علمائے اہل حدیث سندھ ... مولانا حاجی احمد ملاح 20-27 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 27, 2020

علمائے اہل حدیث سندھ ... مولانا حاجی احمد ملاح 20-27

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, علمائے اہل حدیث سندھ ... مولانا حاجی احمد ملاح,
 

علمائے اہل حدیث سندھ ... مولانا حاجی احمد ملاح

 

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)

مولانا حاجی احمد ملاح نانگیو ملاح کے گھر ۱۸۹۶ء میں گوٹھ کنڈی نزد روپاھ ماڑی ضلع بدین میں پیدا ہوئے۔

 تعلیم:

چار سال کی عمر میں آپ کے والد گرامی کے انتقال ہو گیا داغِ یتیمی کے بعد محنت اور مزدوری کرنا شروع کر دیں چھ سال کی عمر میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی سندھی اور فارسی کی تعلیم بھڈمی، بگھڑا میمن، ٹھوھا، بدین م، سجاول اور دیگر مقامات پر حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم مولوی عبداللہ مندھرو کے ہاں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بعد مولوی محمد ہاشم کچھی (متوفی ۱۹۱۷ء) سے آپ نے ابتدائی فارسی کتب اور عربی کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ مزید حصول تعلیم کی غرض سے بمقام امام ’’درگاہ شاہ قادری‘‘  میں مولانا محمد اکرم گوپانگ سے بھی علمی استفادہ کیا۔ درس نظامی کی آخری کتب پڑھنے کی غرض سے سجاول کے مشہور مدرسہ ہاشمیہ تشریف لے گئے۔

یہ پڑھیں:   اسلامی صحافت کا درخشندہ ستارہ ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم

 تدریس:

مدرسہ سے فراغت کے بعد مولانا احمد ملاح نے اپنے گاؤں میں ہی قرآن مجید اور ابتدائی اسلامی تعلیم کے لیے مدرسہ قائم کیا تاکہ عوام الناس استفادہ کرسکیں۔ بلاشبہ اللہ تعالی نے آپ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جس کیوجہ سے قرب و جوار کے لوگ جوق در جوق حصول علم کے لئے تشریف لائے لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر آپ نے بدین شہر نقل مکانی اختیار کرلی۔ جہاں آنے کے بعد آپ نے تحریک آزادی اور تحریک خلافت کے علاوہ ترک موالات میں بھی حصہ لیا۔ اس کے علاوہ آپ کی انقلابی روح تحریک ریشمی رومال، تحریک منزل گاہ اور خاکسار تحریک میں بھی دامے درمے اور سخنے معاونت کرتی رہی۔

بدین تشریف لانے کے بعد آپ نے نے ایک اور دینی دارالعلوم کا سنگ بنیاد رکھا جس کا نام ’’مدرسہ مظہرالعلوم‘‘ رکھا۔ یہ نام مولانا احمد ملاح صاحب کو اتنا پسند تھا کہ جب ارباب حاجی اللہ جڑیو نے رحمان آباد آزاد نوکوٹ میں ایک مثالی دینی ادارہ قائم کیا تو اس کا نام بھی مولانا احمد ملاح نے ’’مظہرالعلوم‘‘ ہی رکھا۔ ایک جانب مدرسہ مظہرالعلوم میں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا دوسری جانب آپ کے تحریکی ذہن میں شرک و بدعت کے خلاف شعلہ افزاء تقریروں، بے باک تحریروں کے علاوہ شرک و بدعت کی بیخ کنی کے لیے آپ کی شاعری جو بعد میں ہیکڑائی حق اور فتح لواری کے نام سے شائع ہوئیں۔ تو یہ چیزیں وہاں کے علمائے کرام کو راس نہ آئیں اور وہ مولانا احمد ملاح سے کھلی محاذآرائی پر اتر آئے۔ جس سے مولانا احمد ملاح بد دل ہوکر اور انہیں الوداع کہہ کر قاضیہ واہ کے نزدیک ۱۹۳۲ء میں مدرسہ انوارالعلوم کے نام سے ایک اور ادارہ قائم کیا۔ جس میں مولانا عبدالغفور سیستانی (متوفی ۱۹۸۱ء) کو صدر مدرس مقرر کیا۔ جس کے بعد علاقے کو غریب آباد کے نام سے موسوم کیا گیااور کھلے عام شرک وبدعات اور کفر کے خلاف جہاد کرتے ہوئے کتاب و سنت کی تعلیم و تبلیغ شروع کردی۔ لیکن وہاں پر بھی مولانا احمد ملاح کے انقلابی ذہن کو اس علاقے کے گدی نشین ’’پیر عالی شاہ‘‘ کو یہ آوازحق پسند نہ آئی۔

