اقوام کی حفاظت‘ عمدہ اخلاقی اقدار میں ہے 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

اقوام کی حفاظت‘ عمدہ اخلاقی اقدار میں ہے 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, اقوام کی حفاظت‘ عمدہ اخلاقی اقدار میں ہے,
 

اقوام کی حفاظت‘ عمدہ اخلاقی اقدار میں ہے

امام الحرم المکی الشیخ ڈاکٹر صالح بن حُمید d

 

ترجمہ: جناب عاطف الیاس  ………………… نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد وثناء کے بعد:

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ تقویٰ ہی بہترین زادِ راہ ہے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں مرضی کی ہر چیز ہی کیوں نہ حاصل ہو جائے، پھر بھی  ہمیں یہاں سے ویسے ہی خالی ہاتھ رخصت ہونا پڑے گا جیسے ہم آئے تھے۔ دنیا میں کوئی تو خود اعتمادی کی بدولت انکساری اپنا لیتا ہے، اور کوئی احساسِ کمتری کی وجہ سے تکبر کرنے لگتا ہے۔ اللہ کے بندے! اگر کوئی آپ کو اچھا نہیں لگتا، تو کیا لازم ہے کہ لوگ بھی اسے پسند نہ کریں؟ غلطی آپ کی بھی تو ہو سکتی ہے۔ اس لیے مخلوق کے فیصلے خالق پر چھوڑ دیجیے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! سعادت چاہتے ہو تو دل کو کینہ اور بغض وعداوت سے پاک کر لو، نفس کو نرم اور محبوب بنا لو، اپنی دوستی کو مفاد سے بالا تر کر لو۔ فرمان باری تعالی ہے:

یہ پڑھیں:   خطبۂ حرم مکی ... نبی کریم ﷺ کے شمائل وفضائل کا دفاع: از الشیخ عبدالرحمن السدیس ﷾

’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل: ۹۷)

اے مسلمانو! انسانی زندگی کی اہم بنیاد، انسانی کردار کا اہم ستون، جو افراد اور اقوام کے طور طریقوں سے تعلق رکھتا ہے، ایک بنیادی رکن، جو لوگوں کو خیر کی طرف مائل کرتا ہے، جو حسن وجمال کے زینے چڑھنے پر ابھارتا ہے، جو بلندی کی طرف رواں رہنے کی تلقین کرتا ہے، جسے اپنا لیا جائے تو سربلندی کے قابل ستائش کام آسان ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک خصلت ہے، بلکہ خصلتوں کامجموعہ ہے جو لوگوں میں عام ہو جائیں تو امن وسکون پھیل جائے، اتحاد واتفاق اور باہمی تعاون پیدا ہو جائے۔ ایسی خصلتیں، جو شخصیت کو نکھارتی ہیں، ارادوں کو مضبوط بناتی ہیں اور امن کی حفاظت کرتی ہیں۔ جو برائیوں کو ختم کرتی اور غلطیوں کی اصلاح کرتی ہیں۔ اللہ کے بندو! یہ ہیں اعلی درجے کے اخلاق اور اقدار۔

فرمان باری تعالی ہے:

’’(اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۹)

دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

’’میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (الاسراء: ۵۳)

’’جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔‘‘ (الاسراء: ۱۶)

برادران گرامی قدر! اہلِ اسلام کی  اخلاقی قدروں  کا مرکز ومحور دین، عقیدہ  اور شرعی احکام ہوتے ہیں اور انہی کے تحت ان کی زندگیاں بسر ہوتی ہیں۔ دنیا  اور آخرت کے متعلق ان کا عقیدہ بھی  ان کی اقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اے بھائیو! اقدار کی جامع، درست  اور خوبصورت تعریف یہ ہے کہ یہ ان انسانی صفات کا مجموعہ ہے جن سے لوگ ایک دوسرے سے برتاؤ  کرتے ہیں۔ امام عبد اللہ بن مبارکa فرماتے ہیں:

’’ادب، دین کے کم وبیش دو تہائی حصوں کے برابر ہے۔‘‘

حافظ ابن رجبa فرماتے ہیں:

’’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تقویٰ صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کا نام ہے۔ اس میں حقوق العباد کا کوئی دخل نہیں۔ مزید فرماتے ہیں: حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بیک وقت ادائیگی ایک مشکل کام ہے، جسے انبیاء اور صدیقین جیسے کامل لوگ ہی ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

اسی طرح حافظ محاسبیa فرماتے ہیں:

’’اچھے اخلاق اور دیانت داری کو بیک وقت اپنانا مشکل کام ہے، اسی طرح بھائی چارے اور امانت داری کو بیک وقت اختیار کرنا بھی مشکل ہے۔‘‘

یحییٰ بن معاذa فرماتے ہیں:

’’بداخلاقی ایسا گناہ ہے جس کے ہوتے ہوے کثرت سے نیکیاں بھی کی جائیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور حسن اخلاق وہ نیکی ہے جس کے ہوتے ہوے گناہوں کی کثرت سے بھی نقصان نہیں ہوتا۔‘‘

اے مسلمانو! ایک شخص رسول اللہ e کے پاس آیا اور اس نے کہا:

’’اللہ کے رسول! فلاں عورت بڑی نمازی ہے، روزے بھی خوب رکھتی ہے اور خیرات بھی بہت کرتی ہے، مگر زبان سے اپنے ہمسائے کو اذیت دیتی ہے۔ آپe نے فرمایا: ’’وہ جہنمی ہے۔‘‘ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت نہ اتنی نمازی ہے، نہ اتنے (نفلی) روزے ہی رکھتی ہے اور نہ خیرات ہی زیادہ کرتی ہے۔ صرف پنیر  کے چند ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے۔ مگر زبان سے اپنے ہمسائے کو اذیت نہیں دیتی۔ آپ e نے فرمایا: ’’وہ جنتی ہے۔‘‘ (اسے امام منذری نے ترغیب وترہیب میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے)

یہ پڑھیں:   خطبۂ حرم مدنی ... سورۂ الضحیٰ کے معانی پر غور وفکر: از الشیخ عبدالباری الثبیتی﷾

اے اللہ کے بندے! لوگوں کے نزدیک تمہارا ایمان اور عبادت اتنا ہی ہے جتنا انہیں تمہارے اخلاق، کردار اور تعامل میں نظر آتا ہے۔ دین معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے قرآن سینے اور جیب سے پہلے اخلاق اور کردار میں ہونا چاہیے۔ زبان سے دین کی آسانیاں اور اس کی روا داری بیان کرنے سے پہلے وہ مسلمان کے کردار میں نظر آنا چاہیے۔ اس کا صحیح، درست  اور دقیق معیار وہی ہے جو صحیح حدیث میں رسول اللہ e سے ثابت ہے کہ

’’تو اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو تو اپنے لیے کرتا ہے، اور لوگوں سے ویسا ہی برتاؤ کر جیسا تو ان سے توقع کرتا ہے۔‘‘

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! وہ شخص کیسا دیندار ہے جو عبادت تو کرتا ہے، فرائض بھی ادا کرتا ہے، نوافل بھی پڑھتا ہے، صدقے بھی دیتا ہے، مگر کہیں ظلم کرتا ہے، کہیں تنخواہیں دینے میں ٹال مٹول کرتا ہے، کہیں حق ادا نہیں کرتا، کہیں لوگوں کی قدر نہیں کرتا، کہیں لوگوں کے مقام کا لحاظ نہیں رکھتا، شوخی دکھاتے ہوئے انہیں نظر انداز کر دیتا ہے، تکبر کرتے ہوئے لوگوں کو حقیر اور بے حیثیت سمجھتا ہے۔

اللہ آپ پر رحم فرمائے! حدیثِ مفلس یاد کرو، وہ شخص جو قیامت کے دن پہاڑجیسی نیکیاں لائے گا، مگر کسی کو مارا ہو گا، کس کو گالی دی ہو گی اور کسی کا مال کھایا ہو گا، پھر اُس کی ساری نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ہم اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

اے مسلمانو! معاشروں کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہو تو نسلِ نو کو بڑے کاموں کی عادت ڈالنی چاہیے، اچھے اخلاق سکھانے چاہییں، نیک نمونے پیش کرنے چاہییں۔ ان کی تربیت کے لیے بہترین مراکز بنانے چاہییں، مسجد اور مدرسہ موجود ہونا چاہیے، اچھا معاشرہ ہو، مثبت میڈیا ہو اور اعلیٰ قسم کی مرحلہ وار تعلیم وتربیت پائی جانی چاہیے۔

اے مسلمانو! اے والدین! اے مربی خواتین وحضرات! نسلِ نو کو بتاؤ کہ دین بس اخلاق ہی کا نام ہے، جو اخلاق میں آپ سے بہتر ہے، وہ دین میں آپ سے آگے ہے۔ انہیں تربیت دو کہ دین مسکراہٹ اور خوش طبعی کا نام ہے، منہ بسورنے اور لال پیلا ہونے کا نام نہیں۔ دین آسانی ہے، سکون و اطمینان ہے۔ مسکراہٹ تو صدقہ بھی ہے اور عبادت بھی۔ بچوں کو سکھاؤ کہ لوگوں کی باتیں پوری خوش دلی اور توجہ سے سننا چاہیئے۔ گفتگو میں نرم الفاظ استعمال کرنے چاہیئں، عمدہ عبارت کا انتخاب کرنا چاہیئے۔ انہیں سکھاؤ کہ دل کی نیکی حسد، کینہ، ریا کاری اور سختی سے دوری سے حاصل ہو سکتی ہے۔ دل کو سچا اور پاکیزہ ہونا چاہیے، سب سے محبت کرنے والا ہونا چاہیے۔

نسل نو کو سکھاؤ کہ عبادت جیسے مسجد میں کی جاتی ہے، ویسے ہی گھر میں بھی ہوتی ہے، والدین کی خدمت بھی نیکی ہے، صلہ رحمی بھی نیکی ہے۔ راستوں میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا بھی نیکی ہے۔  جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کوسلام کرنا بھی نیکی ہے۔ اداروں  اور کام کی جگہوں پر نظم وضبط کی پابندی اور کام کے سلسے میں آنے والوں کی عزت کرنا بھی نیکی ہے۔ نقل وحرکت کے دوران اور سواریوں میں بڑوں کا احترام کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کرنا بھی نیکی ہے۔ حاجت مند پر مہربانی کرنا بھی نیکی ہے۔ آزمائش زدہ کی مدد کرنا بھی نیکی ہے۔ بوڑھے یا معذور کی مدد کرنا بھی نیکی ہے۔ بازاروں میں صحیح ناپ تول کرنا بھی نیکی ہے۔ حقدار کو اس کا پورا حق دینا بھی نیکی ہے۔ دھوکہ، فریب اور جھوٹی قسموں سے بچنا بھی نیکی ہے۔ انہیں سکھاؤ کہ اللہ ہی بندوں کا نگران ہے اور وہی حساب لینے والا ہے۔ لوگوں کا محاسبہ کرنا ہماری کی ذمہ داری نہیں ہے۔

’’اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں۔‘‘ (الانعام: ۵۲)

اپنے زیر تربیت افراد پر  واضح کرو کہ لوگوں کے عیبوں کے پیچھے پڑ جانے سے انسان اپنے عیوب سے غافل ہو جاتا ہے، انہیں سکھاؤ کہ رواداری کمزوری یا بے بسی کا نام نہیں ہے، بلکہ طاقت، عزت اور وقار  کا ذریعہ ہے۔ انہیں تربیت دو کہ غلطی ہو جائے تو معذرت کریں، دوسروں کے لیے بھی عذر تلاش کریں۔ انہیں سکھاؤ کہ معذرت کرنا دلیری ہے، دوسروں کے لیے بھی عذر تلاش کرنا مُروّت ہے۔ انہیں سکھاؤ کہ اختلافِ رائے کو عمدہ طریقے سے قبول کرنا چاہیے۔ آپ کی بات درست ہے، مگر غلط بھی تو ہو سکتی ہے۔ دوسرے کی بات غلط ہے، مگر درست بھی تو ہو سکتی ہے۔ جسے آپ غلط سمجھتے ہیں، دوسرے اسے غلط نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ہی عین صحیح سمجھتے ہیں۔ انہیں سکھاؤ کہ محنت مزدوری کرنے والوں کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے، جو صبح سویرے اپنے رزق کی تلاش میں نکل آتے ہیں۔ انہیں سکھاؤ کہ ان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ انہیں کشادہ رزق دے، انہیں اچھا کام میسر آئے، اللہ ان کے معاملات آسان فرمائے اور ان کے رزق میں برکت ڈالے۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو، ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہیں تربیت دو کہ جب بیمار نظر آئیں یا ہسپتال سے گزریں تو ہر مریض کے لیے شفا کی دعا کریں، ہر آزمائش زدہ کے لیے آسانی کی دعا کریں اور انہیں تسلی دیں۔ یہ اچھا اخلاق ہی نہیں، بہترین عبادت بھی ہے۔

یہ پڑھیں:   خطبۂ حرم مکی ... نیکیوں میں سبقت کی فضیلت:  از الشیخ فیصل بن جمیل الغزاوی﷾

انہیں تربیت دو کہ ہمیشہ ہنس مکھ رہیں، نیکی کا حکم دیں، لوگوں کو معاف کریں، سخاوت کریں، صبر کریں، رحم کریں، بھائی چارہ اپنائیں، نرمی اختیار کریں، اذیّت کو برداشت کریں، مصیبت زدہ کی مدد کریں، بھوکوں کو کھلائیں، بے لباسوں کو لباس دیں، انصاف سے کام لیں، اختلاف سے بچیں اور اچھے بول بولیں، چاہے مخاطب جان پہچان والا ہو یا اجنبی۔ انہیں تربیت دو کہ واقف اور نا واقف ہر کسی کی عزت کریں، ہر چھوٹے اور بڑے کا ادب کریں، سب کی خوشیوں اور غمیوں میں شریک ہوں، ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ انہیں بتاؤ کہ مشکل وقت آ جائے تو مدد میں پہل کرنا افضل ہے، آزمائشوں میں دوسروں کا ساتھ دینا بھلا ہے، معاملات میں نرمی اور شفقت ہونی چاہیے۔ انہیں تربیت دو کہ وقت کی حفاظت کریں، اپنے کام کو بخوبی سرانجام دیں، شرم وحیا اپنائیں، استقامت، فضیلت اور باپردہ رہنے کی کوشش کریں۔ ان سب کاموں میں کوئی خرچہ نہیں آتا، مگر یہ سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے کام ہیں، مگر میزانِ عمل میں بڑے بھاری ہیں۔ انہیں بتاؤ کہ بندہ اچھے اخلاق سے روزہ دار اور تہجد گزار کے مقام تک پہنچ جاتا ہے، جیسا کہ نبی کریمe کی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

اللہ کے بندو! کسی معاشرے کو بھلی اور پُر سکون زندگی نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اس کے افراد میں مضبوط اخلاقی روابط موجود نہ ہوں۔

امام غزالیa فرماتے ہیں:

’’اُلفت، حسنِ اخلاق کا ثمر ہے، جبکہ تفرقہ بازی، برے اخلاق کا نتیجہ ہے۔‘‘

ابو حاتمa فرماتے ہیں:

’’اچھے اخلاق گناہوں کو یوں پگھلا دیتے ہیں، جیسے سوج برف کو۔ برے اخلاق نیکیوں کو یوں برباد کر دیتے ہیں، جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔‘‘

اخلاق واقدار ہی وہ نگہبان ہیں جو ہمیں محنت، شعور اور احساسِ ذمہ داری کی طرف راغب کرتے ہیں۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے! فرمان باری تعالی ہے:

’’اور اے نبی! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘ (فصلت: ۳۴-۳۶)

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

اے مسلمانو! ظلم وجَور اور قتل وغارت تب ہی عام ہوتی ہے جب اقدار کا خون ہو جائے، جب محدود اور چھوٹی چھوٹی مصلحتیں اولین ترجیح بن جائیں، جب خود غرضی کا دور دورہ ہو، بے لگام خود غرضی کی وجہ سے کتنے لوگوں کی جانیں گئیں؟! حد سے بڑھی خواہشات نے کتنی تباہی پھیلائی اور کہاں کہاں تشدد کا جال بچھایا؟! جب دینداری کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو اخلاقی قدریں گراوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ اسی اخلاقی گراوٹ کے سبب معاشرے میں ہمیں والدین کی نافرمانی نظر آتی ہے، دھوکہ، فریب اور وقت کا ضیاع عام دکھتا ہے۔ عفت وعصمت اور وقار واحتشام  کا خون ہوتا نظر آتا ہے۔ برے اخلاق والا، ظاہری نہیں بلکہ ایمانی اقدار کے انحطاط کا شکار ہوتا ہے۔  وہ علم وعمل کے تضاد میں جی رہا ہوتا ہے، دین کو معیشت سے الگ کر رہا ہوتا ہے، ایمان کو اقدار سے جدا کرنے میں لگا ہوتا ہے۔ اقدار سے عاری شخص تذبذب اور ذہنی انتشار کا شکار رہتا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:

’’بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟۔‘‘ (الملک: ۲۲)

سنو! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ قومیں اپنے اخلاق کی بنیاد پر  ہی جیتی ہیں، جب ان کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں تو وہ بھی تباہ ہو جاتی ہیں۔ کوئی قوم یا تہذیب ذہانت اور علم کے خاتمے یا افراد کی کمی کی وجہ سے ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ قومیں اخلاقی گراوٹ کے سبب ہی ڈوبی ہیں، اور پھر غالب ہونے والی قوم کے اخلاق رائج ہو جاتے ہیں۔

درود وسلام بھیجو ان پر جنہیں رحمت اور عظیم نعمت  بنا کر مبعوث کیا گیا، اپنے نبی محمد رسول اللہ e پر۔ اس کے متعلق آپ کے پروردگار نے اپنی کتاب محکم میں ایک فرمانِ بابرکت جاری کیا ہے۔ وہ اپنے فرامین میں مکمل سچا ہے۔

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی  پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: ۵۶)

یہ پڑھیں:  خطبۂ حرم مکی ... قول وعمل کی اذیت رسانی:  از الشیخ سعود الشریم ﷾

اے اللہ! رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما! اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد e، حبیب مصطفی، نبی مجتبیٰ e پر  نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، اور آپ e کی ازواج مطہرات، امہات المؤمنین پر۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور تمام صحابہ کرام سے بھی راضی ہو جا۔ تابعین عظام سے بھی راضی ہو جا۔ اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والے! تجھے تیری معافی اور عطا اور احسا ن کا واسطہ ہے کہ ہم سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! سرکشوں، بے دینوں اور تمام دشمنان دین کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیزگاری اپنانے والے اور تیری خوشنودی کے طالب ہوں۔

اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! انہیں اپنے مؤمن بندوں پر رحم کرنیوالا بنا۔ اے پروردگار عالم! انہیں حق وسلامتی پر اکٹھا فرما!

اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما! انہیں حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما! اے اللہ! امت کو ایسے دن نصیب فرما، جن میں اہلِ اطاعت کو عزت ملے، اہلِ معصیت کو ہدایت ملے، جن میں نیکی کا حکم دیا جائے، اور برائی سے روکا جائے۔ یقینًا! تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! غاصب اور حملہ آور یہودیوں کو تباہ وبرباد فرما! یقینا! وہ آپ کو بے بس نہیں کر سکتے۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما جو مجرموں سے دور نہیں رہتا۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ہر بلا سے بچاؤ مانگتے ہیں۔ عافیت پر شکر کی توفیق چاہتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ہر برائی سے بچاؤ کا سوال کرتے ہیں۔ ہر شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، پھلبہری سے، پاگل پن سے اور کوڑھ کی بیماری سے اور دیگر موذی امراض سے۔

اے اللہ! ہم تقدیر میں مہربانی اور شفقت کا سوال کرتے ہیں۔ اپنے فیصلوں پر صبر کی طاقت مانگتے ہیں۔ لغزشوں سے معافی مانگتے ہیں۔ تو ہی توکل کرنے والوں کے لیے قابلِ بھروسہ ہے، تو ہی معاملہ سپرد کرنے والوں کے لیے نجات دہندہ ہے۔ اے ہر شکایت سننے والے! اے ہر آزمائش دور کرنے والے! ہمیں پردہ پوشی، عافیت اور پرہیز گاری کا لباس پہنا، جنت الفردوس کو ہمارا ٹھکانہ بنا۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسباب مہیا فرما، ہمارے سامنے دروازے بند نہ فرما! ہماری دعائیں قبول ومنظور فرما! اے اللہ! تو ہی اللہ ہے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر اور محتاج ہیں۔ ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما! اے اللہ! ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں! تو معاف فرمانے والا ہے! ہم پر آسمان سے رحمت والی موسلا دھار بارش نازل فرما! جو تو نے نازل کیا ہے، اسے اپنی فرماں برداری پر معاون ومددگار  بنا، اور دیر تک فائدہ کرنے والا سامان بنا۔ اے اللہ! ہم پرموسلا دھار اور دیر تک برسنے والی بارش نازل فرما۔ گھنے بادلوں والی بارش، جس سے زمین اور اہلِ زمین کو پانی نصیب ہو جائے۔ جسے مسافر ومقیم کے لیے زاد راہ بنا دے۔ اے اللہ! ہم بھی تیری مخلوق ہیں۔ تیری بارش سے ہم بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل وکرم سے محروم نہ فرما۔

’’ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔‘‘ (یونس: ۸۵)

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (الاعراف: ۲۳)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!۔‘‘ (البقرۃ: ۲۰۱)

یہ پڑھیں:   خطبۂ حرم مدنی ... مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت: از الشیخ عبداللہ البعیجان﷾

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہے۔‘‘ (الصافات: ۱۸۰-۱۸۲)


No comments:

Post a Comment

Pages