 1 ارمغان ظہیر 2 تحریک اہل حدیث‘ افکار وخدمات 3 نجات کا راستہ 4 رہنمائے حج وعمرہ 5 مشاہیر کے خطوط (دو جلد) اور 6 اہل حدیث صحافت شامل ہیں‘ جن کے مطالعہ سے ان کی بڑی یاد آتی ہے:

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے

تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے

اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف ممالک کے بیسیوں سفر کرنے کے مواقع بھی عنایت فرمائے جن سے ان کے مزاج میں اعتدال‘ وسعت مطالعہ ومشاہدہ میں خوب نکھار آیا‘ بفضل اللہ آپ نے چار سے زائد حج بھی فرمائے۔ ایک تفصیلی مطالعاتی سفر حجاز اختیار کیا‘ اس کے علاوہ برطانیہ‘ جاپان‘ کویت‘ عراق‘ کینیڈا وغیرہ کے اسفار فرمائے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

اللہ تعالیٰ نے بشیر انصاری صاحب کو علمی رسوخ کے ساتھ ذہنی‘ فکری بالیدگی بلند کردار‘ حسن اخلاق‘ رواداری‘ محبت واخلاص کی بے پناہ خوبیوں وخصائص سے سرفراز کیا تھا۔ آپ نہایت فرض شناس‘ ذمہ دار‘ اصول پرست‘ رحمدل اور معاملہ فہم تھے۔ انہوں نے ساری زندگی صحافت میں نامور کہنہ مشق ہونے کے باوجود فن صحافت سے کوئی دنیاوی فائدہ اٹھانے کا سوچا بھی نہ تھا۔ وہ ہمیشہ خود کو گوشہ گمنامی میں رکھنے کو پسند کیا کرتے تھے۔

آپ ہمیشہ کسی کی دل آزاری سے بچنے کی کوشش کرتے تھے‘ ان کے دم قدم سے ’’مرکز‘‘ میں ایک رونق رہا کرتی تھی۔

ہم فقیروں سے دوستی کر لو

گر سکھا دیں گے بادشاہی کے

مختصراً ان کی پوری زندگی اخلاص‘ سچائی‘ سادگی‘ محبت‘ عزت افزائی اور روا داری کا مقام تھی‘ صرف ایک مثال عرض خدمت کرتا ہوں کہ راقم الحروف وطن عزیز کے ایک دور افتادہ‘ پسماندہ‘ صحرائی اور سرحدی علاقہ تھرپارکر سے تعلق رکھتا ہے لیکن جب بھی کوئی علمی‘ ادبی‘ یا جماعتی معاملہ درپیش آتا تو آپ ہمیشہ بلا تاخیر بذریعہ فون حل فرما دیتے جب عمر کے آخری حصہ میں ممدوح کی قوت سماعت میں بھی قدرے کمزوری آگئی تھی‘ لیکن پھر بھی اگر کہیں سفر میں ہوتے تو فرماتے کہ میں سفر میں ہوں گھر پہنچ کر آپ سے تفصیلی بات کر لوں گا۔ پھر چند لمحات کے بعد جیسے گھر پہنچتے تو پہلے معذرت کرنے کے بعد تسلی بخش تفصیلی گفتگو کر کے جی خوش کر دیتے تھے۔ ورنہ    ؎

کہاں میں کہاں نگہت گل

نسیم صبح تیری مہربانی

آہ! ہم کیسی مشفق‘ مہربان‘ قدر شناس اور قد آور شخصیت سے محروم ہو گئے۔

انجمن سے وہ کیا گئے کیفی

رونق لے گئے ہیں محفل کی

وہ بلاشبہ اپنے دوست واحباب اور جماعتی ساتھیوں پر جان چھڑکنے والے تھے‘ ان کی علمی‘ ادبی‘ جماعتی اور مذہبی زندگی کا دائرہ بہت بڑا تھا۔ وہ دور افتادہ احباب جماعت کی بھی پوری طرح خبر رکھا کرتے تھے۔ ایک بار کسی سماجی مذہبی ادارے کی جانب سے وادئ ریگستان تھرپارکر میں میٹھا پانی پہنچانے کے لیے کنواں‘ واٹر پمپ‘ سمرسیبل وغیرہ کا کوئی منصوبہ ان تک پہنچا تو انہوں نے از راہ کرم مجھے یاد فرمایا اور یہ ذمہ داری لگائی کہ جس کے لیے اچھی خاصی رقم ہونے کا سن کر میں نے اپنی ناسازی صحت‘ عدیم الفرصت اور گوشہ گمنامی کا عذر کرتے ہوئے معذرت چاہی اس وجہ سے پہلی بار مرحوم انصاری صاحب قدرے ناراض بھی ہو گئے۔ پھر ان کی ناراضی کو میں نے منت وسماجت کے ذریعے محبت میں تبدیل کرا لیا۔ مقصد یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ مناسب وموزوں لوگوں کے ذریعے بغیر کسی کمی بیشی کے تھرپارکر کے لوگوں کی خدمت کی جا سکے۔