 قبول مسلک اہل حدیث:

غالباً ۱۹۳۲ء میں مولانا احمد ملاح نے پوری تحقیق سے مسلک اہل حدیث اپنایا جس کے جلد بعد ہی بدین میں اہل بدعت اور اہل توحید کے درمیان ایک تاریخی مناظرہ ہوا۔ جس میں مخالفین کی طرف سے سے پیر ہاشم سرہندھی پیر غلام مجدد وغیرھما اور اہل توحید کی طرف سے سے مولانا عبدالرحیم پچھمی، مولوی مولانا محمد عمر مگسی، پیر ثناء اللہ شاہ، سید احسان اللہ شاہ راشدی وغیرھم نے شرکت کی۔ مناظرے میں اہل توحید کو فتح حاصل ہوئی مگر پیر عالی شاہ جیلانی کی طرف سے سے اہل توحید کے خلاف ایک باقاعدہ محاذ قائم کر لیا گیا۔ اور متعصب مخالفین نے اہل حدیث پر کفر کے فتوے لگائے جن تیرہ علمائے کرام  پر فتوے جاری کئے گئے ان میں حسب ذیل چند علماء شامل ہیں۔

مولوی عبدالرحیم پچھمی، مولانا احمد ملاح،  مولانا عبد الرحیم شاہ، سید احسان اللہ شاہ راشدی، مولوی عبدالوہاب لنڈ، مولوی عبدالرحیم جنائی وغیرھم۔ ان فتووں اور دشمنی کے باعث مولانا احمد ملاح کو مدرسہ مظہرالعلوم چھوڑنا پڑ اور انہوں نے ایک الگ مدرسہ انوارالعلوم قائم کرلیا۔

یہ پڑھیں:   مولانا حاجی احمد ملاح رحمہ اللہ

 فتنہ لواری:

سندھ میں مولانا حاجی احمد ملاح کے زمانہ میں ایک عظیم فتنے نے سر اٹھایا۔ بدین کے قریب ایک خانقاہ ہے۔ جہاں ابتدا میں تو عرس اور میلے کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا مگر ۱۹۳۸ء میں باضابطہ طور پر سراسر خلاف شرع یہ اعلان کیا گیا کہ آئندہ ۹ ذی الحجہ کو لواری میں غریبوں کے لئے خطبہ حج پڑھا جائے گا۔ اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ جو شخص حج کے دنوں میں لواری کی درگاہ پر بہ ارادہ صدق و صفا حاضری دیگا وہ عنداللہ حاجی و ناجی ہے۔ درگاہ کے باہر ایک بورڈ پہ الفاظ تحریر کیے گئے:

حاجی، ناجی، نمازی کو صد مبارک، صد سلام! خطبہ حج تین بجے دیا جائے گا۔

یہاں تک کہ(نعوذ باللہ)  لواری کی زمین کو مکہ اور مدینہ کا کہا گیا۔ آب زمزم، عرفات اور جنت البقیع کے نام بھی تجویز کیے گئے آج تک لواری کے مرید خواہ کہیں بھی ہوں لواری کی طرف پاؤں کر کے نہیں سوتے۔

 اس مشرکانہ اور باغیانہ سازش کے متعلق سن کر نہ صرف سرزمین سندھ بلکہ ہر اس جگہ جہاں جہاں یہ روح فرسا خبر پہنچی دیار حرم پر مر مٹنے والے بدین پہنچنے لگے۔ ان میں افغانی بھی تھے، سندھی بھی تھے، بلوچی بھی تھے اور پنجاب کے غیور مجاہدین بھی تھے۔ لیکن توحید کے اس لشکر جرار کو ایک بے باک اور جرات مند امیر کارواں کی ضرورت تھی۔ یہ  سعادت عظمی مولانا حاجی احمد ملاح کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔ جو اپنے رفقاء کے ساتھ دوسرے پاسبان حرم کے انتظار میں تھے۔ بالآخر وہ دن آیا جب ہزاروں سرفروش جان کی بازی لگانے اور حرمین شریفین کی ناموس پر مر مٹنے کے لیے تیار ہوگئے اور مولانا احمد ملاح ان سرفروشوں کا ایک جم غفیر پیچھے لگائے بیت الحرام کے عشق میں گرفتار، ترنم ریز آواز میں پرسوز اشعار پڑھتے لواری کی طرف بڑھے۔ سادہ لباس میں ملبوس گھنی داڑھی والا نورانی چہرے کا مالک، جسمانی طور پر بوڑھا، روحانی طور پر نوجوان تھا۔ جب یہ مرد مجاہد د اور درویش صفت انسان اس شان سے لواری پہنچا تو لواری کے قبے کانپنے لگے۔ مولانا نے نعرہ لگایا:

اے ہماری غیرت ایمانی سے کھیلنے والو! گولیوں کے لیے ہمارے سینے حاضر ہیں۔ ان کو چھید ڈالو۔ ہماری بوٹی بوٹی نوچ لو، تمہارا گولہ بارود اور بے رحم گولیاں ختم ہو سکتی ہیں لیکن بیت اللہ میں ہونے والا حج لواری میں نہیں ہوسکتا۔ سرزمین سندھ پر محمد بن قاسم کے قدم ثبت ہوچکے ہیں، یہ سر کٹایا جاسکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا۔ جو سعادت مند اس معرکے میں شامل تھے ان کا بیان ہے کہ جب ہم زمین پر نعرے لگا رہے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ آسمانوں پر سے ان کا جواب آرہا ہے جس کی گونج ہمیں سنائی دیتی تھی۔ عجیب وقت تھا عجیب سماں تھا۔ مسلمان جب سر پر کفن باندھ کر نکلتا ہے تو قدرت کی ان دیکھی قوتیں اس کی مدد کے لئے حرکت میں آ جاتی ہیں اور یہی ہوا۔ سامراجیوں اور بدعتیوں کو حق کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے۔ لواری کے حج کو منوع قرار دیکر غیر معینہ مدت کے لیے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی۔ اور مجاہدین اسلام اپنی تاریخ کا ایک روشن ترین باب لکھ چکے تھے۔

یہ پڑھیں:   اِک امین شخص ... حاجی عبدالرزاق مرحوم

۱۹۵۸ء میں اس فتنے نے دوبارہ سر اٹھایا جسے بروقت مولانا احمد ملاح اور فدائیان حرم نے کچل دیا۔ اس جدوجہد میں مولانا احمد ملاح کو دو مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

جب مولانا احمد ملاح انتقال کر گئے تو پھر ۱۹۷۳ء میں تیسری بار یہ فتنہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے مریدوں نے ایک وزیر باتدبیر کو مدعو کرکے اس حج سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا جو اخبارات میں بھی شائع ہوا لیکن در حقیقت یہ ایک سوچی سمجھی سکیم تھی جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب مولانا مرحوم کے کتب خانہ کو لواری کے مریدوں نے آگ لگا دی اور کتب خانے میں موجود ایک بے گناہ شخص کو بری طرح زد وکوب کیا گیا۔ اس داستان کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ کتب کے علاوہ کتب خانہ میں قرآن مجید کی جلدیں بھی تھیں جو جل کر راکھ ہوگئیں۔ اس کے بعد بعد نیم سوختہ اور بچی کھچی کتابوں کی بوریاں بدین کے تھانوں میں جمع کرادی گئیں۔ سندھ میں اس حادثے کی خبر سن کر ایک بار غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جو انصاف چند سال قبل سندھی مجاہدوں کو ایک غیر مسلم عیسائی حکومت سے ملا تھا وہ انہیں اپنی مسلمان حکومت سے نہ مل سکا: ایں چہ بوالعجبی است

بہرحال مولانا احمد ملاح فاتح لواری تھے جنہوں نے اس شرم ناک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

سندھی منظوم ترجمہ قرآن بنام نور القرآن:

مولانا احمد ملاح کے علمی مقام کے تعین کے لیے ان کا پورے قرآن مجید کا ’’ نور القرآن‘‘ کے نام سے سندھی منظوم ترجمہ شاہد ہے۔ جو اب بھی انہیں عالمی ادب میں ممتاز مقام کا حامل بنانے کے لیے کافی ہے۔ مولانا احمد ملاح کے الفاظ کی موزونیت، منظر نگاری، پاکیزگی،  افکار کے ساتھ تشبیہات، استعار سے محاورات نے سندھی زبان کو نئی زندگی عطا کی۔ مولانا احمد ملاح کے ہاں علمی وادبی الفاظ کا ذخیرہ لامتناہی تھا۔ ان کے قرآن حکیم کے نظم میں ترجمہ ’’نور القرآن‘‘ کو علمی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی۔ نورالقران کو اعلی کتابت و طباعت سے اعلی کاغذ پر ان کے مخلص دوست، اہل خیر اور دین دار شخصیت ارباب حاجی اللہ جڑیو رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی بار ۱۹۶۸ء میں زرکثیر خرچ کرکے مطبوعہ حقی آفسٹ پریس کراچی سے مشتاق احمد کی عمدہ کتابت میں بڑے سائز کے ۸۰۰ صفحات پر چھپوا کر تقسیم کیا۔ جب نور القرآن کا یہ پہلا ایڈیشن زیرطباعت تھا تو اچانک حاجی احمد ملاح شدید بیمار ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنے رب سے التجا کی: اے رب العزت! تو مجھے میری تیرہ سالہ شب و روز کی محنت شاقہ کے ثمر ’’نورالقرآن‘‘ کو مطبوعہ شکل میں دیکھنے تک زندہ رکھے گا تو تیری مہربانی ہوگی۔ عجیب اتفاق ہے کہ جب قرآن حکیم شائع ہوکر آپ تک پہنچا تو آپ نے ناشر کو ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ اور چند ایام کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اس کے بعد عرب و عجم میں اس علمی ارمغان کو بہت بے حد پذیرائی ملی۔ احمد داؤد نے داؤد فاونڈیشن، مہران آرٹس کونسل حیدرآباد، سندھیکا اکیڈمی وغیرہ نے بار بار شائع کیا۔ اس کے علاوہ میرے مربی و استاذ پروفیسر محمد ظفر اللہa کی کوششوں سے حضرت صاحب الملکی الامیر الولید بن طلال بن عبدالعزیز آل سعود نے ۱۴۱۵ھ میں حاجی اللہ جڑیو کے ہی کے نسخہ کا عکس شاندار انداز میں شائع کرکے عرب و عجم کے چپے چپے تک فی سبیل اللہ پہنچایا۔

یہ پڑھیں:   دو یارانِ کہن کا انتقال پر ملال

 عظیم سندھی شاعر:

مولانا احمد ملاح مدارس اسلامیہ کی تعلیمات عالیہ سے پوری طرح واقف تھے۔ آپ خداداد صلاحیتوں سے سندھی زبان کے مایہ ناز شاعر، نثر نویس اور قاطع شرک و بدعت بھی ثابت ہوئے۔ مولانا احمد ملاح کی  شاعری میں تین خصوصیتیں تھی۔

1       تجنیس حرفی: کچھ لوگ کوشش کرکے تجنیس حرفی پیدا کرتے ہیں لیکن احمد ملاح مجبور تھا وہ تجنیس حرفی کو روک نہ سکا۔

2       تجنیس لفظی: ایک جیسے تین الفاظ مثلاً تن ت کی زبر، تن ت کی زیر اور تن ت کی پیش کے ساتھ وغیرہ۔ تجنیس لفظی میں بھی احمد ملاح کمال کا شاعر تھا۔

3       بے پناہ روانی: احمد ملاح کی شاعری میں بے پناہ روانی تھی۔

سندھ کے ممتاز ادیب اور شاعر شاعر شیخ ایاز نے سکھر میں مولانا احمد ملاح کی وفات پر پر تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد جو روانی احمد ملاح کی شاعری میں ہے اور انہوں نے جس طریقے سے عربی اور فارسی الفاظ کو سندھی زبان میں استعمال کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب سندھی لغت ترتیب دی جا رہی تھی تو بورڈ میں شامل ایک شخص نے کہا تھا کہ جب تک مولوی احمد ملاح زندہ ہے تب تک سندھی لغت مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ ہر روز نئے الفاظ، نئی نئی ترکیبیں، اور نئی نئی اصطلاحات وضع کرتے رہتے ہیں۔ لہذا سندھی لغت مکمل نہیں کر سکتے۔

 مولانا احمد ملاح کے قرآن مجید کے منظوم ترجمہ کے علاوہ درج ذیل کتب طبع ہو چکی ہیں: معرفت الہ فتح لوری، ہیکڑائی حق، گلزار احمد، گلشن احمد، بیاض احمد

اپنے وقت کے لحاظ سے آپ نے شاید ہی کوئی قابل ذکر واقعہ پر طبع آزمائی نہ کی ہو مثلا ۱۹۳۵ء کا زلزلہ کوئٹہ، ۱۹۵۵ء جمپیر کراچی کے قریب ریلوے کا اندوہناک واقعہ، ۱۹۶۴ء میں طوفان نوح یاد دلانے والا طوفان اور باد وباراں کی تباہی کا تذکرہ کرکے خوب منظر کشی کی۔ مولانا احمد ملاح نے شاعری میں نصیحت کے ساتھ ساتھ دنیا کی بے ثباتی، فکر آخرت، قبر کی بیچارگی والی زندگی پر بصیرت افروز منظومات کہیں۔ مولانا احمد ملاح ایک بلند پایہ عالم دین،مثالی شاعر، علم العروض اور فن میراث کے بلاشبہ ممتاز عالم تھے۔

تحریک توحید:

مولانا احمد کی تحریک توحید سے جن لوگوں کی اصلاح ہوئی ان میں میر احمد علی تالپور، میر اللہ بخش سومرو، میر غلام علی تالپور، میر رسول بخش تالپور، حاجی محمد بوہڑ کے علاوہ تھرپارکر سے فقیر بلالانی جیسی شخصیات نمایاں تھیں۔ اس وقت  شرک اور کفر، رسومات جاہلیہ، بدعات اور پیر پرستی کی سندھ میں جو حالت تھی اس کا عکس ایک مضمون میں سندھ کے انشاء پرداز عالم، ادیب، شاعر اور مولانا احمد ملاح کے کلام پر پوری طرح سے سے دسترس رکھنے والے محترم محمد صدیق ’’مرہم‘‘ کچھ اس طرح سے رقم طراز ہیں:

لارڈ بدین کے خطہ کو اس زمانہ میں قبر پرستی، پیر پرستی، حجر و شجر پرستی میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ جہاں لوگ ولیوں، پیروں اور فقیروں کی قبروں پر جا کر اولاد، مال اور جان حاصل کرنے کی غرض سے چادریں چڑھایا کرتے تھے اور نذر و نیاز پیش کیا کرتے تھے۔ بلکہ مٹی کے ڈھیروں پر بھی سجدہ ریز ہوا کرتے تھے۔ ان رسومات جاہلیہ اور عادت شرکیہ سے نجات کے لیے مولوی عبدالرحیم پچھمی، مولانا احمد ملاح، مولانا خیر محمد نظامانی، محمد عثمان ڈیپلائی، پیر انور بھمبر اور علیم درس نے آکر جہاد کیا۔ ان علماء حق کی خدمات جلیلہ کی وجہ سے بت پرستی، پیر پرستی اور رسومات جاہلیت کی بیخ کنی ہوئی۔ ان علماء کرام کے انتقال پر ملال کے بعد پھر سے جب جب ان رسومات بد نے سر اٹھایا تو جماعت اہل حدیث کی خدمات جلیلہ نے لوگوں کے قلوب و اذہان کو قال اللہ و قال الرسول سے منور کیا۔ (خلاصہ اداریہ پیغام احمد مجریہ ستمبر ۲۰۰۷ شمارہ ۷ ص ۹)

یہ پڑھیں:   وفاؤں کا پیکر تھا جو چل بسا ہے

وفات:

حاجی احمد ملاح نے ۱۹ جولائی ۱۹۶۹ء کی سہ پہر کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ اور وہ بدین کے کینٹ کے ہسپتال میں آسودہ خاک ہیں۔

اولاد:

اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹے اور ایک بیٹی عطاء فرمائی تھی۔

نوٹ: یہ مضمون درج ذیل کتب سے ترتیب دیا گیا ہے۔

1       تذکرہ مشاہیر سندھ از پروفیسر مولابخش محمدی

2       برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن از محمد اسحاق بھٹی

3       موحد شاعر احمد ملاح (سندھی)از تاج جویو


No comments:

Post a Comment

Pages