صحافتی افق کا درخشاں ستارہ ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری 26-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 13, 2020

صحافتی افق کا درخشاں ستارہ ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری 26-20

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, صحافتی افق کا درخشاں ستارہ  ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری,


صحافتی افق کا درخشاں ستارہ  ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری

 

تحریر: جناب حافظ ریاض احمد عاقب

مدیر شہیر جناب بشیر انصاری (مدیر اعلیٰ ہفت روزہ اہل حدیث لاہور) طویل علالت کے بعد ۴ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز جمعۃ المبارک بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

انصاری صاحب میدان صحافت کے عظیم شہسوار اور صاحب کردار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک تجربہ کار صحافی اور متعدد کتابوں کے مؤلف تھے وہ ۱۸ ستمبر ۱۹۳۲ء بروز اتوار موضع بھنگواں ضلع امرت سر میں پیدا ہوئے۔

یہ پڑھیں:  جماعتی یادوں کے امین ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم

ابتدائی تعلیم وتربیت گھر سے حاصل کی‘ مڈل کا امتحان امرت سر کے ہائی سکول سے پاس کیا۔ نہم جماعت میں قدم رکھا تو تقسیم برصغیر کا واقعہ پیش آیا اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ انصاری صاحب اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ہجرت کر کے گوجرانوالہ آبسے۔ اس وقت ان کی عمر تقریبا چودہ برس تھی۔

گوجرانوالہ آکر ابتدائی دینی تعلیم جامعہ اسلامیہ میں حاصل کی بعد ازاں میٹرک اور ایف اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی وہ علم وادب سے شغف رکھتے تھے اور خارجی مطالعہ بکثرت کرتے تھے۔ ذوق علم وادب کا یہ عالم تھا کہ ۱۹۶۲ء میں کالج کے ترجمان مجلہ ’’المیزان‘‘ کی ادارت ان کے سپرد کی گئی۔ یہ بات بڑا اعزاز تھا۔ کہ ایک طالب علم کو مجلہ کا مدیر بنا دیا گیا۔ یہ میدان صحافت میں آپ کا پہلا قدم تھا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد بنک میں ملازمت اختیار کر لی لیکن محدث العصر حافظ محمد گوندلویa کے حکم سے بنک کی ملازمت سے سبکدوش ہو کر اخبار نویسی کا پیشہ اختیار کر لیا۔

آپ نے عملی صحافت کا آغاز ۱۹۶۹ء میں ماہنامہ ’’ترجمان الحدیث‘‘ سے کیا‘ جس کے بانی شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیرa تھے۔ ۱۹۷۲ء میں جب علامہ شہیدa ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے ایڈیٹر بنے تو انہوں نے انصاری صاحب کو اپنا معاون ایڈیٹر مقرر کیا۔

حضرت علامہ صاحب کی مصروفیات بڑھنے سے انصاری صاحب کو اس مجلہ کا مکمل ایڈیٹر بنا دیا گیا۔

۳۰ جولائی ۱۹۷۳ء میں انصاری صاحب نے شیخ الحدیث مولانا عبداللہ اور حضرت علامہ صاحب رحمہما اللہ کی سرپرستی میں ’’الیوم‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالا جس کے صرف تیس شمارے شائع ہوئے تھے۔ بعد ازاں ۱۹۷۵ء کو ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ کا اجراء کیا‘ یہ مجلہ حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیرa کی جمعیت اہل حدیث کا ترجمان تھا۔ انصاری صاحب نے ۱۵ سال ادارت کے فرائض انجام دیئے اور مختلف موضوعات پر آپ نے خصوصی اشاعتیں نکالیں۔ اس موقر مجلہ میں انصاری صاحب نے اداریہ نویسی میں حق گوئی کا خوب پرچار کیا اور سلجھے ہوئے انداز میں جماعت اہل حدیث کی ترجمانی کی۔

یہ پڑھیں:  سوانح وخدمات ... حافظ محمد صدیق خلیل

اگست ۱۹۹۰ء میں جماعتی اتحاد کے بعد ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کو مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کا ترجمان بنایا گیا تو اس کے منصب ادارت کی زمام انصاری صاحب کے سپرد کی گئی۔ لائق صحافی ہونے کے ناطے انصاری صاحب نے ۳۰ سال کے طویل عرصہ میں مجلہ مذکورہ کو ایک بلند مقام پر فائز کیا۔ اس میں مختلف عناوین پر اداریے تحریر کیے‘ اس کے خصوصی شماروں کا اہتمام کیا۔

