رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے کا مطلب 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے کا مطلب 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے کا مطلب,
 

درسِ حدیث

رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے کا مطلب

 

فرمان نبویﷺ ہے:

 [قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: "لقَدْ أُوذِيتُ في اللهِ ومَا يؤذَى أَحَدٌ وأُخِفْتُ في اللهِ ومَا يُخَافُ أحَدٌ".](ترمذی وابن ماجہ)

’’مجھے اللہ کی خاطر اس قدر ایذاء دی گئی کہ اتنی تکلیف و ایذاء کسی اور کو نہیں دی گئی اور اللہ کی خاطر مجھے جس قدر خوف زدہ کیا گیا کہ اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا۔‘‘

یہ پڑھیں:   حسد کے نقصانات

آنحضرتe نے جب اعلانیہ دعوت کا آغاز فرمایا تو آپ کے رشتہ داروں ہی نے آپ e کے خلاف محاذ کھڑا کر لیا تھا۔ اپنوں کی معمولی سی اذیت بھی غیروں کے پہاڑ توڑ مظالم سے زیادہ کرب ناک ہوتی ہے۔ اللہ کےر سول e رشتہ داروں اور خونی قرابت داروں سے   ہی اذیت میں مبتلا کیے گئے، ابو لہب و ابو جہل آپ کے حقیقی چچا تھے جنہوں نے آپ e کو طرح طرح کی تکالیف دیں،اس کے بعد نضر بن حارث نے زبان کے وار سے آپ کو چوٹیں پہنچائیں، عقبہ بن ابومعیط نے ہاتھ سے آپ کو ایذاء دی اورپھر اہل طائف نے ہنسی مذاق اڑاتے ہوئے آپ کو اذیت میں مبتلا کیا۔ لیکن اللہ کے رسول e نے ہمیشہ صبر و تحمل سے ان تکالیف کو برداشت کیا ۔

یہ ظاہری تکالیف تھیں جو دعوت کے آغاز میں نبی کریمe کو دی گئیں لیکن اسلام کی شان و شوکت اور اس کے غلبہ کے بعد جس کسی نے بھی زبان درازی کی اسے اس کے انجام تک پہنچایا گیا، کعب بن اشرف جو جنگ بدر کے بعد اپنی زبان سے صحابہ کرام] کی عورتوں کا تذکرہ اپنے اشعار میں کرتا ، حتی کہ نبی کریمe کی شان اقدس میں گستاخی کامرتکب ہوتا  ۔ یہاں تک ایک دن اللہ کے رسول e نے فرمایا : [مَنْ لکعب بن الأشرف؟، فإنه آذى اللهَ ورسولَه؟] کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی؟

رسول اکرم e کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے ، جسمانی ہو یا روحانی، ہاتھ سے ہو یا زبان سے  یا عمل سے، وہ آپ کو جھٹلانا ہو یا آپ کے ارشادات  کی مخالفت کرناہو۔ آپ e کے ہوتے ہوئے آپ کو ذکر کردہ تمام تکالیف دی گئیں ، لیکن آج اگرچہ آپ کو جسمانی اذیت نہیں دی جا سکتی لیکن غیروں کی طرف سے آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے اور اپنوں کی طرف سے آپ e کے ارشادات کو پس پشت ڈال کر آپ کو ایذا دی جارہی ہے۔ گویا محبت کے نام پر آپ کے نام اور شخصیت کی بے حرمتی کی جارہی  ہے۔

یہ پڑھیں:   کبیرہ گناہ

مسلمانوں کی چاہیے کہ کسی بھی کام سے پہلے خوب سوچیں کہ کہیں ہمارے افعال سے نبی کریم e کو اذیت تو نہیں پہنچ رہی ؟ جس نبی کی گستاخی پر ہم غیروں سے شکوہ کناں ہیں کہیں اپنے روزمرہ کے افعال سے ہم خود اس نبی eکو اذیت تو نہیں دے رہے؟

No comments:

Post a Comment

Pages