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل

وہ دکان اپنی بڑھا گئے

یہ پڑھیں:   سوانح وخدمات حافظ محمد صدیق خلیل

میں نے ان کو اپنے کام میں مخلص پایا‘ وہ کبھی نہ تھکنے والے انسان تھے‘ نہ کبھی جلد مایوس ہوئے‘ باد مخالف ہمیشہ ان کے شعلہ عمل کو مزیر بھڑکا دیتی تھی۔ وہ ہر اس شخص کو اپنا دوست سمجھتے تھے جس میں ایمانداری سے کام کرنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی‘ ویسے بھی ان کو مخلص دوست بنانے کافن خوب آتا تھا جس کی غماز ان کی کتاب مشاہیر کے خطوط (دو جلدیں) ہے۔

مرحوم انصاری صاحب بھی ہماری طرح گوشت پوست کے انسان تھے‘ کوئی فرشتہ نہ تھے‘ چونکہ بشیر بننا بھی بڑی عزت وعظمت کی بات ہے‘ انسان بھی وہ جو اچھا‘ سچا‘ مخلص ومہربان ہو جس میں وفاء اور خوف خدا ہو‘ ان کی خوبصورت طبع کا ایک یہ زاویہ بھی تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے کام میں مخلص رہے اور کسی کے کام میں قطعا مداخلت نہ کرنے کے حق میں تھے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

وہ ماضی پر ماتم کناں ہونے کی بجائے ہمیشہ پچھلی خامیوں کی بڑی فیاضی سے تلافی کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی سوچ رکھتے تھے۔ وہ اپنی حکمت عملی سے کامیابیوں کے بند دروازے کھولنے کی صلاحیت سے سرشار تھے۔

متاع بے بہا ہے درد وسوز آرزو مندی

مرحوم اخلاق وعادات میں بے شمار خوبیوں سے سرفراز تھے‘ وہ اچانک ہم سے بچھڑ گئے۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ان کی زندگی کا مقصد صرف اعلاء کلمۃ الحق اور مسلک اہل حدیث کی سرفرازی وسربلندی تھا۔ ان کی متعدد عنوانات پر ہزاروں تحریریں‘ فکر انگیز مقالات علمیہ‘ تصانیف وتالیفات‘ الاسلام واہل حدیث کے اداریے ان کی بیش بہا یادگار میراث ہیں۔

آپ کہنہ مشق‘ زود نویس‘ نامور صحافی مانے اور جانے جاتے ہیں‘ ان کی سب تحریریں زبان وبیان کے لحاظ سے انتہائی شائستہ وشگفتہ اور جاندار ہیں جن میں بلا کی جاذبیت‘ گہرائی‘ گیرائی تھی۔ برمحل اپنے افکار میں کم الفاظ سے بڑا مواد اور مقصدیت سمانے کی صلاحیت تھی۔ آپ انتہائی سادہ مزاج‘ بلند اخلاق‘ خوش گفتار‘ خوش شکل‘ باوقار حلیم وبردباری کا مجسمہ‘ تکلفات وتصنعات سے نا آشنا‘ متواضع‘ باکردار‘ سنجیدہ خاطر‘ جہاندیدہ‘ بلند نگاہ تھے۔

آہ! آج ہم میں یہ عظیم انسان نہ رہا‘ لیکن سچ تو یہ ہے کہ انسان تو بالآخر چلے ہی جاتے ہیں ان کا عمل وکردار دلوں میں باقی رہ جاتا ہے۔

یہ پڑھیں:   آہ!... مولانا حافظ محمد صدیق خلیل وفات پا گئے

انہوں نے اپنی زندگی میں کتنے علماء ومفکرین اور معززین سے رشتے استوار کیے؟ یہ جاننے کے لیے ان کی کتاب ’’مشاہیر کے خطوط‘‘ کی دو جلدیں کافی ہیں۔ اللہ رب العزت ان پر نظر مغفرت‘ عنایت اور رحمت فرمائے۔ بشری کوتاہیوں سے در گذر فرمائے اور اعلیٰ علیین میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما


No comments:

Post a Comment

Pages