اس مجلہ کے علاوہ جماعت کے دیگر رسائل وجرائد میں آپ کے کالمز شائع ہوتے رہے جس سے آپ کی بصیرت افروز فکر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ ایک متین فکر اور حق گو قلم کار تھے۔ انہوں نے عالم اسلام کے سلگتے مسائل پر صدائے حق بلند کی۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا ڈٹ کر دفاع کیا۔ حجاز مقدس بالخصوص حرمین شریفین کے خلاف ہر اُٹھنے والی آواز کا ناطقہ بند کیا۔ تحریک اہل حدیث اور مسلک کتاب وسنت کی نشر واشاعت میں بھر پور کردار ادا کیا ان کی صحافتی خدمات پون صدی پر محیط ہیں۔ اس دوران انہوں نے دینی ومذہبی‘ قومی وملی اور سیاسی مسائل پر خوب لکھا اور لکھنے کا حق ادا کیا۔

انصاری صاحب ایک پکے مذہبی مجلہ کے مدیر ہونے کے ساتھ ایک محب وطن پاکستانی تھے۔ ان کی نگارشات میں قومی وملی درد نمایاں تھا وہ صحافتی تجربات اور عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے لیکن جب بھی ان کا فون آتا وہ محبت بھرے لہجے میں گفتگو فرماتے اور ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے لیے مضمون تحریر کرنے کی فرمائش کرتے تھے۔ ان کی فرمائش پر جو بھی مضمون میں نے ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ ارسال کیا انہوں نے ضرور شائع کیا۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاء!

انصاری صاحب سے غائبانہ تعارف تو زمانہ طالب علمی سے ہی ہو گیا تھا۔ البتہ ملاقات ۲۰۱۰ء کے بعد ان دنوں ہوئی جب راقم علیل تھا اور گوجرانوالہ میں حکیم شاہد کے پاس علاج ومعالجہ کے لیے گیا تھا۔ اس موقع پر راقم نے محترم بشیر انصاری صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے گھر میں آنے کی دعوت دی۔ راقم نماز مغرب سے قبل ان کے پاس پہنچا‘ بڑے تپاک سے ملے۔ نماز مغرب تک ان کے ساتھ مجالست رہی۔ بڑے پیارے اور دھیمے انداز سے گفتگو فرماتے رہے۔ اس موقع پر انہوں نے راقم کی حوصلہ افزائی کی اور لکھنے پر ابھارا۔

یہ پڑھیں:  تم کیا گئے، روٹھ گئے دن بہار کے

رسائل وجرائد میں لکھنے کے علاوہ انہوں نے چند کتابیں بھی مرتب کیں جن میں تحریک اہل حدیث‘ نجات کا راستہ‘ رہنمائے حج وعمرہ توحید خالص‘ مشاہیر کے خطوط ۲ حصے‘ اہل حدیث صحافت پاکستان میں اور ارمغان ظہیر قابل ذکر ہیں۔

’’مشاہیر کے خطوط‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاری صاحب ایک ملنسار اور معاشرتی تعلقات قائم کرنے والے انسان تھے۔ ان کے نام مختلف علمی وادبی شخصیات کے خطوط اس پر واضح شاہد ہیں۔

۲۶ مارچ ۲۰۱۸ء میں انہوں نے راقم کو اپنی دو کتابیں تبصرہ کے لیے ارسال کیں مناسب ہے کہ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لیے یہاں ان کا وہ خط ذکر کر دیا جائے۔

محترم جناب حافظ ریاض احمد عاقبd

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ آپ بفضل اللہ تعالیٰ مع الخیر ہوں گے۔ دو کتابیں 1 مشاہیر کے خطوط (حصہ دوم) 2 اہل حدیث صحافت پاکستان میں‘ ارسال خدمت ہیں اپنے مجلہ (المنہاج) میں تبصرہ فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ نیز رسید سے مطلع فرمائیں۔ والسلام!

طالب الدعوات / بشیر انصاری (مدیر ’’اہل حدیث‘‘)

بلاشبہ انصاری صاحب میدان صحافت کے عظیم شہسوار تھے‘ جنہوں نے صحافت کے میدان میں عظیم خدمات انجام دیں۔ آپ کی صحافتی اور مذہبی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔

یہ پڑھیں:  جناب بشیر انصاری صاحب کا سفر آخرت

اللہ کریم انصاری صاحب کی کامل مغفرت فرما کر انہیں جنت میں بلند مقام پر فائز کرے اور ان کے تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages